حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی بار یہ سنا آپ ﷺ فرماتے کہ بنی اسرائیل میں کفل نامی ایک شخص تھا جو ہمیشہ دن رات بُرائی میں پھنسا رہتاتھا۔ کوئی سیاہ کاری ایسی نہ تھی جو اس سے چھوٹی ہو۔ایک مرتبہ اس نے ایک عورت کو ساٹھ دینار دے کر زنا کاری کے لیے آمادہ کیا جب وہ تنہائی میں اپنے برے کام کے ارادے پر مستعد ہوتاہے تو وہ نیک بخت بیدِ لرزاں کی طرح تھرّانے لگتی ہے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ جاتی ہیں۔ چہرے کا رنگ فق پڑجاتاہے ، رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ کلیجہ بانسوں اُچھلنے لگتاہے ، کفل حیران ہوکر پوچھتاہے کہ اس ڈر ، خوف ، دہشت اور وحشت کی کیا وجہ ہے ؟پاک باطن ، شریف النفس ، باعصمت لڑکی اپنی لڑکھڑاتی زبان سے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیتی ہے۔ مجھے خدا کے عذابوں کا خیال ہے اس زبوں کام کو ہمارے پیدا کرنے والے خدا نے حرام کردیا ہے ۔ یہ فعل بد ہمیں ہمارے مالک ذوالجلال کے سامنے ذلیل اور رسوا کرے گا۔ منعمِ حقیقی محسنِ قدیمی کی یہ نمک حرامی ہے۔ واللہ ! میں نے کبھی بھی خدا کی نافرمانی پر جرأت نہ کی ۔ہائے حاجت اور فقر وفاقہ ، کم صبری اور بے استقلالی نے یہ روز بددکھایا کہ جس کی لونڈی ہوں اس کے سامنے اس کے دیکھتے ہوئے اس کی نافرمانی کرنے پر آمادہ ہوکر اپنی عصمت بیچنے اور اچھوت دامن پر دھبہ لگانے پر تیار ہوگئی لیکن اے کفل! بخدائے لایزال ، خوفِ خداوندی مجھے گھلائے جارہاہے۔ اس کے عذابوں کا کھٹکا کانٹے کی طرح کھٹک رہاہے۔ ہائے آج کا دوگھڑی کا لطف صدیوں خون تھکوائے گا اور عذاب الٰہی کا لقمہ بنوائے گا ۔اے کفل! خدا کے لیے اس بدکاری سے بازآ اور اپنی اور میری جان پر رحم کر آخر خدا کو منہ دکھاناہے۔
اس نیک نہاد اور پاک باطن اور عصمت مآب خاتون کی پُراثر اور بے لوث مخلصانہ سچی تقریر اور خیر صوابی نے کفل پر اپنا گہرا اثر ڈالا اور چونکہ جوبات سچی ہوتی ہے دل ہی میں اپنا گھر کرتی ہے۔ ندامت اور شرمندگی ہرطرف سے گھیر لیتی ہے اور عذابِ الٰہی کی خوف ناک شکلیں ایک دم آنکھوں کے سامنے آکر ہر طرف سے حتیٰ کہ دَر ودیوار سے دکھائی دینے لگتی ہے۔ جسم بے جان ہوجاتاہے قدم بھاری ہوجاتے ہیں دل تھرا جاتے ہیں سو ایسا ہی کفل کو معلوم ہوا ۔ وہ اپنے انجام پر غور کرکے اپنی سیاہ کاریاں یادکرکے رودیا اور کہنے لگا ۔اے پاکباز عورت! تو محض ایک گناہ وہ بھی ناکردہ پر اس قدر کبریائے ذوالجلال سے لرزاں وترساں ہے ۔ہائے میری تو ساری عمر اپنی بدکاریوں میں بسر ہوگئی میں نے اپنے منہ کی طرح اپنے اعمال نامے کو بھی سیاہ کرلیا۔ خوفِ خدا کبھی پاس بھی نہ پھٹکنے دیا۔ عذابِ الٰہی کی کبھی بھولے سے بھی پرواہ نہ کی ہائے میرا مالک مجھ پر غصے ہوگا اس کے عذاب کے فرشتے میری تاک میں ہوں گے۔ جہنم کی غیظ وغضب اور قہر آلودہ نگاہیں میری طرف ہوں گی۔ میری قبر کے سانپ بچھو میرے انتظار میں ہوںگے۔ مجھے تو تیری نسبت زیادہ ڈرنا چاہیے نہ جانے میدان محشر میں میرا کیا حال ہوگا۔ اے بزرگ عورت گواہ رہ ! میں آج سے تیرے سامنے سچے دل سے توبہ کرتاہوں کہ آئندہ رب کی ناراضگی کا کوئی کام نہ کروں گا۔ خدا کی نافرمانیوں کے پاس نہ پھٹکوں گا میں نے وہ رقم تمہیں اللہ کے واسطے دی اور میں اپنے ناپاک ارادے سے ہمیشہ کیلئے باز آیا پھر بعد گریہ زاری کے جناب باری تعالیٰ توبہ واستغفار کرتاہوں اور رورو کر اعمال کی سیاہی دھوتاہے ۔ دامنِ اُمید پھیلا کر دستِ دعا دراز کرتاہے کہ یا الٰہ العالمین میری سرکشی سے درگزر فرما۔ مجھے اپنے دامنِ عفو میں چھپالے ۔ میرے گناہوں سے چشم پوشی کرکے مجھے اپنے عذابوں سے آزاد کر۔ نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اسی رات کفل کا انتقال ہوگیا صبح کو لوگ دیکھتے ہیں اس کے دروازے پر قدرتاً لکھا ہوا ہے ۔ ’’اِنَّ اللّٰہَ قَدْ غَفَرَ الْکِفْلَ ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے کفل کے گناہ معاف کردیئے۔ (ترمذی)
قارئین آئیں! ابھی سے ہم اپنے سابقہ گناہوں پر شرمندہ ہوکر بارگاہ الٰہی میں سچی توبہ کریں
