بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا
خاک میں ڈھونڈھتے ہیں سونا لوگ
ہم نے سونا سپرد خاک کیا
23 جمادی الثانی 1446ھ 26 دسمبر 2024ءبروز جمعرات کو سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کرنے لگی کہ ممتاز عالم دین شارح سنن ابن ماجہ استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ مولانا عطا اللہ ساجد رحمہ اللہ گوجرانوالہ وفات پاگئے۔ ما شاء اللہ کیا ہی باکمال شخصیت کے مالک تھے۔ شیخ عطاء اللہ ساجد رحمہ اللہ سادہ، سنجیدہ وباوقار زندگی بسر کی ہے مو لانا عطا اللہ ساجد رحمتہ اللہ علیہ کے والد محترم کا نام بابا جی محمد شفیع رحمہ اللہ ہے ۔مولانا عطا اللہ ساجد رحمۃ اللہ علیہ 2جولائی 1949 بمطابق 5رمضان 1368 ء بروز ہفتہ کو لاہور میں پیدا ہو ئے۔شیخ الحدیث مولانا عطا اللہ ساجد رحمہ اللہ کے آباء اجداد کا مسکن ہندوستان کی ریاست پٹیالہ میں تھا۔ آپ کے والد محمد شفیع رحمہ اللہ موضع نعمت پورتحصیل راج پورہ میں رہے تھے۔ تقسیم ملک کے وقت پاکستان چلے آئے کچھ عرصہ لا ہور میں رہے۔ یہیں مولانا عطا اللہ ساجد رحمہ اللہ کی پیدائش ہوئی اس کے بعد موضع گوجرانوالہ کے ایک گاؤں موضع چیلیکے منتقل ہو گئے۔ اور مولانا ساجد رحمہ اللہ کے نانا مرحوم جناب عبد الرحمان، کامونکے ضلع گوجرانوالہ میں قیام پذیر ہوئے۔ مولانا عطاللہ ساجد رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم اپنے نانا عبد الرحمن رحمہ اللہ سے حاصل کی انہی سے قرآن مجید پڑھا پھر اسکول کی تعلیم شروع ہوگئی۔ ایم بی ہائی سکول موجودہ گورنمنٹ ایم بی ہائی سکول کامونکے سے میٹرک کیا۔ پھر 1970 میں گورنمنٹ کالج گوجر انوالہ سے بی اے کیا۔ اس کے بعد دینی تعلیم شروع کی اور ھ تا ھ کا عرصہ جامعہ محمدیہ گوجر انوالہ میں زیر تعلیم ہے پھر ھ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور ھ تا ھ کا زمانہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں پڑھتے رہے۔ اور یہاں سے سند فراغت حاصل کی۔1396ھ میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے کلیۃ الحدیث میں آپ کو داخلہ مل گیا تو اس طرح سے آپ نے 1396-1400ھ کلیۃ الحدیث جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی علمی فضا میں علمی استفاده میں گزارا۔ بعد ازاں 1982 ءمیں آپ نے پنجاب یو نیورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے کیا ۔ آپ نے جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے مندرجہ ذیل شیوخ الحدیث سے علم حاصل کیا ۔شیخ الحدیث مولانا عبدالحمید ہزاروی رحمہ اللہ، شیخ الحدیث مولانا حافظ عبد السلام بھٹوی رحمہ اللہ، شیخ الحدیث حافظ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ، مولانا محمد رفیق سلفی رحمہ اللہ، شیخ الحدیث حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ، جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں آپ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا ابوالبرکات احمد رحمہ اللہ، شیخ الحدیث مولانا محمد اعظم رحمہ اللہ، جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے اساتذہ کرام میں سے شیخ الحدیث مولانا سلطان محمود رحمہ اللہ، حافظ عبد السلام کیلانی، مولانا محمد عبد الفلاح رحمہ اللہ، مولانا عبد الرحمن دھرم کوٹی فاضل مدینہ یونیورسٹی، مولانا قدرت اللہ فوق رحمہ اللہ، حافظ ثناء اللہ رحمہم اللہ فاضل مدینہ یونیورسٹی (شیخ امان علی جامی عمید کلیۃ الحدیث مدینہ یونیورسٹی، الشیخ علی مرشد القائد مدینہ یونیورسٹی کے اساتذہ کرام میں سے مولانا عبد الغفار حسن رحمہ اللہ، الشیخ اکرم کمال عمر، الدکتور محمد احمد میر، الدکتور عبد المنعم السید نجم، الشیخ ابراہیم محمد سرسیق، الشیخ عبد الفتاح عاشور، الدکتور ضیاء الرحمن الاعظمی رحمہ اللہ 1396 ھ / 1976 میں مولا نا عطا اللہ ساجد رحمۃ اللہ علیہ نے جامعہ سلفیہ سے فراغت پاکر انہیں مدینہ یو نیورسٹی میں تعلیم اور الشہادۃ العالیہ کی سند حاصل کرنے کا موقع ملا۔مدینہ سے سندفضیلت حاصل کرنے کے بعد جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں بطور مدرس 18 سال کام کیا اور ربیع الاول 1418 ھ سے جامعہ اسلامیہ گوجر انوالہ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ مولانا عطاللہ ساجدرحمہ اللہ نے تدریس کے علاوہ بعض عربی کتابوں کا اردو ترجمہ کیا ہے جن میں چند نمایاں کتب درج ذیل ہیں : خطبات جمعہ مولانا عبد السلام بستوی رحمہ اللہ کے اسلامی خطبات میں سے پچاس سے زائد خطبات ترمیم و اضافہ کے ساتھ، منہاج المسلم ابو بکر جابر الجزائری رحمہ اللہ ) ترجمہ: مسلمان کا طرز حیات مع تخریج احادیث، اقتضاء الصراط المستقیم فی …. اصحاب الجحیم ابن تیمیہ رحمہ اللہ، ترجمہ مسئلہ تشبہ بالکفار، فتاوی اللجنۃ الدائمہ للبحوث العلمیۃ، والفتاوی سعودی عرب، جلد دوم، الحسنہ والسیئہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ترجمہ: مسئلہ خیر وشر، سنن ابن ماجہ ترجمہ وفوائد۔ استفادہ تذکرہ علمائے اہل حدیث وسنن ابن ماجہ دار السلام مترجم مولانا عطا اللہ ساجد رحمہ اللہ (آپ نے 20 دسمبر 2024ء بروز جمعرات مغرب کے بعد مسجد میں درس دیا ۔عشاء کی نماز با جماعت ادا کی بچوں کو سبق پڑھایا مسجد کے ساتھ اپنے گھر آئے اچانک خراب ہوئی ایک منٹ میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ کیسی خو بصورت زندگی اور خوبصورت موت ہے۔آپ اکثر یہ دعا کرتے کہ یا اللہ !چلتا پھرتا اپنے پاس لے جائے کسی کہ محتاج نہ کرے ۔اللہ اکبر کبیرا کیسے ان کی دعا قبول ہو گئی۔ آپ رحمہ اللہ کا نام ہی والدین نے مولانا عطا اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کے نام پرعطا اللہ رکھا گیا تھا اور انہوں نے اس نام کا حق ادا کر دیا کہ ساری زندگی حدیث کی خدمت میں گزار دی، با کمال شخصیت کے مالک تھے سادہ، سنجیدہ، وباوقار زندگی بسر کی ہے۔ شیخ سخت علالت کے باوجود بھی چھٹی نہیں کرتے تھے میں کہتا شیخ آج آرام فرما لیتے فرماتے بیٹا طلباء کے بغیر دل نہیں لگتا آپ رحمہ اللہ کے بارے حافظ الحدیث حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ نے کہا تھا کہ اگر کسی نے ہر فن کا ماہر یعنی شیخ الکل فی الکل دیکھنا ہو تو مولانا عطااللہ ساجد کو دیکھ لیا۔ اللہ اکبر کتنی بڑی بات ہے آپ اکثر جامعہ پیدل جاتے اور آتے اذکار اور درود شریف پڑھتے جاتے آپ کافی دیر سے گردے پتھری کی تکلیف میں مبتلا تھے چند روز سے تکلیف زیادہ تھی۔ آپ اچانک حدیث پڑھا کر 23 جمادی الثانی 1446، 26 دسمبر 2024ء 11پوہ 2081ب، بروز جمعرات کو رات کو وفات پاگئے ۔اگلے دن 24 جمادی الثاني 1446ھ، 27 دسمبر 2024ء بروز جمعہ کو آپ کی نماز جنازہ بعد نماز عصر 3:30 جامع مسجد مبارک گلہ گھڑتلیاں والا حافظ آباد روڈگوجرانوالہ میں ادا کی گئی۔ آپ کی نماز جنازہ مولانا حافظ عبدالسمیع عاصم حفظہ اللہ ابن مولانا ابو البرکات احمد علیہ الرحمہ نے پڑھائی، اور آپ کی بخشش کے لئے طویل دعائیں کیں آپ کی نماز جنازہ میں سینکڑوں چاہنے والوں نے شرکت کی ۔جس میں علما کرام سیاسی وسماجی شخصیات کے ہزاروں، دور دراز علاقوں سے سینکڑوں چاہنے والوں نے شرکت فرمائی نماز جنازہ کے بعد آپ کو دعاؤں کے ساتھ سپردالٰہی کردیا گیا ۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین ۔ مغفرت تیری کی ہر کوئی دل سے کرتا ہے۔ دعا قبر میں تیرا اللہ حامی وناصر معین
