یہودیوں کی گریڑاسرائیل کے منصوبہ پر پیش قدمی جاری ہے۔ اور وہ غزہ کو ملیامیٹ کرنے کے بعد فلسطینیوں کو وطن سے انخلا پر مجبور کر رہے ہیں۔اسرائیلی حکومت نے نوجوان مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں بلااجازت نماز پڑھنے سے روک دیاہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک سال تین ماہ جنگ جارہی رہی۔ امریکہ ویورپی ممالک نے اعلانیہ اسرائیل کی عسکری امداد کی لیکن کسی مسلم ملک نے فوج اور اسلحہ بھیج کر حماس کی پشت پناہی نہیں کی چونکہ مسلم حکمران اقتدار کاسرچشمہ امریکہ کو تسلیم کرتے ہیں اس بناء پر وہ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر صرف بیان جاری کرتے رہے۔

گریٹر اسرائیل کا پلان

جدید صیہونیت کے بانی تھیوڈور ہرزل نے 1897ء یورپی ملک آسٹریا کے شہر ویانا سے یہودی ریاست The Jawish State نامی ایک پمفلٹ شائع کیا اس نے پیشین گوئی کی کہ اگلے پچاس سالوں کے دوران ایک یہودی ریاست عالمی نقشہ پر ضرور وجود میں آجائے گی پھر اپنی عظیم تر صورت میں اس کی سرحدیں دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک اُن تمام علاقوں پر محیط ہوجائیں گی جہاں ماضی میں کبھی بھی یہودی آباد رہے ہیں۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کو یہودی سرمایہ کی ضرورت پڑی تو 2 نومبر 1917ء کو برطانوی وزیر خارجہ آرتھرجے بالفور نے سرکاری طور پر فلسطین کو یہودیوں کے لیے وطن کی حیثیت سے تسلیم کرلیا خفیہ سائیکوس معاہدہ کے تحت حیفہ سے سینائی تک اوردریائے اردن کے مغربی کنارے سے بحیرہ روم تک علاقوں پر مشتمل ریاست فلسطین قائم کی اور اس میں یہودیوں کو آباد ہونے کی آزادی دی پھر 29 نومبر 1947ء میں اسے دو لخت کرکے دو الگ ریاستوں فلسطین اور اسرائیل میں تقسیم کر دیا اس کے بعد 1967ء میں اسرائیل نے فلسطین کے سارے علاقہ کے علاوہ مصر کے غزہ اور شام کی گولان کی پہاڑیوں پر بھی قبضہ کر لیا۔

اسرائیل ………… نے اس خطرہ کو بھانپ لیا تھا کہ انتہائی مختصر آبادی کے ساتھ بڑے خطہ زمین پر دائمی قبضہ برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے اس لیے جنگ کپور کے بعد اسرائیل مصر کے سینائی اور شام کی گولان پہاڑیوں کے بڑے حصہ ہے دستبردار ہوکر پیچھے ہٹ گیا تھا البتہ اس نے دیگر ممالک سے آنے والے یہودیوں کی آبادکاری اورفلسطین مسلمانوں کے انخلا کی پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھا۔ 1973 کی جنگ کے بعد اسرائیلی حکومت نے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے چھ سال کی عرق ریزی کے نتیجہ میں منصوبہ تیار کیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے دو سال بحث مباحثہ کے بعد فروری 1982ء میں منظوری دی۔اس منصوبہ کو ینون پلان The Yinon Plan کہا جاتاہے۔

چند قابل ذکر نکات:

یہود کے قومی وطن اسرائیل کے مستقل تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ مسلم حکومتوں سے ہرممکن طریقہ سے ریاست اسرائیل کو تسلیم کرایا جائے۔

عرب دنیا اور دیگر مسلم ممالک کونسلی، لسانی اورفرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے کرکے چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی پوری کوشش کی جائے تاکہ اسرائیل کے مقابلہ میں کوئی مضبوط ملک باقی نہ رہے۔ اس سلسلہ میں مصر کی شمالی سرحدوں پر ایک عیسائی قبطی ریاست قائم کی جائے۔ لیبیا کو قبائلی بنیادوں پر تین ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے۔ لبنان کو شمالا جنوبا شیعہ اور سنی ریاست میں تقسیم کیا جائے۔ شام میں شیعہ، علوی اور دروز علاقوں پر مشتمل ایک الگ ریاست قائم کی جائے۔ عراق، شام ، ایران اور ترکی کے کرد علاقوں پر مشتمل ایک الگ ریاست قائم کی جائے۔ ایران کے عرب علاقوں کو عراق میں شامل کرکے ایک الگ شیعہ ریاست قائم کی جائے۔ سعودی عرب میں حجاز پر مشتمل ویٹیکن طرز کی ایک خود مختار ریاست قائم کی جائے۔ ایرانی اور پاکستانی بلوچستان پر مشتمل ایک ریاست بنائی جائے۔ پاکستانی اور افغانی پشتون علاقوں پر مشتمل ریاست بنائی جائے۔

اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عرب دنیا اوردیگر مسلم ملکوں میں ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ وہاں کوئی اسرائیلی مخالف حکومت قائم نہ ہوسکے اگر کوئی قائم ہوجائے تو اس کے خاتمہ کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔

مسلمان ممالک میں جدیدٹیکنالوجی اوربالخصوص عسکری ٹیکنالوجی کی مخارت کو منتقل ہونے سے روکاجائے۔ بالخصوص ایٹمی پروگرام کی پیش رفت کو روکنے کے لیے سبوتاژ کارروائیوں اور براہ راست حملے سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔

اسلام سے والہانہ عقیدت رکھنے والے نوجوانوں کو حساس شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور وظائف کے حصول میں حوصلہ شکنی کی جائے۔ مہارت رکھنے والوں کو فوری ختم کر دیا جائے۔

عرب اور مسلم ممالک کو داخل انتشار میں مبتلا رکھنے کی کوشش کی جائے اس سلسلہ میں سخت گیر انتہا پسند اورعلیحدگی پسند گروہوں کی مدد کی جائے۔

مسلمان ملکوں کومعاشی طور پر کمزور اوریہودی سرمایہ داروں کا دست نگر رکھنے کی ہرممکن کوشش کی جائے اُن کی ریاستی پالیسیوں کو عالمی اداروں کی پابندیوں اورمعاشی اداروں کے اثرورسوخ سے کنٹرول کیاجائے۔

تیل کی دولت سے مالا مال ممالک کو سائنسی ترقی خصوصا حساس ٹیکنالوجی میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر سرمایہ لگانے سے روکا جائے۔

یروشلم(بیت المقدس) کو ریاست اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کی ہرممکن کوشش کی جائے۔

فلسطین نام کی ریاست کو اقوام عالم اور عالمی اداروں میں قانونی حیثیت ملنے سے ہر صورت روکا جائے، کوشش کی جائے کہ فلسطین مسلمانوں کا زیادہ سے زیادہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی سے انخلا ہوسکے۔

امریکہ نے سویت یونین کے خاتمہ کے بعد جارج بش کے دور میں اس Yinon Plan کو اپنی آفیشنل پالیسی کا حصہ بنایا جس پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے جبکہ مسلم حکمرانوں نے ملت اسلامیہ کی یک جہتی وسلامتی کے لیے ٹھوس حفاظتی اقدام نہیں اٹھائے بلکہ گھٹنے ٹیک دیئے ہیں یہی وجہ ہے کہ اکثر مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے باقی ماندہ پر پریشر ہے۔ طاغوتی قوتیں اسرائیل کے تحفظ کی خاطر مستحکم مسلم ممالک کی قوت کو مفلوج کرنے کی پالیسی پر سرگرم عمل ہیں۔

مصر کی قوت کا غلغلہ کیمپ معاہدہ ڈیوڈ کی بھینٹ چڑھ گیا۔ سوشلزم کا نظریہ دریائے آموز کی لہروں میں تحلیل ہوگیا تو امریکہ اور روس نے مسلمانوں کو مشترکہ دشمن قرار دیا۔ انہوں نے اسلام کو ہدف بنالیا اورخفیہ پلان کے تحت مسلم دنیا کو مذہبی طور پر دو بلاکوں میں منقسم کردیا جس کے نتیجہ میں عراقی،ایران میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے، ہزاروں کی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں دونوں ملکوں کی فوجی قوت مدہم پڑگئی۔

شاہ فیصل شہید کے بعد عرب دنیا میں صدر صدام حسین نڈر اور دلیر تھا۔ مظلوم فلسطینوں کی فریاد پر اس نے اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے عراق کا ایٹمی پلانٹ تباہ کردیا اس نے ہمت نہ ہاری فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھی۔ صدر صدام حسین اس جرم کی پاداش میں کلمہ شہادت پڑھتا ہوا تختہ دار پر لٹک گیا لیکن اپنے کیے پر وائٹ ہاؤس سے معافی نہیں مانگی۔

لیبیا کی حکومت عیسائی شیعہ اور اہل سنت تین دھڑوں میں بٹ کر رہ گئی۔ کرنل قذافی کے دور میں لیبیا میں یکجہتی وسلامتی اورامن وامان کی فضا ساز گار تھی۔ امریکہ کی مداخلت سے لیبیا میں بغاوت برپاہوئی کرنل قذافی کی المناک موت کے بعد قبائلی جنگ میں الجھ کر رہ گیا۔

شام کی فوجی قوت ومہارت عرب دنیا میں معروف تھی اس خاندان نے مذہبی انتہا پسندی کا مظاہرہ کیا۔ اس نے پر امن احتجاج میں شرکت کرنے والوں پر بم برسا کر لاکھوں کو ہلاکت کیا۔ ابو محمد الجولانی کی قیادت میں شام میں انقلاب رونما ہوا۔ اسرائیل نے داخلی انتشار سے ناجائز فائدہ اٹھایا ۔ گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا اور فوجی اسلحہ کے ذخائر کو تباہ کردیا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی قوم کرد کے علاقہ کو یورپی اقوام نے نبرد کے دوران عراق، شام، ایران اور ترکی کی تحویل میں دے دیا۔ طاغوتی قوتیں اپنے مفاد کی خاطر ان کو آزادی کا چکمہ دے کر بغاوت پر اُکساتی ہیں۔

ینون پلان کے تحت لندن میں حجاز کانفرنس کے دوران مقامات مقدسہ کے تحفظ اور انتظام کے لیے خود مختار ادارہ قائم کرنے کی قرار داد پاس ہوگئی تھی۔

جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا تو بلوچستان میں نسلی ومذہبی بنیاد پر نفرت کی آگ سلگائی گئی کچھ عرصہ سے خیبرپختونخواہ میں قوم پرستی کی چنگاری بھڑک اٹھی ہے۔ پاک فوج شمالی علاقہ جات، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں دہشت گردی ختم کرنے میں مصروف عمل ہے اور معاشی طور پر پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کا اربوں ڈالر کا مقروض ہے۔ سیاسی جماعتیں ہوس اقتدار کی دوڑ میں ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں دھرنوں اور لانگ مارچ کی بدولت حکومتیں آئینی مدت سے قبل برخواست ہورہی ہیں۔

طاغوتی قوتوں نے مسلم ممالک کو معاشی طور پر مفلوج اورسیاسی عدم استحکام سے اس حد تک دوچار کردیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب،ترکی سمیت کسی ملک نے حماس کی اعلانیہ حمایت نہیں کی جس طرح امریکہ وبرطانیہ نے اسرائیل کی فوجی مدد کی ہے۔

ایران میں لبرل طبقہ کی پشت پناہی جاری رہی لیکن ایران معاشی، سیاسی اور دفاعی لحاظ سے مستحکم ملک ہےاس نے جنگ کے دوران حماس اور حزب اللہ فوجی ملک پہنچائی ہے لیکن جس طرح صدام حسین کے خلاف عراقی عوام کی مدد کی یا یمن میں حوثیوں کی کر رہا ہے اس طرح اس نے غزہ کے فلسطینیوں کی مدد نہیں کی۔

مسلم دنیا میں اتحاد ویکجہتی کا فقدان اورداخلی بحران ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے بمباری کرکے غزہ کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا ہے۔ پندرہ ماہ کی جنگ کے دوران 46 ہزار فلسطینی شہید ہوگئے اور 20 لاکھ غزہ کے باشندے خانہ بدوش زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

عارضی جنگ بندی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان جاری کیا کہ امریکہ غزہ کو اپنے کنٹرول میں لےگا اور 40 کلومیٹر کی پٹی جو حالیہ جنگ وجدل کی وجہ سے ……………کا ڈھیر ہوگئی ہے اسے جدید صورت طرز پر تعمیر کرے گا۔

اردن، مصر پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کے فلسطینوں کو اپنے ہاں آباد کرے۔ عرب لیڈروں نے اس تجویز کی سختی سے مذمت کی ہے کہ فلسطین اس اس دھرتی کے جدی رہائشی ہیں اُن کو بے دخل کرنا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان نے فلسطین کے مسئلہ کے حل کے لیے دوریاستی منصوبہ پر عمل درآمد کرنے پر زور دیا۔ اسرائیلی وزیر اعظیم نے اس کے جواب میں کہا کہ اگر سعودیہ کو فلسطین سے ہمدردری ہے تو اپنے وسیع ملک میں اُن کو آباد کرے اور علیحدہ فلسطین ریاست قائم کرے۔ مزید براں اسرائیلی حکومت نے 7 اکتوبر 2023 کو حملہ میں ملوث فلسطینیوں کو اسرائیل میں سکونت اختیار کرنے سے روک دیا اس بیان کے پس منظر میں 7 اکتوبر کو دوست نما دشمن کی تجویز لگتی ہے تاکہ نائن الیون کی طرح بہانہ تراش کر غزہ پر حملہ اور فلسطینیوں کو ملک بدر کرنے پر مجبور کردیا جائے۔

دنیا میں ایک ارب بیس کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ پچاس سے زیادہ آزاد مسلم ریاستیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے امت مسلمہ اسلامی جذبہ سے سرشار ہےوہ دنیا کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار اور آہ وپکار پر بے چین ہو جاتے ہیں لیکن جس طرح مقیدطوطا پنجرہ میں مجبور ہوتاہے وہ مالک کی مرضی کے بغیر پرواز نہیں کر سکتا اسی طرح مسلمان مخصوص جغرافیائی خطہ میں مقید ہیں وہ اجازت کے بغیر مظلومووں کی مدد کرنے لیے باہر نہیں جا سکتا۔

مسلم حکمران سیکولر نظریات کے ترجمان ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ضابطوں کی پابندی اور پالیسیوں پر عمل درآمد ان کی حکومت کا ماٹو ہوتاہے اس بناء پر وہ دوسری ریاست کے داخلی معاملات میں عدم مخالفت کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں البتہ وہ اقوام متحدہ کے دربار میں ظالمانہ کارروائی روکنے کی اپیل کرتے ہیں لیکن سلامتی کونسل میں وئیوپاور کے حامل چاہے بچہ دیں یاانڈہ وہ آزاد ہیں امریکہ، برطانیہ فرانس نے اسرائیل کی فوجی مدد کی لیکن کسی مسلم ملک نے حماس کی اعلانیہ حمایت نہیں کی۔

او آئی سی مسجد اقصیٰ کے تحفظ اور امت مسلمہ کی یکجہتی وسلامتی کے لیے معرض وجود میں آئی تھی گزشتہ نصف صدی کے دوران اجلاس میں مذمتی قرار دادیں تو ضرور پاس ہوئیں لیکن صیہونی جارحیت کے سدباب کے لیے عملی قدم نہیں اٹھایا گیا اس بے حسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ 13 سال سے زائد اورپچاس سال سے کم عمر کے فلسطینی سرکاری اجازت کے بغیر مسجد اقصیٰ میں نماز ادا نہیں کر سکتے۔ غزہ کے فلسطینی چونکہ سات اکتوبر کے حملہ میں ملوث تھے اُن پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا مگر اوآئی سی نے نوٹس نہیں لیا۔

یادرکھو! اگر مسلم دنیا نے غزہ کے فلسطینیوں کی ملک بدری پر مصلحت کا مظاہرہ کیا تو دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک (گریٹر اسرائیل) علاقہ کے مسلمان وطن سے انخلا کے لیے اپنی باری کا انتظار کریں۔

طاغوتی چیلوں نے خلافت عثمانیہ کو سبوتاژ کرکے اقوام متحدہ کا ادارہ تشکیل دیا۔ دنیا بھر کے مسلم وغیر مسلم ممالک اس کے رکن ہیں وہ اقوام متحدہ کے ضابطوں کو اپنے ملک میں نافذ کرنے کے پابند ہیں جبکہ یواین او کے اہم وحساس اداروں کے سربراہ یہودی ہیں جنہوں نے اسرائیل کی توسیع اور استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سلامتی کونسل میں پانچ طاغوتی قوتوں کو وئیوپاور حاصل ہے جبکہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کا اختیار دینا عقیدہ توحید کے منافی عمل ہے۔ مزیدبراں اقوام متحدہ نے عالم اسلام کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا نہیں کیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم حکمران اس سے قطع تعلقی کرکے خلافت کا احیاء کریں اور اپنوں میں سے کسی کو ایمانی قوت، اہلیت وقابلیت وجرأت کی بنیاد پر خلیفۃ المسلمین تسلیم کرلیں یا مسجد حرام، مسجد نبوی یا مسجد اقصیٰ کے امام کو روحانی طور پر خلیفہ نامزد کریں اور باضابطہ اعلانیہ جاری کریںکہ فلسطین اس ملک کے آبائی رہائشی ہیں ان کو بے دخل کرنا کسی کو حق نہیں پہنچتا اگر نکالنا ہے تو یہودیوں کو نکالو جنہوں نے باہر سے آکر فلسطین پر قبضہ کیا ہے۔

اسرائیل کی حمایت کرنے والے امریکہ وبرطانیہ وغیرہ کو خبردار کیا جائے کہ اگر تم نے حمایت ترک نہ کی تو ہم غزہ کے فلسطینیوں کی اعلانیہ حمایت کریں گے اورمسلم دنیا میں تمہارے تجارتی مفاد کو نقصان پہنچائیں گے۔

یہودیوں نے نوجوان مسلمانوں پر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کی ہے مسلم حکمران ایمانی حمیت کا مظاہرہ کریں اور باضابطہ طور پر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کا علان کریں اور عملی طور پر پڑھ کر مظاہرہ کریں کہ مسجد اقصیٰ کے وارث زندہ ہیں۔

حماس غیر مسلح نہ ہوگی بلکہ ہر مسلم جوان مسلح ہوکر طاغوتی قوتوں کے خلاف صف آراء ہوگا۔

صیہونی دعویٰ ہے کہ کہ جہاں ماضی میں کبھی بھی یہودی آباد رہے ہیں وہی علاقہ گریٹر اسرائیل میں شامل ہیں۔ غیرت مند حکمران اس کے رد عمل میں اعلان کریں کہ خلافت عثمانیہ کے دور میں ایشیاء، افریقہ، یورپ کے جن علاقوں پر مسلمانوں کی حکومت رہی ہے وہ تمام علاقہ مسلمانوں کی ملکیت ہے اس پر تسلط حاصل کرنا امت مسلمہ کا ماٹو ہے۔

مسلم حکمران برملا اعلان کریں کہ اقتدار کا سرچشمہ ہے صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ جس کو چاہتاہے حکومت دیتاہے جس سے چاہتاہے چھین لیتاہے۔ کوئی اس کا ہمسر نہیں، شام میں سدابہار حکومت کا خواب دیکھنے والا بشار الاسد رات کے اندھیرے میں فرار ہوکر روس پہنچ گیا جبکہ سعودی عرب کی سڑکوں پر پیدل چلنے والا ابو محمد الجولانی شام کا صدر بن گیا۔

مسلم حکمران برملا اظہار کریں کہ ہمیں اقتدار سے زیادہ ملت کا مفاد عزیز ہے چنانچہ مسلم حکمران سربسجود ہوکر رب سے نصرت طلب کریں اور عہد کریں کہ ہم خلافت عثمانیہ کے زیرنگین علاقہ پر غلبہ اسلام قائم کریں گے۔ إن شاء اللہ گریٹر اسرائیل کا سدباب یہی ایجنڈا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو خلافت کے سائبان تلے جمع ہونے کی توفیق دے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *