بَاب إِذَا كَانَ الثَّوْبُ ضَيِّقًا

جب کپڑا تنگ ہو (تو کس طرح نماز پڑھے)

42-361- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ فَقَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَجِئْتُ لَيْلَةً لِبَعْضِ أَمْرِي فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ وَصَلَّيْتُ إِلَى جَانِبِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ مَا السُّرَى يَا جَابِرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَاجَتِي فَلَمَّا فَرَغْتُ قَالَ مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ الَّذِي رَأَيْتُ قُلْتُ كَانَ ثَوْبٌ يَعْنِي ضَاقَ قَالَ فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ .

ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے، وہ سعید بن حارث سے، کہا ہم نے سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم ﷺکے ساتھ ایک سفر ( غزوہ بواط ) میں گیا۔ ایک رات میں کسی ضرورت کی وجہ سے آپ کے پاس آیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺنماز میں مشغول ہیں، اس وقت میرے بدن پر صرف ایک ہی کپڑا تھا۔ اس لیے میں نے اسے لپیٹ لیا اور آپ کے بازو میں ہو کر میں بھی نماز میں شریک ہو گیا۔ جب آپ ﷺنماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا جابر اس رات کے وقت کیسے آئے؟ میں نے آپ ﷺسے اپنی ضرورت کے متعلق کہا۔ میں جب فارغ ہو گیا تو آپ نے پوچھا کہ یہ تم نے کیا لپیٹ رکھا تھا جسے میں نے دیکھا۔ میں نے عرض کی کہ ( ایک ہی ) کپڑا تھا ( اس طرح نہ لپیٹتا تو کیا کرتا ) آپ نے فرمایا کہ اگر وہ کشادہ ہو تو اسے اچھی طرح لپیٹ لیا کر اور اگر تنگ ہو تو اس کو تہبند کے طور پر باندھ لیا کر۔

Narrated Sa`id bin Al-Harith: I asked Jabir bin `Abdullah about praying in a single garment. He said, «I traveled with the Prophet (ﷺ) during some of his journeys, and I came to him at night for some purpose and I found him praying. At that time, I was wearing a single garment with which I covered my shoulders and prayed by his side. When he finished the prayer, he asked, ‘O Jabir! What has brought you here?› I told him what I wanted. When I finished, he asked, ‘O Jabir! What is this garment which I have seen and with which you covered your shoulders?› I replied, ‘It is a (tight) garment.› He said, ‘If the garment is large enough, wrap it round the body (covering the shoulders) and if it is tight (too short) then use it as an Izar (tie it around your waist only.)› «

معانی الکلمات:

الثَّوْبِ الْوَاحِدِایک کپڑا/چادر
أَسْفَارِهِجمع سفر(آپ ﷺ کے سفر)
عَلَيَّمیرے اوپر
فَاشْتَمَلْتُ بِهِمیں نے اس کپڑےکو (اپنے اوپر)لپیٹ لیا
جَانِبِهِآپ ﷺ کی ایک جانب،طرف
السُّرَىرات کو سفر کرنا
الِاشْتِمَالُچادر کو ہر طرف سے لپیٹ لینا
ضَاقَ/ ضَيِّقًاتنگ ہونا، بہت ملا ہوا ہونا
فَالْتَحِفْاوڑھنا، اچھی طرح لپیٹ (اوڑھ) لیا کر
فَاتَّزِرْتہبند باندھنا، تہبند بنالیا کر

تراجم الرواۃ:

1۔نام ونسب: يحيى بن صالح الوحاظى

کنیت: ابو زکریا، الحافظ، الفقیہ، الشامی الدمشقی الحمصی

ولادت: 137 ہجری اور ایک دوسرے کے قول کے مطابق 147 ہجری میں ہوئی۔

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ: امام ابن حجر کے ہاں صدوق، امام ذہبی کے ہاں حافظ، فقیہ اور امام یحییٰ بن معین ان کی توثیق کی ہے۔

وفات: 222 ہجری

2۔نام ونسب: فليح بن سليمان بن أبي المغيرة رافع العدوي الخزاعي

کنیت: ابو یحییٰ المدنی

محدثین کے ہاں مقام ومرتبہ: امام ابن حجر کے ہاں صدوق جبکہ امام دارقطنی فرماتے ہیں: لا بأس به

وفات: 168 ہجری

3۔نام ونسب: سعيد بن الحارث بن أبي سعيد بن المعلى الأنصاري قاضي المدينة

محدثین کے مقام ومرتبہ: امام ابن حجر کے ہاں ثقہ تھے۔

وفات: 120ہجری تقریبا

4۔نام ونسب: جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللهِ کاترجمہ حدیث نمبر 40 میںملاحظہ فرمائیں۔

تشریح

رسول اکرم ﷺنے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ پر اس وجہ سے انکار فرمایاکہ انھوں نے کپڑے کو سارے بدن پر اس طرح سے لپیٹ رکھا ہوگا کہ ہاتھ وغیرہ سب اندر بند ہوگئے ہوں گے اسی کو آپ ﷺنے منع فرمایا اسی کو اشتمال صماءکہتے ہیں، مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کپڑا تنگ تھا اور سیدناجابر رضی اللہ عنہ نے اس کے دونوں کناروں میں مخالفت کی تھی اور نماز میں ایک جانب جھکے ہوئے تھے تاکہ ستر نہ کھلے۔ رسول مکرم ﷺنے ان کو بتلایا کہ یہ صورت جب ہے جب کپڑا بڑاہو اگر تنگ ہو تو صرف تہبند کرلینا چاہیے۔

دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا جبار بن صخر رضی اللہ عنہ کو غزوہ بواط کے موقع پر اس غرض سے روانہ کیا تھا کہ وہ آگے چل کر منزل پر پانی وغیرہ کا انتطام کریں۔ جیساکہ صحیح مسلم میں صراحت ہے۔ علامہ خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:چونکہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کپڑے کو بدن پر اس طرح لپیٹ لیا تھا کہ اس سے ہاتھ وغیرہ سہولت سے باہر نہیں نکلتے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے انکار فرمایا۔ (إعلام الحدیث:253/1) شاید انھوں نے اشتمال صماء کی وجہ سے یہ توجیہ کی ہے، بصورت دیگرصحیح مسلم میں اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ کپڑا انتہائی تنگ تھا، انھوں نے اسے اس طرح پہنا کہ اس کے دونوں کناروں کو ٹھوڑی کے نیچے دباکر آگے کو جھکے ہوئے تھے تاکہ ستر نہ کھل جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب انھیں بایں حالت دیکھاتو فرمایا کہ کناروں کو الٹ کر پہننا اس وقت ہے جب کپڑا کشادہ ہوتنگ ہونے کی صورت میں اسے بطورازار پہننا ہی کافی ہے، کیونکہ مقصد ستر کو چھپانا ہے۔ (فتح الباری:612/1)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *