آج ایک دوست نے تحریر بھیجی ہے اور جواب طلب کیا ہے۔ تحریر کا عنوان ہے :» آئیں سیدناعیسٰی علیہ السلام کی پیدائش پہ عید منائیں!!»۔راقم نے مذکور تحریر (« آئیں سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش پہ عید منائیں!!») میں درج کردہ شبہات کو نمبرنگ اور عنوان دیا ہے۔ پھر اپنا تبصرہ (جواب) ذکر کیا ہے۔ جوابی تحریر میں 5 عنوانات قائم کئے گئے ہیں اور اس کو « مسلمان عیسی علیہ السلام کی پیدائش پرعید نہیں منائیں گے !» کا نام دیا ہے۔ یہ 5عنوانات درج ذیل ہیں:
1۔ انبیاء میں فرق
2۔ عیسی علیہ السلام کی عید
3۔ کرسمس کا مطلب
4۔ عیسی علیہ السلام پر سلامتی
5۔ کرسمس غیر رائج طریقے سے
1۔ انبیاء میں فرق
[ہم مسلمانوں کے نزدیک سیدنا عیسٰی علیہ السلام اور دوسرے انبیاء میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ سورة بقرہ کی آیت 136 میں مسلمانوں کو یہی حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان انبیاء کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے مسلمان (فرمانبردار اور حکم ماننے والے ہیں ) یہی بات سورة بقرہ کی آیت 285 میں بھی کہی گئی ہے۔
ہمارے اکثر علماء نے «روزی روٹی کے چکر میں» اصل دین کو پس پشت ڈال کر اسکی جگہ نئی نئی چیزیں متعارف کرا دی ہوئی ہیں، علماء نے جن قرآنی احکام کو تبدیل کیا ہے اس میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا یوم پیدائش منانا بھی شامل ہے۔]
1۔تبصر ہ اور جواب
بلاشبہ مسلمان انبیاء کے مابین فرق نہیں کرتے اورسب پر ایمان لاتے ہیں۔ لیکن پیروی صرف شریعت محمدی ﷺکی کرتے ہیں۔
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا١ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ
تم میں سے ہر امت کے لئے ہم نے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بھی بنا سکتا تھا لیکن وہ تو چاہتا ہے کہ اس نے جو کتاب تمہیں دی ہے اس کے ذریعہ تمہاری آزمائش کرے۔ (المائدة :48)
محمد ﷺآخری نبی ہیں اور ان کی بشارت ، عیسی علیہ السلام نے بھی دی تھی۔
وَ اِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ۰۰۶ (الصف:6)
اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تورات کی صورت میں ہے اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں، جو میرے بعد آئے گا، اس کا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے۔
سورۃ الصف کی آیت 6 تا 9 رسول اللہ ﷺکی آمد کا تذکرہ ہے اور ایمان نہ لانے والوں کو ظالم کہا گیا۔ رسول اللہ ﷺکی بشارت عیسی علیہ السلام نے اس لیے دی تھی کہ جب وہ تشریف لائیں تو ان پر ایمان لایا جائے ، اگر رسول اللہ ﷺایمان لاناضروری نہیں، تو پھر بشارت اور اطلاع کی کیا ضرورت تھی؟
رسول اللہ ﷺپرنہ صرف ایمان لانا ضروری ہے بلکہ رسول اللہ ﷺکی پیروی اور بات ماننا بھی ضروری ہے، یہاں تک کہ عیسی علیہ السلام بھی اپنی آمد کے بعد رسول اللہ ﷺکی شریعت پر عمل کریں گے۔
کچھ لبرلز ہیں ۔ کچھ این جی اوز کے کرتا دھرتا اپنی روزی روٹی کی چکر میں ہیں۔ کچھ غیر مسلموں سے مرعوب ہیں۔ یہ سب لوگ کفار کی عیدیں ، تہوارfestivals اور نظریات کو اسلام میں شامل کرنے کے درپے ہیں۔
آپ وہ قرآنی احکام بیان کریں جہاں عیسی علیہ السلام کا یوم پیدائش منانے کا حکم ہے؟
دوسری بات یہ کہ آپ نے انبیاء کے مابین فرق نہ کرنے کی جو خود ساختہ تشریح ، یوم پیدائش کے منانے کے حوالے سے کی ہے۔ اس خود ساختہ اصول کے مطابق تو آپ کو تمام انبیاء (علیہم السلام) کا یوم پیدائش منانا چاہئے ، جبکہ آپ نے توساری تحریر میں زور ہی صرف عیسی علیہ السلام کے یوم پیدائش منانے پر دیا ہے۔ یعنی خود ہی اپنے اصول پر عمل نہیں کر رہے؟
آپ کو تو شاید یہ بھی نہیں معلوم کہ عیسائی عید اور جشن کیوں مناتے ہیں ؟ پادری شفیق کنول مسیح کے بارے اپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: «نبیوں کی پیدائش کا ہم جشن نہیں مناتے مسیح کی پیدائش کا جشن مناتے ہیں۔
اس لیے کہ وہ خدا مجسم ہو کر زمین پہ آیا تھا۔ اور انسان کی نجات کا بندوبست کیا صلیب پر کفارہ دیا۔»
2۔ عیسی علیہ السلام کی عید
[سب سے پہلے تو یہ بات یاد رکھیں کہ 25 دسمبر کے بارے میں ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا دن ہے, یہاں ہم تھوڑی دیر کے لئے اس تاریخ کو صحیح مان لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم اس بارے میں کیا احکامات دے رہا ہے, سب سے پہلے عید کا مطلب سمجھ لیں,عید کا مطلب ہے خوشی منانا تہوار منانا festival ہے…
پورے قرآن میں صرف ایک بار لفظ عید آیا ہے وہ بھی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں, جس میں وہ اللہ سے دعا کر رہے ہیں کہ اے اللہ ہمارے اوپر عمدہ عمدہ کھانے نازل کر جو ہمارے لئے ایک تہوار (عِيدًا) بن جائے۔
قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ١ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ۰۰۱۱۴ (المائدۃ:114)
یہاں یہ بات بھی مدنظر رکھیں کہ قرآن کریم میں کہیں بھی اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوے خوشی کا تہوار منانے پہ کوئی پابندی نہیں بلکہ ایسے تہوار منانے کی مکمل اجازت ہے۔
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ۰۰۵۸ (یونس:58)
2۔ تبصر ہ اور جواب
دسمبر 25 کے بارے میں آپ سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا دن ہے۔ اگرآپ 25 دسمبر کے بارے میں سو فیصد نہیں سکتے کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا دن ہے ، تو بتائیے کتنے فی صد کہہ سکتے ہیں؟ یا کرسمس منانے کے لئے تاریخ تجویز کریں۔۔
بعض عیسائی سکا لر بھی اس تاریخ (25 دسمبر) پر متفق نہیں ہیں۔ بلکہ پوپ بینڈیکٹ 16 (Pope Benedict 16) نے اپنی کتاب میں چند بر س قبل یہ سوال اُٹھایا تھا اور یہ بات بہت مشور ہوئی تھی کہ عیسیٰ علیہ السلا م کی تاریخ پیدائش کے بارے میں کو ئی واضح دلیل موجود نہیں ہے ،اس (تاریخ) کا تعین ممکن نہیں ہے ۔آرتھوڈاکس چرچ orthodox church کے ماننے والے 25 دسمبر کی بجائے 7 جنوری کو کرسمس مناتے ہیں۔
قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَيْنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰيَةً مِّنْكَ١ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ۰۰۱۱۴ (المائدۃ:114)
عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اتار، جو ہمارے پہلوں اور ہمارے پچھلوں کے لیے عید ہو اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق دے اور تو سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
قَالَ اللّٰهُ اِنِّيْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ١ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّيْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَؒ۰۰۱۱۵ (المائدہ :115)
اللہ نے فرمایا بے شک میں اسے تم پر اتارنے والا ہوں، پھر جو اس کے بعد تم میں سے ناشکری کرے گا تو بے شک میں اسے عذاب دوں گا، ایسا عذاب کہ وہ جہانوں میں سے کسی ایک کو نہ دوں گا۔
ان دونوں آیات میں تو عیسی علیہ السلام نے آسمان سے دسترخوان اتارنے کی دعا کی ، تاکہ اس کویوم عید بنایا جائے۔ عیسی علیہ السلام نے یہ دعا نہیں کی کہ میری پیدائش کے دن کو عید بنا دے۔ ان آیات میں پیدائش کے دن کی عید (کرسمس) کا ذکر ہی نہیں۔
دوسری بات یہ کہ ہم پہلے بیان کر چکے کہ محمد ﷺکی آمد کے بعد اب صرف محمد ﷺکی شریعت پر ہی عمل درست ہے ، اور سابقہ شریعتیں منسوخ ہو گئی ہیں۔ اگر آپ کے خیال میں ایسا نہیں ہے تو پھر آپ عیسائیوں کے ساتھ ان کی عید اور ان کی دیگر عبادات کریں ۔ یہودیوں کے ساتھ ان کی عید اوردیگر عبادات کریں۔
يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۵۷ (یونس:57)
اے لوگو! بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے عظیم نصیحت (قرآن) اور اس کے لیے سراسر شفا جو سینوں میں ہے اور ایمان والوں کے لیے سرا سر ہدایت اور رحمت آئی ہے۔
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ۰۰۵۸ (یونس:58)
کہہ دے (یہ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی سے ہے، سو اسی کے ساتھ پھر لازم ہے کہ وہ خوش ہوں۔ یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
ان دو آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ قرآن مجید کے نزول پر مسلمانوں کو خوش ہونا چاہیے ۔ قرآن مجید کی نعمت اور ہدایت ، دنیا میں لوگ جو جمع کرتے ہیں اس سے بہتر ہے ۔ ان آیات میں عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے دن عید منانے کے حوالے سے کوئی دلیل نہیں۔
3۔ کرسمس کا مطلب
[اب دیکھتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ کے بارے میں بلکہ کرسمس کے بارے میں قرآن کریم کیا کہہ رہا ہے،سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ Merry christmas کا کیا مطلب ہے؟ علما نے لوگوں کو بہکایا ہے کہ اسکا مطلب نعوذ بااللہ، اللہ نے بیٹا جنا ہے… جو کہ سو فیصد جھوٹ ہے, دنیا کی کسی ڈکشنری میں دیکھ لیں یا کسی عیسائی سے معلوم کرلیں, علما کے جھوٹ کا اندازہ ہوجائے گا۔ مَیری کرسمس کا مطلب سیدنا عیسیٰ کی پیدائش کی مبارکباد دینا ہے, جس طرح ہم ایک دوسرے کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے یا عید کے موقع پہ مبارکباد دیتے ہیں…]
3۔ تبصر ہ اور جواب
میر ی کرسمس Merry Christmas اور ہیپی کرسمس Happy Christmas ایک ہی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ گو یا یہ کرسمس پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔کرسمس کیاہے ؟ کرسمس عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا تہوار ہے جو کہ سالانہ منایا جاتا ہے ۔ 25دسمبر کو عیسائی یہ تہوار مناتے ہیں ۔کرسمس Christmas(«Christ›s Mass») دو الفاظ کا مرکب ہے۔ عبرانی زبان کے لفظ مسیح کو یونانی میںChrist کہا جاتا ہے۔ اورMass کا اصل لاطینی لفظ missa ہے جو «عشائے ربانی» کی ایک مسیحی رسم سے متعلق ہے۔ یہ رسم مصلوب ہونے سے قبل آخری کھانے سے جڑی ہے۔
کرسمس کا اصطلاحی معنی کیا ہے ؟ بطور ٹرمنالوجی terminology اس کا کیا مطلب ہے؟ وہ ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ۔
لیکن اس سے پہلے ہم عید الفطر کی مثال آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔جب ہم عید الفطر کہتے تو اس سے مراد صرف سویوں کی عید نہیں ہوتی ۔ عیدالاضحیٰ سے مراد صرف گوشت کی عید نہیں ہوتی۔بلکہ عیدالفطر کے ساتھ بہت ساری چیزیں منسلک ہیں۔اس میں عید کی نماز ہے، تکبیرات ہیں، اس سے پہلے روزے ہیں، قیام اللیل ہے اور زکوٰۃ فطر ہے بہت سی چیزیں ہیں جو سب عباد ت کے ساتھ ریلیٹڈ related ہیں ۔اور پھر اس کے نتیجے میں ، اور اس کےبعد عید الفطر آتی ہے۔
اسی طرح عیدالاضحی کو اگر دیکھیں ۔تو عیدا لاضحی کے ساتھ جانورں کی قربانی ، اسماعیل علیہ السلام کی قربانی، ابراہیم علیہ السلام کی قربانی، ذوالحجہ کے ایام، حج کا تعلق ہونا ،قربانی کے شرائط، یہ ساری چیزیں اس کے ساتھ منسلک ہیں اور اس کے مفہوم سے متعلق ہیں ۔
اب اسی طرح ہم کرسمس کا مفہوم دیکھتے ہیں۔ بشپ مائیکل کر ی Bishop Michael Curry عیسائی سکالر ہےاور بشپ نے برطانوی شہزادہ Prince Harry کی شادی پر sermon تقریر کی تھی۔ بشپ میڈیا پروگرام This morning CBS میں اظہار ِخیال کے لیے آئے تو بشپ سے سوال کیا گیا کہ what is the real meaning of Christmas ?
کرسمس کا حقیقی معنی کیا ہے ،تواُس کا جواب دیتے ہوئے جو بشپ نے کہا :
The real meaning of Christmas is that God made a decision to show us what we mean to God. There is a text in the New Testament John’s Gospel: God so loved the world that he gave his son (his only son) that’s the key to the meaning of Christmas. [ For God so loved the world, that he gave his only begotten Son… John 3: (16) ]
ترجمہ :»کرسمس حقیقی معنی یہ کہ خدانے ایک فیصلہ کیا۔ یہ دکھانے کے لئے کہ ہم اس کے نزدیک کتنی حیثیت رکھتے ہیں ۔اور عہد نامہ جدید یوحناباب 3 میں متن ہے: ‘کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی محبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلَوتا بَیٹا بخش دِیا ‘۔کرسمس کے معنی کو سمجھنے کیلئے یہ کنجی (بنیادی بات) ہے ۔»
ان referencesسے یہ بات بڑی واضح ہو گئی ہے کہ کرسمس عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا تہوار ہے ،اس کے پیچھے فکر یہ ہے عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں اور خدانے اپنا بیٹا اس دنیا میں بھیجا ۔اس مفہوم کے بعد اگرآپ کو کوئی ان الفاظ میں مبارک باد دے کہ «خدا کے بیٹے کی پیدائش کی عید مبارک» یا «خدا کے بیٹے کی پیدا ئش مبارک « تو آپ کا رد عمل کیا ہو گا؟ کیا آپ بھی اُسے ویسے ہی reciprocate کریں گے یا جوابی مبارک باد میں وہی الفاظ کہیں گے؟ تو اس تفصیل سے اندازہ ہو گیا کہ کرسمس کا یہی اصل مفہوم ہے ۔ ان ظاہر ی مختصر الفاظ سے جو مفہوم منسلک ہے وہ ہم نے عیسائی مبلغین سے ریفرنس کے ساتھ واضح کر دیا۔
آپ نے اپنی تحریر میں علماء پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ، ان حوالہ جات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کاالزام غلط تھا، اور اس موضوع پر آپ نے بلا تحقیق تحریر لکھ ڈالی۔
4۔ عیسی علیہ السلام پر سلامتی
[اب ہم قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ کیا سیدنا عیسیٰ کی پیدائش کی مبارکباد مسلمانوں کو دینی چاہیے یا مسلمان عیسائیوں کو یہ مبارکباد دے سکتا ہے یا نہیں؟ (مریم :33)
سلام اُس دن پہ کہ جس روز وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے۔
وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوْتُ وَ يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّاؒ۰۰۱۵ (مريم :15)
اب یہاں اللہ سیدنا عیسیٰ کی پیدائش والے دن پہ سلام بھیج رہا ہے تو کیا مسلمانوں کو یہ حکم نہیں ؟؟]
4۔ تبصر ہ اور جواب
اس آیت میں تو ولادت اور وفات دونوں کا تذکرہ ہے۔آپ ولادت پر جشن منانے کی دلیل لے رہے ہیں لیکن وفات پر کوئی جشن منانے کی دلیل نہیں لے رہے۔
دوسری بات یہ کہ اللہ رب العالمین نے اس میں بشارت دی ہے عیسیٰ علیہ السلام کے لئے سلامتی کی۔ اس میں عیسائیوں کے اس عقیدے کی نفی کر دی کہ عیسی معبود ہیں کیونکہ حقیقی معبود جو ہوتا ہے نہ پیدا ہوتا ہے اور نہ اس کو موت آتی ہے اور نہ وہ دوبارہ زندہ کیا جاتاہے ۔تو گویا رب العالمین نے یہاں اس سلامتی کے ذکر کے ساتھ عیسائیوں کے عقیدے کی بھی تردید کر دی ۔
تیسرا اور سب سے بہتر جواب یہ ہے کہ یہ آیت سب سے پہلے کس پر نازل ہوئی؟ سب سے پہلے مخاطب اس کے کون تھے؟ اللہ کے رسول ﷺ ۔اللہ کے رسول ﷺ نے اس آیت کے نزول کے بعد کیا کرسمس منائی ؟ کیا آپ ﷺ نے اس سے استدلال لیا ؟تواگر اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے اس طرح کا کوئی عمل نہیں لیا تو میں اور آپ اس سےکیسے ایسے عمل کی دلیل لے سکتے ہیں! اس میں کرسمس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ صرف سلامتی ہے جو اللہ رب العالمین نے اپنے اس رسول کے لئے ،اپنے اس نبی کے لئے عیسیٰ علیہ السلام، کے لئے بطور بشار ت ذکر کی۔ کرسمس کا مفہوم ،مفسرین میں سے کسی نے بھی مراد نہیں لیا۔ تو یہ دلیل یہاں درست نہیں ہے ۔
چوتھی بات یہ کہ یہی الفاظ قرآن مجید میں يحيى علیہ السلام کے لیے بھی ہیں، تو آپ ان کے لیے کرسمس (ان کا برتھ ڈے یامیلاد ) کیوں نہیں مناتے ؟
وَ سَلٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوْتُ وَ يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّاؒ۰۰۱۵ (مريم :15)
خلاصہ ساری بات کا یہ ہےکہ Happy Christmas یا Merry Christmas یا کرسمس کے موقع پر مبارک باد دینا یا مبارک بادکے جواب میں مبارک باددینا۔ یہ سارا عمل ناجائز ہے اور شرعا درست نہیں ہے۔چہ جائیکہ کہ اس سے بڑھ کر ہم میں سے کوئی شخص جو ہے وہ سانتا کلا س Santa Claus کا روپ اختیار کر لے ۔ کرسمس پر تحائف دے ،gifting کر ے یا کھانے تیار کرے meal serve کرے ۔تواس طرح کی کسی چیز کی شریعت محمد ی میں اجاز ت نہیں ہے ۔
5۔ کرسمس غیر رائج طریقے سے
[لہٰذا کرسمس منائیں عیسائیوں کو انکے گھر جاکر میری کرسمس بھی کہیں خود بھی کرسمس منائیں لیکن ان طریقوں سے نہیںجو رائج ہیں بلکہ ان طریقوں سے جو نبی ﷺ کو پسند تھے یعنی دل کھول کر غریبوں اور ناداروں کی مدد کریں جن لوگوں کو ہم عام طور پہ چوڑا،بھنگی،گٹر صاف کرنے والا اور جمعدار کے نام سے پکارتے ہیں کم از کم کرسمس کے موقع پہ انکو عزت دیں یہی اصل دین ہے۔وما علینا الالبلاغ……]
5۔ تبصر ہ اور جواب
رائج عیسائی روایات میں تو کرسمس کے موقع پر درج ذیل کام سرانجام دئیے جاتے ہیں: چرچ میں حاضری ، کرسمس ٹری Christmas Tree کی سجاوٹ، گلیوں میں برقی قمقمے ، گھروں میں موم بتیاں جلانا، گھنٹیاں، منظرپیدائش سے متعلق خاکہ nativity play پیش کیا جاتا ہے، سانتا کلاز کی آمد ، گیت ، عشائے ربانی Lord’s Supper کا اہتمام ، وغیرہ۔ ایک طرف تو آپ کہہ رہے ہیں کہ کرسمس منائیں۔ دوسری طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ رائج طریقوں سے نہ منائیں۔ سوال یہ ہے کہ جن رائج طریقوں سے عیسائی مناتے ہیں، ویسے کرسمس کیوں نہ منائی جائے؟
اگر ناداروں کی مدد کرنی ہے تووہ سال میں کسی وقت بھی کی جا سکتی ہے ، اس کے لیے « آئیں سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش پہ عید منائیں!!» کے عنوان سے تحریر لکھنا ، علماء پر طعن کرنا ، دلائل پیش کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اتنا لکھنا ہی کافی تھا کہ «غیر مسلم ناداروں کی مدد کر دیا کریں۔» آپ اس بات کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں کہ صفائی کرنے والےcleaner کو چوڑا،بھنگی،گٹر صاف کرنے والا اور جمعدار کے الفاظ سے نہ پکارا جائے تو اسی موضوع پر تحریر لکھ دیتے ۔ اس کی بجائے آپ نے’’ آئیں سیدنا عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش پہ عید منائیں!!‘‘پر تحریر لکھ ڈالی ۔
