سوال:حلال و حرام جانور/پرندوں کي پہچان کيا ہے؟ پاني کے کونسے جانور حلال اور کونسے حرام؟ نيز کيا برائلر مرغي، بھينس، مور اور زيبرے وغيرہ کا حلال ہونا قرآن و حديث سے ثابت نہيں؟

جواب..!!الحمدللہ رب العالمين والصلاة والسلام علي رسولہ الکريم

جتنا يہ اہم مسئلہ ہے اتنا ہي اس مسئلے ميں اختلاف پايا جاتا ہے، اور اس اختلاف کي وجہ کوئي دلائل نہيں بلکہ سب سے بڑي وجہ سب کي اپني اپني پسند نا پسند ہے، ہمارے ہاں ايک بُرا رواج يہ بھي ہے جسکو جو چيز نہيں پسند وہ فوراً اس پر حرام يا مکروہ کا فتويٰ لگا ديتا ہے، جبکہ حقيقت ميں وہ چيز حلال ہوتي ہے، اور اللہ کي حلال کردہ چيزوں کو حرام ٹھہرانے والا جانے انجانے ميں اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہوتا ہے۔

اللہ تعاليٰ قرآن مجيد ميں ارشاد فرماتے ہيں:

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَؕ۰۰۱۱۶

اور اس کي وجہ سے جو تمہاري زبانيں جھوٹ کہتي ہيں، مت کہو کہ يہ حلال ہے اور يہ حرام ہے، تاکہ اللہ پر جھوٹ باندھو۔ بيشک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہيں وہ فلاح نہيں پاتے۔( النحل:116)

تفسير:

يعني جب اللہ تعاليٰ نے تمہارے ليے حلال و حرام کو خود واضح فرما ديا ہے تو اب اسي کے پابند رہو اور يہ جرأت مت کرو کہ تمہاري زبانيں جسے جھوٹ سے حلال کہہ ديں اسے حلال اور جسے حرام کہہ ديں اسے حرام قرار دے لو، اگر ايسا کرو گے تو يہ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہوگا اور يہ بات يقيني ہے کہ اللہ تعاليٰ پر جھوٹ گھڑنے والے کبھي کامياب نہيں ہوتے،

حافظ ابن کثير رحمہ اللہ نے تفسير ابن کثير ميں فرمايا، اس آيت ميں ہر وہ شخص داخل ہے جو دين ميں کوئي نئي بات (بدعت) ايجاد کرے، جس کي کوئي شرعي دليل نہ ہو، يا محض اپني عقل اور رائے سے اللہ کي حلال کردہ چيز کو حرام يا حرام کردہ چيز کو حلال ہونے کا فتويٰ دے۔

رسول اللہ (ﷺ) کے اس فرمان کے صحيح ہونے پر تو ساري امت کا اتفاق ہے :

مَنْ کَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ

’’جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم ميں بنا لے (کيونکہ يہ درحقيقت اللہ پر جھوٹ ہے)۔‘‘(بخاري، العلم، باب إثم من کذب علي النبي صلى الله عليه وسلم:حديث 107)

اس آيت سے يہ بات ثابت ہوئي کہ حلال وحرام کا قانون ہمارے اختيار ميں نہيں، حلال وحرام صرف وہي ہے جسے اللہ اور اس کے رسول نے حلال وحرام قرار ديا ہو، جسے اللہ اور اسکے رسول حرام قرار دے ديں وہ حرام اور جسے حلال قرار دے ديں وہ حلال، اب انکے بعد کسي کو اختيار نہيں کہ وہ اس ميں تبديلي کرے،واضح رہے کہ نبي اکرم  ﷺکامل دين لے کر آئے ہيں ، وہ دين جو آپکو قضائے حاجت جانے، استنجاء کرنے تک کے آداب بتلاتا ہے يہ کيسے ہو سکتا ہے وہ اتنے اہم مسئلہ حلال و حرام ميں ہماري رہنمائي نا کرے، چنانچہ آپ ﷺ نے اللہ تعاليٰ کے حکم سے حلال وحرام کے بارے ميں جامع اصول بيان کر دئيے ہيں جن کي روشني ميں ہم کسي بھي چيز کے حلال وحرام ہونے کا پتا لگا سکتے ہيں،ہر وہ چيز حلال ہے جسے شريعت نے حلال قرار ديا ہے،اور ہر وہ چيز حرام ہے جسے شريعت نے حرام قرار ديا ہے، اور انکے علاوہ ہر وہ چيز بھي حلال ہے جس سے شريعت نے خاموشي اختيار کي ہے، يعني جس پر کوئي حکم نہيں لگايا گيا اور نا ہي اس ميں حرام والي کوئي علامات پائي جاتي ہوں۔

دلائل درج ذيل ہے،

يَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَاۤ اُحِلَّ لَهُمْ١ؕ قُلْ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبٰتُ١ۙ (المائدة:4)

تجھ سے پوچھتے ہيں کہ ان کے ليے کيا حلال کيا گيا ہے ؟ کہہ دے تمہارے ليے پاکيزہ چيزيں حلال کي گئي ہيں،

اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ

تمہارے ليے چرنے والے چوپائے حلال کيے گئے ہيں، سوائے ان کے(جنکے نام) تم پر پڑھے جائيں گے،( يعني جنکي حرمت آگے چل کر واضح کر دي جائے گي)۔(المائدة:1)

ارشاد باري تعاليٰ ہے!

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَيْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۱۷۳ (البقرة:173)

اس نے تو تم پر صرف مردار اور خون اور خنزير کا گوشت اور ہر وہ چيز حرام کي ہے جس پر غير اللہ کا نام پکارا جائے، پھر جو مجبور کرديا جائے، اس حال ميں کہ نہ بغاوت کرنے والا ہو اور نہ حد سے گزرنے والا تو اس پر کوئي گناہ نہيں۔ بيشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہايت رحم والا ہے۔

(اِنَّمَا ) کا لفظ حصر کے ليے آتا ہے، اس ليے آيت سے يہ بات سمجھ ميں آتي ہے کہ اللہ تعاليٰ نے صرف يہ چار چيزيں حرام کي ہيں، ان کے سوا کچھ حرام نہيں اور دوسري آيت ميں اس سے بھي صريح الفاظ ميں يہ بات ذکر ہوئي ہے۔

فرمايا:

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِيْ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ يَّكُوْنَ مَيْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا

کہہ ديجئے کہ مجھ پر نازل کي گئي وحي ميں کسي کھانے والے پر مردار اور دمِ مسفوح (جو خون ذبح کے وقت بہتا ہے)کے علاوہ کوئي چيز حرام نہيں ۔” (الانعام :145)

حافظ ابنِ رجب رحمہ اللہ لکھتے ہيں :

فھذا يدلّ علي ما لم يوجد تحريمه ، فليس بمحرّم

يہ آيت کريمہ اس قانون پر دليل ہے کہ (شريعت ميں کھانے پينے اور پہننے کي)جس چيز کي حرمت نہ پائي جائے ، وہ حرام نہيں ہے۔(جامع العلوم والحکم لابن رجب :ص381)

حديث ملاحظہ فرمائيں:سنن ابوداؤد،کتاب: کھانے پينے کا بيان، حديث نمبر: 3800

سيدنا عبداللہ بن عباس   رضي اللہ عنہما  فرماتے ہيں،

كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا، ‏‏‏‏‏‏فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ، ‏‏‏‏‏‏وَتَلَا:‏‏‏‏ قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .

زمانہ جاہليت ميں لوگ بعض چيزوں کو کھاتے تھے اور بعض چيزوں کو ناپسنديدہ سمجھ کر چھوڑ ديتے تھے، تو اللہ تعاليٰ نے اپنے نبي کريم ﷺ کو مبعوث کيا، اپني کتاب نازل کي اور حلال و حرام کو بيان فرمايا، تو جو چيز اللہ نے حلال کر دي وہ حلال ہے اور جو چيز حرام کر دي وہ حرام ہے اور جس سے سکوت(خاموشي) فرمايا وہ معاف ہے، پھر آپ (سيدنا ابنِ عباس رضي اللہ عنہما  )نے يہ آيت تلاوت فرمائي :

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِيْ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا

’’کہہ ديجئے کہ مجھ پر نازل کي گئي وحي ميں کسي کھانے والے پر مردار اور دم ِ مسفوح کے علاوہ کوئي چيز حرام نہيں‘‘(سنن ابو داؤد :3800 وسندہ، صحيحٌ ، وقال الحاکم (٤/١١٥): صحيح الاسناد)

حافظ ابنِ کثير رحمہ اللہ مذکورہ آيت کي تفسير ميں لکھتے ہيں: اس آيت  کريمہ کا مقصد مشرکين کا رد کرنا ہے ، جنہوں نے اپني فاسد آراء سے اپنے آپ پر بحيرہ ، سائبہ ، وصيلہ اور حام وغيرہ کو حرام قرار دينے کي بدعت جاري کي ، اللہ تعاليٰ نے اپنے رسول کو حکم ديا کہ وہ مشرکين کو خبر ديں کہ اللہ تعاليٰ کي وحي ميں يہ چيزيں حرام نہيں ہيں ، اس آيت ِ کريمہ ميں مذکور مردار ، دم ِ مسفوح، خنزير کا گوشت اور وہ چيز جو غيراللہ کي طرف منسوب کي جائے ، کو ہي حرام قرار ديا گيا ہے ، ان کے علاوہ کسي چيز کو حرام نہيں کہا گيا ، باقي جو کچھ بھي ہے ، وہ معاف ہے اور اس سے سکوت اختيار کيا گيا ہے ، (جن چيزوں کي حرمت سے شريعت نے سکوت کياہے)تم نے يہ کيسے سمجھ ليا ہے کہ يہ چيزيں حرام ہيں اور انہيں کيسے حرام قرار ديتے ہو ؟ يہ قاعدہ ان چيزوں کي نفي نہيں کرتا ، جن کي حرمت اس کے بعد وارد ہو چکي ہے ، جيسا کہ پالتو گدھوں ، درندوں اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندوں کے گوشت کي حرمت ہے، علماء کا مشہور مذہب يہي ہے ۔(تفسير ابن کثير : ج3 /ص103- 104)

يعني آپ اعلان کرديں کہ ميري وحي ميں ان چيزوں کے علاوہ اور کوئي چيز حرام نہيں، مگر اس پر اشکال يہ ہے کہ دوسري آيات و احاديث سے ان کے علاوہ اور بھي بہت سي چيزوں کي حرمت ثابت ہے، مثلاً خمر يعني ہر نشہ آور چيز اور درندے وغيرہ، تو يہاں صرف انھي چيزوں کو کيسے حرام کہا گيا ؟ اس کا جواب يہ ہے کہ يہاں تمام حلال و حرام کا ذکر نہيں، بلکہ ان مخصوص جانوروں کي بات ہو رہي ہے جنھيں مشرکين مکہ نے حرام کر رکھا تھا، جب کہ آيت ميں مذکور چاروں حرام چيزوں سے وہ اجتناب نہيں برتتے تھے، اس ليے ان کے اس فعل کے بالمقابل انھيں بتايا گيا کہ اللہ کے نزديک فلاں فلاں چيزيں حرام ہيں جن سے تم اجتناب نہيں کرتے اور جو اللہ کے نزديک حلال ہيں ان سے تم پرہيز کرتے ہو، گويا يہاں صرف ان مشرکين کي نسبت سے اور ان کے بالمقابل بات کي گئي ہے۔ اسے عربي ميں حصر اضافي کہتے ہيں۔ يہ حصر مطلق يعني عام قاعدہ نہيں۔( تفسير القرآن الکريم )

____&___

حرام و حلال سے متعلق قرآن و حديث ميں ان چار چيزوں کے علاوہ جو بنيادي احکام بيان ہوئے ہيں وہ يہ ہيں

جانور/پرندے دو طرح کے ہوتے ہيں،

1سمندر (پاني) کے ،

2خشکي کے ،

پاني کے جانور

سمندر کا ہر جانور خواہ زندہ پکڑا جائے يا مردہ، چھوٹا ہو يا بڑا، نام اس کا کچھ بھي ہو، حلال ہے۔ مراد اس سے پاني ميں رہنے والے وہ جانور ہيں جو پاني کے بغير زندہ نہيں رہ سکتے، خواہ سمندر ميں ہوں، يا دوسري جگہ پاني ميں، يعني دريا،نہر ميں۔، جيسے مچھلي وغيرہ

دليل ملاحظہ فرمائيں:

ارشاد باري تعاليٰ ہے:

اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ١ۚ وَحُرِّمَ  عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْۤ اِلَيْهِ  تُحْشَرُوْنَ۰۰۹۶

تمہارے ليے سمندر کا شکار حلال کرديا گيا اور اس کا کھانا بھي، اس حال ميں کہ تمہارے ليے سامان زندگي ہے اور قافلے کے ليے اور تم پر خشکي کا شکار حرام کرديا گيا ہے، جب تک تم احرام والے رہو اور اللہ سے ڈرو جس کي طرف تم اکٹھے کيے جاؤ گے،(المائدة:96)

تفسير:

اس ميں سمندر اور غير سمندر سب پاني برابر ہيں اور اس ميں وہ تمام جانور شامل ہيں جو پاني سے باہر زندہ نہيں رہ سکتے، وہ مچھلي ہو يا کوئي اور جانور۔ زندہ بھي پکڑے جائيں تو ذبح کي ضرورت ہي نہيں۔

قرآن و حديث ميں پاني کے شکار کو حلال کہا گيا ہے اور کسي صحيح حديث ميں يہ نہيں کہ مچھلي کے سوا سب حرام ہيں۔ ” صَيْدُ الْبَحْرِ “ سے مراد پاني کا ہر وہ جانور ہے جو زندہ پکڑا جائے اور ” طَعَام “ سے مراد پاني کا وہ جانور ہے جو وہيں مرجائے اور سمندر يا دريا اسے باہر پھينک دے، يا مر کر پاني کے اوپر آجائے۔(تفسير القرآن الکريم )

نبي کريم (ﷺ) سے بھي يہي تفسير آئي ہے۔

ابن جرير رحمہ اللہ نے آپ (ﷺ) کا يہ فرمان نقل کيا ہے :

 طَعَامُهُ مَا لَفِظَهُ الْبَحْرُ مَيْتًا

يعني اس آيت ميں ” طَعَام “ سے مراد وہ جانور ہے جسے سمندر مردہ حالت ميں کنارے پر پھينک دے۔ ” ہداية المستنير “ کے مصنف نے اسے حسن قرار ديا ہے۔ ابن جرير نے بہت سے صحابہ سے يہي معني نقل فرمايا ہے)

بعض لوگوں نے صرف مچھلي کو حلال اور پاني کے دوسرے تمام جانوروں کو حرام کہہ ديا ہے اور وہ بھي صرف وہ جو زندہ پکڑي جائے، اگر مر کر پاني کے اوپر آجائے تو اسے حرام کہتے ہيں۔ يہ دونوں باتيں درست نہيں، کيونکہ وہ اس آيت کے خلاف ہيں۔

صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے نبي کريم ﷺسے سمندر کے پاني کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمايا :

ھُوَ الطَّھُوْرُ مَاؤُہُ ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ

’’سمندر کا پاني پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔‘‘( الموطأ، الطہارة، باب الطھور للوضوء : 12، سنن ابوداؤد :83، سنن ترمذي : 69،صححہ الألباني )

اسي طرح کچھ صحابہ کرام رضي اللہ عنہم کو نبي کريم ﷺنے ايک جنگي مہم پر بھيجا، ان کے پاس کھانے کي چيزيں ختم ہوگئيں تو انھوں نے ٹيلے جيسي ايک بہت بڑي مچھلي ديکھي، جسے سمندر کا پاني کنارے پر چھوڑ کر ہٹ چکا تھا۔ ابو عبيدہ رضي اللہ عنہ امير تھے، انھوں نے اسے کھانے کي اجازت دے دي، ايک ماہ تک تين سو آدمي اسے کھاتے رہے اور خشک کر کے ساتھ بھي لے آئے، رسول اللہ ﷺنے فرمايا : تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے تو ہميں بھي دو ۔چنانچہ صحابہ نے کچھ گوشت آپ ﷺکي طرف بھيجا تو آپ نے تناول فرمايا۔ (مسلم، الصيد والذبائح،باب إباحة ميتات البحر : 1935)

خشکي کے جانور

خشکي کے جانوروں ميں کافي تفصيل ہے،اسکو آسان کرنے کيلئے ہم وہ علامات بيان کرتے ہيں جو کسي بھي جانور،پرندے پر حرام ہونے کا حکم لگاتي ہيں،

تقريباً 8 قسم کے جانور/ پرندے ہيں جن ميں حرمت والي علامات پائي جاتي ہيں:

1جانوروں ميں سے «ذي ناب» يعني کچلي والے تمام جانور(درندے) حرام ہيں، جيسے  شير، کتا، بلي وغيرہ، يہ جانور کچلي والے دانت سے شکار کرتے ہيں۔

2پرندوںميں «ذي مخلب» يعني پنجہ مار کے شکار کرنے والے (پرندے ) حرام ہيں، جيسے، شاہين، عقاب،  شکرے، harpy eagleوغيرہ۔ پنجہ والے پرندے، يعني يہ پرندے اپنے پنجے سے شکار کرتے ہيں۔

دليل انکي درج ذيل ہے،

سيدنا ابن عباس رضي اللہ عنہما بيان کرتے ہيں :

اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّي اللّٰہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ نَہَي عَنْ کُلِّ ذِيْ نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَ عَنْ کُلِّ ذِيْ مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرٍ

رسول اللہ ﷺنے ہر کچلي والے جانور اور پنجوں سے شکار کرنے والے پرندوں ( کے گوشت) کو حرام قرار ديا ہے۔‘‘( صحيح مسلم، الصيد والذبائح، باب تحريم أکل کل ذي ۔۔ : حديث نمبر-1934)

3تيسرے نمبر پر وہ جانور بھي حرام ہيں جنکا نام لےکر آپ ﷺ نے نے حرام قرار دے ديا چاہے وہ کچلي والے جانور ہوں يا بغير کچلي کے، جيسے گھريلو گدھا يہ کچلي (نوکيلے دانتوں) والا درندہ بھي نہيں مگر صاحب شريعت نے نام لے کر اسکو حرام قرار دے ديا،

دليل درج ذيل ہے،

سيدنا جابر بن عبداللہ رضي اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ،

نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ.

رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خيبر کے موقع پر گدھے کا گوشت کھانے کي ممانعت کي تھي اور گھوڑوں کا گوشت کھانے کي اجازت دي تھي۔(صحيح بخاري،حديث :4219، صحيح مسلم،حديث : 1941،)

4وہ جانور، پرندے، حشرات بھي حرام ہيں جن کو آپ ﷺ نے قتل کرنے کا حکم ديا جيسے بچھو، چھپکلي چيل، کوا چوہا، سانپ وغيرہ اور اس قسم کے موذي جانور، ان تمام جانوروں کے ايذاء کي وجہ سے انہيں قتل کا حکم ہے۔

عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَمَرَ،

سيدہ ام شريک  رضي اللہ عنہا سے روايت ہے کہ نبي کريم ﷺ نے انہيں چھپکليوں کے مارنے کا حکم ديا۔ (صحيح مسلم، کتاب: جانوروں کے قتل کا بيان،باب: چھپکلي کو مارنے کے استحباب کے بيان ميں، حديث :2236)

نبي کريم ﷺنے فرمايا

خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ الْعَقْرَبُ ، وَالْفَأْرَةُ ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ، وَالْغُرَابُ ، وَالْحِدَأَةُ

’’پانچ جانور ايسے ہيں جنہيں اگر کوئي شخص حالت احرام ميں بھي مار ڈالے تو اس پر کوئي گناہ نہيں۔ بچھو، چوہا، کاٹ لينے والا کتا، کوا اور چيل۔‘‘(صحيح بخاري حديث :3315)

5وہ جاندار ، پرندے وغيرہ بھي حرام ہيں جن کو آپ نے قتل کرنے سے منع فرمايا جيسے ہد ہد، اور مينڈک وغيرہ

دليل درج ذيل حديث ہے،(سنن دارمي،قرباني كے بيان ميں، باب مينڈک اور شہد کي مکھي وغيرہ کو مارنے کي ممانعت کا بيان، حديث:2042)

سيدنا ابن عباس رضي اللہ عنہما نے کہا کہ

نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعَةٍ مِنَ الدَّوَابِّ : النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدِ وَالصُّرَدِ.

نبي کريم ﷺنے چار جانوروں: چيونٹي، شہد کي مکھي، ہُدہُد اور چھوٹي چڑيا کے قتل کرنے سے منع فرمايا،

تخريج الحديث:

«اس روايت کي سند صحيح ہے۔ ديکھئے: [أبوداؤد 5267] ، [ابن ماجه 3224] ، [أحمد 332/1] ، [ابن حبان 5646] ، [الموارد 1078] »

6وہ جانور پرندے بھي حرام ہيں جو جلالہ کے حکم ميں آتے ہيں، جيسے گدھ وغيرہ، يعني جنکي خوراک مردار يا گندگي ہو اور وہ اتني کثير تعداد ميں گندگي کھائيں کہ انکے گوشت سے بو آتي ہو تو اس وقت تک جب تک کہ اسکا کھانا صاف اور بو دور نا ہو جائے ہر وہ جانور حرام ہو جائے گا چاہے وہ حلال کے حکم ميں ہو جيسے اونٹ، گائےاور جلالہ مرغي وغيرہ

دليل درج ذيل حديث ہے،

(سنن ابوداؤد،کتاب: کھانے پينے کا بيان، باب: گندگي کھانے والے جانور اور اس کے دودھ کا حکم،حديث: 3787)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ جَهْمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَلَّالَةِ فِي الْإِبِلِ أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يُشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا.

سيدنا عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہما کہتے ہيں کہ رسول اللہ  ﷺ  نے غلاظت کھانے والے اونٹ کي سواري کرنے اور اس کا دودھ پينے سے منع فرمايا ہے۔(سنن ابي داود:3787 باب النہي عن أکل الجلالةوألبانها )

اب اونٹ حلال جانور مگر گندگي کھانے کيوجہ سے اسکے دودھ اور  سواري سے منع کيا گيا، کيونکہ غلاظت کھانے والے کا پسينہ وغيرہ بھي نجس ہوتا جو کپڑوں کو لگے گا۔

(سنن ابوداؤد، کتاب: کھانے پينے کا بيان، باب: گندگي کھانے والے جانور اور اس کے دودھ کا حکم ، حديث: 3785)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا.

سيدنا عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہما کہتے ہيں کہ رسول اللہ  ﷺ  نے جلالہ (نجاست خور ) جانور کے گوشت کھانے اور اس کا دودھ پينے سے منع فرمايا۔(تخريج دارالدعوہ:  (سنن الترمذي/الأطعمة ٢٤ (١٨٢٤،  سنن ابن ماجہ/الذبائح ١١ (٣١٨٩)،(تحفة الأشراف: ٧٣٨٧) (صحيح  )

امام ابن حزم رحمہ اللہ نجاست خور مرغي کو اس ميں شامل نہيں کرتے۔ليکن اکثريت کے مطابق مرغي سميت تمام پرندے بھي اگر نجاست خور ہوں تو جلالہ ہي ميں آئيںگے۔ ابو اسحاق المروزي،امام الحرمين، بغوي اور غزالي رحمہم اللہ نے نجاست خور مرغي کے انڈے کو نجاست خور بکري گائے وغيرہ کے دودھ پر قياس کيا ہے۔ بلکہ ہر اس جانور کوجلالہ کے حکم ميں شامل کياہے۔ جس کي پرورش نجس خورا ک پرہو۔ مثلا ايسا بکري کا بچہ جس کي پرورش کتيا کے دودھ پر کي گئي ہو۔(ديکھئے:فتح الباري۔کتاب لذبائع والصيد باب لحم لادجاج)

اس حديث سے جلالہ کي قطعي حرمت ثابت نہيں ہوتي بلکہ اس کے استعمال سے اس وقت تک روکا گيا ہے جب تک کہ اس گندي خوراک کي بدبو زائل نہ ہو،

جيسا کہ سيدنا عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہ کے صحيح اثر سے ثابت ہے کہ:

‘›عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہ جلالہ مرغي کو تين دن بند رکھتے تھے (پھر استعمال کر ليتے تھے)۔››(رواہ ابنِ ابي شيبہ)

علامہ ناصرا لدين الباني نے اس کي سند کو صحيح قرار ديا ہے ، (ارواء الغليل ج۸، ص۱۵۱)

يہ صرف اس لئے کرتے تھے تا کہ اس کا پيٹ صاف ہو جائے اور گندگي کي بو اس کے گوشت سے جاتي رہے،اگر جلالہ کي حرمت گوشت کي نجاست کي وجہ سے ہوتي تو وہ گوشت جس نے حرام پر نشو ونما پائي ہے کسي بھي حال ميں پاک نہ ہوتا۔

جيسا کہ ابنِ قدامہ نے کہا ہے کہ اگر جلالہ نجس ہوتي تو دو تين دن بند کرنے سے بھي پاک نہ ہوتي۔(المغني ج۹، ص۴۱)

سيدنا عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہما کے اس صحيح اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ جلالہ کي حرمت اس کے گوشت کا نجس اور پليد ہونا نہيں بلکہ علت اس کے گوشت سے گندگي کي بدبو وغيرہ کا آنا ہے۔

جيسا کہ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہيں:جلالہ کے کھانے کا لائق ہونے ميں معتبر چيز نجاست وغيرہ کي بدبو کا زائل ہونا ہے۔ يعني جب بدبو زائل ہو جائے تو اس کا کھانا درست۔

علامہ صنعاني رحمہ اللہ بھي فرماتے ہيںکہ جلالہ کے حلال ہونے ميں بدبو کے زائل ہونے کا اعتبار کيا جاتا ہے۔ (سبل السلام ، ج۳، ص۷۷)

امام نووي رحمہ اللہ کہتے ہيں۔

کہ اصل وجہ منع چونکہ بدبو ہے۔اس لئے جب يہ زائل ہوجائے تو جانورکا گوشت اوردودھ وغيرہ شرعا قابل استعمال ہوگا۔ديکھئے۔

(عون المبعود الاطعمة۔باب النھي عن اکل الحلالة ،البا نھا )

نوٹ:

عطا اور ديگر فقہاء جلالہ جانور کو چاليس دن بند رکھ کر چارہ کھلانے کے بعد اس کا گوشت کھانے کي اجازت ديتے ہيں۔اس سلسلے ميں حضرت عمرو رضي اللہ تعاليٰ عنہ کي مرفوع حديث کا بھي ذکر کيا جاتا ہے۔جس ميں جلالہ کي حرمت اور حلت کےلئے جانور کوچاليس روز تک محبوس رکھنے کاحکم ہے۔ليکن يہ روايت سندا ضعيف ہے۔لہذا جلالہ جانور کے گوشت سے جب بدبو ختم ہو جائے تو اسکو کھانا حلال ہے۔

7ہر وہ جانور جو حرام و حلال جانور سے پيدا ہوا ہے ، جيسے کھچرجو گھوڑي اور گدھا کے ملاپ سے پيدا ہوتا ہے ،يہي حکم ديگر ايسے جانوروں کا ہے، کيونکہ جہاں حرام و حلال اکٹھا ہوں وہاں جانب حرام کو ترجيح حاصل ہوتي ہے۔

8مذکورہ جانوروں کے علاوہ ہر وہ جانور جو شريعت کے بتلائے ہوئے قانون ، تجربے يا طب سے اس کا باعث ضرر(تکليف،نقصان) ہونا يا اسکا غليظ/نجس ہونا ثابت ہوجائے  تو وہ بھي حرام ہے ۔

اللہ تعالي کا فرمان ہے :

وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ

[وہ رسول] ان کے لئے پاکيزہ چيزوں کو حلال اور گندي چيزوں کو حرام کرتا ہے۔( الأعراف : 157 )

اوپر ذکر کردہ جانوروں کي ان آٹھ اقسام کے علاوہ باقي تمام جانور خواہ وہ پالتو ہوں يا جنگلي وہ چرندے ہوں يا پرندے وہ سب حلال ہيں، ان پر بغير دليل کے حرام ہونے کا فتويٰ لگانا درست نہيں۔

اسکي دليل ملاحظہ فرمائيں:(سنن ابوداؤد، کتاب: کھانے پينے کا بيان، حديث: 3800)

سيدنا عبداللہ بن عباس رضي اللہ عنہما فرماتے ہيں،

كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا، ‏‏‏‏‏‏فَبَعَثَ اللهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ، ‏‏‏‏‏‏وَتَلَا:‏‏‏‏ قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .

زمانہ جاہليت ميں لوگ بعض چيزوں کو کھاتے تھے اور بعض چيزوں کو ناپسنديدہ سمجھ کر چھوڑ ديتے تھے، تو اللہ تعاليٰ نے اپنے نبي کريم ﷺ کو مبعوث کيا، اپني کتاب نازل کي اور حلال و حرام کو بيان فرمايا، تو جو چيز اللہ نے حلال کر دي وہ حلال ہے اور جو چيز حرام کر دي وہ حرام ہے اور جس سے سکوت(خاموشي) فرمايا وہ معاف ہے، پھر آپ (سيدنا ابنِ عباس رضي اللہ عنہما )نے يہ آيت تلاوت فرمائي :

قُلْ لَّا اَجِدُ فِيْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيَّ مُحَرَّمًا

کہہ ديجئے کہ مجھ پر نازل کي گئي وحي ميں کسي کھانے والے پر مردار اور دم ِ مسفوح کے علاوہ کوئي چيز حرام نہيں۔‘‘(سنن ابو داؤد :3800 وسندہ، صحيحٌ ، وقال الحاکم (٤/١١٥): صحيح الاسناد)

ہاں البتہ جس کو جو چيز نہيں پسند وہ نا کھائے، مگر اس پر حلال چيز پر،  حرام يا مکروہ کا فتويٰ نہ لگائے۔

ظاہر سي بات ہے ہر علاقے ميں بہت ساري چيزيں مختلف ہوتي ہيں، جو چيز ہمارے علاقے ميں نہيں کھائي جاتي،يا بچپن سے ہم نے وہ نہيں کھائي تو يقيناً وہ ہم کو اچھي نہيں لگيں گي،تو گزارش يہ ہے کہ جو حلال چيز آپکو پسند نہيں وہ آپ نہ کھائيں، زبردستي کس نے کي؟؟مگر اس پہ حرام يا مکروہ کا فتويٰ بھي نہ لگائيں۔

ہمارے پيارے محبوب محمد عربي ﷺکا يہي طريقہ تھا،

سيدناخالد بن وليد رضي اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ ميں رسول اللہ ﷺکے ساتھ سيدہ ميمونہ رضي اللہ عنہا کے گھر گيا،

وہ سيدنا خالد اور ابن عباس رضي اللہ عنہما کي خالہ تھيں،اتنے ميں ايک بھنا ہوا سانڈا لا يا گيا ، يہ انکي بہن حفيدہ بنت حارث نجد سے لائيں تھيں،

رسول اللہ ﷺنے اس کي طرف ہاتھ بڑھانے کا ارادہ کيا تو سيدہ ميمونہ رضي اللہ عنہا کے گھر جو عورتيں تھيں ۔ ان ميں سے کسي نے کہا: رسول اللہ ﷺجو چيز کھانے لگے ہيں وہ آپ کو بتا تو دو کہ پکا کيا ہے، پھر آپکو بتايا گيا کہ يہ سانڈے کا گوشت ہے،( يہ سنتے ہي ) آپ نے اپنا ہاتھ کھينچ ليا ۔

سيدنا خالد بن وليد نے پوچھا : يا رسول اللہ ﷺ! کيا يہ حرا م ہے؟

آپ نے فرمايا : “ نہيں ليکن يہ ( جا نور ) ميري قوم کي سر زمين ميں نہيں ہوتا ،اس ليے ميں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پاتا ہوں،(يعني مجھے يہ پسند نہيں ہے)

سيدنا خالد ( بن وليد ) رضي اللہ تعاليٰ عنہ نے کہا : پھر ميں نے اس کو (اپني طرف ) کھينچا اور کھا ليا جبکہ رسول اللہ ﷺديکھ رہے تھے اور آپ نے مجھے منع نہيں فرمايا۔(ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ، ذبح اور شکار کا بيان، 1946)

اس حديث ميں يہ بات واضح ہے کہ جو چيز نبي اکرم ﷺکو نہيں پسند آپ نے نہيں کھائي مگر آپ نے اس کو مکروہ يا حرام بھي نہيں کہا

بلکہ جب سانڈ کے گوشت بارے آپ سے پوچھا گيا تو آپ نے فرمايا، نہ ميں اسکو کھاتا ہوں نہ حرام کہتا ہوں، اور آپکے دستر خواں پر سانڈ کا گوشت کھايا جاتا مگر آپ اسکو ہاتھ نہ لگاتے اور نہ ہي صحابہ کو منع کرتے۔(صحيح مسلم، ,1944,1945, 1943)

ہمارے معاشرے کا الميہ يہ ہے کہ جس کو جو چيز نہيں پسند وہ اسے حرام يا مکروہ کہہ ديتا ہے، جبکہ اسے يہ نہيں پتا کہ وہ حلال چيز کو حرام کہہ کر اللہ کي اتاري ہوئي شريعت کو چيلنج کر کے کتنے بڑے گناہ کبيرہ کا مرتکب ہو رہا ہے۔

کبھي گوشت ميں اوجھڑي ،کبھي کپورے کبھي پنجے، کبھي گھوڑا حرام تو کبھي سرخ چونچ والي لالي(Common myna)حلال اور پيلے چونچ والي حرام۔۔۔ کبھي مور حرام تو کبھي گھوڑا حرام وغيرہ کا فتويٰ لگا ديا جاتا اور اس سے بڑھ کر اور بہت کچھ۔۔۔

تو محترم بھائيو!! خدارا يہ حلال ،حرام کا فتويٰ لگانا چھوڑ ديں، يہ ميرے آپکے اختيار ميں نہيں ہےبلکہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے جب اپنے اوپر شہد کو حرام کر ديا تو اللہ تعاليٰ نے يہ آيت نازل فرمائي:

يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ (التحريم:1)

جو چيز شريعت نے حلال کي وہ حلال ہے اور جو حرام کي وہ حرام ہے، اور جس سے شريعت نے خاموشي اختيار کي ہے اور اس ميں حرام والي علامات نہيں تو وہ بھي حلال ہے، آپ ﷺکے بعد شريعت ميں کمي و بيشي کرنا کسي کے ليے جائز نہيں۔ بھينس، مور، زيبرا، اور برائلر مرغي سميت ہر وہ جانور حلال ہے جس ميں اوپر مذکورہ حرام والي صفات نا ہوں، چاہے اسکا نام ليکر حلال کہا گيا ہو يا نا اس سے فرق نہيں پڑتا، کيونکہ جب شريعت نے حلال و حرام کي پہچان بتا دي تو الگ الگ سب کا نام ليکر انکي حلت يا حرمت بيان کرنے کي ضرورت نہيں۔

بھينس

بھينس ميں اوپر مذکور حرمت والي آٹھوں علامات ميں سے کوئي علامت نہيں پائي جاتي، لہذا وہ قرآن و حديث کے قواعد کے اعتبار سے حلال ہے۔

مور

مور ميں بھي حرام درندے والے نوکيلے دانت بھي نہيں اور پنجہ مار کے شکار بھي نہيں کرتا،نا ہي اسکو قتل کا حکم نا قتل کرنے سے منع کيا گيا اور نا ہي وہ غلاظت کھاتا ہے، لہٰذا مور بھي حلال ہے۔

زيبرا

اسي طرح جنگلي گدھا يعني زيبرا بھي گھاس پھوس کھاتا ہے اور اس ميں بھي حرام ہونے والي کوئي علت نہيں پائي جاتي،لہذا وہ بھي حلال ہے، بعض کہتے ہيں کہ وہ غلاظت کھاتا ہے، پہلي بات تو ايسا ہے نہيں اور اگر بالفرض زيبرے کي کوئي قسم غلاظت کھاتي ہے تو وہ بھي جلالہ کے حکم کيوجہ سے حرام ہو گا جب تک اسکے گوشت سے غلاظت کي بو زائل نا ہو جائے،اور جب بدبو زائل ہوجائے تو وہ بھي حلال ہے۔

برائلر مرغي

اسي طرح برائلر مرغي بھي حلال ہے، بعض لوگ اعتراض کرتے ہيں کہ برائلر کو خون وغيرہ سے بني غلاظت والي پروٹين کھلائي جاتي ہے، تو انکے ليے بھي يہي گزارش ہے کہ مرغي ہو يا کوئي بھي جانور وہ جلالہ کے حکم ميں تب آئے گا جب غلاظت کھانے کيوجہ سے اسکے گوشت سے بو وغيرہ آئے، اگر بو نہيں آتي تو وہ جلالہ کے حکم ميں نہيں اور حلال ہے

لہذا ثابت ہوا کہ بھينس،برائلر مرغي، مور اور زيبرا کا حلال ہونا قرآن و حديث سے ثابت ہے۔

اللہ کي حلال کردہ چيزوں کو خود پر حرام کرنے والے

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا  تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا  يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ۰۰۸۷ وَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ۰۰۸۸

’’اے ايمان والو! اللہ تعاليٰ نے جو پاکيزه چيزيں تمہارے واسطے حلال کي ہيں ان کو حرام مت کرو اور حد سے آگے مت نکلو، بےشک اللہ تعاليٰ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہيں کرتا، اور اللہ تعاليٰ نے جو چيزيں تم کو دي ہيں ان ميں سے حلال مرغوب چيزيں کھاؤ اور اللہ تعاليٰ سے ڈرو جس پر تم ايمان رکھتے ہو، (المائدة: 87،88)

ارشاد ِ باري تعاليٰ ہے:

وَمَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّاذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَيْهِ

’’اور تمہيں کيا ہے کہ تم اس چيز کو نہيں کھاتے ہو ، جس پر اللہ تعاليٰ کا نام ليا گيا ہے ، حالانکہ اس نے تم پر حرام چيزوں کي تفصيل بيان کر دي ہے، سوائے ان (حرام)چيزوں کے ، جن کے کھانے پر تم مجبور ہو جاؤ۔”

(سورہ الانعام : 119)

حافظ ابنِ رجب لکھتےہيں :

فعنفھم علي ترك الأکل ممّا ذکر اسم اللّٰہ عليه معلّلا بأنه قد بيّن لھم الحرام ، وھذا ليس منه، فدلّ علي أنّ الأشياء علي الاباحة والّا لما ألحق اللّوم بمن امتنع من الأکل ممّا لم ينصّ علي حلّه بمجرد کونه لم ينصّ علي تحريمه

اللہ تعاليٰ نے انہيں ان چيزوں کے نہ کھانے پر ڈانٹا ہے ، جس پر اللہ تعاليٰ کا نام ليا گيا ہو ، وجہ يہ بيان کي کہ حرام تو تم پر واضح کرديا گيا ہے اور يہ چيز اس ميں شامل نہيں ہے ، يہ آيت ِ کريمہ دليل ہے کہ چيزوں ميں اصل اباحت ہے ، ورنہ اللہ تعاليٰ نے اس شخص کو ملامت کيوں کيا ہے، جو اس چيز کے کھانے سے رک گيا ہے ، جس کي حلت و حرمت پر کوئي نص (دليل)موجود نہيں۔(جامع العلوم والحکم لابن رجب : ص381)۔ واللہ تعاليٰ اعلم باالصواب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے