تاریخ سازی اور تاریخ نویسی دونوں کا تدوین تاریخ سے گہرا تعلق ہے اگر تاریخ سازی کا آغاز حیات طیبہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا تھا تو تاریخ نویسی کا عملاً آغاز بہت بعد میں کم و پیش دوسری صدی ہجری کے اواخر سے شروع ہوا گوکہ جمع معلومات کا کام تو پہلی صدی سے شروع ہو چکا تھا۔

گویا کہ بالفاظ دیگر کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ مسلمانان کی تدوین کا باقاعدہ آغاز عہد عباسی سے ہوا اور عباسیوں کی امویوں کے ساتھ مخاصمت کو ظاہر کرنے کے لیے ابوعبداللہ السفاح کا جشن حصول خلافت جو امویوں کی تڑپتی لاشوں پر منایا گیا تھا، کافی ہے۔ لہٰذا تاریخ نویسی کے اس دور میں بالعموم اور بالخصوص ہر برائی اور عیب کو بنوا میہ کے ساتھ چسپاں کرکے بیان کرنا ایک رسم و رواج بن گیا تھا اور یہ بھی کہ دشمنان اسلام اس حقیقت کو بخوبی جان چکے تھے کہ گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر بیٹھے ان مجاہدین کو میدان جنگ میں شکست دینا ناممکن ہے جنہوں نے چند سالوں میں دنیا کی دونوں سپر پاورز کو نسیاً منسیاً بنا دیا تھا۔ لہٰذا یہود اور آل یہود نے کھل کر کھیلنا شروع کیا اور ہر وہ فرد جو ان کی مذموم مقاصد کی راہ میں حائل ہوا اس کے خلاف انہوں نے مکذوبات اور موضوعات کا ایک انبار لگادیا جس نے سچ کو مکمل طور پر سامنے آنے نہیں دیا۔ جیسا کہ روافض نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کے فضائل سے متعلق تین لاکھ روایات وضع کی ہیں۔ (موضوعات کبیر ص 106)

انہی مکذوبات اور موضوعات کا ایک ہدف سیدنا یزید رحمہ اللہ کی ذات مغفور بھی ہے جسے یاران نکتہ داں نے شرابی، زانی، تارک نماز، شکار کار سیا، ظالم، سفاک، قاتل حسین وغیرہ وغیرہ نہ جانے کیا کیا بنا دیا۔

اس تحریر کا مقصد صرف اور صرف حیات سیدنا یزید رحمہ اللہ کو صحیح روایات کی روشنی میں بیان کرنا ہے۔ یہ ضرورت اس لیے محسوس کی گئی کہ سیدنا یزید رحمہ اللہ کا شمار بھی ان ہستیوں ہی ہوتاہے جوکہ بغیر ظلم کے ہی ظالم تصور کر لیے گئے۔

جن کے عظیم کارناموں کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔

جن کے قطعی جنتی ہونے کے باوجود کافروں سے سبھی بدتر جہنمی متصور سمجھا جاتا ہے۔

جن پر لعن طعن کرنا ایک عبادت بن گیا ہے۔

جن کی فرضی داستان ظلم کو بیان کرنا ایک مشن بنا دیا گیا۔

حیرانی کی بات ہے سیدنا یزید رحمہ اللہ جن کے حقیقی پھوپھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کے سسر عبداللہ بن جعفررضی اللہ عنہ جیسی جلیل القدر ہستی ہیں جن کے بہنوئی سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما ہیں جن کی قیادت میں سیدنا حسین، سیدنا عبداللہ بن جعفر، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ نے جہاد کیا جن کی امامت میں یہ سب نمازیں ادا کرتے رہے۔ اور تایا سیدنا یزیدبن ابو سفیان رضی اللہ عنہ فاتحین شام میں سے ہیں۔

نام: یزید بن معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہم بن صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس القرشی (ان کا نام سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بڑے بھائی یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے نام سے رکھا)۔

والدہ: میسون رحمہا اللہ قبیلہ بنو کلب کے سردار کی بیٹی تھی مشہور صحابی سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔

سیدہ میسون رحمہا اللہ کی دینداری اور شرعی احکام کی پابندی پر ابن کثیر رحمہ اللہ نے کئی واقعات البدایہ والنہایہ میں نقل کیے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا یزید رحمہ اللہ کی تربیت ایک دیندار خاتون کے ہاتھوں ہوتی ہے۔

ولادت: ابن کثیر کی روایت کے مطابق 22 ہجری اور مشہور روایت کے مطابق 26ہجری کو دمشق میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی زمانہ: گوکہ مصادر و مراجع صراحت کے ساتھ سیدنا یزید کی تربیت اور نشو و نماکا ذکر نہیں کرتے لیکن کتب تاریخ میں ابتدائی دور کے بیان کردہ واقعات اس طرف اشارہ ضرور کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے سیدنا یزید رحمہ اللہ کا ابتدائی زمانہ اپنے ننھیال کے دیہاتی ماحول میں گزرا جس کی وجہ سے ان کی ذات میں فصاحت، خطابت، کرم اور شجاعت کے مختلف مظاہر بعد کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔

سیدنا یزید رحمہ اللہ کی زندگی اتنی سادہ تھی کہ حافظ ذھبی سیر اعلام النبلاء میں ذکر کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جب آپ رحمہ اللہ دمشق آئے تو ایسے حلیے میں تھے کہ کوئی امتیازی تکلف نہ تھا اور لوگ یہ کہنے لگے کہ کیا یہ بدو اب ہمارا امیر المؤمنین ہو گا۔ (سیر اعلام النبلاء ، الذھبی 3637/4)

قطعی طور پر یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ آپ دیہات سے کب واپس آئے لیکن قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ نے جلد ہی انہیں دمشق بلوا لیا تھا اور مشہور عالم دین ادیب دغفل بن حنظلہ الشیبانی رضی اللہ عنہ کی زیر تربیت میں دے ریا تھا۔ یہ دغفل ہی تھے جن کی علمیت اس زمانے میں ضرب المثل بن چکی تھی (الجاحظ، الویان ص 65، المیدانی، مجمع الامثال 54/2)

اسی طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبیدہ بن شریہ الجرھمی کو یمن سے بلوایا جو کہ عربوں کی تاریخ سے بہت اچھی طرح واقف تھے جو کہ مؤلف کتب بھی ہیں جن سے سیدنا یزید رحمہ اللہ نے تاریخ عرب قدیم کا علم حاصل کیا۔ اسی طرح مشہور نساب عبدالصمد بن علی الھاشمی سے سیدنا یزید رحمہ اللہ نے علم انساب حاصل کیا۔ (سیر اعلام النبلاء الذھبی 130/9)

علم حدیث اپنے والد سے حاصل کیا جن سے آپ نے حدیث بھی روایت کی ہے۔

ابو زرعۃ الدمشقی رحمہ اللہ نے انہیں طبقہ تابعین میں سے ان لوگوں میں شمار کیا ہے جو صحابہ کے بعد آتا ہے۔ (ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ 229/8)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حکومت کے کاموں میں انہیں اپنے ساتھ رکھتے تھے اور مجالس میں بھی انہیں اپنے ساتھ رکھتے تھے اور مختلف قسم کی ذمہ داریاں انہیں سونپ رکھی تھی۔ (تاریخ الدولۃ الاسلامیہ، سہیل زکار، ص 131)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے سیدنا یزید رحمہ اللہ کی تربیت کے حوالے سے کچھ واقعات البدایہ والنہایہ، تاریخ دمشق، الکامل وغیرہ میں ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید رحمہ اللہ کی تربیت اسلامی خطوط پر کی تھی اور جہاں ان سے غلطی ہوتی تھی انہیں ڈانٹتے تھے اور احادیث سنا کر ان کو سمجھاتے تھے۔ (البدایہ والنہایہ 227/8)

بالخصوص شام کا مستقر خلافت بن جانے کے بعد اکابر صحابہ کی آمدورفت دمشق جاری رہتی تھی اور اس وقت سیدنا یزید کی عمر تقریباً 15 سال سے 19 سال کے درمیان بھی اور یہ اکابر صحابہ دمشق آنے پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھی ٹھہرتے تھے ان میں سیدنا عمر بن العاص، سیدنا مغیرہ بن شعبہ، سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عمرو، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن جعفر، سیدنا عقیل رضی اللہ عنہم وغیرہ قابل ذکر ہیں اس لحاظ سے ان کے قیام کے دوران سیدنا یزید رحمہ اللہ کو ان اصحاب رسول کی خدمت کرنے اور ان کے فیضان صحبت سے مستفیض ہونے کے بیش قیمت مواقع میسر رہتے تھے۔

انہی صحابہ میں سے سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں جو کہ خلافت فاروقی میں ہی دمشق آگئے تھے انہوں نے سیدنا یزید رحمہ اللہ کو اپنا وصی اور وارث بنایا تھا۔ (البدایہ والنہایہ 213/8) (طبقات ابن سعد 215/4)

جہاد قسطنطنیہ کے دوران ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ رفاقت و معیت حاصل رہی اور اس دوران آپ کے کردار سے متاثر ہو کر سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے معاملات کا وصی سیدنا یزید رحمہ اللہ کو ہی مقرر کیا۔ (البدایہ 58/8)

سیدنا یزید رحمہ کی تربیت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ دمشق تشریف لائے تو سیدنا یزید ان کے پاس تعزیت کے لیے حاضر ہوئے اور ان الفاظ میں تعزیت کی۔

رحم اللہ ابا محمد اوسع الرحمۃ و افحھا واعظم اللہ اجرک واحسن عزاک و عوضک من مصابک ماھو خیر لک ثوابا وخیر عقبیٰ (البدایہ 228/8)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا یزید رحمہ اللہ کی زبانی فصیح و بلیغ اور جامع تعزیتی کلمات سن کر ان کی علمی قابلیت اور خطیبانہ مہارت سے اس درجہ متاثر ہوئے کہ فرمایا:

اذا ذھب بنو حرب ذھب علماء الناس (البدایہ 229/8)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جیسے ہاشمی بزرگ کےیہ کلمات تحسین سیدنا یزید کی علمی قابلیت کا نا قابل انکار اعتراف ہی نہیں بلکہ ایک واضح شہادت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔

صفات اور فضائل یزید رحمہ اللہ

1۔ شجاعت و دلیری:

سیدنا یزید رحمہ اللہ کی تربیت چونکہ دیہاتی ماحول میں ہوئی تھی اور اس زمانہ میں دیہاتی ماحول میں یہ خوبی لازم و ملزوم سمجھی جاتی تھی۔ حافظ ذھبی رحمہ اللہ سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں کہ سیدنا یزید شجیع اور قوی تھے صاحب رای اور فصاحت تھے۔ (37/9)

آپ کی شجاعت اور قوت و بہادری مختلف جہادی معرکوں میں بھی ظاہر ہوتی ہے بالخصوص جہاد قسطنطنیہ میں جب سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تھے انہیں قسطنطنیہ کے قریب دفن کرنے پر قیصر نے کہا کہ اسے ہم یہاں سے نکال کر کتوں کے سامنے پھینک دیں گے۔ قیصر کی زبان سے یہ گستاخانہ اور خبیث الفاظ سنتے ہی سیدنا یزید رحمہ اللہ نے پوری قوت کے ساتھ رومیوں پر حملے کا حکم دیا خود بھی اس حملے میں پیش پیش رہے یہاں تک کہ اس حملے کی تاب نہ لاتے ہوئے رومی اپنے قلعے میں محصور ہو گئے۔

بلکہ مختلف کتب نے تو سیدنا یزید کے وہ تاریخی کلمات بھی نقل کیے ہیں جو ان کی شجاعت کے ساتھ ساتھ غیرت ایمانی پر بھی مظہر ہیں۔ اگر مجھے پتا چلا کہ ان کی قبر اکھیڑی گئی یا ان کے ساتھ کسی بے ادبی کا ارتکاب کیا کیا تو کان کھول کر سن لو میں سر زمین عرب میں کسی نصرانی کو قتل اور کسی گرجا کو ڈھائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ (شیعہ کتاب ناسخ التواریخ 66/2، العقد الفرید 133/3)

2: فصاحت اور شعر گوئی:

سیدنا یزید رحمہ اللہ کا ترجمہ کرنے والوں نے بطور خاص آپ کی فصاحت و شعر گوئی کا ذکر کیا ہے جیسا کہ سابقہ سطور میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی تعزیت کا واقعہ ذکر کیا گیاہے۔

صلاح الدین المنجد معجم بنی امیہ میں ذکر کرتے ہیں کہ سیدنا یزید رحمہ اللہ کی فصاحت کا تعلق ان کی والدہ سے تھا۔ (ص 204)

حافظ ذھبی انہیں عرب کے فصحاء میں شمار کرتے تھے۔ (سیر اعلام النبلاء 37/4)

اور آپ کی فصاحت و بلاغت پر ابن کثیر رحمہ اللہ خطبہ خلافت بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ جب امیر المؤمنین کی حیثیت سے پہلا خطبہ دے کر فارغ ہوئے تو اجتماع میں موجود لوگ تقریر سن کر ان کے پاس سے گئے تو ان کا حال یہ تھا کہ وہ سیدنا یزید رحمہ اللہ پر کسی دوسرے آدمی کو فضیلت نہیں دیتے تھے۔ (البدایہ 143/8)

مشہور تابعی سعید بن المسیب نے ایک شخص کے پوچھنے پر بتایا: کہ قریش کے خطباء میں سر فہرست معاویہ رضی اللہ عنہ، یزید رحمہ اللہ، مروان بن الحکم رحمہ اللہ، عبد الملک رحمہ اللہ، سعید بن العاص رضی اللہ عنہ اور حیران کن امر ہے کہ مشہور شیعہ عالم ابن ابی الحدید لکھتا ہے کہ:یزید بن معاویہ خطیب اور شاعر تھے ان کی زبان اعرابی اور لہجہ بدوی تھا۔ (انساب الاشراف البلاذری 289/4، البیان و التبیین الجاحظ 314/1، البدایہ 335/8، شرح ابن ابی الحدید 824/2)

جہاں تک ان کے شعر گوئی کی بات ہے تو سیدنا یزید رحمہ اللہ کی شاعری کے بارے میں لوگ کہتے تھے:عرب شاعری کا آغاز ایک امیر نے کیا یعنی امرءالقیس نے اور ختم بھی ایک امیر پر ہوا یعنی یزید رحمہ اللہ پر۔ (ابن طباطبا ۔ الفخری فی آداب السلطانہ ص 113)

گو کہ ان کی شاعری اتنی زیادہ نہیں ہے غالباً اس وجہ سے تاریخ شعراء پر مدون شدہ کتب میں سیدنا یزید رحمہ اللہ کا شمار نہیں کیا گیا لیکن مشہور مؤرخ فواد سزکین نے تاریخ التراث العربی نے سیدنا یزید رحمہ اللہ کا شمار شعراء میں کیا ہے۔ (34/2)

بلکہ ان کے بعض قصائد اورا بیات ابن سعد اور حافظ مزی نے نقل بھی کیے ہیں۔

بلکہ المززبانی نے تو سیدنا یزید رحمہ اللہ کے اشعار کو جمع کر کے دیوان یزید بن معاویہ بھی ترتیب دیا۔ (ابن خلکان دفیات الاعیان 354/4)

اور صلاح الدین المنجد نے ان کے ابیات و اشعار جمع کرنے کے بعد اس کانام بھی شعر یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ رکھا۔

اور امام شافعی رحمہ اللہ سیدنا یزید رحمہ اللہ کے اشعار اپنی گفتگو میں استعمال کرتے تھے۔ (الاستیعاب، ابن عبداللہ 1419/4)

3۔ سخاوت: انتقام اور بدلہ لینے کی طاقت کے باوجود غلطی کے مرتکب کو معاف کر دینا حلم کہلاتا ہے۔

اس حوالے سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا حلم ضرب المثل تھا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا کے مطابق یعنی میری امت میں سب سے زیادہ حلم والے اور جودو سخا کے حامل معاویہ ہیں۔ (حماۃ الاسلام 165/1)

سیدنا یزید رحمہ اللہ کی زندگی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس حلم و کرم کا مظہر تھی آپ رحمہ اللہ نے اپنے والد محترم کی اس خوبی اور وصیت کو پوری زندگی دستور العمل بنائے رکھا غالباً یہی وجہ تھی کہ سیدنا یزید رحمہ اللہ کے پاس دور و نزدیک سے آئے ہوئے مہمانوں کا ہر وقت اژدھام رہتا تھا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت حسنین رضی اللہ عنہ کو جس محبت اور احترام کے ساتھ سالانہ وظائف و عطیات و تحائف دیتے رہے وہ آپ کی سخاوت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ (البدایہ والنہایہ 150/8، 137/8، 151/8)

معلوم ہوا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یوں تو تمام لوگوں پر شفیق و مہربان تھے لیکن خانوادہ نبوت کے افراد کے ساتھ آپ نے جس دریا دی دنیا کا سلوک کیا وہ صلہ رحمی اور محبت و شفقت کا اعلیٰ مظہر بن گیا۔

اور یہی وجہ تھی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات سے پیشتر سیدنا یزید رحمہ اللہ کو اہل مدینہ خصوصاً اقارب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح حسن سلوک اور صلہ رحمی کرتے رہنے کی وصیت و نصیحت فرمائی جس پر سیدنا یزید رحمہ اللہ نے خلیفہ ہونے کے بعد من و عن اس پر عمل کیا۔ (البدایہ والنہایہ 230/8، 33/9)

بلاذری اس ضمن میں ایک قصہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے ماں باپ تم پر قربان اللہ کی قسم یہ الفاظ میں نے آپ سے پہلے کسی بھی شخص کے لیے بولے (انساب الاشراف 3/4)

بلاذری نے ہی انساب الاشراف میں ایک مقام پر لکھا کہ سیدنا یزید رحمہ اللہ کے کسی مشیر نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ رحمہ اللہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو اتنی کثیر رقوم سالانہ وظیفہ میں دیں گے تو اس کے جواب میں سیدنا یزید رحمہ اللہ نے فرمایا: جی ہاں تمہیں کیا خبر وہ اپنا مال تقسیم کر دیتے ہیں انہیں دنیا میں اہل مدینہ کو دینا ہے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سیدنا یزید کی سخاوت فیاضی اور صلہ رحمی سے اس قدر متاثر تھے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: کیا تم ان (یزید رحمہ اللہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ) کے بارے میں اچھی رائے رکھنے پر مجھے مجبور ملامت کر سکتے ہو۔ (البدایہ 230/8)

روایت حدیث:

جیساکہ سطور سابقہ میں تحریر کیا گیا ہے کہ سیدنا یزید رحمہ اللہ کی تربیت میں بعض صحابہ کا بہت گہرا عمل دخل تھا ان سے احادیث روایت کرنا بعید از قیاس نہیں بلکہ محدث ابو زرعہ الدمشقی نے سیدنا یزید کا تذکرہ راویان حدیث کے اس طبقے میں کیا ہے جو حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم سے متصل آتے ہیں یہ ایک بلند مقام ہے وہ لکھتے ہیں کہ سیدنا یزید نے بہت سی احادیث مروی ہیں بلکہ مفسر قرآن ابن العربی رحمہ اللہ اپنی معروف کتاب العواصم من القواصم میں لکھتے ہیں:

یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ہیں ان کا دین اور پرہیز گاری میں بلند مقام ہے اور حدیث قبول کرنے میں بہت احتیاط کرتے ہیں انہوں نے اپنی کتاب الزھد میں سیدنا یزید رحمہ اللہ نے احادیث بیان کی ہے یہ اس بات کی دلیل ہےکہ سیدنا یزید رحمہ اللہ کا مقام امام احمد بن حنبل کی نگاہوں میں بہت بلند تھا یہاں تک کہ آپ رحمہ اللہ نے سیدنا یزید رحمہ اللہ کو زاہد صحابہ اور تابعین میں شمار کیا جن کے اقوال کی پیروی کی جاتی ہے جن کے وعظ سے گناہ چھوڑتے ہیں۔ (ص 371)

معلوم ہوا کہ سیدنا یزید صاحب روایت تابعی ہی نہیں بلکہ دیگر تابعین سے مقدم ذکر کیا ہے بلکہ آپ کا شمار ان باعظمت لوگوں میں سے ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کا بہترین حصہ قرار دیا ہے۔ سیدنا معاویہ، سیدنا ابو ایوب الانصاری، سیدنا دغفل، سیدنا مغیرہ وغیرہ رضی اللہ عنہم سے آپ نے اجازت بیان کی ہیں۔

اعمال سیدنا یزید رحمہ اللہ بزمانہ خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ

1۔ جہاد قسطنطنیہ:

حدیث مغفور کی رو سے سیدنا یزید رحمہ اللہ مغفرت یافتہ ہیں۔

قسطنطنیہ جو کہ رومی سلطنت کا دارالحکومت تھا 49 ہجری میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یورپ اور مغربی ممالک کے اس دروازے کو فتح کرنے کا فیصلہ کیا اور اس اولین جہادی لشکر میں کبار صحابہ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا عبداللہ بن زبیر، سیدنا حسین بن علی، سیدنا ابو ایوب الانصاری رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ اس معرکہ میں شریک ہوئے۔ اور اس لشکر کی قیادت سیدنا یزید رحمہ اللہ کے پاس تھی اور اس وقت آپ رحمہ اللہ کی عمر صرف 23 سال یا 26 سال کی تھی۔

گوکہ عصر حاضر میں کچھ محققین نے سیدنا یزید رحمہ اللہ کی قیادت کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے لیکن یہ شکوک صرف شبہات میں ہیں جن کے ازالہ کے لیے امام بخاری رحمہ اللہ امام قسطلانی رحمہ بحوالہ حاشیہ بخاری 410/1 بدر الدین عینی رحمہ اللہ، ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ (عمدۃ القاری 199/14، فتح الباری 78/6) ابن کثیر البدایہ والنہایہ 32/8، 137۔ 151 ابن تیمیہ رحمہ اللہ منہاج السنۃ 252/2، حافظ ذھبی المنتقی ص 288، طبری تاریخ الامم والملوک 85/5 اور معاصرین میں سے حسین احمد مدنی مکتوبات شیخ الاسلام ص 250، سید سلیمان ندوی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم 601/3 مطبوعہ لاہور) کا مطالعہ مفید ہوگا،

یہ صرف بطور مثال چند حوالے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے۔

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے مغفرت و بخشش کی بشارت پانے والے لشکر کی قیادت سیدنا یزید رحمہ اللہ اور کے پاس تھی۔ کبار صحابہ نے سیدنا یزید رحمہ اللہ کی زیر قیادت اور تابع فرمان رہ کر جہاد جیسا دینی فریضہ انجام دے کر اور ان کی امامت میں مسلسل نماز پنجگانہ ادا کر کے سیدنا یزید رحمہ اللہ کی مومنانہ قیادت و صلاحیت پر مہر تصدیق ثبت کی۔

2۔ جہاز سازی:

جس طرح سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسلامی تاریخ کا پہلا بحری بیڑہ تیار کیا اسی طرح آپ کے صاحبزادے سے سیدنا یزید نے جہاد قسطنطنیہ کے موقع پر سب سے پہلے ہوائی جہاز بنوا کر آزمائش کی جسے آج دنیا گلائیڈرز کے نام سے جانتی ہے۔

3۔ جہاد قسطنطنیہ سے فراغت کے بعد 51، 52، 53 ہجری مسلسل تین سال سیدنا یزید نے لوگوں کو امیر حج کی حیثیت سے حج کروائے۔ (البدایہ 229/8)

جہاد قسطنطنیہ کے بعد مسلسل تین سال امارت حج جیسے اہم اور مقدس منصب پر فائز رہنا سیدنا یزید رحمہ اللہ کی سیاسی و دینی صلاحیت و صالحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

حیات سیدنا یزید رحمہ اللہ پر یہ چند سطور صرف تصویر کا وہ رخ سامنے رکھنے کے لیے قلم بند کی گئی جو عمومی طور پر ہماری تاریخ کی امہات الکتب میں موجود ہے لیکن انہیں بیان نہیں کیا جاتا۔ ان سطور سے حقیقت سامنے آتی ہے کہ سیدنا یزید رحمہ اللہ پہلے تابعی خلیفہ تھے جن کے ہاتھ تقریباً 300 ممتاز صحابہ نے بیعت کی تھی سوائے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جنہوں نے قبل از شہادت اپنے مؤقف سے رجوع فرما لیا تھا اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ۔

ان شاءاللہ ۔۔۔فرصت جلد ہی اگلی کسی تحریریں سیدنا یزید رحمہ اللہ پر جو اعتراضات اور تہمتیں لگائی گئی ہیں ان کا تفصیلی بیان مع رد بیان کیا جائے گا۔

یہ واضح رہے کہ یہ تحریر شدید اختصار کی ایک صورت ہے اور ان صفحات قلیلہ پر ان کا مکمل احاطہ ناممکن اور دشوار ہے اور مکمل احاطہ ایک کتاب کا متقاضی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے