قارئین کرام! اسلام نے رشتوں کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور ان سے صلہ رحمہ کا حکم دیا ہے آج نفسا نفسی کے اس دور میں ان رشتوں کی اہمیت کو بھلا دیا گیا ہے آئیں اس عنوان پر اسلام کی تعلیمات ملاحظہ فرمائیں کہ اسلام نے رشتوں کو کیا مقام دیا ہے اور ان کے متعلق اس کے کیا احکام واسباق ہیں۔
1۔ ماں کے قدموں تلے جنت ہے
سیدنا معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ سے روایت یے کہ جاہمہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں غزوہ میں جانا چاہتا ہوں میں یہاں آیا ہوں کہ آپ سے مشورہ کرلوں؟ آپ نے فرمایا:
هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ. قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَالْزَمْهَا، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا.
کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں ! آپ نے فرمایا: اس سے حسن سلوک کر اس کے پیروں تلے جنت ہے۔(سنن نسائی: 3104)
2۔ حسن سلوک کا سب سے زیادہ حقدار
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟
قَالَ: أُمُّكَ. قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ. قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أُمُّكَ. قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوكَ.
آپ نے فرمایا: تیری ماں اس نے کہا: اس کے بعد کون؟ آپ نے فرمایا: تیری ماں۔اس نے کہا: اس کے بعد کون؟ آپ نے فرمایا: تیری ماں ۔اس نے کہا: اس کے بعد کون؟ آپ نے فرمایا: تیرا والد۔(صحیح بخاری: 5971)
3۔ مشرک ماں سے حسن سلوک
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ: وَهِيَ رَاغِبَةٌ، أَفَأَصِلُ أُمِّي ؟ قَالَ: نَعَمْ ، صِلِي أُمَّكِ .
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں میری والدہ ( قتیلہ بنت عبدالعزیٰ ) جو مشرکہ تھیں ، میرے پاس آئیں ۔ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا ، میں نے یہ بھی کہا کہ وہ ( مجھ سے ملاقات کی ) بہت خواہشمند ہیں ، تو کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر سکتی ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کر ۔ (صحیح بخاری: 2620)
4۔ والد جنت کا درمیانہ دروازہ ہے
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ
والد جنت کا درمیانہ دروازہ ہے۔(سنن ترمذی: 1900)
5۔ بیٹا باپ کا حق ادا نہیں کر سکتا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدًا، إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ.
کوئی بیٹا والد کا حق ادا نہیں کر سکتا ، الا یہ کہ اسے غلام پائے ، اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔(صحیح مسلم: 1510)
6۔ بیٹے کا مال باپ کا مال ہے
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا :
أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي فَقَالَ أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ.
اے اللہ کے رسول ! میرے پاس کچھ مال ہے اور میری اولاد بھی ہے ۔ جبکہ میرا باپ میرا سارا مال لے لینا چاہتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہی ہے ۔(سنن ابن ماجة: 2291)
7۔ والد کے دوستوں سے صلہ رحمی
اسلام نے والد کی وفات کے بعد ان کے دوستوں سے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْوَلَدِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ.
والدین کے ساتھ بہترین سلوک ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ہے جن کے ساتھ اس کے والد کو محبت تھی۔ (صحیح مسلم: 2552)
8۔ بھائی کا رشتہ
اسلام میں بھائی کے رشتے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اللہ رب العالمین نے جب سیدنا موسی علیہ السلام کے بازو مضبوط کرنا چاہا تو ان کو اپنے بھائی کا سہارا دیا فرمان باری تعالی ہے:
قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِيْكَ وَنَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا يَصِلُوْنَ اِلَيْكُمَا١ۛۚ بِاٰيٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ
ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہوگا ۔ (القصص: 35)
اسی الفت ومحبت اور خوبصورت رشتے کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے بھائیوں سے محبت کیا کرتے تھے۔ مصعب بیان کرتے ہیں:
قُتِلَ زَيْد بْنُ الْخَطَّاب يَوْم الْيَمَامَة فَكَانَ عُمَر يَقُولُ: مَا هَبَّتِ الصَّبَا قَطُّ إِلا أتيتني بِرِيحِ زَيْد
زید بن خطاب رضی اللہ عنہ یمامہ میں شہید ہوئے عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ: جب بھی باد صبا چلتی ہے میرے پاس زید کی خوشبو لاتی ہے۔(تاريخ ابن أبي خيثمة: 643/2)
9۔ بہن سے حسن سلوک
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
لا یَکُوْنُ لِاَحَدٍ ثَلاثُ بَنَاتٍ، اَوْ ثَلاثُ اَخَوَاتٍ، اَوْ بِنْتَانِ، اَوْ اُخْتَانِ ، فَیَتَّقِی اللّٰہَ فِیهِنَّ، وَیُحْسِنُ اِلَیْهِنَّ، اِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةِ.
جس آدمی کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے حقوق کے بارے میں اللہ سے ڈرتا ہو اور ان کے ساتھ احسان کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔(مسند احمد: 9038)
10۔ بہنوں کا ادب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے جو اپنی بہنوں کا ادب کیا اور ان کے حقوق کا خیال رکھا وہ ہمارے لیے بہترین سبق ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (جب غزوے سے واپسی پر) میں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی تھی تو آپ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تو نے کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے ؟ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔ اس پر آپ نے فرمایا: باکرہ سے کیوں نہ کی، کہ وہ تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم اس کے ساتھ کھیلتے؟ میں نے کہا:
يَا رَسُولَ اللهِ تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوِ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مِثْلَهُنَّ فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ ، وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ.
اے اللہ کے رسول! میرے والد کی وفات ہو گئی ہے یا یہ کہا کہ وہ احد میں شہید ہو چکے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں ۔ اس لیے مجھے اچھا نہیں لگا کہ انہیں جیسی کسی لڑکی کو بیاہ کے لاؤں ، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے نہ ان کی نگرانی کر سکے ۔(صحیح بخاری: 2967)
11۔ بیٹی کا مقام
رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹیوں سے محبت کرکے اپنی امت کو اس رشتے سے آگاہ فرمایا ہے کہ یہ رشتہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا وَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ.
جب فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے ہاں تشریف لاتیں تو آپ اٹھ کر ان کی طرف بڑھتے ، ان کا ہاتھ پکڑتے ، بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پر بٹھا لیتے۔(سنن ابي داود: 5217)
آپ ﷺ نے بیٹیوں کو ناپسند کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ کا فرمان ہے:
لا تَكرَهوا البناتِ، فإنَّهنَّ المُؤنِساتُ الغالياتُ.
بیٹیوں کو ناپسند نہ کرو، کیونکہ وہ پیار کرنے والی اور قیمتی چیز ہیں۔(مجمع الزوائد: 13485)
12۔ بیٹیاں جہنم سے آڑ ہیں
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:ایک عورت اپنی دو بچیوں کے ساتھ مانگتی ہوئی آئی ۔ میرے پاس اس وقت ایک کھجور کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا میں نے وہ کھجور انہیں دے دی ۔ وہ ایک کھجور اس نے اپنی دونوں بچیوں میں تقسیم کر دی اور خود نہیں کھائی ۔ پھر وہ اٹھی اور چلی گئی ۔ اس کے بعد جب نبی ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا حال بیان کیا ۔تو آپ ﷺ نے فرمایا:
مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ.
جس شخص کو ان بیٹیوں میں سے کسی چیز کے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے ان کے ساتھ احسان کیا تو وہ اس کے لیے جہنم کی آگ سے رکاوٹ ہوں گی۔ (صحیح بخاری: 1418)
ایک روایت کے لفظ ہیں:
مَا مِنْ رَجُلٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ.
جس شخص کی دو بیٹیاں جوان ہو جائیں اور وہ ان سے اس وقت تک اچھا سلوک کرتا رہے جب تک وہ اس کے ساتھ رہیں ، یا جب تک وہ ان کے ساتھ رہے ، وہ اسے جنت میں ضرور داخل کر دیں گی۔ (سنن ابن ماجة: 3670)
13۔ بیٹیوں کی پروش پر رفاقت نبوی
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ.
جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہو جانے تک پرورش کی ، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے ۔ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملایا ۔(صحیح مسلم: 2631)
14۔ اہلیہ بہترین متاع ہے
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا ؛ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ
دنیا متاع ( سرمایہ ) ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے ۔(صحیح مسلم: 1467)
15۔اہلیہ کے لیے خاوند کی اہمیت
حصين بن محصن سے روایت ہے كہ ان كى پھوپھى نبى ﷺكی خدمت میں كسى ضرورت كے تحت گئى جب اپنے كام اور ضرورت سے فارغ ہوئيں تو تو آپ ﷺنے ان سے دريافت كيا: كيا تمہارا خاوند ہے ؟ تو انہوں نے جواب ديا: جى ہاں! آپ ﷺنے فرمايا:
تم اس كے ليے كيسى ہو ؟ تو انہوں نے عرض كيا: ميں اس كے حق ميں كوئى كمى و كوتاہى نہيں كرتى، مگر يہ كہ ميں اس سے عاجز آ جاؤں اور نہ كر سكوں۔تو آپ نے فرمایا:
فَانْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ ؛ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ.
تم خيال كرو كہ تم اپنے خاوند كے متعلق كہاں ہو، كيونكہ وہ تمہارى جنت اور جہنم ہے۔(مسند احمد: 19003)
16۔ خالہ ماں کے مقام پر ہیں
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ.
خالہ ماں کے مقام پر ہیں۔(صحیح بخاری: 2699)
17۔ خالہ سے حسن سلوک کی اہمیت
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھ سے بہت بڑا گناہ سرزد ہوا ہے کیا میرے لیے کوئی توبہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ خَالَةٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَبِرَّهَا.
کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں! آپ نے فرمایا: کیا تیری خالہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: اس سے حسن سلوک کر۔ (سنن ترمذی: 1904)
18۔ چچا باپ کے مقام پر ہے
اسلام میں چچا کے رشتے کو بھی بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے حتی کہ رسول اللہ ﷺ نے چچا کو باپ کا مقام عطا فرمایا ہے۔ آپ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
أنتَ عمّي، وبقيّةُ أبائِي، والعمُّ والدٌ.
تو میرا چچا اور میرے آباء کی باقیات ہے اور چچا والد کے مقام پر ہے۔ (سلسلة الصحيحة: 1041)
ایک روایت کے لفظ ہیں:
إنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ.
بلاشبہ آدمی کا چچااس کے باپ برابر ہے۔(سنن ترمذی: 3760)
19۔ ماموں وارث ہے
چچا کی طرح ماموں کے رشتے کو بھی اسلام نے ایک مقام عطا فرمایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:
الْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ
جس کا کوئی وارث نہیں اس کا وارث ماموں ہے۔(سنن ابن ماجة: 2104)
میراث کا اصول ہے کہ جب اصحاب الفروض عصبہ نسبی اور عصبہ سببی میں سے کوئی نہ ہو تو ذوی الارحام وارث بنتے ہیں لہذا ماموں ذوی الارحام میں سے ہے وارث بن سکتا ہے۔
20۔ ماموں سے صلہ رحمی
کریب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إِنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً لَهَا ، فَقَالَ لَهَا: وَلَوْ وَصَلْتِ بَعْضَ أَخْوَالِكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ.
نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی تو رسول ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر تو اپنے کسی ماموں کو دے دیتی تو تجھے زیادہ اجر وثواب ملتا ۔(صحیح بخاری: 9594)
21۔ بھانجا غیر نہیں
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک مرتبہ نبی ﷺ نے انصار کو بلایا، اور ان سے پوچھا: کیا تم میں کوئی غیر انصاری بھی موجود ہے؟ انہوں نے عرض کیا صرف ہمارا بھانجا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ.
بھانجا قوم میں سے ہے ۔ (صحیح بخاری: 3528)
22۔ رضاعی رشتوں کی اہمیت
سیدنا ابن عباس ضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ.
جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہی رشتے رضاعت سے بھی حرام ہیں۔(صحیح بخاری: 2645)
