بَاب قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ( مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ )
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مخلقۃ وغیر مخلقۃ (کا کیا مطلب ہے ؟)
38-318- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عُبَيْدِاللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا يَقُولُ يَا رَبِّ نُطْفَةٌ يَا رَبِّ عَلَقَةٌ يَا رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهُ قَالَ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ وَالْأَجَلُ فَيُكْتَبُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ
مسدد، حماد، عبیداللہ بن ابی بکر، سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ ﷺسے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا :’’اللہ تعالیٰ رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے جو عرض کرتا ہے: اے پروردگار! رحم مادر میں یہ نطفہ ہے۔ اے رب! یہ علقہ، یعنی خون بستہ ہو گیا۔ اے رب! اب یہ گوشت کا لوتھڑا بن گیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی خلقت کو مکمل کر دینا چاہتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: مذکر یا مؤنث؟ بدبخت یا نیک بخت؟ پھر اس کا رزق اور عمر کس قدر ہے؟ یہ تمام باتیں (فرشتے کی طرف سے) رحم مادر ہی میں لکھ دی جاتی ہیں۔‘‘
Narrated Anas bin Malik (رضی اللہ عنہ): The Prophet ﷺ said، «At every womb Allah appoints an angel who says، O Lord! A drop of semen، O Lord! A clot. O Lord! A little lump of flesh.» Then if Allah wishes (to complete) its creation، the angel asks، (O Lord!) Will it be a male or female، a wretched or a blessed، and how much will his provision be? And what will his age be? So all that is written while the child is still in the mothers womb.»
وروي بسند آخر حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِاللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللهَ وَكَّلَ فِي الرَّحِمِ به (رقمه:3333)
وروي بسجد آخر حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عُبَيْدِاللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَكَّلَ اللهُ بِالرَّحِمِ مَلَكًا به (رقمه:6595)
معانی الکلمات
| وَكَّلَ | مقرر کیا ہے |
| بِالرَّحِمِ | رحم مادر میں |
| نُطْفَةٌ | پانی کا قطرہ |
| عَلَقَةٌ | جما ہوا خون کا لوتھڑا |
| مُضْغَةٌ | گوشت کا چھوٹا سا لوتھڑا |
| يَقْضِيَ | پورا کر دے |
| شَقِيٌّ | بدبخت |
| سَعِيدٌ | خوش بخت، نیک بخت |
| الْأَجَلُ | موت |
تراجم الرواۃ:
1نام ونسب:مسدد بن مسرهد بن مسربل بن مستورد الأسدى
کنیت: أبو الحسن البصرى
محدثین کے ہاں مقام و مرتبہ: امام بن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ حافظ تھے۔
وفات:228ھ بصرہ میں وفات پائی۔
2نام ونسب:حماد بن زید بن درھم الأزدی
کنیت :ابو اسماعیل البصری
محدثین کے ہاں مقام و مرتبہ: امام ابن حجر رحمہ اللہ نے ثقہ ثبت فقیہ قرار دیا ہے۔
وفات:179 ھ بصرہ میں وفات پائی ۔
3نام ونسب: عبیداللہ بن ابی بکر بن انس بن مالک الانصاری
کنیت: ابو معاذ
محدثین کے ہاں مقام و مرتبہ: امام ابن حجر رحمہ اللہ کے ہاں ثقہ تھے۔
تشريح
امام بخاری رحمہ اللہ آیت کریمہ کی حدیث شریف سے تفسیر کرنا چاہتے ہیں، کتاب الحیض سے اس کا کیا تعلق ہے؟ تعلق واضح طور پر یہ ہے کہ جب نطفہ رحم مادر میں جائے گا تو اس کی دو صورتیں ہوں گی۔ سب سے پہلے اس میں تخلیقی کیفیت پیدا کی جائے گی اور یہ اس وقت ممکن ہوگاجب رحم میں حیض کی صلاحیت ہو حیض کے بغیر نطفے میں تخلیقی تبدیلی لانا اللہ کے قانون کے خلاف ہے۔ اس میں تخلیقی کیفیت پیدا نہ کی جائے، اس طرح کے نطفے کو رحم باہر پھینک دیتا ہے، اس طرح حدیث کا کتاب الحیض سے ربط تو ہو گیا، لیکن امام بخاری کا اس عنوان بندی سے کیا مقصد ہے؟ اس کے متعلق شارح بخاری ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس عنوان سے امام بخاری ایک اختلافی مسئلے کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کہ اگر حالت حمل میں عورت کو خون آجائے تو اس خون کو حیض قراردیا جائے گا، یا اسے استحاضہ شمار کریں گے؟ امام بخاری کے نزدیک ایام حمل میں آنے والا خون حیض نہیں ہو سکتا، اہل کوفہ اور اوزاعی نے بھی اسی موقف کو اختیار کیا ہے۔ (شرح ابن بطال:444/1) 2۔ ایام حمل میں آنے والا خون حیض نہیں ہوتا، کیونکہ استقرارحمل کے بعد رحم کا منہ بند کردیا جاتا ہے اور خون حیض سے اللہ تعالیٰ بچے کی خوراک کا کام لیتا ہے اور جو نلکی بچے کی ناف سے لگی رہتی ہے وہ خون کو صاف بھی کرتی ہے اور اس کی وساطت سے صاف شدہ خون بچے کے لیے غذا کا کام بھی دیتا ہے، حمل قرارپانے کے بعد دوہی صورتیں ہیں۔ اس بچے کا (مُخَلَّقَة) یعنی تام الخلقت ہونا مقدر ہوگا۔ یاپورا ہونا منظور نہ ہوگا۔ دوسری صورت میں سقط بن کر گرجائے گا ،گرنے سے پہلے رحم کا منہ بندہے۔ وقت آنے پر رحم کا منہ کھول کر اسے گرادیا جائے گا اس لیے استقرارحمل کی صورت میں جو خون آرہا ہے وہ حیض کا نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ رحم سے بر آمد نہیں ہوتا ۔ اس لیے کہ اس کا منہ بند ہے نیز اس مقصد کو ثابت کرنے کے لیے بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ رحم کی صفائی معلوم کرنے کے لیے حیض کی آمد کو علامت قراردیا گیا ہے۔اگر بحالت حمل بھی حیض آسکتا ہے تو استبرائے رحم کا فیصلہ کیسے ہوگا؟ ( فتح الباري:543/1) 3۔ اگر نطفے سے اولاد کا ہونا اللہ کے ہاں مقدر ہوتا تو وہ خون حیض رحم میں بند ہو جاتا ہے اور وہ بچے کی پرورش پر استعمال ہوتا ہے اور اگر اللہ کے ہاں اس نطفے سے اولاد کا ہونا مقدرنہیں ہوتا تو وہ خون کے ہمرا ہ رحم سے خارج ہوجاتا ہے. اولاد ہونے کی صورت میں اللہ کی طرف سے مختلف فرشتے متعین ہوتے ہیں جو مختلف اطوار میں بچے کی پرورش و پرواخت کرتے ہیں مختلف مراحل حسب ذیل ہیں۔ پہلے مرحلے میں نطفہ امشاج اپنی حالت میں چالیس دن تک رہتا ہے. دوسرے مرحلے میں علقہ بن جاتا ہے اور چالیس دن اس خون بستہ پر گزرتےہیں۔ تیسرے مرحلے میں اسے مضغہ کی شکل دی جاتی ہے اور چالیس دن اس گوشت کے لوتھڑے پر گزرتے ہیں۔ چوتھے مرحلے میں صورت ولد تیار ہوتی ہے اور اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چار ماہ بعد اس میں روح ڈالی جاتی ہے اور یہ تمام امور فرشتےکی نگرانی میں انجام پاتے ہیں، ان مراحل کا ذکر احادیث میں ہے۔ (صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3208) 4۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صراحت کے ساتھ حاملہ کے حیض آنے یا نہ آنے کو ثابت نہیں فرمایا، بلکہ ان کے اندر اور اسلوب سے اشارہ ملتا ہے کہ حاملہ کو حیض نہیں آتا، کیونکہ رحم میں بچے کا محفوظ ہونا خون حیض کے خروج کے لیے ایک رکاوٹ ہے۔ حافظ ابن حجر نے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حدیث مذکورسے عدم اتیان حیض کا استدلال محل نظر ہے، کیونکہ حدیث سے صرف یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حاملہ رحم سے بر آمد ہونے والی چیز نا تمام بچہ ہے جس کی شکل و صورت نہیں ہوتی۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حاملہ کے رحم سے اگر بحالت حمل خون نکلے تو وہ حیض نہیں ہو گا۔ جن حضرات نے یہ دعوی کیا ہے کہ نکلنے والا خون بچے کی غذا کا فضلہ یا اس کے جسم سے ٹپکا ہے یا کسی بیماری کی وجہ سے وہ خون نکلا ہے تو اس دعوے کے ثبوت کے لیے دلیل درکار ہے اور جو اخبار وآثار اس سلسلے میں مروی ہیں وہ ثبوت دعوی کے لیے ناکافی ہیں، بلکہ یہ خون بھی دم حیض کی صفات کا حامل ہے اور اس وقت اس کے آنے کا امکان بھی ہوتا ہے، لہٰذا اسے دم حیض کا حکم دینا چاہیے اور جو اس کے خلاف دعوی کرتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے موقف کو دلیل سے ثابت کرے۔ ( فتح الباري:543/1) 5۔ آخر میں ہم زمین حجاز کے مشہور عالم دین شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کی تحقیق لکھتے ہیں جو انھوں نے اپنے ایک رسالے میں پیش کی ہے فرماتے ہیں:’’عام طور پر جب عورت کو استقرار حمل ہوتا ہے تو خون حیض رک جاتا ہے، چنانچہ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورتیں خون حیض کے رک جانے سے حمل کی پہچان کرتی ہیں۔ حاملہ کے خون دیکھنے کی دو صورتیں ہیں۔ اگر ولادت سے دو تین دن پہلے خون دیکھیں اور اس کے ساتھ دردزہ نہ ہو تو وہ نفاس کا خون ہوگا۔ اگر ولادت سے بہت عرصہ پہلے خون دیکھیں یا چند دن پہلے خون آئے اور اس کے ساتھ دردِ زہ نہ ہو تو وہ نفاس نہیں ہوگا۔ نفاس نہ ہونے کی صورت میں اسے خون حیض قرار دیا جائے گا یا استحاضہ؟ اس میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحیح بات یہ ہے کہ اسے خون حیض شمار کیا جائے گا۔ بشرطیکہ حیض کے معروف طریقے کے مطابق ہو، کیونکہ اصل یہی ہے کہ عورت کو جو خون آتا ہے وہ حیض کا ہو تا ہے، بشرطیکہ کوئی ایسا سبب حائل ہو جائے کہ اس کی موجودگی میں اسے حیض نہ قراردیا جاسکتا ہو۔ کتاب وسنت میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس کی روسے ہم فیصلہ کریں کہ حاملہ کو حیض نہیں آسکتا، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کا یہی موقف ہے اور حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے امام احمد رحمہ اللہ سے یہی بات نقل کی ہے، بلکہ انھوں نے فرمایا کہ امام احمد کا پہلے عدم حیض کا موقف تھا جس سے انھوں نے رجوع کر لیا تھا۔ اس بنا پر حاملہ کے حیض کے وہی احکام ہوں گے جو غیر حاملہ کے حیض کے لیے ہوتے ہیں۔ البتہ دو مسائل میں اس کا حکم الگ ہوگا۔ غیر حاملہ کو ایام حیض میں طلاق دینا طلاق بدعی ہے جو کہ بعض کے ہاں واقع نہیں ہوتی مگر بعض کے ہاں واقع تو ہوجاتی ہے مگر طریقہ صحیح نہیں۔لیکن حاملہ عورت کو بحالت حیض طلاق دینے سے یہ مخالفت لازم نہیں آتی، کیونکہ دوران حمل میں طلاق دینا اس سے عدت وضع حمل ہے جو ابھی نہیں ہو گا، اس لیے حاملہ کو دوران حیض میں طلاق دینا حرام نہیں، جبکہ غیر حاملہ کو دوران حیض میں طلاق دینا صحیح نہیں۔ حاملہ عورت کو اگر حیض آجائے تو اس سے عدت متاثر نہیں ہوگی اور نہ حیض سے اس کی عدت ہی شمار ہوگی، جبکہ غیر حاملہ کی عدت حیض ہی سے شمار ہوتی ہے، کیونکہ حاملہ کی عدت تو وضع حمل ہے، خواہ اسے حیض آئے یا نہ آئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ
’’حاملہ عورتوں کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنے حمل کو جنم دے دیں۔‘‘ (الطلاق :4)
بہرحال اس سلسلے میں صحیح موقف یہ ہے کہ دوران حمل میں اگر خون آتا ہے تو عورت کو نماز روزہ ترک نہیں کرنا چاہیے اور نہ خاوند کو مقاربت کرنے ہی کی کوئی ممانعت ہے۔ واللہ أعلم
