ماہ صفر المظفر محرم کے بعد سنہ ہجری کا دوسرا مہینہ ہے۔ صفر کے معنی خالی کے ہیں اس سے اردو میں لفظ «صفر» نقطہ کیلئے ایجاد ہوا ہے۔ مشرکین کا خیال تھا کہ یہ مہینہ خیر و برکت سے خالی ہے بلکہ اسے وہ منحوس جانا کرتے تھے۔ اس میں شادی بیاہ نہ کرتے اور نہ ہی کوئی اور بڑا کام کرتے تا کہ اس میں نحوست نہ آ جائے رسول کریم ﷺ نے صاف لفظوں میں اعلان فرمایا:
«لَا عَدْوَى وَلَا هَامَّةَ وَ لَا صَفَرَ »(بخاری)
یعنی بغیر اللہ کے حکم کے کسی کی بیماری کسی دوسرے کو نہیں لگتی نہ برے شگون لینا درست ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے۔
مکہ والے عموماً اس ماہ صفر میں لوٹ مار لڑائی بھڑائی ڈاکہ زنی وغیرہ کیلئے سفر میں نکل جاتے گھر خالی چھوڑ دیتے اور کہتے : «صَفَرَ الْمَكَانُ» یعنی ماہ صفر آیااور مکان خالی ہو گئے۔ نبی ﷺ نے ان سارے خیالات کی تردید فرمائی اور ارشاد ہوا کہ صفرکو منحوس جاننا غلط ہے۔
ماہِ صفر اور غلط فہمیاں :
صفر قمری کیلنڈر کا دوسرا مہینہ ہے جس کے حوالے سے لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک طرف اس کے ساتھ بہت ہی تو ہمات اور بدشگونیاں وابستہ کر لی گئی ہیں اور دوسری طرف ان کے خود ساختہ حل بھی تلاش کر لیے گئے مثلاً اس مہینے میں شادی نہ کرنا، چنے ابال کر محلے میں بانٹنا تا کہ ہماری بلائیں دوسروں کی طرف چلی جائیں، آٹے کی تین سو پینسٹھ گولیاں بنا کر تالابوں میں ڈالنا تا کہ بلائیں ٹل جائیں اور رزق میں ترقی ہو، تین سو گیارہ یا زیادہ بار سورۃ مزمل کا پڑھنا، اس مہینے کو مردوں پر بھاری سمجھنا اور اس کی تیرہ تاریخ کو منحوس سمجھنا جس کو تیرہ تیزی بھی کہا جاتا ہے۔ان تمام باتوں کی دین میں کوئی حیثیت نہیں کیونکہ ماہ وسال ، رات اور دن کے آنے جانے سے ترتیب پاتے ہیں۔
جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا:
وَ جَعَلْنَا الَّيْلَ وَ النَّهَارَ اٰيَتَيْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰيَةَ الَّيْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِيْنَ وَ الْحِسَابَ(بنی اسرائیل:12)
’’ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے، رات کی نشانی کو ہم نے بے نور اور دن کی نشانی کو روشن بنایا تا کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان سکو۔‘‘
دن کا نکلنا، سورج کا طلوع و غروب ہوتا اور رات کا چھا جانا سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کیونکہ دِنوں سے مل کر ہفتے اور ہفتوں سے مہینے اور سال بنتے ہیں ۔ یہی ماہ وسال زمانہ ہیں جس کو برا کہنے سے حدیث قدسی میں روکا گیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عز وجل فرماتے ہیں:
يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِيَ الْآمُرُ أُقَلِبُ الليْلَ وَالنَّهَارَ(صحیح البخاری)
’’ابن آدم زمانے کو گالی دے کر مجھے اذیت دیتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں ہر کام ہے،میں رات اور دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔‘‘
قمری کیلنڈر چاند کی بدلتی ہوئی حالتوں کی وجہ سے معرض وجود میں آتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ (البقرة:۱۸۹)
’’لوگ آپ سے چاند کے ( گھٹنے بڑھنے ) بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں اور حج کے لیے اوقات بتانے کا ذریعہ ہے۔‘‘
قمری کیلنڈر حقیقت میں ایک عالمی کیلنڈر ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے یہ اہتمام کر دیا ہے کہ وہ آسانی سے تاریخوں کا تعین کر سکے۔ چاند اللہ کے مقرر کردہ ضابطہ کا پابند ہے اس لیے اس کے گھٹنے بڑھنے سے نہ تو کسی کی قسمت پر اثر پڑتا ہے اور نہ ہی کسی خاص مہینے کا چاند نظر آنے سے کسی نحوست کی ابتدا ہوتی ہے اور نہ کسی خوش قسمتی کا آغاز ہوتا ہے۔ انسان کی خوش قسمتی اور بد قسمتی کا انحصار سورج، چاند اور ستاروں کی گردش پر نہیں بلکہ انسان کے اپنے عمل پر ہے۔ کیونکہ ان کی تخلیق کا مقصد تو یہ ہے کہ سالوں کا حساب کیا جا سکے اور عبادت کے اوقات معلوم کرنے میں آسانی ہو۔
مہینوں کی تعداد بھی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ ہے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا:
اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (التوبة :۳۶)
’’بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ۔‘‘
چنانچہ کیلنڈر مری ہو، مسی ہو یا بکری کہیں محرم اور صفر میں تو کہیں جنوری اور فروری اور کہیں چیت اور بیساکھ، نام مختلف ہیں لیکن تعداد بارہ ہی ہے۔ صفر وہ مہینہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے معمول کی عبادت کے علاوہ نہ کوئی خاص عبادت کی نہ ہمیں اس کا علم دیا اور نہ ہی کسی خاص بلا سے بچنے کے لیے خبر دار کیا۔ تو ہمات اور شگون جو اس ماہ سے منسوب کئے گئے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ عربوں کے ہاں اس ماہ سے متعلق جو غلط تصورات پائے جاتے تھے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عرب حرمت کی وجہ سے تین ماہ، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور حرم میں جنگ و جدل سے باز رہتے اور انتظار کرتے کہ یہ پابندیاں ختم ہوں تو وہ نکلیں اور لوٹ مار یں لہٰذاصفر شروع ہوتے ہی وہ لوٹ مار، رہزنی اور جنگ و جدل کے ارادے سے جب گھروں سے نکلتے تو ان کے گھر خالی رہ جاتے یوں عربی میں یہ محاورہ صَفَرَ الْمَكَانَ ( گھر کا خالی ہو) معروف ہو گیا۔ صفر اور صفر کے معنی ہیں خالی ہونا جیسے صفر کا ہندسہ۔ عربی میں کہتے ہیں۔ بیت صفر مِن المَتَاعِ (گھر سامان سے خالی ہو گیا ) ۔ (لسان العرب از این منظور: 4/ 462 463)
مشہور محدث اور تاریخ دان سخاوی نے اپنی کتاب «المشهور في أسماء الأيام والشهور» میں ماہ صفر کی یہی وجہ تسمہ لکھی ہے۔ عربوں نے جب دیکھا کہ اس مہینے میں لوگ قتل ہوتے ہیں اور گھر بر باد یا خالی ہو جاتے ہیں تو انہوں نے اس سے یہ شگون لیا کہ یہ مہینہ ہمارے لیے منحوس ہے اور گھروں کی بر بادی اور ویرانی کی اصل وجہ پر غور نہ کیا، نہ ہی اپنے عمل کی خرابی کا احساس کیا ،نہ لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدال سے خود کو باز رکھا بلکہ اس مہینے کو ہی منحوس ٹھہرا دیا۔ جبکہ نحوست کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے:
وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىِٕرَهٗ فِيْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا (بنی اسرائیل: 13-14)
’’اور ہم نے ہر انسان کی شامت خود اس کی گردن سے باندھ دی گئی ہے (کہیں باہر سے اس پر آکر نہیں گرتی) قیامت کے دن ہم اس کے لیے (نامہ اعمال کی) ایک کتاب نکال کر پیش کردیں گے، وہ اسے اپنے سامنے کھلا دیکھ لے گا۔((ہم کہیں گے) اپنا نامہ پڑھ لے، آج کے دن خود تیرا وجود ہی تیرے احتساب کے لیے کافی ہے۔‘‘
«یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کی نحوست کا تعلق اس کے اپنے عمل سے ہے جبکہ عموماً وہ یہ سوچتا ہے کہ نحو ست کہیں باہر سے آتی ہے چنانچہ وہ کبھی کسی انسان کو کبھی کسی جانور کو کبھی کسی عدد کو اور کبھی کسی مہینہ کو منحوس قرار دینے لگتا ہے۔ عربی میں نحوست کے لیے لفظ طيرة استعمال ہوتا ہے جو طیر سے نکلا ہے جس کے معنی پرندے کے ہیں۔ عرب چونکہ پرندے کے اڑانے سے فال لیتے تھے اس لیے طائر بدفالی کے لیے استعمال ہونے لگا یعنی براشگون (bad omen) لینا ۔
اسلام میں کوئی دن ، جگہ یا انسان منحوس نہیں بلکہ در اصل وہ انسان کا اپنا طرز عمل، رویہ، اخلاق اور طریقہ ہوتا ہے جو اس کے لیے مختلف آزمائشوں کا سبب بن جاتا ہے ۔
مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١ٞ وَمَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ (النساء:79)
’’تمہیں جو کوئی اچھائی پہنچتی ہے تو وہ محض اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور جو کوئی برائی پہنچتی ہے، وہ تو تمہارے اپنے سبب سے ہوتی ہے۔‘‘
ایسا شخص جو بر اشگون لیتا رہا اس کے بارے میں آپ نے فرمایا:
«مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ، فَقَدْ أَشْرَكَ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ؟ قَالَ: «أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمْ: اللهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» (مسند أحمد:7045)
’’جس نے طائرہ کو حاجت سے ٹال دیا اس نے شرک کیا، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس کا کفارہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا کہ کوئی کہے کہ اے اللہ تیرے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے اور اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ تیرے پرندے کے سوا کوئی پرندہ نہیں، اور کوئی معبود نہیں۔‘‘
مثال کے طور پر ایک شخص گھر سے نکلا، کالی بلی راستہ کاٹ گئی تو اس نے اسے منحوس سمجھا اور گھر واپس آگیا۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات ہے مگر حقیقت میں یہ شرک ہے کیونکہ کسی بھی شخص کا نفع یا نقصان بلی کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنی لا پرواہی کی وجہ سے کوئی کام خراب ہو جاتا ہے اور شیطان ہمیں بہکاتا ہے کہ یہ ساری خرابی فلاں شخص کی وجہ سے ہوئی کیونکہ وہ صبح صبح نظر آگیا تو اب سارا دن خراب ہی گزرے گا اور کوئی کام درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح آنکھ پھڑ کنے سے خوف زدہ ہو جانا یا ہاتھ میں کھجلی ہونے سے امید لگا بیٹھنا کہ آج مال ملے گا یا جوتے پر جوتا آگیا تو سفر پیش آئے گا۔ رنگوں سے شگون لینا بھی ہمارے معاشرہ میں عام ہے، مثلا سیاہ رنگ نہ پہننا کہ بیمار پڑ جائیں گے یا احترام کے منافی ہے کیونکہ خانہ کعبہ کا غلاف کالا ہے، سبز جوتا نہ پہننا کہ بے ادبی ہوگی کیونکہ آپ کی قبر مبارک کے گنبد کا رنگ سبز ہے اس طرح انسان نے خود ساختہ طور پر کچھ چیزیں اپنے لیے نہ صرف حرام کر لیں بلکہ ان کے ساتھ قسمت بھی جوڑ دی۔ یہ سب ایسے وسو سے اور تو ہمات ہیں جن کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ شیطان انسان کو شرک میں مبتلا کر کے اس کے اعمال ضائع کرواتا ہے۔ یہ تو ہمات اور بدشگونیاں انسان کو اندر سے کمزور کر دیتی ہیں۔ اس کے برعکس اللہ کی ذات پر پختہ ایمان اور توکل انسان کو جرات ، بہادری اور اعتماد د یتا ہے، اسے جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔ چنانچہ ایسے کسی بھی خیال کو دل سے نکال کر اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، ثَلَاثًا، وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ»(سنن أبی داؤد:3910)
’’ بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، تین بار کہا اور ہم میں سے کوئی ایسا نہیں مگر اسے وہم ہو جاتا ہےلیکن اللہ تعالی تو کل کی وجہ سے اسے دور کر دیتا ہے۔‘‘
اہل کتاب بھی جب دین کی اصل تعلیمات سے دور ہو گئے تو اس طرح کے شگون لینے لگے،جن کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا:
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ (النساء: 51)
’’کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا وہ جبت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں۔‘‘
«جبت »بے حقیقت، بے اصل اور بے فائدہ چیز کو کہتے ہیں۔ اسی طرح شگون کی بھی کوئی اصل بنیاد اور حقیقت نہیں ہے۔ اسلام میں ایسی تمام چیزیں جو جبت کے تحت آتی ہیں جیسے کہانت ، فال گیری، شگون اور توہمات، ان سے منع کیا گیا ہے۔ کسی چھوٹی سی تکلیف یا طبیعت کی خرابی پر دوسروں کو موردالزام ٹھہرانا اور لوگوں کے ساتھ باہمی تعلقات خراب ہونے پر اپنی غلطی اور کوتاہی کا جائزہ لینے کے بجائے یہ خیال کرنا کہ ضرور کسی نے جادو کر دیا ہے یا اس قسم کے دیگر توہمات رکھنا جو پیار ومحبت کے رشتوں کو ختم کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے انسان کی توجہ اپنے عمل کی درستی اور اصلاح سے ہٹ جاتی ہے۔ اور نتیجتاً انسان تنہا رہ جاتا ہے اور نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں ہر قسم کے شرسے بچاؤ کے لیے بطور علاج مسنون اذکار اور دعائیں پڑھیں ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
«لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ المَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الأَسَدِ»(صحیح البخاری:5707)
’’چھوت لگنا، بد شگونی لینا، الو کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ کوڑھی آدمی سے ایسے بھاگو جس طرح تم شیر سے بھاگتے ہو۔‘‘
مرض کا لگ جانا، خوست، اُلو اور صفر کچھ نہیں اور جذامی سے اس طرح بچو جس طرح شیر سے بچتے ہو۔» عمومی مشاہدہ بھی یہی ہے کہ کسی کو بیماری لگتی ہے اور کس کو نہیں لگتی ، اگر اصل سبب کوئی انسان یا چیز ہوتی تو پھر سب کو بیماری لگنی چاہیے تھی ۔ حقیقت یہی ہے کہ جب تک اللہ کا اذن نہ ہو کوئی شخص نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے نہ ہی کوئی جراثیم یا وبا۔ پہلے مریض کو بیماری جہاں سے آئی تھی یعنی اللہ کےاذن سے، باقی لوگوں کو بھی وہیں سے آئے گی البتہ انسان احتیاط کا دامن نہ چھوڑے کیونکہ تدبیر اختیار کرنے کا حکم بھی اللہ ہی نے دیا ہے البتہ بھروسہ اور تو کل صرف اللہ کی ذات پر ہو۔
اس طرح اُلو سے بدشگونی لینے کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔ عربوں کے ہاں اُلو ایک ایسا پرندہ تھا جس کا بولنا نحوست کی علامت تھی جب کہ مغرب میں اُلو عقلمندی کی علامت سمجھا جاتا ہے ہمارے ہاں بلی کا رونا یا بولنا منحوس سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اہل یورپ تیرہ کے عدد کو منحوس سمجھتے ہیں۔ اسی تو ہم پرستی کے نتیجہ میں ان کی بعض عمارتوں میں تیرھویں منزل کو تیرہ کا نمبر نہیں دیا جاتا ، اس کے اثرات ہم پر بھی ہیں خصوصا صفر کی تیرہ تاریخ کو منحوس سمجھتے ہیں اس کے برعکس چین میں خوش قسمتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ عدد تیرہ کا ہی ہے مگر بعض اس کو نحوست اور بعض خوش قسمتی کی علامت سمجھتے ہیں تو درست کیا ہے؟ حقیقت یہی ہے کہ یہ’’جبت ‘‘ہیں یعنی بے حقیقت باتیں اور تو ہمات ہیں ۔ سیدنا جابر بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺسے سنا:
«لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، وَلَا غُولَ»(صحيح مسلم:2222)
’’مرض کا لگ جانا صفر اور بھوت پریت کچھ نہیں ہیں۔‘‘
سیدنا ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ہی اپ نے فرمایا:
«لَا عَدْوَى، وَلَا هَامَةَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا صَفَرَ»(سَن أَبي داؤد:3912)
’’کوئی بیماری متعدی نہیں ، نہ اُلو کا نکلنا کچھ ہے، نہ کسی ستارے کی کوئی تاثیر ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے ۔‘‘
معلوم ہوا کہ زندگی میں پیش آنے والے مختلف واقعات کو ستاروں کے اثرات سمجھنا یا ان سے نحوست لینے کی کوئی حقیقت نہیں۔ زائچے نکلوانا بعض تاریخوں کو منحوس سمجھنا یہ سب وہمی اور خیالی باتیں ہیں۔
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی یہ واقعہ بارش کے بعد کا ہے جو رات کو ہوئی تھی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہہوئے اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں نے اس حال میں صبح کی کہ کچھ مجھ پر ایمان لانے والے تھے اور کچھ میرے ساتھ کفر کرنے والے تھے جس نے یہ کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی پس وہ مجھ پر ایمان لانے والا اور ستاروں کا کفر کرنے والا ہے اور جس نے کہا کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی پس وہ میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری:846)
گو یا ستاروں کو اپنی خوش قسمتی یا بد قسمتی کی علامت سمجھنا انسان کو کفر تک پہنچا سکتا ہے ۔ البتہ اچھی چیزوں کو اپنے لیے خوش بختی کی علامت کھنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ سیدنا انس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاتھا:
«لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الفَأْلُ الصَّالِحُ: الكَلِمَةُ الحَسَنَةُ » (صحیح البخاری:5756)
’’کوئی مرض متعدی نہیں اور نا بد فالی کوئی چیز ہے اور نیک فال یعنی اچھا کلمہ مجھے پسند ہے۔‘‘
مثلاً رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ کے نمائندے سہیل بن عمرو کے آنے پر فرمایا تھا:’’ اب تمہارا معاملہ سہل (آسان) ہو گیا۔‘‘ (صحیح بخاری:2731)
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اتنے واضح احکامات کے باوجود ہمارے معاشرے میں یہ بدشگونیاں عام کیوں ہیں تو اس کی ایک وجہ درج ذیل موضوع روایت کا لوگوں میں عام ہوتا ہے۔
مَنْ بَشَّرَنِي بِخُرُوجِ صَفَرٍ، بَشَّرْتُهُ بِدُخُولِ الْجَنَّةِ
’’جو شخص مجھ کو ماہ صفر گزرنے کی بشارت دے گا میں اس کو جنت کے داخلے کی بشارت دوں گا ۔‘‘(الموضوعات للصغانی:100)
یہ حدیث نہیں بلکہ ایک من گھڑت بات ہے۔ چنانچہ اس مہینے میں شادی کرنے سے گریز کرنا، بچے کا عقیقہ نہ کرنا یا دیگر تقریبات نہ منانا اسلامی طرز عمل نہیں ، اسی طرح تیرہ تاریخ کو گھنگلیاں کھانے یا کھلانے کی بھی کوئی سند نہیں۔ تین سو پینسٹھ آٹے کی گولیاں تالابوں میں بھیجنے کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔
ماہ صفر کے حوالے سے ایک اور انتہا یہ ہے کہ ایک طرف اس کو منحوس سمجھتے ہیں اور دوسری طرف خوشی منائی جاتی ہے اور دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیماری کے بعد اس دن صحت یاب ہوئے تھے اور سیر و تفریح کے لیے نکلے تھے حالانکہ تاریخی اعتبار سے بات اس کے بالکل برعکس ہے۔
فَبَدَا بِرَسُولِ اللهِ ﷺ وَجَعَهُ الَّذِي قَبْضَهُ اللهُ فِيْهِ (المعجم الكبير للطبراني:6599)
’’پس رسول اللہ ﷺ امینہ کی اس بیماری کی ابتدا ہوئی جس میں اللہ تعالٰی نے آپ کی روح قبض کی ۔‘‘
اس من گھڑت بات کو بنیاد بنا کر اس مہینے کی آخری بدھ کو چھٹی کی جاتی ہے، کاروبار بند کر دیئے جاتے ہیں خصوصاً ہاتھ سے کام کرنے والے کاریگر اور مزدور لوگ چھٹی مناتے ہیں اور مٹھائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ باقاعدہ مٹھائی بانٹی جاتی ہے اور اس دن چھٹی دینا با عث اجر و ثواب سمجھا جاتا ہے۔ خاص اس دن اس سوچ کے ساتھ چوری بنائی جاتی ہے کہ رسول اللہﷺ نے صحت یاب ہونے کے بعد چُوری کھائی تھی۔ خواتین اس دن اچھے کپڑے پہنتی ہیں ، لوگ خاص طور پر تفریح کے لیے نکلتے ہیں جبکہ اس کی دلیل نہ تو سیرت کی کتابوں میں ہے، نہ احادیث مبارکہ سے ملتی ہے۔ اس لحاظ سے ایک مسلمان کا عقیدہ مضبوط اور ذہن واضح ہونا چاہئے کہ خوشی اور غم نفع اور نقصان سب اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، کوئی تکلیف نہیں آسکتی جب تک اللہ نہ چاہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرما ن ہے :
قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ (التوبة :51)
’’کہہ دیجئے کہ ہمیں ہرگز کوئی بھلائی یا برائی نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ، وہی ہمارا مولا ہے اور ایمان والوں کو اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔‘‘
آپ ﷺنے فرمایا:
وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ (سنن أبی داؤد:4699)
’’جو مصیبت تم کو پہنچی وہ تم سے ٹل نہیں سکتی تھی اور جومل گئی وہ تم پر آہی نہیں سکتی تھی۔‘‘
یہی سوچ انسان کو ہر حال میں مطمئن رکھتی ہے کہ جو ہوا اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوا اس میں ضرور اللہ کی کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔ اس طرح عقیدہ توحید مزید پختہ ہوتا ہے اور انسان جان لیتا ہے کہ اصل پناہ دینے والی ذات صرف اور صرف اللہ کی ہے۔ اس طرح وہ شرک، جیسے کبیرہ گناہ سے بچا رہتا ہے۔ اس پر کار بند رہنے کے لیے ہمیں یہ دعا سکھائی گئی جو فرض نماز کے بعد پڑھنا مسنون ہے۔
