اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں ،

روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجیے ۔

اس طرح کسی اور نے کیا خوب کہا ہے کہ

جن سے روحیں وابستہ ہو جائیں

ان سے کسی صورت بھی مَن بھرا نہیں کرتے۔

نومبر 1996ع کے پہلے عشرے کی بات ہے۔

پہلے فیصل آباد پہنچا جہاں مادر علمی جامعہ سلفیہ میں حاضر ی دی، اساتذہ کرام ، طلبہ اور دیگر احباب سے ملاقات کی ، میرے استاذ مربی و محسن مشہور مصنف و کالم نگار ڈاکٹر سبطین لکھنوی رحمہ اللّٰہ(وفات: فروری 1998ع) سے شرف باریابی و ملاقات ہوئی ، اسی طرح میرے محسن اور بڑے بھائی محترم جناب محمد زبیر ناصر (مکتبہ ناصریہ فیصل آباد) سے بھی ملاقات رہی ۔دو دن فیصل آباد رہا وہاں سے لاہور آنا ہوا ۔شام کو مریدکے اجتماع میں شرکت کیلئے رخت سفر باندھا مغرب کے وقت پہنچا ۔

دوسرے دن یعنی بدھ کو اجتماع کا آغاز تھا ۔ فجر کے درس قرآن سے اس کا آغاز ہوا ۔ درس کے بعد وقفہ ہوا ۔

جلسہ گاہ میں خورد و نوش کے مختلف اسٹال ، مشروبات کے اسٹال کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء اور کتابی دنیا سے وابستہ مکتبات کے اسٹال بھی تھے۔ جلسہ گاہ میں پوری ایک مارکیٹ بنائی گئی تھی۔

جہاں محترم جناب محمد زبیر ناصر صاحب حفظہ اللہ نے بھی اپنے مکتبہ ناصریہ کا اسٹال بھی لگایا تھا ۔بندہ آثم نے اس مارکیٹ سے ہلکا سا ناشتہ کیا اور مکتبہ ناصریہ پر آیا زبیر بھائی سے ملاقات کی اور اپنے ذوق و شوق کی کتابیں دیکھنے لگا ۔اس دوران کتابوں کے مختلف اسٹال بھی دیکھے۔وہاں مجھے ایک نوجوان جن کا حلیہ کچھ اس طرح کا تھا کہ میانہ قد، اکہرا بدن،گندمی رنگ، کالی سیاہ گھنی داڑھی تراش خراش سے محفوظ ، کشادہ پیشانی ، نورانی چہرہ ، خوبصورت بھنویں و ستواں ناک،بڑی بڑی آنکھیں ، رسیلی آواز، سر پر سفید ٹوپی جس پر سرخ رومال ، شلوار قمیض میں ملبوس ، سادہ وضع و قطع ، گفتگو میں متانت و سنجیدگی اور انداز و اطوار سے سلف کی تصویر ، علم و عمل اور متانت سے لبریز نظر آئے جو کہ کتابوں کے اسٹال پر کتابیں دیکھ رہے تھے اور اپنے ذوق کی کتابیں خرید رہے تھے ۔ان کے ہاتھ میں کچھ خریدی ہوئی کتابیں بھی تھیں ۔خاص بات کہ ان کے ساتھ ان کے چاہنے والوں، عقیدت مندوں ، مُحِبّین اور خاص طور پر دینی مدارس و جامعات کے ابتدائی و منتہی طلبہ اور نوجوانوں کا ایک جمگٹھا ان کے آگے پیچھے اور ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ان سے حدیثی سوال ، متن و سنَد حدیث وغیرہ کے اشکالات ، ان سے علمی اور دینی سوالات پوچھ رہے تھے اور اپنے علم اور معلومات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے خوب استفادہ کر رہے تھے۔

میں بار بار اس نوجوان عالم دین کو غور سے دیکھ رہا تھا ، جو کہ اپنے علم ، متانت اور سنجیدگی کا مرقع نظر آرہے تھے۔انہیں پہچان نہیں پارہا تھا کہ یہ کون شخص ہے جس کے ساتھ اس قدر ان کے مُحِبّین ، چاہنے والے ، طلبہ اور شائقین ان کے ساتھ چل رہے ہیں ۔اس دوران وہ عالم دین اور فاضل شخصیت مکتبہ ناصریہ پر بھی تشریف لائے اور وہاں اپنے ذوق کی کتابیں دیکھنے لگے ۔وہاں کھڑے کھڑے ایک طالب علم ان سے مولانا ابوالحسن علی ندوی المعروف علی میاں ندوی رحمہ اللّٰہ (وفات :31 دسمبر ، 1999ع) کی کسی کتاب کے متعلق پوچھنے لگے کہ شیخ صاحب یہ ابو الحسن ندوی کون ہیں اور ان کی کتابیں کیسی ہیں ۔۔۔۔؟

اس نوجوانوں عالم دین اور فاضل شخص نے جواباً کہا کہ یہ مشہور صوفی اور دیوبندی عالم ہے۔

اتنا قریب آنے اور قریب سے دیکھنے کے باوجود میں انہیں پہچان نہ سکا۔جب وہ مکتبہ ناصریہ سے آگے کچھ دور چلے گئے تو بندہ آثم نے محترم زبیر ناصر بھائی سے ان کے متعلق پوچھا اور دریافت کیا کہ یہ نوجوان عالم دین کون ہیں اور ان کا کیا نام اور کیا تعارف ہے۔۔۔۔؟

زبیر بھائی نے جواباً کہا آپ اسے نہیں جانتے۔۔۔؟

 یہ مولانا مبشر احمد ربانی صاحب ہیں ۔

یقین جانیے اس کے بعد بندہ آثم انہیں مسلسل دیکھتا رہا ، یہ پہلا موقع تھا جو مولانا مفتی محمد مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ سے بالمشافہ ملاقات کی اور ان کی زیارت نصیب ہوئی ۔والحمد لِله علٰی ذَالِكَ

اس کے بعد بندہ آثم نے مولانا مفتی محمد مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ کے علمی و تحقیقی فتاواجات ، مقالات اور ان کی کتابیں نظر سے گذری ، ان کو پڑھا اور ان سے استفادہ کرنے کا موقع ملتا رہا۔انہی دنوں شیخ مبشر ربانی کا ایک مضمون سُنَنِ مَھجورۃ کے متعلق قسط وار مجلہ الدعوۃ لاہورمیں شائع ہوا تھا ۔اسے پڑھا اور پسند آیا ۔اس کی ایک قسط آنے کے بعد دوسری قسط کا شدت سے انتظار ہوتا تھا۔اس کے علاوہ پنجاب میں مختلف دینی اجتماعات اور جلسوں میں بھی مولانا مبشر ربانی رحمہ اللّٰہ کی تقریریں اور دروس سننے کا شرف بھی حاصل رہا ہے ۔

جنوبی سندھ کا سرحدی شہر بدین انتہائی اہمیت کا حامل شہر اور ضلع ہے۔دینی اور سیاسی حوالے سے بھی اس شہر اور ضلع کو اہمیت حاصل رھی ہے۔سر زمین بدین پر فکری اور اعتقادی اعتبار سے متعدد ادوار آئے ہیں ۔ ماضی کی تاریخ میں اس خطہ پر کئی نشیب و فراز آئے ، آسمانی و زمینی حادثات و بلیّات سے کئی بار دور چار ہوا ہے۔ 1975ع میں اس شہر کو ضلع کا درجہ دیا گیا۔

ماضی میں اس خطے میں مصنوعی حج لنواری کے خلاف ایک تحریک 1938ع میں چلی تھی۔بدین شہر سے جنوب میں بارہ کلومیٹر دور «لنواری» کے نام سے ایک قصبہ/شہر ہے۔ جس میں ایک پیر احمد زمان (وفات :1188ھ) کی مزار ہے۔اس مزار /درگاہ کو اہمیت دی گئی اور اس پیر کے عرس کی رسومات کو آگے چل کر مذہبی رسومات کہا گیا اور ان کو حج کی رسومات کا درجہ دیا گیا ۔ ان رسومات کو ادا کرنے والے افراد ایک دوسرے کو حج کی مبارکباد دے کر خوش ہوتے اور ان کو ناجی و حاجی کہتے تھے ۔ ان رسومات کفریہ اور اعمال شرکیہ کے خلاف مقامی علماء کرام نے 1938ع میں ایک تحریک چلائی اور اس مصنوعی حج کے خلاف سراپا احتجاج ہوئے ، جلوس نکالے ، مظاہرے کیے، گرفتاریاں پیش کیں اور تقریریں کیں ۔ اس تحریک کی ابتداء علماء اہل حدیث خصوصاً ادیب سندھ مولانا حاجی احمد ملاح رحمہ اللّٰہ (وفات:19جولائی ،1969ع) اور مشہور عالم دین ،صحافی ،کالم نگار مولانا خیر محمد نظامانی رحمہ اللّٰہ (وفات:13ستمبر، 1985ع) نے کی تھی.شروع دن سے لیکر تاحال اس تحریک کی قیادت و سیادت جماعت اھل حدیث کے مشایخ عظام اور ذی وقار علماء کرام کے حصے میں رہی ہے۔ تاحال یہ تحریک جماعت اھل حدیث کے ہاتھ میں ہے۔ والحمدُ لِله علٰی ذالك۔

اس کے بعد اس تحریک میں دوسری مذہبی جماعتیں اور ان کے قابلِ قدر و احترام کے لائق علماء کرام شریک ہوئے۔خصوصا مولانا محمد صادق میمن کھڈہ والے آف کراچی رحمہ اللّٰہ (وفات:18جون 1953ع)، مولانا عبدالغفور سیتائی رحمہ اللّٰہ (وفات :24 مئی1980 ع) ، مولانا حکیم فتح محمد سیوہانی رحمہ اللّہ وفات:12دسمبر1924ع) وغیرھم۔

ان مشایخ عظام اور ذی وقار علماء کرام کی جہود مسلسلہ ، محنتوں اور کاوشوں سے یہ تحریک کامیاب رہی ۔جن کی محنتوں اور کاوشوں سے گورنمنٹ سندھ کی طرف سے ہر سال 8 سے 10 ذی الحجہ کی تاریخوں کو لنواری شہر میں قلم 144 جاری رہتا آرہا ہے۔جس کی وجہ سے لنواری شہر اور اس کے مضافات میں کسی بھی قسم کا مذہبی اجتماع کرنا ، کسی قسم کا ہتھیار لیکر گھومنا، اکٹھے ہونا اور جلوس وغیرہ نکالنا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔اور یہ قلم تاحال اور امسال بھی جاری رہا ہے۔

اسی طرح ماضی بعید میں بدین شہر میں سال 1932/33ع میں اہل توحید اور اہل بدعت کے درمیان تاریخی مناظرہ ہوا تھا ۔ اس مناظرہ میں اہل توحید اور اہل حدیث کی طرف سے امام المُوحِّدِین ، قاطع شرک و بدعت مولانا عبدالرحیم پچھمی رحمہ اللّٰہ (وفات:20 محرم الحرام 1388ھ ) علامہ سید احسان اللّٰه شاہ راشدی رحمہ اللّٰہ (وفات:13 اکتوبر، 1938ع) بطور مناظر شریک ہوئے تھے ۔اس مناظرہ میں اہل توحید کو فتح اور بڑی کامیابی نصیب ہوئی اور اس مناظرے کے اس علاقہ میں انتہائی مُثبت نتائج و اثرات برآمد ہوئے۔

اسی مناظرہ کے سبب مولانا احمد ملاح رحمہ اللّٰہ نے اپنے سابقہ مشرکانہ عقائد اور بریلوی مسلک کو ترک کیا عقیدہ توحید قبول کیا اور مسلک اہل حدیث اختیار کیا۔سیاسی حوالے سے بھی اس ضلع کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے ۔

برسر مطلب مئی 2001ع میں یہاں ایک اور مناظرہ ہوا تھا جوکہ جماعت اھل حدیث اور احناف (دیوبندی) جماعت کے درمیان ہوا تھا ۔اس مناظرہ سے قبل دونوں جماعتوں کی طرف سے اپنے اپنے مسلک اور عمل کا خوب اظہار کیا جاتا رھا ۔جمعہ کے خطبات اور دینی جلسوں میں ایک دوسرے کے عقیدہ ، عمل اور مسلک پر خوب رد و قد اور نقد کیا جاتا تھا اور مناظرے کے چیلنجز دیئے جاتے تھے ۔انہیں چیلنجوں کی وجہ سے بدین کی دونوں مقامی جماعتوں کی طرف سے باہم افہام وتفہیم سے بات کرنے اور مناظرہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔جماعت اہل حدیث کی طرف سے محترم جناب ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں حفظہ اللہ جو کہ انتہائی متحرک ، فَعال ، عقیدہ و عمل اور منہج سلف میں مظبوط ، نیک اور صالح شخصیت ہیں ۔

موصوف نے جماعت اہل حدیث کی طرف سے نمائندگی کی جبکہ احناف کی طرف سے مولانا عبد الستار چاوڑو رحمہ اللّٰہ ( وفات :8اپریل ،2014ع) نے نمائندگی کی ۔اور مناظرہ کا پروگرام رکھا گیا ۔اس مناظرہ کے لیے ڈاکٹر صاحب نے جماعت اہل حدیث کے کامیاب اور مضبوط مناظرین سے رابطے کرنا شروع کیے ۔اس مناظرہ کے لیے مولانا قاضی عبد الرشید ارشد آف جلہن ضلع گوجرانولہ حفظہ اللہ ، مولانا ابو انس محمد یحییٰ کھوکھر ،گوندلوی رحمہ اللّٰہ (وفات:26جنوری ، 2009 ع) مولانا حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ حضرو ضلع اٹک (وفات:10 نومبر، 2013ع) مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ آف لاہور (وفات:4 ،مئی، 2024ع) اور مولانا ابوصہیب محمد داؤد ارشد صاحب حفظہ اللہ سے رابطہ کیا گیا۔ان دنوں جماعت اہل حدیث میں کامیاب، مضبوط اور مستحکم مناظر ہمارے ان مشایخ عظام اور ذی وقار علماء کرام کی ٹیم کو تصوّر کیا جاتا تھا۔چنانچہ مئی کے آخری عشرے میں یہ مناظرہ مقرر کیا گیا ۔

مقررہ تاریخ پر پنجاب سے ہمارے یہ عالی قدر مشایخ عظام اور ذی وقار علماء کرام بدین سندھ تشریف لائے ۔مئی کا مہینہ انتہائی گرم اور سخت موسم تھا۔

بندہ آثم کو اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے یہ مشایخ اور علماء کرام شام کے وقت مغرب سے قبل بدین پہنچے تھے ۔ اس دن تمام سخت گرم ،گرمی اور لو والی موسم تھی ۔مغرب نماز کے بعد ان علماء کرام کے لیے ایک ریسٹورنٹ میں انتظام کیا گیا تھا ۔رات کو ان کے آرام کے لئے چھت پر انتظام تھا۔ گرمی اور سخت گرم موسم کی وجہ سے مولانا قاضی عبد الرشید ارشد صاحب اور مولانا محمد داؤد ارشد نے کہا کہ ہمارے لیے ٹیبل فین کا انتظام لازمی کرنا۔ کیونکہ یہ لوگ پنجاب کے سخت اور گرم موسم کے عادی تھے۔اس لیے انہوں نے پنکھے کا مطالبہ کیا۔بندہ نے کہا کہ حضرت جی! آپ اوپر چھت پر تشریف لے کر چلیں اگر ضرورت محسوس کریں تو ٹیبل فین کا انتظام کردیا جائے گا۔ جب ہمارے یہ علماء کرام چھت پر تشریف لے کر گئے تو حیرت میں پڑ گئے کہ یہاں تو بہت بہترین ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے ۔

جنوبی سندھ کا خصوصاً کراچی ،ٹھٹھہ اور بدین کے یہ علاقے ساحلِ سمندر کے قریب ہیں ۔جس کی وجہ سے یہاں کی سمندری ہوائیں جوکہ سمندر کی نمی کی وجہ سے رات کو ٹھنڈی  ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے ہمارے ہاں ان علاقوں کی راتیں پر سکون اور آرام دہ ہوتی ہیں ۔

ان حضرات نے کہا کہ کیا یہ ہوائیں مسلسل چلتی رہتی  ہیں ۔۔۔؟

ہم نے کہا کہ جی ہاں۔اس طرح کھلی فضا اور ٹھنڈی ہوا میں ہمارے ان مشایخ کرام نے بڑے سکون سے رات بسر کی۔دوسرے دن صبح کو مناظرہ کی تاریخ تھی مناظرہ کا پروگرام بھی اسی ریسٹورنٹ کی دوسری منزل کے لان میں رکھا گیا تھا ۔صبح نو بجے کا ٹائم طے تھا ۔وقت مقررہ سے پہلے فریقین کے علماء کرام اور ان کے میزبان کے علاوہ دیگر افراد بھی جمع ہونے لگے ۔جماعت اہل حدیث کی طرف سے مناظر مولانا قاضی عبد الرشید ارشد صاحب تھے جبکہ صدر مناظر مولانا محمد یحیی گوندلوی رحمہ اللّٰہ تھے مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ ، مولانا حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ اور مولانا محمد داؤد ارشد صاحب حفظہ اللّٰه معاون مناظر تھے۔ جبکہ احناف کی طرف سے مناظر مولانا منظور مینگل تھے اور صدر مناظر مولانا حبیب اللّٰه آف کراچی تھے اور ان کے ساتھ آئے ہوئے جامعہ فاروقیہ کراچی کے کچھ اساتذہ اور مفتیان کرام وہ ان کے معاون تھے۔

مناظرہ تقلید شخصی کے موضوع پر تھا۔مناظرہ سے قبل جانبین کی طرف سے شرائط لکھی جارہی تھیں۔اور فریقین کے علماء اپنے اپنے اسٹیج پر اپنے ساتھ لائی ہوئی کتابوں کو سیٹ کر ہی رہے تھے کہ اس دوران احناف کے مناظر مولانا منظور مینگل کھڑے ہوئے ،مائیک پکڑا اور عربی میں تقریر اور بولنا شروع کر دیا۔ عربی بولتے ہوئے اچانک اردو میں بولنا شروع کر دیا ۔اس دوران مولانا داؤد ارشد صاحب حفظہ اللّٰه نے انہیں ٹوکا اور برجستہ کہا :’’عربی بھول گئے ، عربی بھول گئے۔۔۔۔ ‘‘

مولانا منظور مینگل نے کہا ہمارے نزدیک ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے۔ لہٰذا تم اپنی شرائط میں لکھو کہ تقلید حرام ہے۔

مولانا مفتی مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ فوراً کھڑے ہوئے برجستہ جواب دیا اور مینگل کو مخاطب ہو کر کہا کہ تم اور جامعہ فاروقیہ کے جتنے اساتذہ اور طلبہ جو آپ کے ساتھ یہاں تشریف لائے ہیں۔اپنے اصول کی مسلّمہ کتابوں میں سے ہمیں واجب کی ضد حرام دکھاؤ۔ ہم آپ کو مناظرہ میں شکست لکھ کر دینے کو تیار ہیں ۔ منظور مینگل چپ ہوگئے ۔ جنہیں لینے کے دینے پڑ گئے ۔

اس دوران احناف کی طرف سے ایک اور مولوی صاحب غالباً ان کا تعلق جنوبی پنجاب رحیم یارخان سے تھا وہ کھڑے ہوئے ان کو مولانا ربانی رحمہ اللّٰہ بولنے نہیں دیا ۔

مولانا مبشر ربانی نے کہا آپ کی مسلّمہ اصولی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ جو چیز دلیل قطعی سے ثابت ہو وہ فرض  ہوتی ہے یعنی وہ فرض ہے۔اور جس میں ظنّ آجائے اور وہ دلیل ظنّ سے ثابت ہو رہی ہو تو وہ واجب کے حکم میں ہے۔اس طرح جو چیز دلیل قطعی سے اس کی ممانعت ثابت ہو وہ حرام ہے اور جو دلیل ظنّی سے ثابت ہو وہ مکروہ تحریمی ہے۔

ابھي باہم مناظرہ شروع نہیں ہوا تھا شرائط لکھی جارہی تھیں اور شرائط پر گفتگو چل رہی تھی۔مولانا منظور مینگل کے اعتراض کرنے پر مولانا مبشر ربانی رحمہ اللّٰہ نے ان کو جو جواب دیا تھا ۔اس پر ماحول گرم ہوگیا۔ ریسٹورنٹ کے باہر دونوں جماعتوں کے کافی افراد جمع ہوگئے تھے ۔ضلعی انتظامیہ درمیان میں آگئی ۔پولیس نے مناظرہ نہیں ہونے دیا۔اور فریقین کو محفل ختم کرنے کو کہا ۔یوں یہ مناظرہ ختم کر دیا گیا ۔دونوں جماعت کے مناظرین ، علماء کرام اپنے اپنے مندوبین کے ہاں چلے گئے ۔

اس کے بعد ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں صاحب حفظہ اللّٰه ، انتظامیہ اور جماعت کے دیگر افراد نے اپنے مناظرین کو جامعہ شمس العلوم المحمدیہ کینٹ روڈ بدین لے کر گئے ۔جہاں دن کے وقت ان کے کھانے اور آرام کا انتظام تھا۔

مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ کے قریبی رشتہ دار غالباً ان کی پھوپھو جان کھوسکی شہر میں جو کہ ضلع بدین کا ایک شہر ہے۔ جو کہ بدین سے تقریباً 25 ، 30 کلومیٹر مشرق کی طرف واقع ہے۔میں رہائش پذیر تھیں ۔ جن سے ملنے کے لیے کھوسکی چلے گئے تھے ۔دیگر اہل علم اور مہمان گرامی القدر جامعہ میں قیام پذیر تھے ۔ظہر کی نماز کے بعد دیوبندی جماعت کی طرف سے ان کے نمائندے اور منتظم مولانا عبد الستار چاوڑو اور ان کے ہمراہ مولوی فتح محمد مہیری صاحب بھی تھے وہ جامعہ شمس العلوم آئے ۔ ڈاکٹر صاحب سے ملے اور کہا کہ اگر آپ کے مناظرین اور علماء کرام موجود ہیں تو باہم مشورہ سے مناظرہ دوبارہ کروائیں ۔

ڈاکٹر صاحب نے جناب مولانا قاضی عبد الرشید ارشد صاحب اور مولانا محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللّٰہ سے مشورہ کیا اوران سے بات کی ۔جس پر اہل حدیث مناظرین نے کہا اگر احناف تیار ہیں تو ہم بھی تیار ہیں ۔

جس کے بعد دونوں جماعتوں کی طرف سے یہ طے کیا گیا تھا ۔اس مناظرہ کی اطلاع کسی کو نہیں دی جائے اور صرف مناظرین اور چند افراد جو اس وقت موجود ہیں وہ شریک ہوں ۔

جس کے بعد دیوبندی حضرات مناظرہ کے لیے مولانا حبیب اللّٰه صاحب اور ایک دو اور مولوی حضرات بطور معاون لے کر جامعہ شمس العلوم تشریف لے آئے۔

 جب دوبارہ مناظرہ کرنے کا پروگرام رکھا گیا تھا ۔اس وقت مولانا مبشر ربانی صاحب بدین سے باہر کھوسکی شہر گئے ہوئے تھے ۔ان کو بلانے کے لیے ڈاکٹر صاحب اور انتظامیہ نے اپنا الگ بندہ بھیجا اور ان کو گاڑی دی کہ ربانی رحمہ اللّٰہ کو لیکر آئیں ۔

جب مناظرہ کے لیے تیاری کی جارہی تھی اس وقت مولانا ربانی صاحب بھی پہنچ گئے تھے ۔

اہل حدیث مناظرین نے باہمی مشورہ کیا اور بطور مناظر مولانا ابو انس محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ کا نام پیش کیا اور وہ مناظر ہوں گے ، صدر مناظر مولانا قاضی عبد الرشید ارشد صاحب اور مولانا حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ اور مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ معاون مناظرہ ہوں گے۔

مناظرہ اسی سابقہ موضوع «تقلید شخصی» پر کیا جائے گا۔

یہ مناظرہ دوبارہ عصر کی نماز کے بعد جامعہ شمس العلوم کی پرانی مسجد جو اس وقت بالکل چھوٹی سی تھی ۔اس میں رکھا گیا تھا۔مناظرہ کے شرائط وغیرہ بھی وہی تھیں جو صبح کے وقت مناظرہ میں طے کیں یا لکھی گئی تھیں۔ اس مناظرہ کے پانچ ٹرم رکھے گئے تھے ۔پہلی تقریر مولانا محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللّٰہ نے کی تھی جس میں تقلید کا خوب رد کیا ، رد تقلید میں دلائل پیش کئے اور اپنے مؤقف کو قرآن و حدیث سے ثابت کیا۔ جس کے جواب میں حنفی مناظر مولانا حبیب اللّٰه نے اپنی تقریر میں مولانا محمد یحییٰ گوندلوی کے پیش کردہ دلائل کا رد کرسکے اور نہ ہی اپنے مؤقف کو ثابت اور واضح کر سکے ۔ اس طرح ہر ٹرم میں مولانا گوندلوی رحمہ اللّٰہ اپنے سابقہ دلائل کو دہراتے رہے اور اپنے مؤقف کو دلائل سے واضح اور ثابت کرتے رہے۔ مولانا حبیب اللّٰه سکھروی اپنی ہر ٹرم میں مولانا یحییٰ گوندلوی کے دلائل کا نہ رد کرسکے اور نہ ہی اپنے مؤقف «تقلید شخصی واجب ہے» کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوسکے ۔

بالآخر جماعت اہل حدیث کے مناظر غالب رہے۔

اس مناظرہ کے دو دور ہوئے ایک عصر نماز سے مغرب نماز تک دوسرا مغرب کے بعد عشاء نماز تک جبکہ مکمل مناظرہ کا دورانیہ ساڑھے تین گھنٹے رہا ۔اس دوران شہر میں جوں جوں اس مناظرہ کی خبر لوگوں کو پہنچی آہستہ آہستہ لوگ بھی مناظرہ سننے کے لیے آنے لگے۔ مناظرہ کا ماحول پُرامن رہا ۔ طرفین کی طرف سے کسی بھی قسم کی مزاحمت ، شور شرابہ اور شور و غوغا وغیرہ نہیں ہوا۔ مناظرہ میں موجود طرفین کےسامعین اور لوگ خوب دلجمعی اور توجہ سے سنتے رہے ۔ لوگوں کے تاثرات یہ تھے کہ پورے مناظرہ میں مولانا محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللّٰہ کے دلائل مضبوط ، مستحکم ہیں مولانا گوندلوی رحمہ اللّٰہ غالب اور کامیاب رہے۔

مناظرہ کے اختتام پر بندہ آثم آگے بڑھ کر مناظر مولانا محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللّٰہ ، صدر مناظر مولانا قاضی عبد الرشید ارشد صاحب ، مولانا حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ ، مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ اور مولانا محمد داؤد ارشد صاحب حفظہ اللّٰہ کو مبارکباد دی اور خصوصاً مولانا محمد یحییٰ گوندلوی کی پیشانی پر بوسہ دیا۔اس مناظرے کے اس علاقے میں انتہائی مُثبت اثرات مرتب ہوئے ۔ایک عرصہ تک اس مناظرہ کی بازگشت بدین اور اس کے مضافات میں سنی جاتی رہی ۔

اس مناظرہ کے اختتام کے بعد عشاء نماز پر شہر کی مین جامع مسجد مولانا حاجی احمد ملاح غریب آباد بدین میں چھوٹے سےجلسے کا پروگرام رکھا گیا تھا جس میں مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ کی رد تقلید کے موضوع پر تقریر تھی ۔آپ نے بڑے مدلل ، احسن انداز اور قرآن و حدیث کے دلائل سے اطاعت رسول ﷺ،اتباع سنت ﷺکی اہمیت کو بیان کیا اور تقلید شخصی کا خوب رد کیا ۔ ان کے بعد مولانا حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللّٰہ کے سوال وجواب کی نشست رکھی گئی تھی ۔مولانا زبیر علی زئی نے لوگوں کے سوالات اور اشکالات کا قرآن و حدیث سے جوابات دیئے ۔

رات کو ہمارے ان معزز علماء کرام کے لیے رہائش کا انتظام اسی ریسٹورنٹ میں تھا ۔

صبح کو بدین کی جماعت کی طرف سے ان علماء کرام کے لیے پر تکلف ناشتہ وغیرہ کا انتظام تھا ۔ناشتہ کے بعد جماعت کی طرف سے ان علماء کرام کو تحائف و اعزازات سے نوازا گیا اور ان کو حیدرآباد چھوڑنے کے لیے گاڑی کا انتظام کیا گیا تھا ۔

حسنِ اتفاق یہ ہوا کہ ہمارے یہ مشائخ عظام ، ذی وقار علماء کرام اور مہمان گرامی القدر حیدرآباد جارہے تھے تو بدین شہر کے مین بس اڈہ سے جوں ہی ان کا گذر ہوا ۔تو ان کی نظر وہیں کھڑے مولانا حبیب اللّٰه صاحب پر پڑی ۔ وہ لوکل عوامی گاڑی کے انتظار میں کھڑے تھے۔ جنہیں یہ حضرات اپنے ہمراہ گاڑی میں حیدرآباد تک لے کر گئے تھے ۔دورانِ سفر مولانا مبشر ربانی ، مولانا محمد یحییٰ گوندلوی اور مولانا زبیر علی زئی نے مولانا حبیب اللّٰه سے خوب گفتگو کی اور رات والے مناظرہ پر بات چیت کی اور ان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا جس پر مولانا حبیب اللّٰه صاحب نے اقرار کیا اور یہ تسلیم کیا کہ تقلید شخصی کے موقف پر آپ حضرات علمائے اہلِ حدیث صحیح ہیں آپ کے دلائل مضبوط، ٹھوس اور واضح ہیں۔ کل والے مناظرہ میں آپ کامیاب رہے ہیں ۔

اس مناظرہ کے موقع پر مولانا محمد یحییٰ گوندلوی رحمہ اللّٰہ نے جامعہ شمس العلوم المحمدیہ کے تأثراتی رجسٹر پر اپنی طرف سے نوٹس میں لکھتے ہیںکہ

«راقم الحروف اپنے رفقاء مولانا قاضی عبد الرشید ارشد صاحب ، مولانا مبشر احمد ربانی صاحب، مولانا حافظ محمد زبیر علی زئی صاحب اور مولانا محمد داؤد ارشد صاحب کی معیت میں جامعہ شمس العلوم المحمدیہ بدین میں حاضری کا موقع ملا ۔وہاں کی انتظامیہ ، اساتذہ اور طلبہ کو بہت محنت ، محبت کرنے والا اور بااخلاق پایا ۔جس طرح ان احباب نے ہمیں مرحباً کہا ، محبت اور عزت و توقیر دی اس کا اثر دل و دماغ پر ایک مدت تک قائم رہے گا ۔

اساتذہ اور طلبہ سلیقہ شعار ، نمازوں کے پابند اور وقت پر ادائیگی میں اپنی مثال آپ ہیں ۔جس سے اساتذہ و انتظامیہ کی محنت ،طلبہ کے ذوق اور صحیح تربیت کا تصوّر اجاگر ہوتا ہے ۔ اسی جامعہ کی مسجد میں نمازِ عصر کے بعد جماعت احناف دیوبندی مکتب فکر سے تقلید شخصی کے موضوع پر راقم الحروف اور ان کے رفقاء کا مولانا مفتی حبیب اللّٰه صاحب آف کراچی سے مناظرہ تھا ۔مناظرہ کے دو دور ہوئے ایک نماز عصر سے نماز مغرب تک دوسرا نماز مغرب سے نماز عشاء تک رہا ۔مناظرہ کا مکمل دورانیہ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تھا ۔

الحمد للّه یہ مناظرہ نہایت کامیاب اور مثالی رہا ۔جس میں مفتی حبیب اللہ آخر تک اپنے موضوع اور بات پر کوئی مضبوط اور واضح دلیل پیش کر سکے اور نہ ہی اپنے مؤقف کو ثابت کرسکے ۔

مناظرہ میں فریقین کی طرف سے چیدہ چیدہ حضرات شامل تھے ۔ مناظرہ نہایت خیر اسلوبی سے اپنے انجام کو پہنچا ۔ اس کی کامیابی میں ہمارے میزبان اور قابلِ احترام جناب ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں صاحب اور ان کی پوری ٹیم کی محنتوں ، کاوشوں اور صلاحیتوں کا عمل دخل تھا کہ فریقین میں سے کسی طرف سے کوئی قابلِ اعتراض اور بد اخلاقی کی کوئی بات نہیں ہوئی ۔جس پر بدین کی پور جماعت اور خصوصاً جناب ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں صاحب حفظہ اللّٰه مبارک باد کے مستحق ہیں ۔

اللّٰہ تعالیٰ تمام احباب کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور انہیں جزائے خیر سے نوازے ۔آمین یارب العالمین ۔

کتبه:ابو انس محمد یحییٰ بن محمد یعقوب گوندلوی ،

مدیر جامعہ تعلیم القرآن والحدیث ساہووالہ ضلع سیالکوٹ ۔

(اس رجسٹر پر دیگر اہل علم کے دستخط موجود ہیں)

اس مناظرہ کے بعد مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ دوسری مرتبہ بدین سندھ میں اسی سال کے ستمبر ماہ میں تشریف لائے تھے ۔

بندہ آثم کو اچھی طرح یاد ہے کہ شیخ موصوف بغیر کسی پروگرام کے یا پہلے سے اطلاع دیئے بغیر صبح کے وقت تقریباً نو بجے جامعہ شمس العلوم المحمدیہ تشریف لائے۔ اس وقت جامعہ میں تدریسی عمل جاری تھا۔ جامعہ کے مدیر اور شیخ الحدیث ، بندہ آثم کے دورانِ تعلیم و تدریس کے رفیق مولانا عبد الرازق ابراہیمی حفظہ اللّٰه جامعہ کے دیگر اساتذہ اور طلبہ آگے بڑھ کر شیخ محترم کا استقبال کیا ، سلام اور مرحباً کہا۔جلدی جلدی ناشتہ کا انتظام کیا۔ناشتہ کرنے کے بعد شیخ محترم نے کہا کہ میں تھکا ہوا ہوں مجھے کچھ دیر سستانے کے لیے آرام کرنا ہے ۔ہم نے جامعہ کے دفتر والے کمرے میں ان کے آرام کا انتظام کیا اور انہیں کمرے میں آرام کرنے کے لیے چھوڑ کر چلے گئے۔اسی دفتر والے کمرے میں جامعہ کی مختصر لائبریری کی کتابیں بھی رکھی ہوئی تھیں ۔

ہم اپنی اپنی کلاسوں میں چلے گئے اور تدریسی عمل میں مصروف ہوگئے۔کچھ دیر کے بعد ہم نے دیکھا مولانا موصوف لائبریری میں موجود کتابیں دیکھ رہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس کا آپ کھڑے کھڑے مطالعہ کر رہے ہیں۔ ہم نے کہا شیخ محترم آپ نے کہا تھا کہ میں تھکا ہوا ہوں آرام کروں گا۔ جبکہ آپ تو کتابیں دیکھ رہے ہیں ۔۔۔؟

مولانا مبشر ربانی رحمہ اللّٰہ مسکرا کر کہا آپ احباب کی محبتوں کا شکریہ۔ میرے لیے کتابوں والے کمرے میں آرام کا انتظام کرکے اچھا نہیں کیا ۔آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مولوی کے لیے کتابیں کمزوری ہوتی ہیں ۔جب اس کے پاس یا سامنے کتابیں ہوں وہ کہاں آرام کرے گا اور کیسے چین سے بیٹھے گا۔ میں آرام کے لیے لیٹا تھا مگر نیند نہیں آئی اور اٹھ کر کتابیں دیکھنے میں مصروف ہوگیا۔

مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ ظہر تک ہمارے ہاں رکے رہے عصر سے پہلے آپ کھوسکی شھہ اپنی پھوپھو ماں سے ملنے کے لیے تشریف لے گئے ۔

آپ نے اس مرتبہ جامعہ کے تأثراتی رجسٹر پر اپنے قلم و ہاتھ سے تاثرات لکھے تھے ۔آپ نے لکھا ۔

«آج مؤرخہ 8 ستمبر 2001ع کو دوبارہ مدرسہ/جامعہ شمس العلوم المحمدیہ بدین سندھ میں حاضری کا موقع ملا ۔ پہلی مرتبہ یہاں (بدین) مناظرہ کی سلسلے میں حاضری دی تھی۔ ساتھیوں کی محبت اور خلوص کی بنا پر اس دفعہ محترم جناب ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں صاحب حفظہ اللّٰه ، مولانا عبد الرزاق ابراہیمی صاحب حفظہ اللہ، مولانا محمد خان محمدی صاحب حفظہ اللّٰه ، مولانا بشیر احمد صاحب حفظہ اللّٰه وغیرھم کی زیارت اور ملاقات کی وجہ سے حاضر ہونے کا اعزاز اور موقع نصیب ہوا۔

الحمد للّه ہمارے یہ احباب گرامی اور ساتھی دین اسلام کی سربلندی کے لیے کوشاں ہیں ۔اللہ تبارک وتعالیٰ ان احباب گرامی القدر کی جہود مخلصہ و مسلسلہ کو درجہ قبولیت سے نوازے اور مدرسہ/جامعہ ھٰذا کو دن دگنی رات چگنی ترقی عطاء فرمائے ۔ ان شاءاللہ بفضل تعالیٰ جب کبھی بھی موقع ملا تو حاضری دیتا رہوں گا ۔

بِیدِ اللهِ التَّوفیقُ وهُوَ الْوَلِیُّ.

احقرالعباد: ابوالحسن مبشر احمد ربانی عفی اللّٰه عنه ۔

8/9/2001

اس طرح یہ مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ سے بالمشافہ دوسری بار زیارت ، ملاقات اور ان کے ساتھ بیٹھنے اور استفادہ کرنے کا موقع ملا ۔اس ملاقات کے دوران آپ کے پاس ایک ڈائری نما کاپی تھی ۔جس میں آپ نے اپنے مطالعہ کے دوران کتابوں سے کافی اہم باتیں ، نوٹس ، حوالہ جات اور قیمتی چیزیں اپنے قلم سے تحریر اور قلمبند کی ہوئی تھیں ۔وہ ہمیں دکھائی تھیں جو انتہائی معلوماتی اور اہمیت کی حامل نظر آئیں۔ بعد میں ہم نے خاص مولانا عبد الرزاق ابراہیمی حفظہ اللہ صاحب اور بندہ نے اس اہم معلوماتی اور قیمتی ڈائری کی فوٹو کاپی بنوائی اور اپنے پاس رکھی تھی ۔غالباً وہ اب بھی جامعہ شمس العلوم المحمدیہ بدین کے مکتبہ میں موجود ہو۔

اسی طرح مارچ 2003ع کے آخری عشرے میں بندہ آثم و راقم پنجاب کے سفر پر گیا تھا۔ بندہ اکثر سال بعد اپنے علمی ، مطالعتی دورے کے لیے ، اساتذہ کرام اور احباب گرامی سے ملاقات وغیرہ کے علاوہ اپنے ذوق و شوق کی خاطر کتابوں کی خریداری کے سلسلے میں پنجاب جاتا رہتا ہے ۔ اب اس میں اگرچہ کمی آگئی ہے ۔تاہم کبھی کبھار جانا ہوتا ہے ۔

اس سال فیصل آباد ، لاہور اور گوجرانولہ بھی گیا تھا ۔لاہور میں میرے چچا زاد بھائی اور کزن جناب محمد خالد سیف صاحب رہتے تھے ۔جو کہ جماعۃ الدعوۃ سے منسلک اور وابستہ ہیں۔ جماعت کی طرف سے سندھی زبان میں ایک مجلہ ماہنامہ «باب الاسلام» نکالتے تھے ۔لاہور کی تاریخ میں سندھی زبان میں یہ پہلا اور واحد مجلہ تھا۔جو پنجاب لاہور کی سرزمین سے جاری ہوا۔اس کے مدیر تھے۔لاہور جب بھی جانا ہوتا تو ان کے کہاں قیام ہوتا تھا۔اس وقت مرکز القادسیہ میں دفاتر کا تعمیراتی کام جاری تھا ۔

لہذا ان کے مجلہ ، رسائل اور اخبار وغیرہ کے دفاتر عارضی طور پر یتیم خانہ چوک پر ایک مارکیٹ کی دوسری منزل پر تھے ۔ اس سفر میں بندہ آثم نے اپنے کزن خالد بھائی سے درخواست کی کہ مولانا مبشر احمد ربانی صاحب سے ملاقات کرنی ہے۔کیونکہ مبشر صاحب دو مرتبہ سندھ خاص طور پر بدین تشریف لائے تھے ۔اس حوالے سے ان کی زیارت اور ملاقات کی خواہش ہے۔ اس طرح خالد بھائی کے ساتھ مولانا سے ملاقات کے لیے ان کے مرکز مسجد ابوبکر صدیق سکیم موڑ ملتان روڈ لاہور گئے ۔(جہاں اس وقت مولانا محمد ارشد کمال صاحب ہوتے ہیں خطبہ جمعہ مولانا حافظ محمد سرور عاصم حفظہ اللّٰہ مکتبہ اسلامیہ لاہور والے دیتے ہیں۔ مولانا سرور صاحب بندہ آثم کے کلاس فیلو ہیں۔جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ایک سال اکٹھے پڑھتے رہے ہیں۔) ظہر نماز کا وقت تھا۔نماز کے بعد مولانا کو سلام عرض کیا ،ملاقات کی ۔

آپ بڑی عقیدت ، محبت اور خلوص سے ملے ۔اور ہمیں اپنی لائبریری جو اسی مسجد کے ایک وسیع وعریض کمرے میں تھی میں بٹھایا۔ مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ کی لائبریری بہت بڑی اور وسیع تھی ۔ آپ نے ہمیں اپنی لائبریری دکھائی اور کھانے کا پوچھا ہم نے معذرت کی اور کہا کھانا کھا کر آئے ہیں ۔موسم کے مطابق ہلکا سا ہمارے لیے ریفریش منٹ کا سامان منگوایا۔ یہ ملاقات مختصر سی تھی ۔ جب ہم نے ان سے جانےکی اجازت چاہی تو آپ نے کمال شفقت فرماتے ہوئے مسجد کے گیٹ تک تشریف لائے ۔

اس ملاقات کے موقع پر آپ نے اپنی تالیف کردہ کتاب «جشنِ عیدمیلاد النبی ﷺ» کے چند نسخے دئیے اور کہا ان میں سے ایک نسخہ خاص ڈاکٹر عبد الحفیظ سموں صاحب حفظہ اللّٰه کو دیجیے گا اور انہیں میرا نیاز مندانہ سلام بھی عرض کیجیے گا ۔یہ کتاب ابھی تک بندہ آثم و فقیرم کی لائبریری میں موجود ہے ۔

اسی طرح مارچ 2018ع کے پہلے ہفتے میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کی طرف سے آل پاکستان اہل حدیث کانفرنس کالا شاہ کاکو انٹرچینج لاہور میں منعقد کی گئی تھی ۔جس میں شرکت کے لیے ضلع تھرپارکر اور ضلع بدین سندھ کی جماعت کی طرف سے ایک بڑی گاڑی ھینو بس کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ کانفرنس 9،8 مارچ جمعرات اور جمعہ کو تھی ۔دو دن کانفرنس میں رہے ۔اس کے بعد بندہ ناچیز و فقیر اپنے پروگرام کے مطابق گوجرانولہ اور فیصل آباد بھی گیا تھا۔ایک دو دن لاہور بھی رکا تھا۔ ایک دن اپنے چھوٹے بھائی کزن جناب عبد الوھاب ملکانی کے ساتھ عصر کی نماز ہم نے مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ کے مرکز اُمّ القرٰی جی بلاک سبزہ زار میں پڑھی تھی اس دن ہمیں کوئی کام تھا اور جلدی بھی تھی جس کی وجہ سے مولانا رحمہ اللّٰہ سے ملاقات وغیرہ نہیں کی اور ہم چلے گئے ۔جس کا اب تک افسوس رہا کہ کاش مولانا مبشر ربانی رحمہ اللّٰہ سے شرفِ باریابی ، نیازمندی اور ملاقات وغیرہ کر لیتے ۔اسی طرح فروری 2019ع کے پہلے ہفتے میں بندہ ناچیز و آثم اپنے بڑے بھائی ، سفر و حضر کے ساتھی ، میرے مرشد جی جناب مولانا عبد الرحمٰن ثاقب صاحب حفظہ اللّٰه و اکرمہ کے ہمراہ پنجاب کے دورے پر گیا تھا ۔اس دورے کا خاص مقصد مولانا ثاقب صاحب کی مرتب کردہ کتاب «تذکرہ اکابرین اہل حدیث» کی طباعت تھا۔ اس کتاب میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے قیام 1948ع سے تاحال اس کی مختصر تاریخ اور اس وقت سے موجودہ نظم جماعت تک کے امراء ، ناظمین ، ناظم مالیات کے علاوہ چاروں صوبوں کے امراء اور ناظمین کا بالتفصیل سوانح تذکرہ ان کی خدمات اور کاوشوں کا احوال مرقوم ہے۔

یکم فروری کا جمعہ مولانا عبد الرحمٰن ثاقب کی اقتداء میں مارچ بازار سکھر میں پڑھا اسی شام کو ٹرین سے لاہور کو روانہ ہوئے ۔اتوار کو جامعہ اسلامیہ لاہور کے بیت العتیق مرکز میں ایک ورکشاپ تھی اس میں شرکت کی جہاں مشایخ عظام ، ذی وقار علماء کرام اور دیگر اساتذہ و احباب سے ملاقات اور شرف باریابی ہوئی ۔مثلا مولانا عبد الرحمٰن مدنی حفظہ اللّٰہ ، مولانا حافظ محمد صلاح الدین یوسف رحمہ اللّٰہ (وفات: 12 جولائی 2020ع ) علامہ ابتسام الہٰی ظہیر حفظہ اللّٰہ ، ڈاکٹر مولانا حسن مدنی حفظہ اللّٰہ ، ڈاکٹر مولانا حافظ حمزہ مدنی حفظہ اللّٰہ ، پروفیسر مولانا سعید مجتبیٰ سعیدی حفظہ اللّٰہ، ڈاکٹر نصیر احمد اختر صاحب حفظہ اللّٰہ ، مولانا شفیق الرحمن فرخ رحمہ اللّٰہ (وفات:9 فروری 2023ع ) وغیرھم ۔

کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں زیادہ تر لاہور میں ہی قیام پذیر رہے تھے۔تاہم اس سفر میں ایک دن گوجرانولہ بھی گئے تھے ۔ جہاں مولانا عارف جاوید محمدی حفظہ اللّٰہ نزیل کویت ، مولانا حافظ محمد شاھد رفیق صاحب حفظہ اللّٰہ ، مولانا محمد ابرار ظہیر حفظہ اللّٰہ ، جناب ضیاء اللّٰه کھوکھر صاحب سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ایک دن ڈاکٹر مولانا عبدالغفور راشد صاحب کے فرزند ارجمند ہمارے مہربان دوست اور اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کے فعال کارکن جناب محمد عثمان راشد صاحب حفظہ اللّٰہ کی دعوت پر ان کے دولت کدہ پر حاضری دی غالباً ناشتہ ان کی طرف سے تھا ۔ناشتہ کے بعد جناب عثمان راشد کی گاڑی میں ہم اپنے ممدوح مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ سے شرفِ باریابی اور ملاقات کے لیے ان کے مرکز «مرکز الحسن» سبزہ زارا آئے۔ جامعہ کے گیٹ سے اندر داخل ہوئے وہاں موجود چوکیدار سے مولانا مبشر کے متعلق معلوم کیا تو اس نے جواباً کہا کہ مبشر صاحب مرکز میں موجود نہیں ہیں ۔ دفتر کے گیٹ پر ان کے بڑے بیٹے مولانا حسن مبشر ربانی صاحب حفظہ اللّٰہ سے کھڑے کھڑے ملاقات ہوئی۔ آپ بڑے خندہ رو ، خندہ دل و اخلاق سے ملے، دفتر میں بیٹھنے اور خدمت کا موقع دینے کی گذارش کی ۔لیکن مولانا مبشر احمد نہیں تھےتو ہم نے بھی واپسی کی اجازت مانگی۔ صبح کا وقت تھا مرکز میں تدریسی عمل جاری تھا اساتذہ کرام اور طلبہ عظام اپنی اپنی کلاسوں میں تھے۔یہ دوسری مرتبہ ایسا ہوا کہ مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ سے بالمشافہ ملاقات وغیرہ نہیں ہوئی ۔جس کا زندگی بھر افسوس رہا۔

مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ اس کے علاوہ کئی مرتبہ اندرون سندھ اور کراچی تشریف لائے تھے ۔

ایک مرتبہ مولانا ربانی کراچی تشریف لائے غالباً 2002ع کے ابتدائی ماہ میں تو فضیلة الشیخ الاستاذ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللّٰہ (امیر جمعیت اہل حدیث سندھ) کی طرف سے ان کے اور ان کے علاوہ دیگر اہل علم اور علماء کرام اور طلبہ کے اعزاز میں سپرہائی وے کراچی پر مشہور ہوٹل بندو خان پر پُر تکلف عشائیہ کا پروگرام رکھا گیا۔ اس موقع ان مشائخ عظام اور ذی وقار علماء کرام کی بہت علمی و تحقیقی اور فکری نشست رہی ۔جس میں حدیث ، رواۃ حدیث ، سنَد حدیث اور اجازہ بالروایہ کے علاوہ دیگر علمی مسائل پر گفتگو رہی ۔ شیخ محترم علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللّٰہ نے دوران مجلس ارشاد فرمایا کہ ہم اہل سندھ کو ایک یہ اعزاز اور امتیاز حاصل ہے کہ اس وقت ہمارے پاس حدیث کی ایسی سنَد اور اجازہ بالروایہ ہے جو آپ اہل پنجاب کے پاس نہیں ہے ۔وہ سنَد موجودہ اور اس وقت کے لحاظ سے عالی سنَد ہے۔کیونکہ برصغیر پاک و ہند میں جتنے بھی شیوخ الحدیث ، علماء الحدیث اور علماء اہل حدیث کے پاس جو سلسلہ سند ہے وہ شیخ الکل فی الکل ، محدث اعظم ،استاذ الاستاذہ علامہ میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللّٰہ (وفات:1902ع) کے واسطہ سے ہے۔

ہماری اس سنَد میں ہمارے اور میاں صاحب رحمہ اللّٰہ کے درمیان صرف ایک واسطہ ہے۔

وہ ہے ہمارے استاذ مولانا محمد حیات لاشاری ( مولانا محمد حیات لاشاری نے 135سال کی عمر میں 10اپریل 2006ع حیدرآباد میں وفات پائی) جنہیں میاں صاحب سے اجازت عامہ حاصل ہے۔

مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ اور دیگر اہل علم اور علماء کرام کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی اور اس سنَد عالی کے حصول کا اشتیاق ہوا۔

غالباً اس کے دو سال بعد اپریل 2003ع میں مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ ، مولانا عبد الرحمٰن ضیاء صاحب حفظہ اللّٰہ استاذ جامعہ امام ابن تیمیہ لاہور اور پنجاب کے چند اور اہل علم علماء کرام نے اس سنَد کے حصول کے لیے لاہور سے رخت سفر اختیار کیا۔ خاص مولانا محمد حیات لاشاری سے بالمشافہ ملاقات اور ان سے اجازہ بالروایہ حاصل کرنے کے لیے سفر کیا ۔ کتنا یہ عالی اور بابرکت سفر تھا جو محض حدیث ، سند حدیث اور اہل علم سے ملاقات کی نیت سے کیا گیا تھا ۔یہ قافلہ پہلے حیدرآباد پہنچا وہاں مدرسہ تعلیم القرآن والحدیث گھمن آباد میں مولانا محمد حیات لاشاری کے متعلق معلوم کیا ۔تو انہیں بتایا گیا کہ موصوف اپنے آبائی علاقہ/گاؤں جیکب آباد گئے ہوئے ہیں۔

تو مولانا مبشر احمد ربانی اپنے شوق و ذوق کی خاطر شیخ محمد حیات سے ملنے کے لیے ان کے علاقے میں گئے ۔وہاں جاکر معلوم ہوا کہ مولانا لاشاری صاحب شاہ صاحب بدیع الدین راشدی رحمہ اللّٰہ کے ہاں سعید آباد گئے ہوئے ہیں ۔

مولانا مبشر احمد ربانی وہاں سے سعید آباد تشریف لائے اور آکر مولانا محمد حیات لاشاری سے بالمشافہ ملاقات کی اور اپنے آنے کا مدعیٰ بیان کیا۔

اس طرح مولانا مبشر احمد ربانی اپنے شوق ، ذوق اور جستجو میں کامیاب ہوئے اور شیخ محترم سے سنَد حدیث اور اجازہ بالروایہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس سنَد اور اجازہ بالروایہ پر تاریخ تقویم 11 صفر 1424ھ مرقوم ہے۔ یہ بات خود مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ نے اپنے ایک درس میں بیان کی ہے ۔

اسی طرح ستمبر 2017ع کے آخری عشرے

میں مولانا مبشر صاحب رحمہ اللّٰہ جماعت الدعوہ کے مسؤلین کے ہمراہ اندرون سندھ تشریف لائے تھے ۔اس موقع پر آپ نے بدین اور تھرپارکر کا بھی دورہ کیا تھا ۔ اس دورے میں آپ سے تھرپارکر کے علماء کرام نے خصوصی طور ملاقات کی۔ جن میں مولانا محمد حسن سموں (امیر مرکزیہ ضلع تھرپارکر) ، مولانا عبدالرحیم سموں استاذ و شیخ الحدیث مدرسہ دارالعلوم السلفیہ نوکوٹ تھرپارکر ، مولانا محمد اسماعیل سموں ، مولانا عبد الواحد توحیدی وغیرہ تھے ۔

ان علماء سے خوب ملاقات کی ان کی دعوتی ، تدریسی خدمات و امور وغیرہ پر گفتگو کی ۔ خصوصاً حضرت الاستاذ شیخ العرب والعجم علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللّٰہ (وفات: فروری 1997ع)

کی دینی ، دعوتی و تبلیغی خدمات کا اعتراف کرتے رہے ۔

مصر کے مشہور ادیب اور رائٹر جناب منفلوطی اپنے ایک مضمون کے ابتداء میں لکھتے ہیں کہ

«ما أكثر أيام الحياة وما أقلها»

یعنی زندگی کے دن کتنے زیادہ ہیں اور حقیقت میں یہ کتنے ہی قلیل ہیں ۔

حضرت الاستاذ مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ کی وفات اور جدائی نے اس حقیقت اور فقر ے کا مفہوم سمجھا دیا ہے ۔واقعۃً اب محسوس ہوتا ہے کہ یہ زندگی کے دن اور اس کے گذرے ہوئے لمحات گویا پلک جھپکنے میں گذر گئے ۔

اے کاش انہیں مستقل اور دیرپا بنایا جاسکتا ۔دنیا سے آخرت کا سفر دوچار گام ہی تو ہے اور اس کا فاصلہ پلک جھپکنے میں طے ہوجاتا ہے ۔ان کے کردار ، خدمات اور کاوشوں کا احوال اور بیان میرے قلم کا محتاج نہیں ہے ۔مولانا ربانی رحمہ اللّٰہ ایک چلتا پھرتا ادارہ تھے جوکہ عالم دنیا سے عالم برزخ کی طرف منتقل ہوا ۔ان کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ۔مزاج میں سادگی ، طبیعت میں جرأت اظہار قدرت کی طرف سے ودیعت تھی ، علم میں پختگی ، فقہی مذاہب و مسالک میں وثوق اور گہرائی ، علم حدیث ، اصول حدیث ، درایت حدیث ، رجال حدیث پر کمال کا استحضار ، فن مناظرہ کے خوب شہسوار تھے ۔آپ کا علمی اور تدریسی خدمات کا دائرہ وسیع تھا ۔

مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال علمی ، دینی و جماعتی حلقوں کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں ہے ۔شیخ محترم کی ناسازی طبع کے باوجود ان کی شخصیت ہمہ جہت ، خوش طبع و جذبہ ، علمی و دینی ، تدریسی اور دعوتی و تبلیغی امور میں ہمہ گیری دلچسپی آج کے شاہینِ صفت نوجوان علماء، مدرسین اور خطباء کے لیے قابلِ رفت عمل اور نمونہ تھی ۔

«رفتید ولے نہ از دل و جان ما»

مولانا مبشر رحمہ اللّٰہ کی ناگہانی وفات کے موقع پر امام وقت اور محدث حسن بصری رحمہ اللّٰہ کا قول کیا خوب ہے کہ

«موت العالم ثُلمة فى الاسلام لا سيده‍ا شئ مااختلف الليل و النهار»(مقدمة سنن الدارمى:333)

یعنی ایک عالم کی موت اسلام میں ایسا شگاف ہے جسے رھتی دنیا تک بھرا نہیں جاسکتا ۔

مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ سے ملاقاتیں ، یادیں ، مختصر رہیں لیکن ان کی باتیں ، ان کی یادیں اور ان کی صحبت میں گذرے ہوئے لمحات دیر پا رہیں گی ۔

مولانا مبشر احمد ربانی رحمہ اللّٰہ اخیر عمر میں مختلف عوارض میں مبتلا تھے۔انہیں شوگر ، بلڈ پریشر کے علاوہ ان پر دو تین مرتبہ فالج کا حملہ ہوا تھا ۔اس کے باوجود اپنی علمی ، دینی اور تدریسی عمل کو جاری رکھا ہوا تھا ۔ 4مئی بروز ہفتہ کو حسب معمول اپنے ادارے مرکز الحسن تشریف لائے تھے ۔اور ان پر شدید دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا ۔(انا لله وانا الیه راجعون) آپ کی وفات کی خبر آناً فاناً پورے ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی ۔ دوسرے دن اتوار کی صبح کو استاذ الاساتذہ و شیخ الحدیث مولانا حافظ مسعود عالم حفظہ اللّٰه نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں علماء کرام، شیوخ الحدیث ، اساتذہ ، طلبہ کے علاوہ ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کی تعداد میں افراد شریک ہوئے ۔نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مولانا مبشر احمد ربانی کو قریبی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا ۔

اب نہ دنیا میں آئینگے یہ لوگ ،

کہیں ڈھونڈ نہ پاؤگے یہ لوگ ۔

اللّٰہ تعالی کے حضور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات اور کاوشوں کو قبول فرمائے ، ان کے درجات بلند فرمائے ، ان کی بشری سے لغزشوں سے درگزر کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

اللھم اغفر له وارحمه وادخله الجنة الفردوس  الأعلى۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *