Categories: جنوری2009

آئیے حد یث رسول ﷺ پڑھیں

’’طلاق کی مذمت ‘‘

حدیث نمبر : 39-38

(38)۔عَنْ ثَوْبَانَ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ أَیُّمَا امْرَأَۃٌ سَأَلَتْ زَوْجَہَا الطَّلاَقَ فِیْ غَیْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَیْہَا رَائِحَۃُ الْجَنَّۃِ‘‘

تخریج : سنن ابن ماجہ ، کتاب الطلاق ، باب کراہیۃ الخلع للمرأۃ ، حدیث نمبر ۲۰۵۵، مسند امام احمد ۵/۲۷۷

راوی کا تعارف : ثوبان بن بجدد            

کنیت: ابو عبد اللہ / ابو عبد الرحمن                        

لقب: الھاشمی

رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے ، آپ ﷺ نے انہیں اختیار دیا کہ اگر اپنے رشتہ داروں کے پاس جانا چاہوتوجاسکتے ہو میرے پاس رہنا چاہو تو میں تمہیں اپنا سمجھونگا چنانچہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے پاس رہنا پسند کیا اور سفر وحضر میں آپ ﷺ کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتے تھے۔

 وفات : ۵۴ھ؁  

مرویات:۱۲۷

معانی الکلمات:

أَیُّمَا:جوکوئی Whoever       

ا مْرَأَۃٌ: عورت Women       

سَأَلَتْ: اس نے مانگاdemanded        

فِی : میں In

زَوْجَہاَ: اس کا شوہرHer Husband                     

الطَّلاَقَ:طلاقDivorce          

غَیْرِ بَأْسٍ:بغیر ضروت کے   out any reason With

فَحَرَامٌ:پس حرام So banned               

عَلَیْہَا : اس پر upon her      

رَائِحَۃ :خوشبوSmell              

الْجَنَّۃِ :جنتParadis

ترجمہ: حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے اپنے شوہر سے بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔

(39)۔عَنْ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہما اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ أَبْغَضُ الْحَلاَلِ إِلیَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ الطَّلاَقُ‘‘

تخریج : سنن ابی داؤد ، کتاب الطلاق ، باب فی کراہیۃ الطلاق، حدیث نمبر ۲۱۸۷

روای کا تعارف : حدیث نمبر 5 کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں۔

 أَبْغَضُ: مکروہ ، ناپسندیدہ Hated/un Wanted                

الْحَلاَلِ :حلال ، جائز Permitted                         

إِلیَ اللّٰہِ :اللہ کے نزدیک To Allah

تشریح :

دین اسلام صلح وآشتی ، اتفاق واتحاد ، قرب ویگانگت ، صبر وحوصلہ ،برداشت ووسعت قلبی کا درس دیتاہے چنانچہ ان صفات پر قدغن لگانے والے تصرفات نہ صرف کہ ناپسندیدہ ہیں بلکہ بعض صورتوں میں سخت گناہ کا درجہ رکھتے ہیں۔

میاں بیوی کا رشتہ انتہائی محبوب رشتہ ہوتا ہے چنانچہ شوہر اور بیوی دونوں کو الگ الگ احکام وآداب سکھائے ایک دوسرے سے آخری حد تک محبت وخلوص کا درس دیا ، کوتاہیوں سے صرف نظر کرتے رہنے کی نصیحت کی ، تاہم ایک دوسرے کی وجہ سے بڑے جرم وگناہ میں مبتلا ہونے کا خدشہ لاحق ہونے پر علیحدگی کی اجازت بھی دی ہے چنانچہ ایسی معقول وجہ کے بغیر طلاق دینے والے (شوہر) اور طلاق طلب کرنیوالی (بیوی) کیلئے وعید سنائی گئی ہے کیونکہ یہ اقدام اسلام کی بہت ساری تعلیمات کے منافی ہے۔

ڈاکٹر عبدالحی المدنی

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago