Categories: جنوری2009

سوچنے کی باتیں

قارئین کرام ! دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کے پاس اللہ کا کلام بالکل محفوظ تمام تحریفات سے پاک انہی الفاظ میں موجود ہے جن الفاظ میں وہ اللہ کے رسول برحق ﷺ پر اترا تھا اور دنیا میں اس وقت مسلمان ہی وہ بدقسمت لوگ ہیں جو اپنے پاس اللہ کا کلام بھی رکھتے ہیں اور پھر بھی اس کی برکتوں اور بے حد وحساب نعمتوں سے محروم ہیں بلکہ صرف محروم ہی نہیںاللہ کے غضب کا بھی شکار ہیں اور رب کی طرف سے مختلف قسم کی ابتلائیں مسلمانوں پر آرہی ہیں اور ساتھ ساتھ کفار  بھی ہم پر غالب ہورہے ہیں اور جابر حکمرانوں کو بھی مسلط کردیا اور یہ جو اللہ کا کلام ہے’’قرآن‘‘ ان مسلمانوں کے پاس اس لیے بھیجا گیا تھا کہ اس کو پڑھیں سمجھیں ۔ اس کے مطابق عمل کریں اور اس کو لے کررب کی زمین پر رب کا نظام نافذ کریںوہ ان کو عزت طاقت بخشنے آیا تھا وہ انہیں زمین پر اللہ کا اصلی خلیفہ بنانے آیا تھا اور تاریخ شاہدہے جس نے بھی اس کی ہدایت کے مطابق عمل کیاتو اس قرآن نے ان کو دنیا کا امام اور پیشوابنادیا اب ان مسلمانوں کے ہاں اس کا مصرف اس کے سوا کچھ نہیں رہا کہ گھر میں اسے رکھ کر جن بھوت بھگائیں اور اس کی آیتوں کو لکھ کر گلے میں لٹکائیں یا اس کو گھول گھول کر پئیں اور اس سے بڑھ کر اگر اللہ کا خوف دل میں آیا تو اٹھا کربغیر سمجھے بوجھے محض برکت حاصل کرنے کیلئے پڑھ لیں یا ایصال ثواب کیلئے اس کو استعمال کیا جائے۔سوچئے! کہ اس سے بڑھ کر آج ہم نے اللہ کے کلا م کیساتھ کیا سلوک کیا میں مانتاہوں کہ قرآن کے پڑھنے سے ثواب ملتاہے میں مانتاہوں قرآن میں شفا ہے لیکن کس طرح گھول کر پینے سے یا گلے میں لٹکانے سے نہیں ہرگز نہیں ۔ افسوس صدا افسوس کہ آج ہم نے قرآن کی برکت لینے کیلئے طرح طرح کے طریقے اختیار کرلیے لیکن اس سے اپنی زندگی کے ممعاملات میں ہدایت نہیں مانگتے اس سے نہیں پوچھتے کہ ہمارئے عقائد کیا ہونے چاہیے، ہم لین دین کس طرح کریں، دوستی اور دشمنی میں کس قانون کی پابندی کریں اللہ کے بندوں کے اور خود اپنے نفس کے حقوق ہم پر کیا ہیں؟ اور انہیں ہم کس طرح اداکریں؟ ہمارے لیے حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ؟ ہمیں اطاعت کس کی کرنی چاہیے اور نافرمانی کس کی ؟ تعلق کس سے رکھنا چاہیے اور کس سے نہ رکھنا چاہیے؟ ہمارا دوست کون ہے اور دشمن کون؟ ہمارے لیے عزت اور فلاح اور نفع کس چیز میں ہے اور ذلت اور نامرادی اور نقصان کس چیز میں ہے ؟ یہ ساری باتیں مسلمانوں نے قرآن سے پوچھنی چھوڑ دی ہیں ۔اب یہ کافروں اور مشرکوں سے گمراہ اور خودغرض لوگوں سے اور خوداپنے نفس کے شیطان سے ان باتوں کو پوچھتے ہیں ۔اس لیے رب کو چھوڑ کر دوسروں کے حکم پر چلنے کا جو انجام ہونا چاہیے وہی ہمارا ہوا اور اسی انجام کو آج کے مسلمان پوری دنیا میں بھگت رہے ہیں ۔قرآن تو خیر کا سرچشمہ ہے جتنی اور جیسی چیز تم اس سے مانگو گے یہ تمہیں دے گا ۔ اس سے محض جن بھوت بھگانا اور کھانسی بخار کا علاج اور حصول ثواب اور ایسی ہی چھوٹی ذلیل اور بے حقیقت چیزیں مانگتے ہیں تو یہی ہمیں ملیں گی اگر دنیا کی بادشاہت اور روئے زمین کی حکومت مانگوگے تو وہ بھی ملے گی اگر عرش الہی کے قریب پہنچنا چاہو تو یہ تمہیں وہاں بھی پہنچا دے گا یہ تمہارے اپنے ہی ظرف کی بات ہے کہ سمندر سے پانی کی دوبوندیں مانگتے ہو ورنہ سمندر تو دریا بخشنے کیلئے تیار ہے۔

admin

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

5 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago