Categories: جنوری2009

اسلامی سال کی ابتدا ء واقعہ ہجرت سے کیوں ؟

واقعہ ہجرت کی عظمت

آج جبکہ محرم کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور پچھلا اسلامی سال اختتام پذیر ہو گیا ہے لیکن ہزاروں لاکھوں مسلمانوں میں سے شاید ایک شخص بھی ایسا نہ ہو گا جس نے غور کیا ہو گا کہ اس سالانہ اختتام وآغاز میں تاریخ عالم کے کیسے عظیم اور انقلاب انگیز واقعہ کی یاد پوشیدہ ہے ۔ وہ عظیم واقعہ جس کی یاد آوری سے بڑھ کرتاریخ کے کسی بھی واقعے میں ہمارے لئے ہجرت کی عظمت وموعظت کی سرچشمگی نہ تھی ۔ مگر اس واقعے سے بڑھ کر تاریخ اسلام کا کوئی بھی واقعہ ہمارے دل کی اثر پذیریوں سے محو نہیں ہو گا۔

فتح مندی کا بیج:

تاریخ عالم اسلامی کا یہ عظیم واقعہ جس کی یادسال کے اختتام میں پوشیدہ ہے ۔ہجرت نبوی کا واقعہ ہے کیونکہ پہلی محرم سے اسلام کا نیا سال شروع ہو جا تا ہے  اور اس کی بنیا د واقعہ ہجرت پر رکھی گئی ہے ہر سال جب ۳۰ذوالحجہ کا دن ختم ہوتا ہے اور پہلی محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو اس عظیم واقعہ کی یاد ہمارے دلوں میں تازہ کر دینا چاہتا ہے ۔ یہ فی الحقیقت اس واقعہ کی ایک جاری و قائم یادگار ہے۔یہ دنیا کی تمام قوموں کی یاد گاروں کیطرح قوت کی کامرانیوں کی یاد گار نہیں ہے ،بلکہ کمزوری کی فتح بندیوں کی یاد گار ہے۔ یہ اسباب ومسائل کی فراوانیوں کی یادگار نہیں بے سروسامانیوں کی یاد گار ہے ۔یہ حکومت وطاقت کے جاہ وجلال کی یاد گار نہیں ،محکومی وبے چارگی کے استقبال کی یادگار ہے ۔یہ فتح مکہ کی یاد گار نہیں جسے دس ہزار تلواروں کی چمک نے فتح کیا تھا ، یہ فتح مدینہ کی یاد گار ہے جسے تلواروں کی چمک نے نہیں بلکہ ایک  بے سروسامان انسان کی روحِ ’’ہجرت ‘‘ نے فتح کیا تھا۔

ہم نے بدر کی جنگی فتح اور مکہ کے مسلح داخلہ کی شان وشوکت ہمیشہ یاد رکھی ہے ،لیکن ہم نے مدینہ کی بے ہتھیار فتح فراموش کردی ۔ حالانکہ تاریخ اسلام کی آنے والی ساری فتح مندیاں اسی پوشیدہ اور اولین فتح میں ایک بیج کی طرح پوشیدہ تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب ظاہری فتح مندیوں کے اعلان کا وقت آیا تو اس وقت معنوی فتح مندی کی یاد لوگوں کو دلائی گئی تھی۔

{ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہِ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَافَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہُ وَاَیَّدَہُ بِجُنُوْدٍلَّمْ تَرَوْہَا وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا السُّفْلیٰ ، وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا}(توبہ:۴۰)

ترجمہ: دو میں دوسرا (رسول اللہ ﷺ)تھے اور دونوں غار میں چھپے بیٹھے تھے، اس وقت اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے اپنے ساتھی سے کہا : غمگین نہ ہو یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے ، پس اللہ نے اپنا سکون و قرار نازل کیا ، پھر ایسی فوجوں سے مددگاری کی جنہیں تم نہیں دیکھ سکتے اور با لآخر کافروں کی بات پست کی اور اللہ ہی کی بات ہے جس کیلئے سربلندی ہے۔

ہجری سال کی ابتداء:

اسلام کے ظہور سے پہلے دنیا کی متمدن قوموں میں متعدد سال جاری تھے ،زیادہ مشہور یہودی ،رومی ،اور ایرانی سنین تھے ۔ عرب جاہلیت کی اندرونی زندگی اس قدر متمدن نہیں تھی کہ حساب وکتاب کی کسی وسیع پیمانے پر ضرورت ہوتی ۔ اوقات ومواسم کی حفاظت اور یاداشت کے لئے ملک کا کوئی مشہور واقعہ لے لیتے اور اس وقت کا حساب لگا لیتے ، من جملہ سنین جاہلیت کے عام الفیل تھا ، یعنی شاہ حبش (ابرہہ )کے حجاز پر حملہ کرنے کا سال ، عرصہ تک یہی واقعہ عرب کے حساب وکتاب میں بطور سنہ مستعمل رہا۔

ظہوراسلام کے بعد یہ اہمیت خود عہد اسلام کے واقعات نے لے لی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قاعدہ تھا کہ عہد اسلام سے پہلے کا کوئی واقعہ لے لیتے او ر اسی سے حساب لگاتے ،ہجرت مدینہ کے بعد ہی سورۃ الحج کی وہ آیت نازل ہوئی جس میں قتال کی اجازت دی گئی ۔

{اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا }

اس لئے کچھ دنوں تک یہی واقعہ بطورسنہ مستعمل رہا ۔لوگ اسے ’’اذن کا سال ‘‘ سے تعبیر کرتے اور یہ تعبیر وقت کے ایک خاص عددکیطرح یاداشت میں کام دیتی۔ اسی طرح سورۃ براء ۃ کے بعد بول چال میں ’’ براء ت کے سال ‘‘ کا رواج بھی رہا۔ عہد نبوی کے آغاز کا سال ’’وداع کاسال ‘‘رہا ، یعنی آنحضرت ﷺ کے آخری حج کا واقعہ جو حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہو گیا تھا اور ہجرت نبوی ﷺ کے دسویں سال پیش آیا تھا۔

بعض روایات سے اس طرح کے متعدد سالوں کا پتہ چلتا ہے ، مثلاً : سنۃ المحیص ،سنۃ الزلزال ، سنۃ الاستیناس ۔ بیرونی کے آثار الباقیہ میں اس طرح کے دس سالوں کا ذکر موجود ہے۔  آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد کچھ عرصہ تک یہی حالت جاری رہی ، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا عہد شروع ہوا تو ممالک مفتوحہ کی وسعت اور دفاترِ حکومت کے قیام سے حساب وکتاب کے معاملات زیادہ وسیع ہوئے اور ضرورت پیش آئی کہ سرکاری طور پر کوئی ایک سال قرار دے دیا جائے ، چنانچہ اس معاملہ پر غور کیا گیا اور ہجری سال کا تقرر عمل میں آیا ، اس وقت واقعہ ہجرت پر سولہ برس گزر چکے تھے ۔

احساس ضرورت اور مشورہ:

ہجری سال کا تقرر عمل میں آیا تو کیوں ؟

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذہن اس طرف گیا کہ اسلامی سال کی ابتداء واقعہ ء ہجرت سے کی جائے ،یہ تاریخ اسلام کا ایک ضروری اور نتیجہ خیز مبحث تھا ، لیکن افسوس کہ اس وقت نظرو فکر سے محروم رہا ۔

اس بارے میں متعدد روایتیں منقول ہیں سب سے زیادہ مشہور روایت میمون بن مہران کی ہے جسے تمام مؤرخین نے ذکر کیا ہے ۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ :

ایک مرتبہ ایک کاغذ حضرت عمررضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا جس میں شعبا ن کا مہینہ درج تھا ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے کہا شعبان سے کونسا شعبان مقصود ہے ،اس برس کا یا آئندہ برس کا؟ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے سر برآوردہ اصحاب کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ اب حکومت کے مالی وسائل بہت زیادہ ہوگئے ہیں اور جو کچھ ہم تقسیم کرتے ہیں وہ ایک ہی وقت میں ختم نہیں ہو جاتا ، لہذا ضروری ہے کہ حساب وکتاب کیلئے کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ اوقات ٹھیک طور سے منضبط ہو سکیں۔ اس پر لوگوں نے کہا : ایرانیوں سے مشورہ کرنا چاہئے کہ ان کے یہاں اس کے کیا طریقے تھے ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان کو بلایا اس نے کہا ہمارے یہاں حساب موجود ہے جسے ماہ روز کہتے ہیں ۔ اسی ماہ روز کو عربی میں ’’مؤرخہ ‘‘ کہتے ہیں ،پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کی تاریخ کے لئے جو سال اختیار کیا جائے اس کی ابتداء کب اور کیسے ہو؟ سب نے اتفاق کیا کہ ہجرت کے برس سے کیا جائے اس وجہ سے یہ ہجری سال قرار پایا ۔ کیونکہ یہی وہ سال ہے جس سے فتح اسلام کا حقیقی آغاز ہوتا ہے۔

admin

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago