Categories: جنوری2009

نشہ آور اشیاء کا استعمال شریعت اسلامیہ کی روشنی میں

دین اسلام میں طہارتِ جسمانی وروحانی کا جتنا اہتمام ہے اور اس کے بارے میں جتنے بھی احکامات موجود ہیں اور اس کے جتنے بھی فضائل ومناقب وارد ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا کہ دین اسلام جس طرح طاہر وطیب مذہب ہے اسی طرح مسلمانوں کو بھی ہر قسم کی ذہنی وجسمانی نجاستوں سے پاک وصاف دیکھنا چاہتاہے۔

فرمان الٰہی ہے:

{اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ} (البقرۃ:۲۲۲)

’’بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک وصاف رہنے والوں سے محبت کرتاہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں ہر دو قسم کی طہارت کا بیان ہے۔ شرک اور گناہ انسان کی روح اور دل ودماغ کو ناپاک کردیتے ہیں ، جن سے طہارت کیلئے توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے۔ اور جسمانی ناپاکیوں سے اپنے آپ کو صاف کرنا، اللہ رب العالمین کی محبت کے حصول کیلئے نہایت ضروری ہے۔ غسل ، وضو، تیمم اور مسواک کرنے سے انسان جسمانی غلاظتوں سے پاک اور صاف ہوجاتاہے ، پھر جب وہ نماز کیلئے کھڑا ہوتاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا نہ صرف محبوب ہوتاہے ، بلکہ مقرب بھی ہوتاہے۔ جبکہ نشہ آور اور حرام چیزوں کا استعمال انسان کو نہ صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت ومحبت سے دور کردیتاہے بلکہ اسے اللہ رب العالمین کے غضب اور غصہ کا حقدار بھی بنادیتاہے۔ سب سے پہلے اسلام میں کسی بھی چیز کے حلال یا حرام ہونے کے معیار کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

{یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَہُمْ قُلْ اُحِلَّ لَہُمُ الطَّیِّبَاتُ} (المائدہ:۴)

’’وہ آپ ﷺ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کیلئے کونسی چیزیں حلال ہیں ؟ فرما دیجئے کہ ہر پاکیزہ چیز اللہ تعالیٰ نے حلال کردی ہے۔‘‘

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کوواضح کیا ہے کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی چیزیں حلال کی ہیں وہ سب کی سب پاکیزہ ہیں ، اس کے مقابلہ میں ہر ناپاک اور گندی چیز حرام کردی گئی ہے۔ فرمان الٰہی ہے۔

{وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبَاتُ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبَائِثَ}(الاعراف:۱۵۷)

’’اور ہر پاکیزہ چیز حلال اور خبیث چیز حرام کردی گئی ہے‘‘

ہر مسلمان کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے زیر استعمال ہرچیز کو قرآن کے اس اصول کے میزان پر پرکھے کہ وہ جو چیز بھی کھا رہا ہے پاکیزہ ہے یا خبیث ، اگر پاکیزہ ہے تو حلال ہے اگر خبیث یا گندی ہے تو حرام ہے۔ ہمارے معاشرے میں عام ہونے والی ایسی بے شمار چیزیں ہیں، جس کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں ہم شکوک وشبہات کاشکار ہیں۔ مثلاً: آج کے دور میں نشہ کرنے کیلئے ایسی ایسی چیزیں وجود میں آچکی ہیںجن کا پہلے ادوار میں کوئی وجود نہ تھا اور جن کے بارے میں شریعت اسلامیہ میں بظاہر کوئی واضح حکم موجود نہیں ہے۔ جن میں چرس،افیم، بھنگ، صمد بونڈ، گلو، سگریٹ، گٹکا، تمباکو، مین پوری ، سٹی، چھالیا اور اس طرح کی دیگر چیزیں جو ہر انسان کو بلاواسطہ یا بالواسطہ نشہ کی کیفیت میں مبتلا کردیتی ہیں، اسے اپنا عادی بنا لیتی ہیں یا اس کی صحت کیلئے کسی بھی طرح سے نقصان دہ ہیں۔

اس بارے میں ، میں قرآن وحدیث کی روشنی میں اصولی مسائل تحریر کرنا زیادہ بہتر سمجھتاہوں ، تاکہ اس بارے میں شریعتِ اسلامیہ کا نقطہ نظر واضح طور پر ہمارے سامنے آسکے۔ بلاشبہ دین اسلام ایک مکمل واکمل دین ہے، اس نے اپنے ماننے والوں کو کسی بھی حوالے سے تشنہ لب نہیں چھوڑا۔ آئیے دیکھتے ہیں اس معاملہ میں شریعت ہماری کیا راہنمائی کرتی ہے۔

کسی بھی چیز کے نشہ آور ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ انسان کی عقل کو اپنے قبضہ میں لے لے۔ شراب کیلئے قرآن میں ’’خمر‘‘ کا لفظ استعمال ہواہے۔ اسی طرح عربی زبان میں عورت کے ڈوپٹہ کو بھی ’’خمار‘‘ کہتے ہیں۔ اس لے کہ وہ بھی عورت کے سر کو اسی طرح ڈھانپ لیتاہے ، جس طرح شراب انسان کی عقل کو نشے سے ڈھانپ لیتی ہے۔ اور دوسری علامت یہ ہے کہ ایک مرتبہ اس چیز کے استعمال سے پھر اس کی مسلسل عادت پڑجاتی ہے کہ پھر اس کے بغیر انسان کو کسی پل بھی چین وسکون نہیں ملتا اور اس کے نہ ملنے سے اس کی وہی کیفیت ہوجاتی ہے جو شراب کے نہ ملنے سے کسی شرابی کی ہوجاتی ہے، جس کو نشہ ٹوٹنا کہتے ہیں۔ اور ان چیزوں کے استعمال سے انسان کی صحت کا نقصان بھی ہے جس طرح کہ مذکورہ بالااشیاء میں سے ہر ایک کی یہ خاصیت ہے کہ وہ طبی حوالے سے انسانی جسم کے کسی نہ کسی حصہ کیلئے نقصان دہ ضرور ہیں۔ اور ان چیزوں کے استعمال میں کثرت سے مال کا اسراف بھی ہے ، جوکہ سراسر شیطانی عمل ہے۔اور یہ ساری چیزیں سخت کراہیت آمیز بھی ہیں۔

پہلااصول: نشہ کی کیفیت کا پیدا ہونا اور اس کا عادی بن جانا

شریعت اسلامیہ نے قیامت تک ایجاد ہونے والی ہر نشہ آور چیز کو شراب کے حکم میں شمار کیا ہے اور یہ ایک ایسا اصول ہے کہ جس پر قیامت تک پیدا ہونے والی ہر نشہ آور چیز کو پرکھا جاسکتاہے۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

[کُلُّ مُسْکَرٍ خَمْرٌ وَکُلُّ مُسْکَرٍ حَرَامٌ] (صحیح مسلم، کتاب المشربۃ ، باب بیان ان کل مسکر خمر وان اکل خمر حرام)

’’ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ حرام ہے۔‘‘

مزید فرمایا:

[کُلُّ مُسْکَرٍ خَمْرٌ وَکُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ](صحیح مسلم، تخریج مذکورہ)

’’ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔‘‘

ان احادیث میں ایک ایسا اصول بتایا گیا ہے جو ہمیں مذکورہ بالامشکوک ومشتبہ اشیاء پر شریعت اسلامی کے احکامات نافذ کرنے میں مدددیتاہے ۔ اگر ان اشیاء میں ایسا نشہ ہے جو شراب کی طرح انسانی دماغ کو اپنے ہوش سے بیگانہ کردے اور پھر انسان اس کا محتاج بن کررہ جائے، تو بلاشبہ یہ ساری چیزیں حرام ہیں۔

اس اصول کے ذیل میں ایک اور بھی ہے ، جیساکہ آج ہمارے بعض مسلمان ساتھی یہ بہانہ پیش کرتے ہیںکہ ہم ان چیزوں کو عادتا نہیں بلکہ محض مزاحا ًیا دل لگی کے طور پر یا شوقیہ استعمال کرتے ہیں ۔ تو انہیں مذکورہ بالا اصول کے ذیل میں ایک اور اصول  بھی پڑھ لینا چاہئے ۔ نبی کریم ﷺنے فرمایا:

[مَا اَسْکَرَ کَثِیْرُہُ فَقَلِیْلُہُ حَرَامٌ](ابوداؤد، کتاب الاشربۃ ، باب النہی عن المسکر)

’’جس چیز کی کثرت نشہ دے اس کا قلیل استعمال بھی حرام ہے۔‘‘

دوسرا اصول: صحت کیلئے مہلک ہونا

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:[لاَ ضَرَرَوَلاَ ضِرَارَ] (ابن ماجہ، کتاب الاحکام ، من نبی فی حقہ مایضر یجارہ)

’’نہ کسی کو تکلیف دو اور نہ کسی سے نقصان اٹھاؤ۔‘‘

فرمان الٰہی ہے:

{وَلاَ تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ}(البقرۃ:۱۹۵)

’’اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو۔‘‘

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:’’ جس شخص نے کسی چیز کے ساتھ خودکشی کی تو جہنم کی آگ میں اسے اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا۔‘‘(صحیح بخاری ، کتاب الایمان، باب غلظ تحریم قتل الانسان نفسہ)

اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے یہ فرامین مبارکہ ہمیں یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ ہر وہ کام جس سے کسی نقصان کا اندیشہ ہو،خواہ نقصان اپنی ذات کا ہو یا کسی اور کا ناجائز ہے۔ اور بلاشبہ ہم سب جانتے ہیں کہ ان نشہ آور اشیاء میں ہر طرح سے انسان کیلئے نقصان ہی نقصان ہے۔ اس بارے میں ملکی وعالمی اداروں کی تحقیقاتی رپورٹس کا ضرور مطالعہ کیجئے۔ اس کے نقصانات کی ہلاکت خیزی کی وجہ سے دنیا کی ہر حکومت اپنے ملک میں ان نشہ آور اشیاء پر پابندی کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوچکی ہے۔پھر کیوں نہ ساری کائنات کے مذاہب سے زیادہ پاکیزہ بلکہ دنیا کی ہر مخلوق کیلئے رحمت کا باعث مذہب، اسلام ان چیزوں کو حرام قرار دے۔ بلاشبہ ان چیزوں کا استعمال خودکشی اور اپنے ہاتھوں سے اپنے نفس کو ہلاک کرنے کے زمرہ میں آتاہے ، جوکہ جہنم کے بدترین عذاب کا سبب ہے۔

تیسرا اصول: مال ودولت کا ناجائز استعمال

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{إِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانِ الشَّیٰطِیْنِ وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِرَبِّہِ کَفُوْراً} (بنی اسرائیل:۲۷)

’’ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نافرمان ہے۔‘‘

حرام چیزوں کے استعمال میں کثرت سے مال بھی خرچ ہوتاہے، اگر ہم اپنے مہینے یا سال کے تمام اخراجات کا حساب کریں تو کم وبیش ہزاروں روپے اس مد میں ہم خرچ کرجاتے ہیں ، جوکہ ہمارے مالی خسارے کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا یہ مال ہمارے پاس اس کی امانت ہے، ہم اسے اپنی مرضی سے ہرگز خرچ نہیں کرسکتے۔ اسے صرف اللہ تعالیٰ کیلئے اور اللہ ہی کے بتائے ہوئے راستہ میں خرچ کرنا فرض ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انسان سے اپنے دئیے ہوئے ایک ایک پیسہ کے بارے میں سوال کرے گا۔ فرمان الٰہی ہے:

’’پھر تم سے قیامت کے دن تمام نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘ (التکاثر:۸)

لہذا کیا ان حرام چیزوں میں اللہ کا دیا ہوا مال برباد کرنے والے اس کے سوالوں کے جوابات دے سکیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے اور سا تھ ہی شیطان کی صفت بھی بیان کی ہے کہ وہ اپنے رب کا نافرمان ہے ، لہذا اس کی روش پر چلنے والے بھی اللہ کے نافرمان ہیں اور شیطان سے مشابہت کی وجہ سے ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو شیطان کا ہوگا۔ اس لئے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے شمار کیا جائے گا۔‘‘ (ابوداؤد، کتاب اللباس، باب فی لبس الشہرۃ)

چوتھا اصول: گندگی اور بدبو سے کراہیت کا اظہار

ان چیزوں کے استعمال کی وجہ سے ہر پاکیزہ سیرت وکردار کے حامل انسان کو سخت تکلیف پہنچتی ہے۔ بالخصوص نشہ کے عادی لوگ جب مسجد میں آتے ہیں تو ان کی وجہ سے نمازیوں کو سخت اذیت پہنچتی ہے۔ اور یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ ہم نشہ کرنے کے بعد اپنے والدین یا کسی بزرگ کے سامنے پیش ہونا تو بے ادبی سمجھتے ہیں ، لیکن اللہ عزوجل کے سامنے اسی بدبودار منہ کو لے کر حاضر ہو جاتے ہیں اور اپنی ظاہری وباطنی پاکیزگی کا کچھ بھی خیال نہیں رکھتے ۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے کچا پیاز اور لہسن کھا کر مسجد میں آنے سے منع فرمایا ہے، اس لئے کہ اس سے نمازیوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے۔ اور فرمایا: ’’بے شک فرشتے بھی اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے بنی آدم کو تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب المساجدومواضع الصلٰوۃ، باب نہی من أکل ثوما أو بصلا او کراثا او نحوہا مما لہ)

مسلمان جب نمازکیلئے مسجد میں آئے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ مسواک کے ذریعہ اچھی طرح اپنا منہ صاف کرے ، تاکہ اس سے کسی بھی قسم کی کوئی بدبو ظاہر نہ ہو۔نبی اکرم ﷺ کا فرما ن ہے ’’اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا لازمی حکم دے دیتا۔‘‘ اور فرمایا:’’مسواک منہ کی پاکیزگی اور اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔‘‘ (صحیح بخاری : کتاب الصوم ، باب سواک الرطب والیابس للصائم)

ان دلائل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح دین اسلام طاہر وطیب مذہب ہے اسی طرح اس نے مسلمانوں پر بھی طاہر وطیب چیزیں حلال کی ہیں او خبیث وحرام چیزوں سے انہیں سختی سے رُکنے کا حکم دیاہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی بھی انسان کے صرف وہی اعمال قبول کرتاہے جو طیب ہوتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ طیب (پاکیزہ)ہے اور وہ صرف طیب ہی کو قبول کرتاہے ۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربیتہا )

اعمال کی قبولیت کیلئے حلال کمانا ، حلال کھانا پینا، حلال پہننا اور حرام ومشکوک چیزوں سے مکمل اجتناب کرنا فرض ہے۔ وگرنہ خدشہ ہے کہ ساری زندگی کے نیک اعمال بھی برباد نہ کردیئے جائیں۔ لہذا اپنے آپ کو ، اپنے گھربار کو اور اپنے علاقہ ، شہر اور ملک کو پاک وصاف رکھئے، ہر قسم کی گندگی سے مکمل پرہیز کیجئے اور اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق اپنی زندگی بسر کیجئے۔ اس لئے کہ صرف اسی میں نجات ہے۔ اللہ ہمیں نجات کا راستہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

حافظ سفیان سیف

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago