Categories: فروری 2009

ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور اسلامی تعلیمات

اس دن کے بارے میں سب سے پہلی روایت روم میں عیسائیت سے قبل کے دور میں ملتی ہے جب روم کے بت پرست مشرکین 15فروری کو ایک جشن مناتے جو کہ Feast Of Lupercaoius کے نام سے جا نا جاتا ہے ۔ یہ جشن وہ اپنے دیوی دیوتائوں کے اعزاز میں انہیں خوش کرنے کے لئے مناتے تھے۔ ان دیوتائوں میں Pan (فطرت کا دیوتا)، Februata Juno (عورتوں اور شادی کی دیوی)، اورPastoraigol Lupercalius (رومی دیوتا جسکے کئی دیویوں کے ساتھ عشق ومحبت کے تعلقات تھے) شامل ہیں ۔

اس موقع پر ایک برتن میں تمام نوجوان لڑکیوں کے نام لکھ کر ڈالے جاتے ہیں جس میں سے تمام لڑکے باری باری ایک پرچی اٹھاتے ہیں اور اس طرح لاٹری کے ذریعے منتخب ہونے والی لڑکی اس لڑکے کی ایک دن ایک سال یا تمام عمر کی ساتھی قرار پاتی۔یہ دونوں محبت کے اظہار کے طور پر آپس میں تحفے تحائف کا تبادلہ کرتے اور بعض اوقات شادی بھی کرلیتے تھے۔

اس طرح ویلنٹائن کارڈز پر دکھائے جانے والے  نیم برہنہ اورتیر کمان اٹھائے ہوئے کیو پدر(cupid) کی تصویر بھی ویلنٹائن کی خصوصی علامت ہے اور رومن عقیدے کی رو سے وینس (محبت اور خوبصورتی کی دیوی ) کا بیٹاہے جو کہ لوگوں کو اپنے تیر سے نشانہ لگا کر انہیں محبت میں مبتلا کر دیتا ہے او رجب روم میں عیسائیت منظر عا م پر آئی تو عیسائیوں نے اس جشن کو اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی اس مقصد کیلئے 14فروری کی تاریخ کا انتخاب کیا گیا ، جس دن رومیوں نے ایک عیسائی پادری ویلنٹائن کو سزائے موت دی تھی ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ رومی بادشاہ  Claudius-ll کے عہد میں روم کی سرزمین مسلسل کشت وخون کی وجہ سے جنگوں کا مرکز بنی رہی اور یہ عالم  ہوا کہ ایک وقت میں Claudius کو اپنی فوج کیلئے مردوں کی تعداد بہت کم نظرآئی جسکی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ روم کے نوجوان اپنی بیویوں کو چھوڑ کر پردیس میں لڑنے کیلئے جاناناپسند کرتے تھے۔بادشاہ نے اس کا حل یہ نکالا کہ ایک خاص عرصے کیلئے شادیوں پر پابندی عائد کر دی تاکہ نوجوانوں کو فوج میں آنے کیلئے آمادہ کیا جاسکے ۔ اس موقع پر ایک پادری سینٹ ویلنٹائن نے خفیہ طور پر نوجوانوں کی شادی کروانے کا اہتمام کیا جب اس کا یہ راز فاش ہوا تو بادشاہ (Claudius)کے حکم پر سینٹ ویلنٹائن کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور سزائے موت کا حکم دیاگیا ۔ جیل میں یہ پادری صاحب جیلر کی بیٹی کو دل دے بیٹھے جوکہ ان سے ملنے آیا کرتی تھی لیکن یہ ایک راز تھا کیونکہ عیسائی قوانین کے مطابق پادریوں اور راہبوں کیلئے شادی کرنا یا محبت کرنا ممنوع تھا اس کے باوجود عیسائی ویلنٹائن کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ جب رومی بادشاہ نے اسے پیشکش کی کہ اگر وہ عیسائیت کو چھوڑ کر رومی خداؤں کی عبادت کرے تو اسے معاف کردیا جائے گابادشاہ اسے اپنی قربت دے گا اور اپنی بیٹی سے اس کی شادی کردیگا تو اس نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکار کردیا جس کے نتیجے میں اس رومی جشن سے ایک دن پہلے 14 فروری 270 ء کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے جیلر کی بیٹی کو ایک خط لکھا جس کا خاتمہ For your Valentine  کے الفاظ سے کیا۔ بہت سے ویلنٹائن کارڈز پر لکھے جانے والے Greetings کے الفاظ For your Valentine  اسی واقعہ کی یاد تازہ کرنے کیلئے ہیں۔

ویلنٹائن کے نام سے کم از کم تین مختلف پادری ہیں اور تمام کی موت کا دن 14 فروری ہے ۔ 496ء میں پوپ Gelaslus نے سرکاری طور پر 15 فروری کے فیسٹول Lupercalla کو بدل کر 14فروری کوسینٹ ویلنٹائن ڈے منانے کا اعلان کیا اور لاٹری کے ذریعے لڑکی کے انتخاب کی رومی رسم میں یہ ردوبدل کیاکہ پرچی میں نوجوان لڑکی نام کی بجائے عیسائی پادریوں کے نام لکھے جاتے اور تمام مرد اور عورتیں ایک ایک پرچی اٹھاتے اس کا مقصد یہ تھا کہ ہر مرد وعورت جس عیسائی پادری کے نام کی پرچی اٹھاتااسے اگلے ایک سال تک پادری کے طور طریقوں کو اپنانا ہوتا تھا۔ (ماخوذ انسائیکلو پیڈیا بردٹانیکا ، کیتھولک انسائیکلو پیڈیا)

ویلنٹائن ڈے اور اسلامی تعلیمات

۱۔ ہمیں ایسے تمام تہواروں سے اجتناب کرنا چاہیے جن کا تعلق کسی مشرکانہ یا کافرانہ رسم سے ہو۔ ہرقوم کا اپـنا ایک علیحدہ خوشی کا تہوار ہوتاہے اور اسلام میں مسلمانوں کے خوشی کے تہوار واضح طور پر متعین ہیں۔ اللہ کے رسول  ﷺ نے عید الفطر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ

(اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْداً وَہَذَا عِیْدُنَا ) (صحیح مسلم، کتاب صلاۃ العیدین ، حدیث نمبر :۱۴۷۹)

’’ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔‘‘

۲۔ ویلنٹائن ڈے منانے کامطلب مشرک رومی اور عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے۔ اللہ کے رسول  ﷺ نے ارشاد فرمایا :

(مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ ) (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس ، حدیث نمبر :۳۵۱۲)

’’جوکسی قوم کی مشابہت اختیار کرتاہے وہ انہی میں سے ہے۔‘‘

۳۔موجودہ دور میں ویلنٹائن ڈے منانے کا مقصد ایمان اور کفر کی تمیز کئے بغیر تمام لوگوں کے درمیان محبت قائم کرنا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کفار سے دلی محبت ممنوع ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے :

{لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَائَ ہُمْ أَوْ أَبْنَائَ ہُمْ أَوْ إِخْوَانَہُمْ أَوْ عَشِیرَتَہُمْ }(سورۃ المجادلۃ :۲۲)

’’آپ  ﷺ نہیں دیکھیں گے ان لوگوں کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول  ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوں خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے لوگ ہی ہوں۔‘‘

۴-اس موقع پر نکاح کے بندھن سے قطع نظر ایک آزاد اور رومانوی قسم کی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے جس میں لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ ملاپ تحائف اور کارڈز کا تبادلہ اور غیر اخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بد اخلاقی کی صورت میں نکلتا ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ ہمیں مرد اور عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر کوئی اعتراض نہیں ہے اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عفت مطلوب نہیں اور اپنے نوجوانوں سے پاک دامنی درکار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔

{إِنَّ الَّذِینَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِینَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ}(سورۃ النور : ۱۹)

’’جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلائی جا سکے ان کیلئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے‘‘

۵-نبی اکرم ﷺ نے جو معاشرہ قائم فرمایا اس کی بنیاد حیا پر رکھی جس میں زنا کرنا ہی نہیں بلکہ اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم ہے مگر اب لگتا ہے کہ آپ ﷺ کے امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کیلئے تیار نہیں بلکہ اب وہ حیا کے بجائے وہی کریں گے جو انکا دل چاہے گا ۔

فرمان نبوی ﷺ ہے:۔

(اِذَا لَمْ تَسْتَحْیِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ) (صحیح بخاری ، کتاب الادب ، رقم الحدیث :۵۶۵۵)

’’جب تم حیا نہ کرو تو جو تمہار ا جی چاہے کرو ‘‘ یعنی ایسے حالات میں ہمیں عفت و پاکدامنی کو ہاتھ سے چھوٹنے نہ دینا چاہئے اور اپنی تہذیب و تمدن ، ثقافت وروایات کو اپنا نا چاہیے ۔اغیار کی اندھی تقلید سے باز رہنا چاہئے تاکہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

ڈاکٹر مقبول احمد مکی

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago