Categories: فروری 2009

ماہ صفر میں نحوست …کیا یہ حقیقت ہے؟؟؟

صفر اسلامی سال کادوسر ا مہینہ ہے ، اسلامی سال کے بارہ مہینوں میں سے اکثر کے فضائل قرآن وحدیث میں بیان فرمائے گئے ہیں ، کسی کے کم اور کسی کے زیادہ فضائل نبی اکرم  ﷺ کی زبان مبارک سے اس لیے بیان کیے گئے ہیں تاکہ ایک مسلمان کو زیادہ سے زیادہ اطاعت کے مواقع مل سکیں اور وہ ان سے بھرپور طریقے سے مستفید ہو کر اپنے اعمال صالحہ میں اضافہ کر سکے۔

ایک مسلمان کا یہ پختہ یقین ہونا چاہیے کہ جو اعمال رسو ل اللہ  ﷺ نے بتائے ہیں ان سے افضل کوئی عمل نہیں ہو سکتا ۔ رسو ل اللہ  ﷺ اس جہان فانی سے کوچ کرتے وقت جتنا دین ہمیں دے کر گئے تھے صرف اتنے پر ہی اکتفا کرنے سے ہی انسان جنت کا حقدار ٹھہرایا جاسکتا ہے ۔ یاد رکھئے عقل و خرد کی تمام کوششیں دین کے تابع ہیں دین عقل کے تابع نہیں ہو سکتا ۔مثال کے طور پر اگر کو ئی آدمی یہ کہے کہ اسلام کا یہ اصول میری عقل تسلیم نہیں کرتی تواس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دین میں کوئی نقص ہے بلکہ اس کی ذہنی قوت ادھر جواب دے جاتی ہے اسلام کا بیان کردہ اصول سو فیصد درست ہے ۔ دین کے مکمل ہونے کا ثبوت قرآن کریم میں ان الفاظ میں موجود ہے۔

{الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِینًا}(المائدہ: ۳)

’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا ہے اور تم پر اپنی نعمت مکمل کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو بطوردین پسند کیا ‘‘

دین اسلام میں قدرت نے اتنی لچک رکھی ہے کہ جیسے جیسے زمانہ ترقی کی منازل طے کرتا ہے ویسے ہی اسکی رہنمائی کی زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے اور اس کا دا من رہنمائی بھی پھیلتا چلا جاتا ہے ۔اب اگر کوئی دین سے ہٹ کر اپنی محدود سوچ کے ذریعے کوئی علم تراش کر اسے دین میں شامل کرنا چاہے اورلوگوں کو بھی اس کی دعوت دے تو ایسا شخص امام مالک رحمہ اللہ کے قول کے مطابق اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں نعوذ باللہ خیانت کی ہے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:

{یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَیْکَ مِن رَّبِّکَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ} (المائدہ:۹۷)

’’ اے رسول  ﷺ جو آپ پر آپ کے رب نے نازل کیا اسے لوگوں تک پہنچا دیجیے اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے رسالت کا حق ادا نہیں کیا‘‘

ایک مسلمان کا یقین کامل ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات بعینہ لوگوں تک پہنچاکر رسالت کاحق ادا کر دیا ہے ، اس لیے کتاب وسنت کو چھوڑ کر کوئی بھی عمل کرنا نہ تو دین کا حصہ ہے اور نہ ہی قبولیت کی شرائط کو پہنچتا ہے ۔

اسی طرح ماہ صفر میں بعض لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے تجاوز کرتے ہوئے ایسی چیزیں منسوب کر دی ہیں جن کا ذکر شریعت میں با لکل نہیں ملتا۔ ان میں سے چند ایک کا تذکرہ ذیل میں کیا جارہا ہے :۔

ماہ صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے اور اسلام میںحرمت والے چار مہینے بیان کیے گئے ہیں جوکہ یہ ہیں۔

۱۔ رجب

۲۔ ذوالقعدہ

۳۔ ذوالحجہ

۴۔ محرم

ان چاروں مہینوں میں اہل عرب تلواروں کو نیاموں میں ڈال کرجنگ وجدل ، لوٹ مار اور دیگر جھگڑے فساد سے دور ہو جاتے تھے اسطرح وہ لوگ اپنے دشمنوںسے بھی بے خوف ہو جاتے تھے، چونکہ صفر سے پہلے تین اکٹھے مہینے حرمت والے ہیں لہٰذا ان کے ختم ہوتے ہی وہ اپنے گھروں کو خالی چھوڑ کر اپنی سابقہ عادات شروع کر دیتے تھے ، ماہ صفر کے آغازہی سے لڑائی جھگڑے کی خاطر عرب اپنے گھروں کو خالی کرتے تھے اس لیے اس ماہ کو زمانہ جاہلیت میں منحوس سمجھا جاتاتھا۔

ماہ صفر میں موجودہ لوگوں کا رویہ اور عہد حاضر کی جاہلیت

اسلام سے قبل کے دور کو اس لئے جاہلیت کا زمانہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس وقت لوگوں کو اچھے برے کی تمیز نہیں ہوتی تھی اور وہ جس طرح چاہتے اپنی زندگیاں گزارتے تھے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اسلام کے آنے کے بعد بھی بعض لوگوں کے اعتقادات میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ وہ ان لوگوںسے بھی زیادہ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے ہیں ، اس مہینے میں شادی بیاہ تو دور کی بات اس کو سفر کیلئے بھی نامناسب سمجھتے ہیں او راس مہینے میں اپنے گھروں سے نحوست ختم کرنے کیلئے مختلف کام کرتے ہیں جن کا شریعت اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ نبی اکرم ﷺ نے ان تمام باطل اعتقادات کی واضح نفی فرما دی ہے کہ ماہ صفرمیں کوئی نحوست نہیں ہے۔

نحوست کے متعلق اسلام کی تعلیمات:

اللہ تعالیٰ نے ازل سے تمام مخلوقات کی تقدیر میں ان کے ساتھ پیش آنے والے حادثات و واقعات ایک مخصوص کتا ب میں درج فرما دیئے ہیں اس لیے اگر کسی آدمی کے ساتھ اگر کوئی حادثہ یا اس طرح کا کو ئی ایسا واقعہ رونماہوتا ہے جسے وہ پسند نہیں کرتا تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دن یا مہینہ منحوس ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام لیل ونہاراور مہینے ایک جیسے بنائے ہیں اور کسی بھی لمحے کو منحوس قرار نہیں دیا ۔

اگر غور کیا جائے تو انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس طرح کی فرسودہ باتیں اور دیگر رسومات غیرمسلموں کے ذریعے ہمارے لوگوںمیں پھیلا دی گئی ہیں ،  مثال کے طور پر ہندوؤں کے ہاں یہ عقیدہ رائج ہے کہ شادی سے پہلے پنڈت سے شادی کی تاریخ کے متعلق معلوم کیا جاتا ہے ان کے خیال میں اگر اس کے بتائے ہوئے دن کے علاوہ کسی اور دن شادی کریں گے تو وہ شادی کسی صورت میں کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ اسی طرح مغربی دنیا کے لوگ تیرہ (۱۳) کے عدد کو منحوس سمجھتے ہیں اسی طرح کے فاسد خیالات مسلمانوں میں بھی داخل کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے ابتدائی تیرہ تاریخوں کو سفر وغیرہ کیلئے مناسب نہیں سمجھا جاتا ، جن کو تیرہ تیزی کہتے ہیں اور وہ لوگ محض وہم کی بنیا د پران دنوں کی نحوست کو ختم کرنے کیلئے مختلف فرسودہ قسم کے عملیات کرتے ہیں حالانکہ یہ سب جہالت کی باتیں ہیں دین اسلام اس طرح کے رسم ورواج اور توہمات سے پاک ہے اور خود رسول اکرم  ﷺ نے ان خیالات کا قلع قمع کرنے کیلئے از خودعملی مظاہرہ کیا جیساکہ عرب والے شوال کے مہینہ کو منحوس سمجھ کر اس میں شادی نہیں کیا کرتے تھے ۔ نبی اکرم  ﷺ نے اس خیال کو باطل ثابت کرنے کیلئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے شوال کے مہینہ میں شادی کی چنانچہ ایک موقعہ پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میری شادی بھی شوال کے مہینہ میں ہوئی اور رخصتی بھی شوال کے مہینہ میں ہوئی اگر یہ منحوس ہے تو مجھ سے نصیب والی عورت کون ہے؟ یعنی گھریلو زندگی مجھ سے زیادہ کامیاب کس کی گزری ؟

 اس لیے سب مسلمانوں کو یہ بالکل خیال دل سے نکال دینا چاہیے کہ ماہ وسال میں کوئی دن منحوس بھی ہوسکتاہے اور جو روایت پیش کی جاتی ہے ۔

’’یَوْمَ الْاَرْبِعَائِ یَوْمُ نَحْسٍ مُّسْتَمِرْ ‘‘

یعنی بدھ دن کی نحوست استمرار کیساتھ جاری رہتی ہے ۔‘‘

امام صاغانی اور ابن الجوزی رحمہما اللہ تعالیٰ نے اس روایت کو موضوع (من گھڑت ) قرار دیا اس کی کوئی اصل احادیث مبارکہ میں نہیں ہے بلکہ کسی دن یا کسی مہینہ کو منحوس کہنا درحقیقت اللہ رب العزت کے بنائے ہوئے اس زمانہ میں جو دن اور رات پر مشتمل ہے نقص اور عیب لگانے کے مترادف ہے اورنبی اکرم  ﷺ نے اس بات سے اس طرح منع فرمایا ہے ۔

قال اللہ تعالیٰ : ’’یؤذینی ابن آدم یسب الدھر وأنا الدھر بیدی الأمر اقلب اللیل والنہار ۔‘‘  (بخاری ومسلم)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ابن آدم زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ میںہی اس کا بنانے والا ہوں میرے ہاتھ میں حکم ہے اور میں ہی دن اور رات کو بدلتا ہوں ۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ دن اور رات اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں ان میں سے کسی کو عیب دار ٹھہرانا خالق ومالک کی کاریگری میں عیب نکالنے کے مترادف ہے۔

بریلویوں کے امام حضرت احمد رضاخاں کا فتوی

جب ا ن سے ماہ صفر کے آخری بدھ کی نحوست کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس روز نبی اکرم ﷺ نے مرض سے شفا پائی تھی لیکن اب مختلف جگہوں پر عجیب قسم کے معمولات سرانجام دیے جاتے ہیں ، حتی کہ کچھ لوگ اس کو منحوس سمجھ کر پرانے برتن گلی میں توڑ دیتے ہیں تو اس طرح کے اعمال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: آخری بدھ کی نحوست کی کوئی اصل نہیں ہے اس دن رسول اکرم ﷺ کے صحت سے شفا پانے کا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ جس مرض میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس کی ابتداء اسی وقت ہوئی تھی اس کو منحوس سمجھ کر مٹی کے برتن وغیرہ توڑنا گناہ اور اضاعت مال ہے بہر حال یہ سب باتیں بالکل بے اصل اور بے معنی ہیں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

ماہ صفر میں دیگر رائج شدہ بدعات :

کچھ بھائی ماہ صفر میں خاص ترتیب اور خاص مقدار میں تسبیحات پڑھتے ہوئے بعض ایسی نفلی نمازیں پڑھتے اور اس کا حکم دیتے ہیں جن کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں۔ پوچھنے پروہ ’’راحت القلوب ‘ ‘ اور ’’جواہر غیبی ‘‘کتاب کا حوالہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں حدیث کی کتابیں ہی نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر:  ماہ صفر کی پہلی رات نماز عشاء کے بعد ہر مسلمان کو چاہئے کہ چار رکعت نماز پڑھے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قل یا ایھا الکافرون پندرہ دفعہ پڑھے اور دورسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قل ھو اللہ احد پندرہ دفعہ پڑھے سلام کے بعد چند بار ایاک نعبد وایاک نستعین پڑھے پھر ستر مرتبہ درود شریف پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کو بڑا ثواب عطا فرماتے ہیں اور اسے ہر بلا سے محفوظ رکھتے ہیں ‘‘  (راحۃ القلوب)  اس طر ح کی کچھ اور بھی نمازیں ذکر کی جاتی ہیں ، حالانکہ اگر آپ حدیث کی کوئی بھی کتاب اٹھا لیں اس طرح کی کسی نماز کاذکر شریعت اسلامیہ میں نہیں ملتا ، یاد رکھیں!  اپنی طرف سے بنائی ہوئی نمازوں کے ادا کرنے میں نہ اطاعت رسول  ﷺکا حق ادا ہوتا ہے اور نہ ہی اس طرح کی عبادات سے انسان کسی قسم کے اجروثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے ، اسی طرح کسی بھی دن یا مہینہ کو منحوس قرار دیکر اس میں شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے کاموں کو اپنے آپ پر حرام کرلینا دین میں سختی کرنے کے مترادف ہے جبکہ دین کسی صورت میں انسانوں پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خالص اپنی رضا کے مطابق اعمال صالحہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

محمد حسان دانش

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago