ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ وَ طُوْرِ سِيْنِيْنَ وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ﴾ (التین: ۱ تا۴)
’’قسم ہے انجیر، زیتون، طورِ سیناء اور اس امن والے شہر کی، یقیناً ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیاہے۔‘‘
خالق کائنات نے سیدنا انسان کو پوری کائنات میں سب سے اعلیٰ، ارفع اور افضل پیدا فرمایا اور بتلایا ہے کہ اس نے باقی مخلوق کو ’’کُنْ‘‘ کے حکم سے پیدا کیا، لیکن انسان کو اپنے ہاتھوں سے پیدا فرمایا ہے۔
﴿قَالَ يٰۤاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ﴾ ( ص: ۷۵)
’’اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس تجھے سجدہ کرنے سے کس نے روکاہے کہ جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے، توتکبر کرتا ہے یا تو اپنے آپ کو بڑوں میں سمجھتا ہے۔‘‘
﴿وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا﴾ (بنی اسرائیل: ۷۰)
’’اور بلاشبہ ہم نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو عزت بخشی اور انھیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور ہم نے جو مخلوق پیدا کی ان میں بہت سی مخلوق پر انھیں فضیلت عطا فرمائی۔ ‘‘
قرآن مجید نے انسان کی عظمت و فضیلت کا تذکرہ کرنے کے ساتھ اس کی طبعی کمزوریوں کی نشاندہی بھی فرمائی ہے اور اس کی ہر کمزوری کے ذکر سے پہلے یا بعد میں توحید ِ باری تعالیٰ کا کوئی نہ کوئی پہلو اور فکر آخرت بیان فرمایا ہے تاکہ انسان عقیدۂ توحید اور فکر ِ آخرت کے ذریعے اپنی کمزوریوں پر قابو پا سکے کیونکہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی توحید کو ماننا، اسے سمجھنا اور اس کے تقاضے پورے کرنا اور آخرت میں اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔اس لیے انسان بالخصوص ایک مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ عقیدۂ توحید سمجھے اور اس کے تقاضے پورے کرے، تاکہ وہ اپنی کمزوریوں پر قابو پا کر صحیح انسان ہی نہیں بلکہ پکا مسلمان بن جائے۔ کیونکہ عقیدۂ توحید اور فکرِ آخرت کے بغیر کوئی انسان بالخصوص مسلمان اپنی کمزوریوں پر قابو نہیں پا سکتا۔
1۔ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے:
﴿يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا﴾ (النساء: ۲۸)
’’اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم پر آسانی فرمائے۔ کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ ‘‘
﴿يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١ٞ ﴾
’’اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے، وہ تمہارے ساتھ سختی کا ارادہ نہیں کرتا۔‘‘(البقرة: ۱۸۵)
انسان کی پہلی طبعی کمزوری یہ ہے کہ یہ تخلیقی اعتبار سے کمزور پیدا کیا گیا ہے، اس لیے دینِ اسلام اس کی فطرت کے موافق اور آسان بنایا گیا ہے، انسانی طبائع، مشکلات ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں۔ بیماری اور کمزوری، دنیا کی ضروریات اور معاشرتی پریشانیاں اور کاروباری الجھنیں انسان پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔جن کی وجہ سے آدمی سستی، کم ہمتی اور بے توجہی کاشکار ہو جاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دین میں کوئی ایسی بات نہیں رکھی جو اس کی قوتِ عمل سے باہر ہو، اس لیے کوشش پیہم کے ساتھ اپنے رب کے حضور دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔
﴿فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا١ؕ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾ (الروم:۳۰)
’’پس اے نبیﷺ یک سو ہو کر اپنا رُخ اس دین پر قائم رکھو، یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی، یہی مستقل ضابطہ ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘
﴿وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا ……﴾ (الحج: ۷۸)
’’اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر قائم ہو جائو۔ اللہ نے پہلے سے ہی تمہارا نام ’’مسلم ‘‘رکھا تھا اور قرآن میں بھی ……‘‘
(اَللّٰهُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ)
’’الٰہی!میری مدد فرما کہ میں تیرا ذکر، شکر اور اچھی طرح عبادت کر سکوں ۔‘‘ (رواه أبو داود: باب فی الاستغفار [صحیح])
2۔ انسان بنیادی طور پر جھگڑالو ثابت ہوا ہے:
﴿خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ﴾ (النحل: ۴)
’’اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نطفہ سے پیدا کیا مگر وہ جھگڑنے والابن جاتا ہے۔‘‘
﴿وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا۰۰۵۴﴾ (الكھف: ۵۴)
’’ اور بلاشبہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے کئی امثال بدل بدل کر بیان کی ہیں اور انسان بڑا جھگڑالو ہے۔ ‘‘
﴿اَوَ لَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْن﴾(یٰس: ۷۷)
’’ کیا انسان نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اسے ایک نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ واضح طور پر جھگڑالو بن جاتا ہے ۔ ‘‘
اس کمزوری کے سبب اکثر دیکھا گیا ہے کہ انسان باہمی معاملات اور لین، دین کے مسائل میں جھگڑالو اور کم حوصلہ ثابت ہوتا ہے بالخصوص شرک کرنے والوں کی غالب اکثریت عقیدۂ توحید کے بارے میں جھگڑالو ہوا کرتی ہے۔
﴿وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُهُمْ وَ لَا يَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِيْرًا﴾ (الفرقان: ۵۵)
’’وہ ’’اللہ‘‘ کے سِوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں نفع ااور نقصان نہیں دے سکتے اور کافر اپنے رب کے مقابلے میں ہر باغی کا مدد گار بنا ہوا ہے۔‘‘
یہی منافق کی پہچان ہے:
((عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ أَرْبَعٌ مَّنْ كُنَّ فِیهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ كَانَتْ فِیهِ خَصْلَةٌ مِّنْهُنَّ كَانَتْ فِیهِ خَصْلَةٌ مِّنْ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَهَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ)) (رواه البخاری: باب علامة المنافق)
’’سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا :چار عادتیں ایسی ہیں کہ جس جس شخص میں ہو ں گی وہ پکا منافق ہو گا اور جس میں ان میں سے کو ئی ایک ہو گی، اس میں نفاق کی عادت ہو گی۔ یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔1اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے۔ 2 بات کرتا ہے تو اکثر جھوٹ بولتا ہے۔ 3 عہد کرتا ہے تو اسے توڑ دیتا ہے۔ 4 جب کسی سے بحث و تکرار کرتا ہے تو جھگڑا کرنے پر اُتر آتا ہے۔‘‘
((عَنْ سُلَیْمَانَ ابْنِ صُرَدٍ رضی الله عنه قَالَ اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِیِّﷺ وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوْسٌ وَّاَحَدُھُمَا یَسُبُّ صَاحِبَهُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْھُهُ فَقَالَ النَّبِیُّﷺ اِنِّیْ لَاَعْلَمُ كَلِمَةً لَّوْ قَالَھَا لَذَھَبَ عَنْهُ مَا یَجِدُ اَعُوْذُ بِاللهِ مِن الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ فَقَالُوْا لِلرَّجُلِ لَا تَسْمَعُ مَا یَقُوْلُ النَّبِیُّﷺ قَالَ اِنِّیْ لَسْتُ بِمَجْنُوْنٍ)) (رواه البخاری:باب مَا یُنْهَی مِنَ السِّبَابِ وَاللَّعْنِ)
’’سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے دو شخص نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں گالم گلوچ پر اتر آئے اور ان میں سے ایک شخص کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا اور وہ اپنے ساتھی کوبرابھلا کہہ رہاتھا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگریہ شخص وہ کلمہ پڑھ لے تو اس کاغصہ دور ہوجائے گا۔ وہ کلمہ یہ ہے۔ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ ’’میںراندہ درگاہ شیطان سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو متوجہ کیا۔ اور کہا کہ کیا تو نبی کریم ﷺ کا فرمان نہیں سن رہا؟ اس نے کہا میں پاگل نہیں ہوں۔‘‘
اُس کا مطلب یہ تھا کہ میں نے آپﷺ کا فرمان سُن لیا ہے اور اس پر عمل کرتا ہوں۔
((عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ)) (رواه ابی داؤد: باب فی حسن الخلق [حسن])
’’سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: میں اس شخص کو جنت کے وسط میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑے سے بچتا ہے اور اس شخص کے لیے جنت کے درمیان ایک گھر کا ضامن ہوتا ہوں جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے۔ بے شک وہ ہنسی مذاق ہی میں کیوں نہ بولتا ہو، اور میں اس شخص کو جنت کے اعلیٰ مقام میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو خوش اخلاقی سے پیش آتا ہے۔‘‘
3۔ انسان جلد باز واقع ہوا ہے:
﴿وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ۠ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ۠﴾ (الانبیاء: ۳۶، ۳۷)
’’جب کفار آپﷺ کو دیکھتے ہیں تو وہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا یہی وہ شخص ہے جو تمہارے خدائوں کاتذکرہ کرتا ہے؟ جب کہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ الرّحمان کے ذکر کے منکرہیں۔انسان جلد باز پیدا کیاگیا ہے عنقریب ’’اللہ‘‘تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا لہٰذا مجھ سے ان کے بارے میں جلدی کامطالبہ نہ کرو۔ ‘‘
﴿وَ يَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَيْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا﴾ (بنی اسرائیل: ۱۱)
’’اور انسان بھلائی کی دعا کرنے کی طرح برائی کی دعا کرتا ہے اور انسان جلد باز ہے۔ ‘‘
انسان کی کمزوریوں میں ایک کمزوری عُجلت پسندی بھی ہے، جو ہر انسان میں کسی نہ کسی حد تک پائی جاتی ہے۔ خوشی، غمی، کامیابی، ناکامی، تنگدستی اور کشادگی، اقتدار اور اختیار ملنے پر انسان کسی نہ کسی موقع پر ضرور جلد باز ہوجاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ایماندار خوشی کے موقع پر شکر اور غم کے موقع پر صبر کرکے اس کمزوری پر قابو پالیتا ہے لیکن جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا وہ ان مواقعوں پر جلد بازی کا مظاہرہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ رسول اکرمﷺ جب کفار اور مشرکین کو ان کے کفر و شرک کے انجام سے ڈراتے تو وہ لوگ اپنے خوفناک انجام سے ڈرنے کی بجائے، آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے کہ ہمیں جس عذاب سے صبح و شام ڈرایا جاتا ہے۔آخر اُس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ اے محمد! تم سچے ہو تو عذاب کا وعدہ ا ب تک پورا کیوں نہیں ہوا؟بسا اوقات اُن کے مظالم اور پراپیگنڈہ سے متاثر ہو کر مسلمان بھی یہ سوچتے کہ ان لوگوں پر اب تک عذاب کیوں نہیں آیا ؟ یہاں مسلمانوں کو تسلّی دینے کے ساتھ کفار کو انتباہ کیا گیا ہے کہ جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرو عنقریب اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائے گا یعنی جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو اُسے تم بہت جلد اپنے سامنے پائو گے۔
4۔ جلد بازی کے مقابلے میں بُردباری کی تعریف اور دعا:
((عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ عَنْ أَبِیهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ الأَنَاةُ مِنَ اللهِ وَالْعُجْلَةُ مِنَ الشَّیْطَانِ )) (رواه الترمذی :باب مَا جَاءَ فِی التَّأَنِّی وَالْعُجْلَةِ)
’’ سیدنا سہل اپنے باپ سعد سے اور سعد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: تحمل مزاجی اللہ کی طرف سے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ۔ ‘‘
((عَنْ أَبِی سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رضی الله عنه قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَقَالَ: أَتَتْكُمْ وُفُودُ عَبْدِ الْقَيْسِ، وَمَا نَرَى أَحَدًا، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ، إِذْ جَاءُوا فَنَزَلُوا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ ﷺ وَبَقِيَ الْأَشَجُّ الْعَصَرِيُّ، فَجَاءَ بَعْدُ، فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، وَوَضَعَ ثِيَابَهُ جَانِبًا، ثُمَّ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺفَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺيَا أَشَجُّ إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللهُ وَرَسُولُهُ، الْحِلْمَ وَالتُّؤَدَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَشَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ، أَمْ شَيْءٌ حَدَثَ لِي؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺبَلْ شَيْءٌ جُبِلْتَ عَلَيْهِ)) (رواه ابن ماجه: بَابُ الْحِلْمِ [صحیح])
’’سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے رسولﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا: عنقریب قبیلہ عبدالقیس کا ایک وفد آنے والا ہے، حالانکہ ہم دیکھ رہے تھے کہ اس وقت کوئی دور دور تک کوئی وفد دکھلائی نہیں دے رہا تھا۔ ہم اسی سوچ میں تھے کہ اتنے میں عبدالقیس کے آدمی آ پہنچے اور وہ بڑی جلدی میں سواریوں سے اتر کر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن ان میں ایک شخص اشّج عصری تھا۔ جس کا اصل نام منذر بن عائذ تھا۔ اس نے اپنا سامان اتار کر ایک جگہ رکھا اور اونٹنی کو بٹھا کر بڑے اطمینان اور وقار کے ساتھ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپﷺ نے اسے فرمایا: اشج آپ میں دو ایسی خصلتیں ہیں کہ جن کو اللہ اور اس کا رسولﷺ پسند کرتے ہیں، ایک بردباری اور دوسرا وقار۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسولﷺ یہ مجھ میں فطری ہیں یا بناوٹی ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: یہ تجھ میں فطری ہیں۔‘‘
5۔ انسان ظالم ہے:
﴿وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ﴾ (ابراھیم: ۳۴)
’’اور اس نے تمہیں ہر چیز عطا کی جو تم نے اس سے مانگی اور اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکو گے۔ یقیناً انسان بڑا ظالم اور بہت نا شکرا ہے۔‘‘
﴿قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ﴾ (الاعراف: ۲۳)
’’سیدنا آدم اور حوا نے کہا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو یقیناً ہم خسارہ پانے والوں سے ہو جائیں گے۔‘‘
﴿قَالَتْ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ﴾ ( النمل: ۴۴)
’’……ملکہ بلقیس پکار اُٹھی اے میرے رب میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی اب میں سلیمان علیہ السلام کے ساتھ اللہ پر ایمان لاتی ہوں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
﴿قَالَ رَبِّ اِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ﴾ (القصص: ۱۶)
’’موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی: اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے مجھے معاف فرما دے، اسے اللہ نے معاف کر دیا، اور یقیناً اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
((عَنْ أَنَسٍ رضی الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ كُلُّ بَنِی آدَمَ خَطَّاء ٌ وَخَیْرُ الْخَطَّائِیْنَ التَّوَّابُوْنَ)) (رواه ابن ماجة: باب ذِكْرِ التَّوْبَةِ)
’’سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: آدم کا ہر بیٹا خطا کار ہے مگر ان میں سے بہتر وہ ہے جو خطا کرنے کے بعد توبہ کرنے والا ہے ۔ ‘‘
6۔ انسان نا شکرا ہے:
﴿وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا﴾ (بنی اسرائیل: ۶۷)
’’ اور جب تمھیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ کے سوا جنھیں تم پکارتے ہو تمھیں سب بھول جاتے ہیں پھر جب اللہ تمھیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے توتم منہ پھیر لیتے ہو او رانسان بہت ناشکرا ہے۔ ‘‘
﴿وَ هُوَ الَّذِيْۤ اَحْيَاكُمْ١ٞ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْر﴾ (الحج: ۶۶)
’’وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی تم کو زندہ کرے گا حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ناشکرا ہے۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ چاہتا تو انسانوں کو صرف حکم دیتا کہ مجھ پر ایمان لائو اور میری عبادت کرو ۔ اس نے اس بات کا صرف حکم دینے کی بجائے اپنی ذات پر ایمان لانے اور اپنی عبادت کے استحقاق کے لیے بے شمار دلائل دیے ہیں۔ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ اے لوگو! اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا۔ مگر انسان اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے کی بجائے اس کی نا شکری اور نافرمانی ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ شرک کرتا ہے۔
﴿وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌ﴾ (الزخرف: ۱۵)
’’اس کے باوجود لوگوں نے اللہ کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا لیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسان واضح طور پر ناشکرا ہے۔ ‘‘
﴿وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا فَاَثَرْنَ بِهٖ نَقْعًا فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ وَ اِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيْدٌ﴾ (العادیات: ۱ تا ۷)
’’قسم ہے اُن گھوڑوں کی جو پھنکارتے ہوئے سرپٹ دوڑتے ہیں۔ پھر اپنے سُم مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر صبح سویرے حملہ کرتے ہیں، پھر غبار اُڑاتے ہیں، پھر وہ مجمع میں گھس جاتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے، اور وہ اس پر خود گواہ ہے۔‘‘
ناشکری کے مقابلے میں شکر ہے جو ربِ کریم کو بہت پسند ہے۔
﴿…اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ﴾ (سبا: ۱۳)
’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ …… اے آل داؤد نیک عمل کرو اور شکر ادا کرتے رہو، میرے بندوں میں بہت کم شکر گزار ہوتے ہیں۔‘‘
((عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی الله عنه قَالَ أَخَذَ بِیَدِیْ رَسُولُ اللهِﷺ فَقَالَ إِنِّیْ لَأُحِبُّكَ یَا مُعَاذُ فَقُلْتُ وَأَنَا أُحِبُّكَ یَا رَسُوْلَ اللهِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فَلاَ تَدَعْ أَنْ تَقُوْلَ فِیْ كُلِّ صَلاَةٍ رَبِّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ)) (سنن النسائی: باب نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الدُّعَآءِ [صحیح])
’’سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے معاذ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں میں نے عرض کی اللہ کے رسول میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔ اللہ کے رسولﷺنے فرمایا: نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے رہو اور اسے کبھی نہ چھوڑنا اے میرے پروردگار ! ذکر، شکر اور اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما ۔ ‘‘
7۔ انسان جاہل ہے اور اسے جہالت سے پناہ مانگنی چاہیے:
﴿اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا﴾ (الاحزاب: ۷۲)
’’ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا، وہ اس سے ڈر گئے اور اِسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے مگر انسان نے اُسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔‘‘
﴿قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ١ۖٞۗ فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّيْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ﴾ (ھود: ۴۶)
’’فرمایا: اے نوح علیہ السلام ! بلاشک تیرا بیٹا تیرے گھر والوں سے نہیں، بے شک اس کے عمل صالح نہیں، پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کرنا جس کا تجھے علم نہیں۔ بے شک میں تجھے نصیحت کرتا ہوں ورنہ تو جاہلوں میں سے ہو جائے گا۔‘‘
8۔ عباد الرحمٰن کا کردار :
﴿وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا﴾ (الفرقان: ۶۳)
’’رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اگر ان سے جاہل جھگڑیں تو وہ ان کو سلام کہہ کر چل دیتے ہیں۔‘‘
﴿وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ﴾ ( البقره: ۶۷)
’’اور جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، تو انہوں نے کہا: کیا ہم سے مذاق کرتے ہو؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں جاہلوں میں ہو جائوں۔‘‘
(عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: مَا خَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا رَفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: اَللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ، أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ، أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ)
’’سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب بھی نبیﷺ میرے گھر سے باہر نکلتے تو آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر دعا کرتے: اے اللہ! میں آپ کی حفاظت چاہتا ہوں کہ میں بھٹک جائوں یا بھٹکا دیا جائوں، پھسل جائوں یا پھسلا دیا جائوں، میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے، یا میں کسی کے ساتھ جہالت کا مظاہرہ کروں یا کوئی میرے ساتھ جہالت کا مظاہرہ کرے۔‘‘(رواه ابی داؤد: بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ [صحیح])
9۔ انسان بہت جلد مایوس ہونے اور اترانے والا ہے:
﴿…وَ لَىِٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَيَـُٔوْسٌ كَفُوْر﴾(ھود: ۹)
’’اگرہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازیں پھر اسے اس سے واپس لے لیں تو یقیناً وہ انتہائی نا امید اورناشکرا ثابت ہو تا ہے۔ ‘‘
﴿وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِيْضٍ﴾ (حٰم السجده: ۵۱)
’’جب ہم انسان کو نعمت دیتے ہیں تو وہ منہ پھیرتا اور اکڑتا ہے اور جب اُسے کوئی آفت آتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ اکثر لوگوں کی حالت کاذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر ہم کچھ لوگوں کو اپنی رحمت سے سرفراز کرنے کے بعد اپنے کرم کا ہاتھ پیچھے ہٹا لیں تو اکثر انسان صبر کرنے کی بجائے ناشکری اور مایوسی کااظہار کرتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں تکلیف کے بعد نوازا جائے تو اترانے لگتے ہیں گویا کہ یہ انسان کی جلد بازی اور اس کے ناشکرا ہونے کا دوسرا انداز ہوتا ہے، حالانکہ حکم یہ ہے :
﴿مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَ لَا فِيْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌۚۖ۰۰۲۲لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ﴾ (الحدید: ۲۲، ۲۳)
’’کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین پر یا تم پر آتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں نہ لکھ رکھا ہو، ایسا کرنا ’’اللہ‘‘ کے لیے بہت آسان ہے، تاکہ جو نقصان تمہیں پہنچے اس پر دل برداشتہ نہ ہو اور جو تمہیں وہ عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ، اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں۔‘‘
﴿يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَ اَخِيْهِ وَ لَا تَايْـَٔسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا يَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ﴾ (یوسف: ۸۷)
’’اے میرے بیٹو !جائو یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایو س نہ ہو، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے کافر ہی مایوس ہوتے ہیں ۔ ‘‘
((عَنْ صُهَیْبٍ رضی الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاكَ لأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَیْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَیْرًا لَهُ ))(رواه مسلم : باب الْمُؤْمِنُ أَمْرُهُ كُلُّهُ خَیْرٌ)
’’سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: مومن کا عجیب معاملہ ہے یقیناً اُس کے سارے کاموں میں بہتری ہوتی ہے، یہ خوبی مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔ اسے خوشی حاصل ہوتی ہے تو شکر ادا کرتا ہے یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔‘‘
((عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رضی الله عنه قَالَ الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ وَالْإِيَاسُ مِنْ رَوْحِ اللهِ وَالْأَمْنُ مِنْ مَكْرِ اللهِ)) (تفسیر طبری: الْقَوْلُ فِي تَأْوِيلِ قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ ……[حسن])
’’سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور اس کی رحمت سے مایوس ہونا کبیرہ گناہوں میں ہیں۔‘‘
﴿قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ﴾ (الزمر: ۵۳)
’’اے نبیﷺ کہہ دو کہ اے میرے بندو کہ جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے کہ تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ غفور ورحیم ہے۔‘‘
10۔ انسان بڑا بخیل واقع ہو ا ہے:
﴿وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا﴾ (بنی اسرائیل: ۱۰۰)
’’کیونکہ انسان بڑا بخیل ہے۔ ‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان کا کچھ نہ کچھ طبعی رجحان بخل کی طرف ہوتاہے لیکن کافر اس لیے زیادہ بخیل ہوتاہے کہ اسے آخرت میں کسی اجروثواب کی امید نہیں ہوتی، مال کے حوالے سے کافر کے بخیل ہونے کا ذکر فرماکر یہ واضح کیا گیا ہے۔یہ اس کی کم ظرفی کا نتیجہ ہے کہ جس طرح وہ اپنے ہاتھ سے کوئی چیز دینا پسند نہیں کرتا اور اسی طرح ہی اپنا باطل نظریہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔اس لیے کہ اسلام قبول کرنے میں اُسے اپنے مال اور دنیوی عزت کے بارے میں نقصان کا اندیشہ ہوتاہے۔
((عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِﷺ مَثَلُ الْبَخِیْلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَیْنِ عَلَیْھِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِیْدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ اَیْدِیْھِمَا اِلٰی ثُدِیِّھِمَا وَتَرَاقِیْھِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ وَجَعَلَ الْبَخِیْلُ كُلَّمَا ھَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ وَاَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِھَا)) (رواه البخاری:باب مَثَلِ الْمُتَصَدِّقِ وَالْبَخِیلِ)
’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: بخیل اورصدقہ کرنے والے کی مثال ان دوآدمیوں کی طرح ہے جنہوں نے زرہ پہن رکھی ہو اور اس کے ہاتھوں کو اس کی چھاتیوں اور سینے کے ساتھ جکڑ دیا گیا ہو۔ صدقہ دینے والا جب صدقہ کرنے کاارادہ کرتا ہے تواس کی زرہ کشادہ ہوجاتی ہے اور بخیل جب صدقہ کرنے کا خیال کرتا ہے تو اس کی زرہ سمٹ جاتی اور ہر کڑی اپنی اپنی جگہ کس جاتی ہے۔ ‘‘
((عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: لَيْسَ الغِنَى عَنْ كَثْرَةِ العَرَضِ، وَلَكِنَّ الغِنَى غِنَى النَّفْسِ)) (رواه البخاری: باب الغنی غنی النفس)
’’سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول گرامیﷺ نے فرمایا: غنا مال و متاع کی کثرت سے حاصل نہیں ہوتی، غنا تو دل کی غنا سے حاصل ہوتی ہے۔‘‘
((عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی الله عنه قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِﷺ یَتَعَوَّذُ یَقُولُ اَللّٰهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَرَمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ)) (رواه البخاری: باب التعوذ من أرذل العمر)
’’سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول ﷺدعا کرتے تھے: ’’ اے اللہ میں سستی، بزدلی، نکما پن، بڑھاپے اور بخل سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ‘‘
11۔ انسان کم حوصلہ بھی ہے:
﴿اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا﴾ (المعارج: ۱۹)
’’یقیناً انسان کم حوصلہ پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
انسان کی طبعی کمزوریوں میں ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ وہ تھوڑے حوصلے والا ہے۔ جس وجہ سے بعض مرتبہ معمولی بات پر بھڑک اٹھتا ہے اور بڑا نقصان اٹھاتا ہے اور پھر زندگی بھر پچھتاتا ہے یہاں تک کہ اپنے رب کا گلا بھی کرتا ہے۔ کم حوصلگی کے مقابلے میں صبر اور حوصلہ ہے جس کے بہت سے فائدے ہیں اور اس کی بڑی تعریف کی گئی ہے۔
((عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رضی الله عنه قَالَ قَالَ النَّبِیُّﷺلأَبِی یَا حُصَیْنُ كَمْ تَعْبُدُ الْیَوْمَ إِلَهًاقَالَ أَبِی سَبْعَةً سِتًّا فِی الأَرْضِ وَوَاحِدًا فِی السَّمَاءِقَالَ فَأَیُّهُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِكَ وَرَهْبَتِكَ قَالَ الَّذِی فِی السَّمَاءِقَالَ یَا حُصَیْنُ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَتَیْنِ تَنْفَعَانِكَ قَالَ فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصَیْنٌ قَالَ یَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِی الْكَلِمَتَیْنِ اللَّتَیْنِ وَعَدْتَنِیفَقَالَ قُلِ اَللَّهُمَّ أَلْهِمْنِی رُشْدِی وَأَعِذْنِی مِنْ شَرِّ نَفْسِی)) (رواه الترمذی :باب جَامِعِ الدَّعَوَاتِ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ)
’’سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبیﷺ نے میرے والد سے پوچھا: حصین کتنے معبودوں کی تم عبادت کرتے ہومیرے والد نے کہا: سات معبودوں کی، چھ زمین میں ہیں اور ایک آسمان میں ہے۔ آپﷺ نے پوچھا: ڈراور امید کے وقت کس کو پکارتے ہو، میرے والد نے کہا: جو آسمانوں میں ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: حصین اگر تم اسلام قبول کر لو تومیں تجھے دو ایسے کلمات سکھلائوں گا جو تیرے لیے نہایت فائدہ مند ہوں گے۔ میرے والد جب اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کی اللہ کے پیغمبر مجھے وہ کلمات سکھلادیں جن کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا آپ نے فرمایا: یہ کلمات پڑھا کرو:
اَللَّهُمَّ أَلْهِمْنِی رُشْدِی وَأَعِذْنِی مِنْ شَرِّ نَفْسِی
‘‘ اللہ مجھے رشد و ہدایت عطا فرمایا اورمجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما۔‘‘
﴿الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ﴾ (البقره: ۱۵۶)
’’جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یقیناً ہم اللہ کے ہیں اور یقیناً ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔‘‘
((عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضی الله عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُولَ اللهِ ﷺ « مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللهُ: {إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} اَللّٰهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا «، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا، فَأَخْلَفَ اللهُ لِي رَسُولَ اللهِ ﷺ)) (رواه مسلم: باب ما یقال عند المصیبة)
’’سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: جو مسلمان کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور وہ وہی کلمے کہے جن کا اسے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، بلاشبہ ہم اللہ کے لیے ہیں اور اسی کی طرف جانے والے ہیں۔ بارِ الٰہا! میری اس مصیبت میں مجھے اجر و ثواب سے نواز اور مجھے اس کا نعم البدل عطا فرما۔ نبیﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے ضرور اس سے بہتر بدلہ عطا کرے گا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میرے خاوند ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے سوچا کہ مسلمانوں میں ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے اچھا خاوند کون ہو سکتا ہے؟ کیونکہ یہ پہلا گھرانہ ہے کہ جس نے اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ اس خیال کے باوجود بھی میں یہ دعا پڑھتی رہی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے بدلے میں خاوند کے طور پر رسول کریمﷺ عطا فرمائے۔
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ (آل عمران: ۲۰۰)
’’اے ایمان والو! ثابت قدم رہو اور ایک دوسرے کوتھامے رکھو اور جہاد کی تیاری کرتے رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جائو۔ ‘‘
((عَنْ أَبِی مَالِكٍ الْأَشْعَرِیِّ رضی الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ … …وَالصَّبْرُ ضِیَاءٌ)) (رواه مسلم: باب فضل الوضوء )
’’سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا… صبر روشنی ہے۔‘‘
﴿قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ (الزمر: ۱۰)
’’اے نبیﷺ فرما دیں کہ اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرو اور اس دنیا میں جن لوگوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے بھلائی ہے اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔‘‘
