قسط نمبر: 1

1- کبیرہ گناہ

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟قُلْنَا:‏‏‏‏ بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:‏‏‏‏ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِفَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا يَسْكُتُ.

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ نبی کریم ﷺ اس وقت ٹیک لگائے ہوئے تھے اب آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا آگاہ ہوجاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی (سب سے بڑے گناہ ہیں) آگاہ ہوجاؤ جھوٹی بات بھی اور جھوٹی گواہی بھی۔ نبی کریم ﷺ اسے مسلسل دہراتے رہے اور میں نے سوچا کہ نبی کریم ﷺ خاموش نہیں ہوں گے۔»(صحیح بخاری:5976)

2-بیٹیوں کی پرورش کا انعام

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَيْتُهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ يَلِي مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ شَيْئًا فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ.

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے یہاں ایک عورت (اور) اس کے ساتھ دو بچیاں تھیں، وہ مانگنے آئی تھی۔ میرے پاس سے سوا ایک کھجور کے اسے اور کچھ نہ ملا۔ میں نے اسے وہ کھجور دے دی اور اس نے وہ کھجور اپنی دونوں لڑکیوں کو تقسیم کردی۔ پھر اٹھ کر چلی گئی اس کے بعد نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بھی اس طرح کی لڑکیوں کی پرورش کرے گا اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا تو یہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔(صحیح بخاری:5995)

3-دعا میں اللہ کی وسعت مانگو

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ وَقُمْنَا مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ:‏‏‏‏ اللهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ:‏‏‏‏ لَقَدْ حَجَّرْتَ وَاسِعًا، ‏‏‏‏‏‏يُرِيدُ رَحْمَةَ اللهِ.

سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم بھی نبی کریم ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ نماز پڑھتے ہی ایک دیہاتی نے کہا: اے اللہ! مجھ پر رحم کر اور محمد ( ﷺ ) پر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔ جب نبی کریم ﷺ نے سلام پھیرا تو دیہاتی سے فرمایا کہ تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کردیا آپ کی مراد اللہ کی رحمت سے تھی۔(صحیح بخاری:6010)

4-بڑے اجر کے حق دار

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاغْتَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَكَّرَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْتَكَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَشَى، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرْكَبْ، ‏‏‏‏‏‏وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَلْغُ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا.

سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوب اچھی طرح کیا، اور نماز کے لیے جلدی نکلا اور شروع خطبہ میں حاضر ہوا، بغیر سواری کے پیدل چل کر آیا، اور امام کے قریب بیٹھا، خطبہ غور سے سنا، اور کوئی لغو کام نہیں کیا، تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے نفلی روزوں اور تہجد کا ثواب ملے گا ۔ (سنن ابن ماجہ:1087)

5-اللہ کی رحمت کے سو حصے

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ الْبَهْرَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ جَعَلَ اللهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ جُزْءًا وَأَنْزَلَ فِي الْأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا، ‏‏‏‏‏‏فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ حَتَّى تَرْفَعَ الْفَرَسُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ.

سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور اپنے پاس ان میں سے ننانوے حصے رکھے صرف ایک حصہ زمین پر اتارا اور اسی کی وجہ سے تم دیکھتے ہو کہ مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، یہاں تک کہ گھوڑی بھی اپنے بچہ کو اپنے سم نہیں لگنے دیتی بلکہ سموں کو اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس سے اس کے بچہ کو تکلیف نہ پہنچے۔(صحیح بخاری:6000)

6-رحم کی علامت

سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا۔ نبی کریم ﷺ کے پاس اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اقرع رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ میرے دس لڑکے ہیں اور میں نے ان میں سے کسی کو بوسہ نہیں دیا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ جو اللہ کی مخلوق پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔(صحیح بخاری:5997)

7- مومنوں کی آپس میں مثال

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى.

سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے۔(صحیح بخاری:6011)

8-صبح و شام مسجد میں حاضری کا انعام

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَاحَ أَعَدَّ اللهُ لَهُ نُزُلَهُ مِنْ الْجَنَّةِ كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاح.

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا: جو شخص مسجد کی طرف صبح و شام بار بار آتا جاتا ہے تو اللہ تعالی جنت میں اس کی مہمانی تیار کرتا ہے، جب بھی وہ صبح اور شام (مسجد میں) آتا اور جاتا ہے۔(صحیح بخاری:662)

9-جهنم سے نکلنے والے آخری شخص کا جنت کو دیکھ کر صبر نہ کر سکنا

 رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو آدمی سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا وہ گرتا پڑتا اور گھسٹتا ہوا جهنم سے اس حال میں نکلے گا کہ جهنم کی آگ اسے جلا رہی ہوگی.

* پھر جب وہ جهنم سے نکل جائے گا تو وہ جهنم کی طرف پلٹ کر دیکھے گا اور جهنم سے مخاطب ہو کر کہے گا کہ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی اور اللہ نے مجھے وہ چیز (نعمت) عطا فرمائی ہے کہ اولین و آخرین میں سے کسی کو بھی وہ نعمت عطا نہیں فرمائی.

* پھر اس کے لئے ایک درخت بلند کیا جائے گا وہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دیجئے تاکہ میں اس کے سایہ کو حاصل کر سکوں اور اس کے پانی سے پیوں.

* تو اللہ عزوجل فرمائیں گے: اے ابن آدم! اگر میں تجھے یہ دے دوں تو پھر اس کے علاوہ تو اور کچھ نہیں مانگے گا؟

وہ عرض کرے گا: نہیں، اے میرے رب.

* اللہ اس سے اس کے علاوہ کچھ اور نہ مانگنے کا معاہدہ فرمائیں گے اور اس کا رب اس کا عذر قبول فرمائیں گے کیونکہ وہ ایسی نعمتیں دیکھ چکا ہوگا کہ جس پر اسے صبر نہ ہوگا. اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب کر دیں گے پھر وہ اس کے سائے میں آرام کرے گا اور اس کے پانی سے پئے گا.

* پھر اس کے لئے ایک اور درخت بلند کیا جائے گا جو پہلے درخت سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوگا. تو وہ آدمی عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس (درخت) کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کا پانی پیوں اور اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور اس کے بعد میں کوئی اور سوال نہیں کروں گا.

* تو اللہ تعالی فرمائیں گے: اے ابن آدم! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو مجھ سے اور کوئی سوال نہیں کرے گا اور اب اگر تجھے اس درخت کے قریب پہنچا دیا تو پھر تو اور سوال کرے گا؟

* اللہ تعالیٰ پھر اس سے اس بات کا وعدہ لیں گے کہ وہ اور کوئی سوال نہیں کرے گا. تاہم اس کا رب اس کا عذر قبول کرلیں گے کیونکہ وہ ایسی نعمتیں دیکھ لے گا کہ جس پر وہ صبر نہ کر سکے گا. پھر اللہ تعالیٰ اس کو درخت کے قریب کر دیں گے اور وہ اس کے سایہ میں آرام کرے گا اور اس کا پانی پئے گا.

* پھر اس کے لیے جنت کے دروازے پر ایک درخت بلند کیا جائے گا جو پہلے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہوگا. وہ آدمی کہے گا: اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب فرما دیجئے تاکہ میں اس کے سایہ میں آرام کروں اور پھر اس کا پانی پیؤں اور اس کے علاوہ میں کوئی اور سوال نہیں کروں گا.

* پھر اللہ تعالیٰ اس آدمی سے فرمائیں گے: اے ابن آدم! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو اس کے بعد اور کوئی سوال نہیں کرے گا؟ وہ عرض کرے گا: ہاں، اے میرے رب! اب میں اس کے بعد اس کے علاوہ کوئی اور سوال نہیں کروں گا، تو اس کا رب اس کا عذر قبول فرمائیں گے کیونکہ وہ ایسی نعمتیں دیکھے گا کہ جس پر وہ صبر نہیں کر سکے گا. پھر اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے قریب کر دیں گے.

* پھر جب وہ اس درخت کے قریب پہنچے گا تو جنت والوں کی آوازیں سنے گا تو وہ پھر عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے اس میں داخل کر دے تو اللہ تعالی فرمائیں گے: اے بنی آدم! تیرے سوال کو کون سی چیز روک سکتی ہے؟ کیا تو اس پر راضی ہے کہ تجھے دنیا اور اس (دنیا) کے برابر دے دیا جائے؟

* وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے جبکہ تو رب العالمین ہے . . . تو اللہ تعالی فرمائیں گے کہ میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا، لیکن میں جو چاہتا ہوں اس پر خوب قدرت رکھنے والا ہوں۔(صحيح مسلم:481)

10-مسلمان کو گالی دینا اور قتل کرنا کفر کے کام ہیں

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سِباب الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ، ‏‏‏‏‏‏تَابَعَهُ غُنْدَرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ شُعْبَةَ –

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔»(صحیح بخاری:6044)

11-ایمان کی مٹھاس کیسے حاصل ہو گی؟

حَدَّثَنَا آدَمُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَجِدُ أَحَدٌ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللهُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَتَّى يَكُونَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:کوئی شخص ایمان کی حلاوت (مٹھاس) اس وقت تک نہیں پاسکتا جب تک وہ کسی شخص سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے کرے اور اس کو آگ میں ڈالا جانا اچھا لگے لیکن ایمان کے بعد کفر میں جانا اسے پسند نہ ہو، اور جب تک اللہ اور اس کے رسول سے اسے ان کے سوا دوسری تمام چیزوں کے مقابلے میں زیادہ محبت نہ ہو۔»(صحیح بخاری:6041)

12- جب اللہ سبحانہ و تعالی اپنے بندے سے محبت کرتا ہے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، ‏‏‏‏‏‏فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ.

سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبرائیل (علیہ السلام) بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ تمام آسمان والوں میں آواز دیتے ہیں کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے۔ تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر تمام آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد وہ زمین میں بھی (اللہ کے بندوں کا) مقبول اور محبوب بن جاتا ہے۔(صحیح بخاری:6040)

 13-رسول اللہ ﷺکا گھر میں رہن سہن

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَكَمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي أَهْلِهِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ.

سیدنا اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ فرمایا نبی کریم ﷺ اپنے گھر کے کام کاج کرتے اور جب نماز کا وقت ہوجاتا تو نماز کے لیے مسجد تشریف لے جاتے تھے۔(صحیح بخاری:6039)

14-رسول اللہ ﷺ کا اپنے ما تحت افراد کے ساتھ کیسا رویہ

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ سَلَّامَ بْنَ مِسْكِينٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ثَابِتًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ وَلَا لِمَ صَنَعْتَ وَلَا أَلَّا صَنَعْتَ.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی دس سال تک خدمت کی لیکن آپ نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور فلاں کام کیوں نہیں کیا۔» (صحیح بخاری:6038)

15-ایک سال کے نفلی روزوں اور تہجد کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَاغْتَسَلَ، ‏‏‏‏‏‏وَبَكَّرَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْتَكَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَشَى، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرْكَبْ، ‏‏‏‏‏‏وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَلْغُ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا.

سیدنا اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوب اچھی طرح کیا، اور نماز کے لیے جلدی نکلا اور شروع خطبہ میں حاضر ہوا، بغیر سواری کے پیدل چل کر آیا، اور امام کے قریب بیٹھا، خطبہ غور سے سنا، اور کوئی لغو کام نہیں کیا، تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے نفلی روزوں اور تہجد کا ثواب ملے گا ۔ (سنن ابن ماجہ:1087)

16-قتل وخون ریزی کی پیش گوئی

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ الْعَمَلُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُقَالُوا:‏‏‏‏ وَمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْقَتْلُ الْقَتْلُ.

سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمانہ جلدی جلدی گزرے گا اور دین کا علم دنیا میں کم ہوجائے گا اور دلوں میں بخیلی سما جائے گی اور لڑائی بڑھ جائے گی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا هرج کیا ہوتا ہے؟ فرمایا قتل خون ریزی۔(صحیح بخاری:6037)                  (جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *