قرآن کریم نے وحدت امت کا اساسی نظریہ بیان فرمایا:
﴿اِنَّ هٰذِهٖ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖٞ وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ﴾
’’بلاشبہ یہ تمھارا دین ایک ہی دین ہے اور میں تمھارا رب ہوں، لہٰذا تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ (الأنبیاء 92:21)
امت کا معنی محدثین نے دین سے کیا ہے:
دِینُکُمْ دِینٌ وَاحِدٌ (صحیح البخاري: 7391)
’’تمھارا یہ دین ایک ہی دین ہے۔‘‘
یعنی تمھارا دین یا ملت ایک ہی ہے اور عقیدۂ توحید ہے۔ جس کی دعوت تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے دی۔
ازل سے ابد تک اب ایک ہی دین ہے، اس رب کا مبعوث ہر دور میں آتا رہا وہ ہر نبی اپنے دور کا مطاع ہے جس کی اطاعت کی جائے اور بالآخر محمد رسول اللہ ﷺپر اس سلسلہ کو بند کر دیا گیا، لہٰذا قیامت تک وحدت امت کی اساس اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نبی کریم ﷺکی اطاعت ہے۔ جو اس عقیدہ پر قائم ہیں تو وہ جماعت واحدہ ہے۔
لوگوں نے کیا کیا: وَ
تَقَطَّعُوا أَمْرَھُمْ بَیْنَھُم
’’لوگوں نے اپنے (دین) کا معاملہ آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔‘‘
یعنی دین میں فرقہ بندیاں کرلیں۔ محض ایک مسئلہ میں اختلاف کی بنا پر مختلف تنظیموں میں بٹ گئے۔ جنھوں نے امت واحدہ کے تصور کو پامال کر دیا، اللہ تعالیٰ نے انھیں خبردار فرمایا:
﴿كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ﴾
’’مگر ہر ایک کو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔‘‘ (الأنبیاء 93:21)
امت کو فرقوں میں بانٹنے کا معاملہ سنگین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ میں ایک ایک کی خبر لوں گا۔ اسلام نے وحدت کی تعلیم دی ہے جس میں تمام انسان بلا امتیاز رنگ و نسل و زبان جسد واحد ہیں بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ايمان لے آئيں۔
صحابه كرام رضی اللہ عنہم نے وحدت امت کا عملی نمونہ پیش کیا اور دعوت و جہاد کا پرچم بلند کیا تو کسریٰ کے قلعوں میں اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی۔ سلطنت روم کا صوبہ شام اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔ جب دشمن کو عسکری محاذ پر شکست کا سامنا ہوا تو انھوں نے امیرالمومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری دور میں نظریاتی محاذ کا دریچہ کھول لیا۔
طاغوتی چیلے نے رسوم کا لبادہ اوڑھ کر فاسد نظریات لوگوں میں پھیلائے کہ غاصبوں نے حق دار سے حق چھین کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور مال و متاع کو وارثوں میں تقسیم کرنے کی بجائے بحق سرکار ضبط کر لیا۔ اس نے پیروکاروں کو اکسایا کہ وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، اس باطنی تحریک نے جہاں وحدت و خلافت کے استحکام میں نقب لگائی وہاں مخفی انداز میں لوگوں کو اسلام سے بدظن کیا کہ (نعوذ باللہ) نبی کریمﷺ کی دعوت کا مقصد خاندان کو اقتدار اور خزانہ کی منتقلی تھا۔
دور جدید میں طاغوتی چیلوں نے ہوس اقتدار پر عوامی حکومت کا لیبل چسپاں کیا تو ہمارے بعض مسلم اسکالر صاحبان نے اس کو اسلامی جامہ پہنا کر تقویت فراہم کی۔
خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد یورپی اقوام کی زیر تسلط مسلم ریاستوں میں جمہوری نظام رائج ہوا۔ اس دور میں مسلمانوں کی جانب سے خلافت کی بحالی کے لیے اسلامی تحریکوں کا آغاز ہوا تو بعض قائدین نے اپنے موقف میں زور پیدا کرنے کے لیے ’’توحید حاکمیت‘‘ کی اصطلاح وضع کی کہ لا الٰہ الا اللہ کے معنی لاحکم الا اللہ ہیں۔ اور انسان کی تخلیق کا مقصد رب کی دھرتی پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرنا ہے۔ یہ تحریر و تقریر کے ذریعے عوام کو قائل کرتے رہے کہ غیراللہ کے قوانین کا نفاذ شرک ہے، لہٰذا اہل مغرب کے قوانین کے خلاف اسلامی قوانین کی بحالی لیے اور تن من دھن قربان کرنے کا جذبہ پیدا کیا لیکن اس تحریک نے (خود ساختہ) توحید حاکمیت کے پرچار میں اس حد تک تجاوز کیا کہ توحید الوہیت، ربوبیت اور اسماء و صفات پس منظر میں چلی گئیں اور توحید حاکمیت کا اقرار اور عملی اظہار ہی اسلام اور کفر کا معیار بن کر رہ گیا۔ جدید سکالروں نے ’’اسلام میں مشورہ کا حکم ہے‘‘ کے ذریعے جمہوریت کو اسلام کا لبادہ پہنا کر اس طرح پیش کیا کہ توحید حاکمیت کی آڑ میں روسو کا نظریہ منشاء عام مسلم دنیا میں سرایت کر گیا۔
بلاشبہ سیاست دین سے جدا نہیں لیکن یہ اس کی اساس نہیں۔ اسلام کے تین بنیادی اجزاء ہیں: عقائد، عبادات، معاملات۔ پھر معاملات کے تین اجزاء ہیں: اخلاقیات، مناکحات، سیاسیات۔ گویا اسلام کا چھٹا جزو سیاست ہے۔ دینی جماعتوں نے توحید حاکمیت سے متاثر ہو کر سیاست کو اسلام کی اساس سمجھ لیا۔ اور مُردہ معاشرہ کی تعلیم و تزکیہ کو ثانوی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اصلاح حکومت کی بجائے حصول حکومت مرکز و محور بن کر رہ گیا۔ پاکستان میں مذہبی لیڈروں کی مسلسل انتخابی جدوجہد کے باوجود قرآن و سنت کو سپریم لا کی حیثیت تو حاصل نہ ہو سکی بلکہ ’’طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں‘‘ کے نظریہ کو مقبولیت حاصل ہو ئی۔
مسلم معاشرہ فکر آخرت کی بجائے مادہ پرستی، روحانی بالیدگی کی بجائے جسمانی نمودو نمائش کی طرف گامزن ہے۔ اقتدار کا حصول انسانی فطرت ہے چونکہ جمہوری دنگل میں ہوس اقتدار کے وافر مواقع میسر ہیں، اس بنا پر نسل و لسانی و مذہبی اختلاف کی بنا پر کئی جماعتیں نمودار ہوئیں جنھوں نے ملی وحدت پر کاری ضرب لگائی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ صدی میں حکومت الٰہیہ کے نام پر تمام تحریکیں انتخابی میدان میں ناکام ثابت ہوئیں بلکہ مسلم معاشرہ میں جدیدیت کے اثرات سرایت کر گئے۔ ملک کی قومی و سیاسی جماعتوں کی طرح دینی جماعتیں ہوس اقتدار کی دوڑ میں الجھ گئیں۔
اسلام میں اقتدار کی خواہش کرنا ممنوع ہے۔ سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے (مجھ سے) فرمایا: عبدالرحمٰن! حکومت طلب نہ کرو اگر تم نے یہ چیز مانگ کر حاصل کی تو تجھے اسی کے حوالے کر دیا جائے گا، اس کا سارا بوجھ تجھے اٹھانا پڑے گا۔ اللہ کی راہنمائی اور مدد شامل حال نہ ہو گی اور اگر طلب کیے بغیر تجھے حکومت کرنے کا موقع ملے تو اللہ تعالیٰ نظام چلانے میں تیری مدد کرے گا۔ (صحیح البخاري، و صحیح مسلم) منصب کا طلب کرنا نااہلیت کی دلیل ہے۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنی قوم کے دو آدمیوں کے ساتھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، ایک نے درخواست پیش کی کہ نبی کریمﷺ ہمیں حاکم بنا دیجیے۔ دوسرے ساتھی نے بھی یہی بات کی تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’ہم اس آدمی کو حاکم نہیں بناتے جو اس کا طالب ہو اور اس کا لالچ کرتا ہو۔‘‘ (صحیح البخاري)
محدثین نے وضاحت کی ہے کہ اسلامی ریاست کے عہدوں اور مناصب پر ایسے افراد کو فائز کرنا چاہیے جن کے دلوں میں اقتدار کی معمولی سی خواہش بھی نہ پائی جاتی ہو بلکہ وہ عہدہ اور منصب کا نام سن کر ہی کانپ اٹھیں کہ یہ کام ہم سے نہ ہو سکے گا۔
علماء و مشائخ کرام نے تزکیہ نفس اور اصلاح معاشرہ کو پس پشت ڈال دیا اور انتخابی معرکہ میں حصہ لے کر اقتدار کی دوڑ میں شریک ہو گئے۔ وہ رفتہ رفتہ مغربی ماحول میں ڈھل گئے کہ مخلوط نظام تعلیم پر احتجاج کرنے والوں نے پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر جماعتی قوانین کو نامزد کیا۔ مذہبی نمایندے آئی ایم ایف سے ملنے والے سودی قرضہ سے حلقہ کی ترقی کے لیے گرانٹ وصول کرنے آتے ہیں۔
قرون اولیٰ میں ہمارے اسلاف نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرلیں لیکن اقتدار قبول نہیں کیا۔ خلیفہ ابو جعفر منصور نے امام ابوحنیفہ کو چیف جسٹس کے عہدہ کی پیشکش کی۔ انھوں نے جیل کی تنگ و تاریک کوٹھری میں رہ کر وفات پائی مگر انھوں نے عہدہ قبول نہیں کیا۔ ان کی وفات کے بعد خلیفہ نے درباریوں سے پوچھا کہ اس منصب کا اہل کون ہے؟ انھوں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ کا نام لیا۔ گورنر نے ان سے رابطہ کرکے عہدہ کی پیشکش کی مگر انھوں نے اس خوف سے کہ کہیں لوگوں پر ظلم نہ ہو عہدہ قبول نہیں کیا بلکہ جلاوطنی کی زندگی میں وفات پائی۔
سلف صالحین صدق و صفا اور خشیت الٰہی کے پیکر تھے کہ خلیفہ وقت اہم امور طے کرنے کے لیے ان سے مشورہ کرتے تھے۔ خاندان بنو امیہ کے خلیفہ سلیمان بن عبدالمالک بیمار ہو گئے تو انھوں نے مشہور تابعی رجاء بن حیوہ کو بلا بھیجا اور اپنے بعد ولی عہد مقرر کرنے سے متعلق مشورہ کیا۔ شیخ جی نے اپنا یا خاندان کے فرد کا نام نہیں لیا بلکہ خاندان بنوامیہ کی معروف شخصیات پر غور و فکر کیا بالآخر رجاء بن حیوہ کے مشورے سے عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ ولی عہد نامزد ہوئے جنھوں نے اپنے دور میں امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نظام حکومت کی یاد تازہ کر دی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء و مشائخ طہارت فکر اور زہد و تقویٰ میں وہ مقام حاصل کر لیں کہ صاحب اقتدار طبقہ امور حکومت کے شرعی معاملات طے کرنے کے لیے آپ کے مشورہ پر عمل کرے۔
جمہوری نظام میں اقتدار کی دوڑ کو خیرباد کہہ کر وحدت امت کا عملی نمونہ پیش کریں اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کی طرح معاشرہ میں امر بالمعروف نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیں اور اصلاح حکومت میں قوت محاکمہ کا کردار ادا کریں۔
مغربی دنیا میں یہودیوں کی کوئی تنظیم انتخابات میں براہِ راست حصہ نہیں لیتی لیکن پس پردہ منظم انداز سے سیاسی اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں ارکان پارلیمنٹ طاغوتی لابی کی منظوری کے بغیر قانون منظور نہیں کر سکتے۔
پاکستان میں بھی طاغوتی چیلوں نے انتخابات میں حصہ لیے بغیر حکومتی حلقوں میں اس قدر قوت حاصل کرلی ہے کہ حکومت ان سے مشورہ کیے بغیر مذہبی و سیاسی قومی و بین الاقوامی نوعیت کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ چنانچہ ہماری دینی جماعتیں انتخابات میں حصہ لیے بغیر وحدت امت کی تسبیح میں جڑ جائیں اور قرآن و سنت کو سپریم لاء بنانے کے لیے قوت محاکمہ کا کردار ادا کریں۔
