مولانا عتیق اللہ سلفی یکم اگست 1947 بمطابق 24 رمضان المبارک 1366 ہجری کوٹ کپورہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔
مولانا عتیق اللہ سلفی کے والد گرامی کا نام صوفی عبدالجلیل اور جدامجد دادا ابو کا نام صوفی عین دین تھا۔مولوی صاحب کے والدگرامی ایک ہی بھائی تھے۔ان کی شکل و شباہت، قد و قامت اور خدو خال مولوی صاحب سے ملتے جلتے تھے۔صوفی عبدالجلیل ایک عالم دین تھےانہوں نے قران مجید کا ترجمہ، احوال الآخرۃ اور زینت الاسلام جیسی کتابیں مولانا عطااللہ حنیف سے پڑھیں۔دہلی کے ایک عالم مولوی بدرالدین کے پاس فجر کی نماز کے بعد مشکوۃ شریف کا درس بھی لیا کرتے تھے۔صوفی عبدالجلیل صاف دل، صاف زبان، تہجد گزار، متبع قران و سنت اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔14 اگست 1947 کو ہجرت کرنے کے بعد یہ خاندان فیصل آباد کے قریب ستیانہ بنگلہ کے نواحی گاؤں چھتیس چک میں آبسا اور یہیں آ کر اپنی زمینیں آباد کر لیں۔صوفی عبدالجلیل کو اللہ پاک نے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔بڑے بیٹے کا نام بارک اللہ اور چھوٹے بیٹے کا نام عتیق اللہ رکھا۔مولانا بارک اللہ نے گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے نہایت اچھے نمبروں سے ایف ایس سی پاس کر کے کلیہ دارالقران والحدیث فیصل آباد میں داخلہ لے لیا اور یہیں سے سند فراغت حاصل کی اور عجزو انکسار والی ایک شاندار اور کامیاب زندگی گزاری۔جب کہ مولانا عتیق اللہ سلفی نے 1960 میں پانچویں جماعت کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔اس کے بعد موصوف نے بھی کلیہ دارالقرآن والحدیث فیصل آباد میں داخلہ لے لیا ۔مولانا عتیق اللہ سلفی دوران تعلیم ہی کثرت کے ساتھ قران کریم کی تلاوت، نفلی روزے اور ذکروفکر میں مشغول رہنے لگے۔یہاں آپ نے مولانا عبداللہ ویرووالوی، مولانا عبدالغفار حسن، مولانا عبداللہ امجد چھتوی، مولانا حافظ احمد اللہ بڈھی مالوی اور مولانا اسحاق خائف رحمہم اللہ سے فیض حاصل کیا۔اور 1967 میں اسی جامعہ سے سند فراغت حاصل کی۔فراغت کے بعد کئی سال اپنا کاروبار کرتے رہے۔اسی دوران آپ کی شادی ہو گئی۔شادی کے بعد آپ نے اپنے گاؤں کی مسجد میں بچوں کو پڑھانے،گھروں میں جا کر تعلیم دینے اور قرب وجوار میں تبلیغ کا سلسلہ شروع کر دیا۔کبھی کبھار صبح دم گھر سے نکل کر ڈیروں،تھانوں اور کچہریوں کا رخ کرتے اور وہاں موجود لوگوں کو نماز کی تلقین کرتے۔اس سلسلے میں انہیں کئی بار مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔کبھی کبھار ایک دن میں پانچ سے زیادہ دیہات میں جاکر تبلیغ کر آتے۔آپ کے اندر انسانی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ایک مرتبہ ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جس کے سر پہ خاصا بوجھ تھا آپ نے وہ بوجھ اپنے سر لے لیا اور بوڑھے سے کہا کہ میرے حق میں دعا کر دینا۔آپ نے جب پہلا حج کیا تھا تو کم عمری کا یہ عالم تھا کہ ابھی داڑھی بھی نہیں اُگی تھی۔اس پہلے حج کے دوران آپ نے حجاز مقدس میں کم و بیش چار ماہ گزارے اور ایک دن میں 18، 18 طواف کیے۔آپ کے اس انداز کو دیکھ کر حرم کے ایک شیخ نے کہا تھا» یہ لڑکا تو حرم کا کبوتر لگتا ہے۔1975 میں آپ نے ستیانہ بنگلہ میں ایک چھوٹی سی مسجد کی بنیاد رکھی۔مسجدکی جگہ کیسے خریدی؟ یہ ایک بڑی ایمان افروز بات ہے۔اس سلسلے میں آپ نے اپنی والدہ ماجدہ کے سامنے یہ پریشانی رکھی۔دریا دل ماں نے کہا:بیٹا پریشان نہ ہوں، میرا سونا بیچ کر مسجد کی جگہ خرید لیں!چنانچہ جگہ خرید لی گئی۔مسلک کے اختلاف کی بنا پر مقامی لوگوں نے دھمکیاں بھی دیں اور مخالفتیں بھی کیں ۔مگر رب کو اپنا گھر یہاں منظور تھا۔ جوبالآخر بن کے رہا۔ 1978 میں مسجد کی تکمیل ہوئی۔تکمیل کے بعد آپ نے اسی مسجد میں حفظ القران کے شعبے کا آغاز کردیا۔ٹھیک دو برس بعد 1980میں یہاں دور ہ تفسیرالقرآن شروع کردیا گیا۔ اس تدریسی عمل کی ذمہ داری حافظ عبداللہ محدث بڈھی مالوی کے کندھوں پر ڈال دی گئی جسے انھوں نےچار سال یعنی اپنی وفات تک نبھایا اور خوب نبھایا۔ نتیجتاً قرب وجوار سے طلباء کا تانتا بندھ گیا۔چنانچہ جلد ہی درس نظامی کا شعبہ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔جس کے لیے شیخ الحدیث حافظ عبدالغفار اعوان المدنی (اوکاڑہ) اور شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ امجد چھتوی رحمہ اللہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔اس سلسلے میں برلب نہر ایک ایکڑ کا خالی پلاٹ نظرآیا۔ان دنوں ڈاکٹر محمد راشد رندھاوا مرحوم پاکستان بیت المال کے چیئرمین اورمیاں محمد نواز شریف کے معالج خاص تھے۔ڈاکٹر صاحب نے ایک دن اس سلسلے میں میاں محمد نواز شریف سے بات کی جو منظور کر لی گئی چنانچہ یہ رقبہ سرکاری ریٹ پرمل گیا۔1990 میں اس کا سنگ بنیاد رکھ دیاگیا۔اور 1993 میں یہ عالی شان عمارت مکمل ہوگئی۔مسجد کے اخراجات ڈاکٹر عامر قریشی نے جب کہ مدرسہ کی عمارت کے لوازمات ڈاکٹر راشد رندھاوا کے بھائی خالد رندھاوا نے اپنے ذمہ لے لیے۔آج یہ ادارہ پاکستان میں ایک بہترین ادارہ ہے۔اس کے فارغ التحصیل علماء ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ ادارہ ہذا کا سعودی عرب کی کئی ایک یونیورسٹیوں سے معادلہ بھی ہو چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کئی طلباء اس وقت بھی سعودی عرب کی مختلف یونی ورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں جبکہ بیشتر فارغ ہوکر وطن عزیز میں دین حنیف کی خدمت کررہے ہیں۔الحمدللہ
باقی سب کچھ اس کتاب میں چھپ کر آجائےگا جس کی تصنیف و تحقیق کی ذمہ داری میرے معلم و مربی مولانا عتیق اللہ سلفی رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ کے صاحبزادے مولانا عبد الخالق صاحب نے پانچ مہینے قبل حضرت سلفی صاحب مرحوم و مغفور کی موجودگی میں میرے نحیف و ناتواں کندھوں پر ڈال دی۔جسے میں پورا کرنے میں لگا ہوا ہوں۔بڑی حسرت تھی کہ اپنے شیخ گرامی کو اپنے ہاتھوں یہ کتابی تحفہ پیش کرتا مگر قدرت کے کیا فیصلے ہیں،نہیں جانتا۔
