نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ

لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی لغوی معنی ہے «آرام کرنا» یا «راحت حاصل کرنا»۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’رمضان کی راتوں میں جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کو تراویح اس لیے کہا جاتا ہے کہ جب لوگوں نے سب سے پہلے اس نماز کو اکٹھے پڑھنا شروع کیا تو وہ ہر دو سلام کے درمیان آرام کیا کرتے تھے۔‘‘ (فتح الباري: 250/4)

2۔ تراویح کی شرعی حیثیت

تراویح ایک مسنون عمل ہے اس پر علماء کے مختلف اقوال وارد ہوئے ہیں۔ علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’رمضان کے مہینے کا قیام سنت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا آغاز کیا، لیکن پھر اسے اس خوف سے چھوڑ دیا کہ کہیں یہ آپ کی امت پر فرض نہ ہو جائے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کی موجودگی میں اسے دوبارہ جاری کیا اور کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا بلکہ سب نے اس کے عمل پر اتفاق کیا۔ ‘‘(الكافي: 255/1)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’علماء نے اس کے مستحب ہونے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘ (شرح صحيح مسلم: 39/6)

ابن رشد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’اور اس پر اجماع کہ رمضان کے مہینے کا قیام باقی مہینوں کی نسبت زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘(بداية المجتهد: 219/1)

امام سرخسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’تراویح سنت ہے جسے ترک کرنا جائز نہیں۔‘‘(المبسوط: 145/2)

3۔تراویح کی فضیلت

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

«مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ».

’’جس نے رمضان کے مہینے میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے تمام پچھلےگناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘(صحيح بخاری: 37)

ایک روایت کے لفظ ہیں:

مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قدر کی رات قیام کیا، اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔» (صحیح بخاری: 1901)

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اور جان لو کہ مومن کے لیے رمضان کے مہینے میں اپنے نفس کے ساتھ دو قسم کے جہاد جمع ہوتے ہیں: دن میں روزے رکھنے کا جہاد، اور رات میں قیام کرنے کا جہاد۔ جو شخص ان دونوں جہادوں کو جمع کر لے، وہ ان کے حقوق کو ادا کرتا ہے، اور ان پر صبر کرتا ہے، اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اسے بے حساب اجر دے گا۔‘‘ (لطائف المعارف: 171/1)

4۔صحابہ میں تراویح ادا کرنے کا شوق

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی ۔ صحابہ نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ یہ نماز پڑھی ۔ دوسری رات بھی آپ ﷺ نے یہ نماز پڑھی تو نمازیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تیسری یا چوتھی رات تو پورا اجتماع ہی ہو گیا تھا ۔ لیکن نبی کریم ﷺ اس رات نماز پڑھانے تشریف نہیں لائے ۔ صبح کے وقت آپ ﷺ نے فرمایا: 

قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ    وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ.

’’تحقیق میں نے تمہارے فعل کو دیکھا ہے لیکن مجھے باہر آنے سے یہ خیال مانع رہا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے ۔ یہ رمضان کا واقعہ تھا ۔ (صحیح بخاری: 1129)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز تراویح میں اپنے ذوق کے باعث بہت طویل قرأت کیا کرتے تھے۔ سائن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: 

«أَمَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَتَمِيمًا الدَّارِيَّ أَنْ يَقُومَا لِلنَّاسِ بِإِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً. قَالَ: وَقَدْ كَانَ الْقَارِئُ يَقْرَأُ بِالْمِئِينَ، حَتَّى كُنَّا نَعْتَمِدُ عَلَى الْعِصِيِّ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، وَمَا كُنَّا نَنْصَرِفُ إِلَّا فِي فُرُوعِ الْفَجْرِ».

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم بن داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت تراویح پڑھائیں۔ کہا: اور اس وقت قاری سو سے زیادہ آیات پڑھا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم قیام کی طوالت کی وجہ سے عصیوں (سہاروں) پر ٹیک لگا لیتے تھے، اور ہم فجر کے وقت ہے اس سے فارغ ہوتے تھے۔ (مؤطا مالك: 302)

عبداللہ بن ابوبکر اپنے والد ابوبکر بن محمد خزرجی رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں: 

«كُنَّا نَنْصَرِفُ فِي رَمَضَانَ، فَنَسْتَعْجِلُ الْخَدَمَ بِالطَّعَامِ ؛ مَخَافَةَ الْفَجْرِ».

جب ہم رمضان میں تراویح سے فارغ ہوتے تو اپنے خدام سے کھانا مانگنے میں جلدی کرتے تاکہ فجر نہ ہو جائے۔ (موطا مالك: 305)

5۔ سلف صالحین میں تراویح ادا کرنے کا شوق

امام مروزی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:

فَكانَ سُوَيْدٌ: يَقُومُ فِي رَمَضَانِ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ بِالنَّاسِ۔

«سوید رحمہ اللہ رمضان میں لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے جب کہ وہ ایک سو بیس سال کے تھے۔»(مختصر قیام اللیل للمروزي: 385/1)

سعید بن عامر نے اسماء بن عبید اللہ سے بیان کیا ہے کہ ہم ابو رجاء العطاردی کے پاس گئے، اور سعید نے کہا: یہ کہا گیا کہ ان کی عمر 130 سال تک پہنچی۔ابو رجاء نے بتایا: ’’وہ لوگ مجھے اٹھا کر اس طرح لے آتے جیسے میں ایک بوری ہوں اور مجھے امام کے مقام پر رکھ دیتے، پھر میں ان کے ساتھ ہر رکعت میں تیس آیات پڑھتا، اور مجھے یاد ہے کہ شاید انہوں نے کہا: چالیس آیات ،اور یہ رمضان میں ہوتا تھا۔‘‘(مختصر قیام اللیل للمروزي: 224/1)

6۔ تراويح کا وقت

امام نووی رحمه الله فرماتے ہیں:

«يَدْخُلُ وَقْتُ التَّرَاوِيحِ بِالْفَرَاغِ مِنْ صَلاةِ الْعِشَاءِ»

’’نماز عشاء سے فراغت کے بعد تراویح کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔‘‘(المجموع: 32/4)

تراویح کو زیادہ موخر کرکے جماعت کو تکلیف میں ڈالنا صحیح نہیں۔

ابن قدامہ رحمه الله فرماتے ہیں: ’’امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے کہا گیا: کیا تراویح کو آخر رات تک مؤخر کیا جا سکتا ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: نہیں! مجھے مسلمانوں کا طریقہ محبوب ہے۔‘‘(المغني: 125/2)

قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’میں نے کہا: کیونکہ تاخیر کرنے میں اس بات کا خدشہ ہے کہ نیند کے غلبے کی وجہ سے بہت سے لوگوں سے یہ نماز ضائع ہو جائے گی۔‘‘(بدائع الفوائد: 110/4)

7۔تراویح کی رکعات

ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا:

كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ : مَا كَانَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً.

رسول اللہ ﷺ رمضان میں (تراویح) کتنی رکعتیں پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا: رمضان ہویا کوئی اور مہینہ آپ گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔ (صحیح بخاری: 2013)

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ فرماتے ہیں:

صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَالْوِتْرَ

.’’رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رمضان میں آٹھ رکعات (تراویح) اور وتر پڑھائے۔‘‘(صحيح ابن خزيمة: 1070)

ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’زیادہ تر آثار اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی نماز تراویح گیارہ رکعات پر مشتمل تھی۔‘‘ (الاستذكار: 98/2)

8۔ ہر دو رکعت بعد استفتاح پڑھنا

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ہر نماز پڑھنے والے چاہے امام ہو، مقتدی ہو، انفرادی طور پر نماز پڑھنے والا ہو، عورت ہو، بچہ ہو، مسافر ہو، فرض ادا کرنے والا ہو، نفل پڑھنے والا ہو، بیٹھا ہوا ہو، لیٹا ہوا ہو یا کوئی اور سب کے لیے یہ مستحب ہے کہ وہ تکبیرۃ الإحرام کے بعد دعاء الاستفتاح پڑھے۔(المجموع: 318/3)

سعودی علماء کا فتوی ہے:’’نماز تراویح میں صرف پہلی رکعت میں دعاء الاستفتاح کافی نہیں ہے بلکہ ہر دو رکعتوں کے آغاز میں دعاء الاستفتاح پڑھنا مستحب ہے، جیسے فرض نماز میں ہوتا ہے؛ کیونکہ نبی ﷺ رات کی نفل نماز میں دعاء الاستفتاح پڑھا کرتے تھے، اور اس لیے بھی کہ اصولاً نفل اور فرض نماز میں مساوات ہے سوائے ان مسائل کے جن میں دلیل سے فرق ثابت ہو۔ ‘‘(فتاوى اللجنة الدائمة: 313/5)

9۔تراویح میں کتنی تلاوت کی جائے؟

اس حوالے سے کوئی حد مقرر نہیں جتنا آسانی سے ہو سکے مناسب تلاوت کی جا سکتی ہے۔

اللہ رب العالمین کا فرمان ہے:

فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ (المزمل: 20)

جتنا  قرآن پڑھنا  تمہارے لیے  آسان  ہو اتنا ہی پڑھو۔

سو آیتیں یا ایک ہزار آیتیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِينَ.

’’ جس شخص نے دس آیتوں سے قیام کیا وہ غافلوں میں شمار نہیں ہوتا اور جو سو آیتوں سے قیام کرے وہ ’’ قانتين ‘‘ (عابدین) میں لکھا جاتا ہے ۔ اور جو ہزار آیتوں سے قیام کرے وہ  ’’ المقنطرين ‘‘. (بے انتہا ثواب جمع کرنے والوں) میں لکھا جاتا ہے ۔‘‘ (سنن ابی داود: 1398)

لیکن اس امر کا خیال رکھا جائے کہ مقتدیوں پر گراں نہ گزرے کیوں کہ مقتدیوں میں کمزور ،حاجت مند اور بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ علامہ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا امام کو تراویح کی نماز میں بزرگوں اور دیگر کمزور لوگوں کا خیال رکھنا چاہیے؟ انہوں نے جواب دیا: ’’یہ تمام نمازوں میں مطلوب ہے، خواہ تراویح ہو یا فرض نمازیں۔‘‘

10۔ آمین کہنے میں جلد بازی کرنا

بعض لوگ قنوت وغیرہ میں ایسی جگہ آمین کہہ دیتے ہیں جو محل آمین کہنے کا نہیں ہوتا۔ بلکہ آمین کہتے وقت سمجھنا چاہیے کہ امام کیا کہہ رہا ہے۔

ابن نصر مروزی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:’’معاذ قاری نے اپنے قنوت میں کہا: اللَّهُمَّ قَحْطُ المَطَرِ «اے اللہ! بارش روک دے۔» تو لوگوں نے کہا: «آمین» جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: «میں نے کہا تھا: ‘اے اللہ! بارش روک دے،› اور تم نے کہا: ‘آمین۔ کیا تم نہیں سنتے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور تم آمین کہہ دیتے ہو؟۔‘‘ (مختصر قيام الليل: 326/1)

11۔ کیا قرآن کا ختم نکالنا بدعت ہے؟

تراویح میں مکمل قرآن کا ختم نکالنا سلف صالحین سے ثابت ہے ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:’’جہاں تک تراویح میں قرآن کی تلاوت کا تعلق ہے تو یہ مسلمانوں کے ائمہ کے اتفاق سے مستحب ہے۔ بلکہ تراویح کا سب سے عظیم مقصد ہی یہ ہے کہ اس میں قرآن پڑھا جائے تاکہ مسلمان اللہ کا کلام سن سکیں۔ کیونکہ رمضان کے مہینے میں ہی قرآن نازل ہوا اور اسی مہینے میں جبرائیل علیہ السلام نبی ﷺ کے ساتھ قرآن کا دور کیا کرتے تھے۔ نبی ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے اور قرآن کا دور کرتے تو آپ کی سخاوت عروج پر ہوتی تھی۔(الفتاوى: 123/23)

ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اور یہ اس لیے مستحب قرار کیا گیا ہے کہ قرآن مکمل کیا جائے تاکہ ثواب مکمل ہو جائے۔(المغني: 127/2)

قاضی ابویعلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’رمضان کے مہینے میں قرآن کی تکمیل سے کمی کرنا مستحب نہیں ہے تاکہ لوگ پورا قرآن سن سکیں۔‘‘ (المغني: 124/2)

12۔شبینہ کا اہتمام کرنا

بعض لوگ ایک یا دو تین حفاظ کو جمع کرکے صبح صادق سےقبل  پورے قرآن کا ختم مکمل کر دیتے ہیں جسے شبینہ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں اور نہ ہی صحابہ کرام ، تابعین واتباع تابعین  سے ثابت ہے۔  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ

’’جس شخص نے تین دن سے کم میں قرآن پڑھا، اس نے اسے سمجھا ہی نہیں ۔‘‘(سنن ابی داود: 1394)

منتظمین شبینہ میں سے کم ہی ایسے ہوتے ہیں جو اس عبادت میں شریک ہوں۔حافظ کے پیچھے  نماز میں صرف دو چار آدمی کھڑے ہوتے ہیں اور یہ بھی آخر تک کئی بیٹھکیں کرتے ہیں۔ باقی سب حاضرین تماشادیکھتے رہتے ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہےکہ مسجد سے باہر اور اندر بھی لوگ گپ شپ کرتے رہتے ہیں یاصف کےقریب سوجاتے ہیں اور مسجد میں ہوا چھوڑتے رہتے ہیں پس ایسی عبادت بجائے ثواب کےباعث عتاب نہیں تو اور کیا ہوگی۔(فتاوی مبارکپوری: 151/2)

13۔اچھی تلاوت کے حامل کی اقتداء لازم کرنا

بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ایسی مسجد تلاش کرتے ہیں جہاں خوش الحان قاری ہو یہ عمل درست نہیں بلکہ بندہ اپنی قریبی مسجد میں ہی تراویح ادا کر لے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: 

لِيُصَلِّ الرَّجُلُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يَلِيهِ وَلَا يَتَّبِعِ الْمَسَاجِدَ۔

آدمی کو چاہیے کہ اسی مسجد میں نماز پڑھے جو اس کے قریب ہو اور مساجد کے پیچھے نہ جائے۔ (الصحيحة: 2200)

محمد بن بحر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’میں نے ابو عبداللہ رحمہ اللہ کو رمضان کے مہینے میں دیکھا کہ فضل بن زیاد قطان آئے اور انہوں نے ابو عبداللہ کے ساتھ تراویح کی نماز پڑھی۔ وہ خوش الحان قاری تھے۔ پس مشائخ اور کچھ پڑوسی جمع ہوگئے یہاں تک کہ مسجد بھر گئی۔ ابو عبداللہ باہر آئے اور مسجد کے درجے پر چڑھ کر مجمع کو دیکھا تو فرمایا: «یہ کیا ہے؟ تم اپنی مساجد کو چھوڑ دیتے ہو اور دوسری مسجدوں میں آتے ہو؟» پھر انہوں نے چند راتوں تک ان کے ساتھ نماز پڑھائی، پھر اسے ترک کر دیا کیونکہ وہ مساجد کو خالی چھوڑنے کو ناپسند کرتے تھے، اور فرمایا کہ مسجد کے پڑوسی کو اپنی مسجد میں نماز پڑھنی چاہیے۔‘‘(بدائع الفوائد: 111/4)

14۔مصحف سے دیکھ کر تراویح پڑھانا

تراویح پڑھانے والا شخص قرآن مجید اٹھا کر دیکھ کر تلاوت کر سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ صحیح بخاری میں تعلیقا نقل کرتے ہیں:

وَكَانَتْ عَائِشَةُ يَؤُمُّهَا عَبْدُهَا ذَكْوَانُ مِنَ الْمُصْحَفِ.

عائشہ صدیقہ کا غلام ذکوان مصحف سے دیکھ کر ان کی امامت کیا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: 140/1)

امام زہری رحمہ اللہ سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو رمضان میں مصحف سے دیکھ کر تراویح پڑھاتا ہے آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا:

مَا زَالُوا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ مُنْذُ كَانَ الإِسْلَامُ، كَانَ خِيَارُنَا يَقْرَءُونَ فِي المَصَاحِفِ.

وہ لوگ اسلام کے آغاز سے ہی ایسا کرتے رہے ہیں، ہمارے بہترین لوگ مصاحف سے تلاوت کیا کرتے تھے۔(مختصر قيام الليل للمروزي: 233/1)

امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کوئی حرج نہیں کہ امام لوگوں کو قیام کی نماز پڑھائے اور مصحف (قرآن) کی طرف دیکھے۔ پوچھا گیا: فرض نماز میں بھی؟ تو فرمایا: نہیں، اس بارے میں میں نے کچھ نہیں سنا۔(المغني: 411/1)

علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لَا حَرَجَ فِي القِرَاءَةِ مِنَ المُصْحَفِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ، لِمَا فِي ذَلِكَ مِن إِسْمَاعِ المَأْمُومِينَ جَمِيعَ القُرْآنِ، وَلِأَنَّ الأَدِلَّةَ الشَّرْعِيَّةَ مِنَ الكِتَابِ وَالسُّنَّةِ قَدْ دَلَّتْ عَلَى شَرْعِيَّةِ قِرَاءَةِ القُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ، وَهِيَ تَعُمُّ قِرَاءَتَهُ مِنَ المُصْحَفِ وَعَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَمَرَتْ مَوْلَاهَا ذَكْوَانَ أَنْ يُؤُمَّهَا فِي قِيَامِ رَمَضَانَ، وَكَانَ يَقْرَأُ مِنَ المُصْحَفِ، ذَكَرَهُ البُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي صَحِيحِهِ مُعَلَّقًا مَجْزُومًا بِهِ.

رمضان کے قیام میں مصحف سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس میں مقتدیوں کو پورا قرآن سنانے کا فائدہ ہے۔ نیز کتاب و سنت کے شرعی دلائل اس بات کی طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ نماز میں قرآن کی تلاوت مشروع ہے، اور یہ تلاوت مصحف سے بھی ہو سکتی ہے اور زبانی بھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ انہوں نے اپنے غلام ذکوان کو حکم دیا کہ وہ رمضان کے قیام میں انہیں امامت کروائیں، اور وہ مصحف سے تلاوت کرتے تھے۔(مجموع فتاوى ابن باز: 40/30)

15۔ تراویح میں مقتدی کا مصحف اٹھانا

علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:مجھے اس بات کی کوئی اصل معلوم نہیں ہے، اور ظاہر یہ ہے کہ مقتدی کو چاہیے کہ خشوع اور اطمینان سے نماز پڑھے اور مصحف نہ اٹھائے۔ بلکہ سنت یہی ہے کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کی پشت، کلائی اور بازو پر رکھے اور انہیں سینے پر رکھے۔ یہی راجح اور افضل طریقہ ہے۔

مصحف اٹھانے سے یہ سنت چھوٹ جاتی ہے، نیز یہ دل اور نظر کو صفحات اور آیات دیکھنے میں مشغول کر دیتا ہے اور امام کی قرأت سننے سے غافل کر سکتا ہے۔ اس لیے میری رائے میں مصحف نہ اٹھانا سنت ہے، اور مقتدی کو چاہیے کہ امام کو توجہ سے سنے اور انصات کرے۔ اگر اسے قرآن یاد ہو تو امام کو لقمہ دے، ورنہ کوئی اور دے دے۔اگر امام سے غلطی ہو جائے اور لقمہ نہ دیا جا سکے تو اس سے کوئی نقصان نہیں، سوائے سورہ فاتحہ کے، کیونکہ فاتحہ نماز کا رکن ہے جو ضروری ہے۔ البتہ فاتحہ کے علاوہ کوئی آیت رہ جائے تو اس کا نقصان نہیں اگر مقتدیوں میں سے کوئی اسے توجہ نہ دلائے۔اگر ضرورت کے وقت کوئی ایک شخص امام کے لیے مصحف تھام لے تو اس میں حرج نہیں، لیکن ہر شخص کا مصحف اٹھانا سنت کے خلاف ہے۔ (مجموع فتاوى ابن باز: 341/11)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: «رمضان میں تراویح کے دوران مقتدیوں کے لیے مصحف اٹھانے کا حکم کیا ہے، تاکہ امام کی متابعت کی جا سکے؟» آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا:’’اس مقصد کے لیے مصحف اٹھانا سنت کے خلاف ہے، اور اس کی مخالفت درج ذیل پہلوؤں سے ظاہر ہوتی ہے: پہلا پہلو: یہ عمل قیام کے دوران دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کی سنت کو فوت کر دیتا ہے۔ دوسرا پہلو: اس سے غیر ضروری حرکات جن کی کوئی حاجت نہیں ہوتی، پیدا ہوتی ہیں، جیسے مصحف کا کھولنا، بند کرنا اور بغل میں رکھنا۔ تیسرا پہلو: یہ عمل نمازی کو ان غیر ضروری حرکات میں مشغول کر دیتا ہے۔ چوتھا پہلو: نمازی کے لیے سجدے کی جگہ دیکھنے کی سنت فوت ہو جاتی ہے، جبکہ اکثر علماء کے نزدیک سجدے کی جگہ دیکھنا سنت اور افضل ہے۔ پانچواں پہلو: اس عمل کے کرنے والا شاید یہ بھی بھول جائے کہ وہ نماز میں ہے، کیونکہ اس کا دل اس بات کو نہیں محسوس کرے گا کہ وہ نماز میں ہے۔ اس کے برعکس جب نمازی خشوع کے ساتھ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے اور سر جھکائے سجدے کی طرف دیکھ رہا ہو تو اس کا نماز میں ہونا زیادہ مستحضر رہتا ہے۔‘‘(مجموع فتاوى ورسائل العثيمين: 232/14)

16۔تلاوت میں استمرار باقی نہ رکھنا

بعض قاری حضرات تلاوت کا بعض حصہ فجر یا عشاء میں پڑھ لیتے ہیں تاکہ ختم جلدی پورا ہو جائے یہ عمل درست نہیں۔ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ کوشش اپنی (صحیح) جگہ پر نہیں ہے۔‘‘(جلسات رمضانية: 15/21)

اسی طرح بعض قاری حضرات تلاوت کا کچھ حصہ نماز کے علاوہ عام حالات میں پڑھ لیتے ہیں یہ عمل بھی درست نہیں۔ شیخ بن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ بعض ائمہ کو قیامِ رمضان میں قرآن ختم کرنا ممکن نہ ہواتو انہوں نے نماز کے علاوہ قرآن پڑھنے کا سہارا لیا تاکہ انتیسویں رات قرآن ختم کر سکیں۔ کیا اس کا شریعت میں کوئی ثبوت ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا: اس کا مجھے کوئی ثبوت معلوم نہیں۔ سنت یہ ہے کہ امام رمضان کے قیام میں مکمل قرآن سنائے، بشرطیکہ یہ بغیر مشقت کے ممکن ہو۔ اگر میسر نہ ہو تو قرآن مکمل نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان صحیح ثابت ہے: «مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ».«جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے حکم کے مطابق نہ ہو تو وہ عمل مردود ہے۔»(مجموع فتاوى ابن باز: 34/30)

17۔کیا تراویح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شروع کی؟

عبدالرحمان بن عبدالقاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:’’میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گیا۔ سب لوگ متفرق اور منتشر تھے ، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا ، اور کچھ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے ۔ اس پر سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، میرا خیال ہے کہ اگر میں تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ اچھا ہو گا ، چنانچہ آپ نے یہی ٹھان کر اُبی ابن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کا امام بنا دیا ۔ پھر ایک رات جو میں ان کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز ( تراویح ) پڑھ رہے ہیں ۔

جس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

نِعْمَ الْبِدْعَةُ هَذِهِ ، وَالَّتِي يَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ ، وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ.

یہ نیا طریقہ بہتر اور مناسب ہے اور ( رات کا ) وہ حصہ جس میں یہ لوگ سو جاتے ہیں اس حصہ سے بہتر اور افضل ہے جس میں یہ نماز پڑھتے ہیں ۔ آپ کی مراد رات کے آخری حصہ ( کی فضیلت ) سے تھی ۔ کیونکہ لوگ یہ نماز رات کے شروع ہی میںپڑھ لیتے تھے ۔ (صحیح بخاری: 2010)

تراویح کی ابتداء خود رسول اللہ ﷺ نے شروع فرمائی پھر صحابہ کرام کا ذوق شوق دیکھ کر آپ نے اسے ترک کر دیا کہ کہیں مسلمانوں پر یہ فرض نہ ہو جائے سیدنا عمر بن خطاب نے آپ کی وفات کےبعد اسے جاری رکھا کیونکہ اب فرض ہونے کا خدشہ باقی نہ رہا جبکہ سیدنا عمر کا اسے اچھی بدعت کہنا لغوی ہے نہ کہ شرعی ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’یہ ایک لغوی تسمیہ ہے، شرعی تسمیہ نہیں ہے، کیونکہ بدعت لغت میں ہر اس عمل کو شامل کرتی ہے جو بغیر کسی سابقہ مثال کے ابتدا سے کیا جائے۔ جبکہ شرعی بدعت وہ ہے جو کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ ہو۔ (اقتضاء الصراط المستقيم: 95/2)

حافظ ابن رجب رحمہ الله فرماتے ہیں:

علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول: (یہ بہترین بدعت ہے)۔ میں انہوں نے بدعت سے مراد شرعی بدعت نہیں لی تھی، جو دین میں کسی ایسی چیز کا اضافہ کرنا ہے جو پہلے سے موجود نہ ہو، بلکہ انہوں نے بدعت سے مراد لغوی معنی لیا ہے، یعنی وہ نیا کام جو اس سے پہلے معروف نہ تھا۔‘‘(صلاة التراويح للالباني: 50/1)

18۔تراویح اور قیام اللیل میں فرق

شیخ عبداللہ ابا بطین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’اور جو کچھ عوام کی زبان پر آتا ہے، کہ جو نماز پہلی رات میں پڑھیں اسے تراویح کہتے ہیں اور جو اس کے بعد پڑھیں وہ قیام رمضان ہے، یہ ایک عوامی تفریق ہے۔ حقیقت میں، دونوں ہی قیام اور تراویح ہیں؛ اور قیام رمضان کو تراویح اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ لوگ ہر چار رکعات کے بعد آرام کیا کرتے تھے کیونکہ وہ نماز کو طویل کرتے تھے۔‘‘(الدرر السنية: 369/4)

علامہ عبدالعزیز ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’رمضان کی تمام نمازوںکو قیام کہا جاتا ہے۔ (مجموع فتاوى ابن باز: 338/11)

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کے متعلق رقمطراز ہیں:’’اگر امام نے تراویح کو پہلی رات میں مکمل کر لیا تو انہیں پسند نہیں ہوتا کہ وہ انہیں آخری رات میں ایک اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھائیں، کیونکہ انس بن مالک اور سعید بن جبیر سے اس کی کراہت مروی ہے۔ اور اگر امام نے پہلی رات میں مکمل نہیں کیا اور تراویح کا اختتام آخری رات تک کیا، تو اس میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ (فتح الباري لابن رجب: 176/9)

19۔تراویح جماعت کے ساتھ ادا کی جائے گی

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’علمائے کرام کا نماز تراویح کے مستحب ہونے پر اتفاق ہے، تاہم اس بارے میں اختلاف ہے کہ کیا گھر میں اکیلے نماز تراویح پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں ، باجماعت ادا کرنا افضل ہے؟ تو امام شافعی، ان کے جمہور شاگرد، ابو حنیفہ، احمد سمیت کچھ مالکی فقہائے کرام اور دیگر کا یہ موقف ہے کہ: نماز تراویح با جماعت افضل ہے، جیسے کہ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا اور مسلمانوں کا بھی اس پر عمل جاری ہے۔‘‘(شرح صحیح مسلم: 39/6)

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ.

جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ امام نماز پوری کر لے تو اس کے لئے ساری رات قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ (سنن ترمذی: 806)

عبدالرحمان بن عبدالقاری رحمہ اللہ کا بیان (17) نمبر میں ملاحظہ فرمائیں۔

صاحب الشامل نے کہا:’’ابو العباس اور ابو اسحاق نے فرمایا کہ تراویح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا انفرادی نماز سے بہتر ہے، کیونکہ صحابہ کرام اور اہل امصار کا اس پر اجماع ہے۔(المجموع: 32/4)

20۔غیر رمضان کو تراویح ادا کرنا

اگر کچھ لوگ غیر رمضان میں باجماعت تراویح کے انداز میں قیام کریں تو یہ عمل مسنون نہیں ہے۔

امام ابوداود رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:’’امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: «کیا وہ رمضان کے علاوہ نفل نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جاسکتی ہے؟» آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: «میں نے ایسا کچھ نہیں سنا۔»(مسائل الامام احمد: 90)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا:’’رمضان کے علاوہ تراویح بدعت ہے، اگر لوگ رمضان کے علاوہ مساجد میں جماعت کے ساتھ قیام اللیل (رات کی نماز) کے لیے جمع ہوں تو یہ بدعتوںمیں سے ہوگا۔‘‘(الشرح الممتع على زاد المستقنع: 60/4)

21۔امام اور ماموم کی نیت میں فرق

اگر کسی شخص سے عشاء کی نماز نکل جاتی ہےاور اس کے پہنچنے پر تراویح پڑھی جا رہی ہواور وہ تراویح پڑھانے والے امام کی اقتداء میں عشاء کی نیت کر لیتا ہے تو اس طرح جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ تِلْكَ الصَّلَاةَ.

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھتے تھے، پھر اپنی قوم کے پاس واپس جا کر وہی نماز ان کو دوبارہ پڑھاتے تھے۔ (صحیح بخاری: 465)

سعودی علماء سے سوال کیا گیا:’’جب کوئی شخص عشاء کی نماز کے بعد آئے جبکہ نماز ختم ہو چکی ہو، اور امام تراویح پڑھا رہا ہو، تو کیا وہ امام کے پیچھے عشاء کی نیت سے نماز پڑھے یا الگ نماز قائم کرے یا جماعت مل جائے تو اس کے ساتھ پڑھے؟ انہوں نے جواب دیا: «یہ جائز ہے کہ عشاء کی نماز اس جماعت کے ساتھ پڑھی جائے جو تراویح پڑھ رہی ہے۔ جب امام دو رکعت پر سلام پھیر دے تو عشاء پڑھنے والا کھڑا ہو کر باقی دو رکعت مکمل کرے تاکہ اس کی عشاء کی نماز پوری ہو جائے۔‘‘(فتاوى اللجنة الدائمة: 407/7)

22۔ختم قرآن کے بعد دعا کرنا

تراویح میں قرآن کریم ختم کرنے کے بعد دعا کا اہتمام کرنا صحیح عمل ہے جس پر سلف صالحین کا عمل رہا ہے۔ ثابت البنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

كَانَ أَنَسٌ إِذَا خَتَمَ الْقُرْآنَ جَمَعَ وَلَدَهُ وَأَهْلَ بَيْتِهِ فَدَعَا لَهُمْ.

جب سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ قرآن مکمل کرتے تو وہ اپنے اہل و عیال اور بچوں کو جمع کرتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ (سنن دارمی: 3517)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:’’سلف کے ایک گروہ سے روایت ہے کہ ہر قرآن کی تکمیل کے بعد دعا قبول ہوتی ہے۔ جب آدمی ختم قرآن کے بعد اپنے لیے، اپنے والدین، اپنے اساتذہ اور دیگر مومن مردوں و عورتوں کے لیے دعا کرتا، تو یہ دعا کرنے کا طریقہ مشروع (جائز) تھا۔‘‘(مجموع الفتاوى: 322/24)

شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’مجھے اس بات میں کوئی اختلاف معلوم نہیں ہوتا کہ قرآن ختم کرنے کے بعد دعا کرنامستحب ہے۔‘‘(مجموع فتاوى ابن باز: 356/11)

یہ دعا تو نماز سے خارج ہے اگر نماز میں بھی دعاکی جائے تو یہ بھی درست ہے۔

سعودی علماء سے سوال کیا گیا: کیا قرآن کا اختتام کرنے پر دعا کرنا جائز ہے؟ میں نے سنا ہے کہ یہ بدعت ہے، کیا یہ بات صحیح ہے؟ مشائخ نے جواب دیا:’’قرآن کے اختتام پر دعا کرنا سلف کا عمل تھا، کیونکہ یہ خیر القرون میں موجود تھا، جہاں وہ قرآن کے ختم ہونے پر حاضر ہوتے تھے۔‘‘(فتاوى اللجنة الدائمة: 74/6)

23۔دعا میں آواز بلند کر لینا

بعض لوگ دعا میں بہت زیادہ آواز بلند کرلیتے ہیں اوربعض ائمہ تو چیخ چیخ کر دعا کرتے ہیں اس عمل کو سلف صالحین میں نا پسند کیا گیا ہے اور علماء نے اس عمل کو بدعت کہا ہے۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’دعا میں آواز بلند کرنا بدعت ہے۔(فتح الباري لابن رجب: 402/7)

سعيد بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’. لوگوں نے دعا کے وقت آواز بلند کرنے کا طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔‘‘(اقتضاء الصراط المستقيم: 151/2)

24۔تراویح کی دعا میں ہاتھ زیادہ بلند کر لینا

بعض لوگ تراویح ادا کرتے وقت قنوت وغیرہ میں دعا کرتے وقت ہاتھ اٹھانے میں بہت مبالغہ کر لیتے ہیں یہ مسنون نہیں۔  سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، وَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.

نبی ﷺ دعائے استسقاء کے سوا اور کسی دعا کے لیے ہاتھ زیادہ نہیں اٹھاتے تھے اور استسقاء میں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی تھی ۔ (صحیح بخاری: 1031)

حافظ ابن رجب رحمہ اللہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:

إِنَّ أَنَسًا أَرَادَ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ هَذَا الرَّفْعَ الشَّدِيدَ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا مطلب تھا کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ اس قدر بلند نہیں کیے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگے، سوائے نمازاستسقاء (بارش کی دعا) کے۔ (فتح الباري لابن رجب: 217/9)

25۔چیخ کر رونا

نماز میں اللہ کے خوف سے رونا آجانا اللہ کے خوف وخشیت کی علامت ہے صحابہ کرام وسلف صالحین نماز میں اللہ کے خوف سے رویا کرتے تھے لیکن بعض لوگ تراویح میں دوران قنوت چیخ کر روتے ہیں اس عمل سے اجتناب کرنا چاہیے۔ علامہ ابن باز رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: آپ کی اس ظاہری کیفیت کے بارے میں کیا رائے ہے کہ لوگ بلند آواز سے رونے لگتے ہیں؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا: ’’میں نے ایسے لوگوں کو بہت نصیحت کی ہے جو مجھ سے رابطہ کرتے ہیں کہ اس سے بچیں، کیونکہ یہ چیز لوگوں کو تکلیف دیتی ہے، ان کے لیے بوجھ بنتی ہے، اور نمازیوں و قاری پر خلل ڈالتی ہے۔ایماندار شخص کو چاہیے کہ اپنے رونے کی آواز دوسروں کو نہ سنائے اور ریاکاری سے بچے کیونکہ شیطان اسے ریاکاری کی طرف کھینچ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی آواز سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور نہ ہی انہیں تشویش میں مبتلا کرے۔(مجموع فتاوى ابن باز: 342/11)

26۔تراویح اور وتر کے درمیان وعظ ونصیحت کرنا

بعض ائمہ حضرات ہر دو رکعت کے بعد یا چار رکعتوں کے بعد وعظ ونصیحت یا تقریر کرنا شروع کر دیتے ہیں یہ عمل نہ سنت سے ثابت ہے نہ ہی سلف صالحین کے عمل سے اس کا اثبات ہے یہ لوگوں کو تکلیف میں ڈالنے والا عمل ہے۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:

تراویح کے دوران یا بیچ میں وعظ کرنے کا کیاحکم ہے؟

شیخ رحمہ اللہ نے جواب دیا: اس میں کوئی حرج نہیں اگر دوسری سلام کے بعد دیکھے کہ صف ٹیڑھی ہوگئی ہے یا نمازی منتشر ہو گئے ہیں تو کہے: «سیدھے ہو جاؤ» یا «مل کر کھڑے ہو جاؤ»، اس میں کوئی قباحت نہیں۔لیکن وعظ کرنا مناسب نہیں کیونکہ یہ سلف کا طریقہ نہیں ہے۔ ہاں، اگر ضرورت ہو یا تراویح کے بعد دل چاہے تو وعظ کیا جا سکتا ہے۔ اگر اسے عبادت سمجھ کر کیا جائے تو یہ بدعت ہے، اور اس کی علامت یہ ہے کہ ہر رات اس پر دوام ہو۔ پھر ہم پوچھتے ہیں: بھائی، آپ لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہیں؟ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں کوئی کام ہوتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تراویح ختم ہو تو وہ نبی ﷺ کی حدیث:

مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ.

(جس نے امام کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے) کو حاصل کرلیں۔

اگر آپ وعظ کو پسند کرتے ہیں اور نصف یا تین چوتھائی لوگ بھی اسے پسند کرتے ہیں تو اس بنیاد پر باقی لوگوں کو نہ روکیے۔ کیا نبی ﷺ نے نہیں فرمایا:

إِذَا أَمَّ أَحَدُكُمُ النَّاسَ فَلْيُخَفِّفْ؛ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِ ضَعِيفًا وَالْمَرِيضَ وَذَا الْحَاجَةِ

«جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ اس کے پیچھے کمزور، بیمار اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں»۔ یعنی: لوگوں کو اپنے یا ان جیسے لوگوں کے معیار پر نہ تولیے جو وعظ پسند کرتے ہیں، بلکہ ان کے سکون و آرام کو مدنظر رکھیں۔ تراویح پڑھائیں اور جب نماز ختم ہوجائےاور لوگ چلے جائیں تو جتنا چاہیں بات کریں۔ (لقاء الباب المفتوح: 29/118)

27۔تراویح پر معاوضہ مقرر کرنا

بعض قراء حضرات تراویح پڑھانے کی اجرت مقرر کر لیتے ہیں یہ عمل مناسب نہیں جو کچھ ہدیہ مل جائے اسے لے لینے میں کوئی حرج نہیں۔ باقی اس عمل پر لالچ رکھنا اور زیادہ پیسوں کی تمنا کرنا درست نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ایسے امام کے متعلق پوچھا گیا جو اپنی قوم سے کہتا ہے:

«أُصَلِّي بِكُمْ رَمَضَانَ بِكَذَا وَكَذَا دِرْهَمًا؟» قَالَ: «أَسْأَلُ اللهَ العَافِيَةَ، مَنْ يُصَلِّي خَلْفَ هَذَا؟»

میں تمہیں تراویح اتنے اور اتنے درہم میں پڑھاؤں؟» آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: «اللہ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں،  اس کے پیچھے کون نماز پڑھے گا؟»(مسائل الإمام أحمد: 91/1)

28۔تراویح پڑھیں یا طواف کریں؟

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا: جو شخص مکہ میں موجود ہو اس کے لیے کون سا عمل بہتر ہے ، طواف کرنا یا تراویح پڑھنا؟

شیخ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ ہم کہتے ہیں کہ بہتر تراویح پڑھنا ہے، کیونکہ اگر تراویح چھوڑ کر طواف کیا جائے تو جماعت اور امام کے ساتھ تراویح کا ثواب فوت ہو جاتا ہے اور رات بھر قیام کا اجر بھی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «جو شخص امام کے ساتھ اس وقت تک قیام کرے جب تک وہ نماز ختم نہ کر لے، اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔رہی بات طواف کی تو اس کا وقت ختم نہیں ہوتا، یہ بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ یہ ممکن ہے کہ تراویح کے بعد طواف کرے یا دن میں جاکر طواف کرلے۔ کیونکہ اس کا کوئی مقررہ وقت نہیں جو فوت ہو جائے۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ افضل یہ ہے کہ انسان امام کے ساتھ تراویح مکمل کرے تاکہ اسے رات بھر کے قیام کا ثواب مل سکے۔(مجموع فتاوى ورسائل العثيمين: 226/14)

29۔سفر میں تراویح ادا کرنا

شیخ ابن عثیمین سے سوال کیا گیا کہ ایک جماعت جو سفر میں ہے، تو کیا ہم قصر نمازکے ساتھ تراویح پڑھ سکتے ہیں؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا: جی ہاں، آپ تراویح پڑھ سکتے ہیں، قیام اللیل کر سکتے ہیں، اور نمازِ چاشت اور دیگر نوافل پڑھ سکتے ہیں، لیکن ظہر، مغرب، اور عشاء کی سنت مؤکدہ نہیں پڑھیں گے۔(مجموع فتاوى ورسائل العثيمين: 240/14)

30۔اگر تراویح بھول جائے

سعودی علماء سے سوال کیا گیا کہ اس شخص کا کیا حکم ہے جس نے روزہ رکھا لیکن نماز عشاء اور تراویح پڑھنا بھول گیا ؟ مشائخ نے جواب دیا:

روزہ صحیح ہے، اور جو نماز صائم سے بھول کر چھوٹ گئی ہو، اس کی قضا کرنا واجب ہے۔ تاہم، جو تراویح چھوٹ گئی ہو، اس کی قضا واجب نہیں کیونکہ وہ نفل ہے۔ اور اگر وہ دن کے وقت جتنا بھی ممکن ہو سکے نماز پڑھے تو یہ بہتر ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ جب رات کی نماز نیند یا بیماری کی وجہ سے فوت ہو جاتی تو دن کے وقت پڑھ لیتے تھے، اور اسی طرح اگر وتر فوت ہو جائے تو دن کے وقت دو رکعتیں پڑھتے۔(فتاوى اللجنة الدائمة: 153/9)

31۔آن لائن ائمہ حرم کی اقتداء کرنا

سعودی علماء سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ جائز ہے کہ نائجیریا میں مقیم آدمی ٹیلی ویژن کے ذریعے مکہ مکرمہ کے امام کی اقتداء کرے اور اسے اپنا امام بنائے، جب کہ وہ قبلہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہا ہو، اور وہ امام کے افعال دیکھ بھی رہا ہو اور سن بھی رہا ہو، جبکہ مکہ میں تراویح کا وقت ہمارے یہاں نائجیریا میں نفل نماز کے لیے  جائز ہے؟ مشائخ نے جواب دیا: ’’امام کے پیچھے ٹیلی ویژن کے ذریعے اقتداء کرنا نہ مسجد الحرام میں جائز ہے، اور نہ کسی اور جگہ۔ جماعت کی نماز میں یہ مشروع ہے کہ مقتدی امام کے پیچھے ہو اور صفیں آپس میں جڑی ہوئی ہوں، جیسا کہ مسلمانوں کا طریقہ تھا جب وہ نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔(فتاوى اللجنة الدائمة: 342/6)

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

رمضان المبارک کے احکام ومسائل

رمضان کی فرضیت : رمضان کے روزے ہرمکلف مسلمان مرد وعورت پرفرض ہیں اور جوبچے…

1 month ago