قَالَ رَحِمَهُ اللهُ:
شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اللہ کے نام کے ساتھ جو رحمن و رحیم ہے
«بہت ہی عجیب بات ہے اور اللہ کی زبردست قدرت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ چھ اصول ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بالکل صاف اور عام فہم طریقے سے واضح کر دیا ہے، اتنے واضح کہ عام لوگ بھی انہیں سمجھ سکتے ہیں، اس سے کہیں بڑھ کر جتنا گمان کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود دنیا کے بہت سے ذہین اور عقلمند لوگ ان میں غلطی کر بیٹھے، سوائے چند ایک کے۔
شیخ محمد بن عبد الوہاب کہہ رہے ہیں کہ اللہ کی قدرت کی سب سے عجیب نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ
چھ بنیادی دینی اصول ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت اور سادہ طریقے سے بیان کر دیا ہے۔یہ وضاحت اتنی عام فہم ہے کہ عوام الناس بھی بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔
لیکن افسوس کہ ان کے باوجود دنیا کے بڑے بڑے ذہین اور عقلمند لوگ ان میں ٹھوکر کھا گئے۔
یعنی یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے واضح کیا، وہی چیز لوگوں کے لیے مشکل بن گئی۔یہ انسان کی کمزوری اور خواہشاتِ نفس کی گرفت کی علامت ہے۔ قرآن کہتا ہے:
’’ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے؟‘‘
اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کمال یہ ہے کہ اس نے دین کے اصول عوام کے لیے بالکل سادہ بنا دیے۔وحی کا مقصد یہی ہے کہ حق کو واضح کر دیا جائے تاکہ دلیل اور حجت تمام ہو جائے۔فرمانِ باری تعالیٰ:
دین کی اصل تعلیمات کسی مخصوص طبقے یا فلسفیوں کے لیے نہیں بلکہ ہر عام مسلمان کے لیے ہیں۔مثال کے طور پر توحید (اللہ کو اکیلا ماننا)، شرک کی حرمت، اطاعتِ رسول ﷺ کی فرضیت۔یہ اصول اتنے واضح ہیں کہ ایک دیہاتی عورت بھی انہیں سمجھ سکتی ہے۔
یہاں «غلطی» سے مراد یہ ہے کہ بہت سے دانشور، فلاسفہ اور حکمران عقل و فلسفے کے دھوکے میں آ کر سیدھی بات کو بھی نہیں سمجھ سکے۔یہ اس حقیقت کی دلیل ہے کہ ہدایت کا معیار «عقل» نہیں بلکہ «وحی» ہے۔قرآن نے کہا:
ہمیشہ سے اہلِ حق کی تعداد کم رہی ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا:
یعنی: حق پر قائم رہنے والے ہمیشہ قلیل رہیں گے لیکن اللہ کے نزدیک وہی کامیاب ہیں۔
حاصلِ کلام
دین کے چھ اصول (جنہیں آگے شیخ بیان کرتے ہیں) نہایت واضح اور سادہ ہیں۔
مگر فلسفے، تقلیدِ جامد، خواہشات اور دنیا پرستی نے بڑے بڑے عقلاء کو بھی دھوکے میں ڈال دیا۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنی عقل کو وحی کے تابع کر کے سادہ ایمان پر قائم رہے۔
یہ کہنا کہ «یہ سب سے عجیب باتوں میں سے ہے» دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کے بنیادی اصولوں کو انتہائی آسان اور سادہ بنا کر بیان فرمایا ہے۔ اللہ کی یہ سنت ہمیشہ رہی ہے کہ وہ اپنی ہدایت کو مبہم اور پیچیدہ نہیں رکھتا بلکہ ایسے کھول کر بیان کرتا ہے کہ عام انسان بھی سمجھ سکے۔ یہی اللہ کی قدرت کی ایک عظیم نشانی ہے کہ وہ مشکل ترین حقائق کو بھی عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے رکھ دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے دین کے چھ ایسے بنیادی اصول واضح کیے جو دراصل ایمان، عقیدہ اور دین کی بنیاد ہیں۔ ان اصولوں کی وضاحت اس درجہ صاف اور روشن ہے کہ ایک عام دیہاتی یا غیر تعلیم یافتہ شخص بھی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ یعنی وحی الٰہی کسی فلسفیانہ بحث یا سائنسی فارمولے کی طرح پیچیدہ نہیں بلکہ سراسر سادگی پر مبنی ہے۔
اس کے باوجود افسوس یہ ہے کہ انہی بنیادی اصولوں میں دنیا کے بڑے بڑے دانشور، فلسفی اور سمجھدار لوگ ٹھوکر کھا گئے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ محض عقل و ذہانت انسان کو ہدایت نہیں دے سکتی جب تک کہ وہ وحی کے تابع نہ ہو۔ عقل اگر وحی کی رہنمائی کے بغیر ہو تو انسان گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی عقلمند کیوں نہ ہو۔
مصنف نے آخر میں یہ حقیقت بھی بیان کی ہے کہ صحیح طور پر ان اصولوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے والے لوگ ہمیشہ قلیل ہی رہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اہلِ حق ہمیشہ اقلیت میں ہوتے ہیں جبکہ اکثریت یا تو غفلت کا شکار ہو جاتی ہے یا باطل کی پیروی میں لگ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسلام ابتدا میں غریب (اجنبی) تھا اور آخر میں بھی ایسا ہی ہو جائے گا، خوشخبری ہے ان اجنبیوں کے لیے جو حق پر ڈٹے رہیں گے۔
پہلا اصول یہ ہے کہ دین کو خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے کیا جائے، جس کا کوئی شریک نہیں۔ اور اس کی ضد شرک ہے، یعنی اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا۔ قرآنِ مجید کا زیادہ تر حصہ اسی اصول کی وضاحت میں نازل ہوا ہے، مختلف انداز اور طریقوں سے، ایسے الفاظ میں کہ عام سے عام شخص بھی اسے سمجھ سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ امت کی اکثریت اس معاملے میں گمراہ ہوگئی۔ شیطان نے ان کے سامنے اخلاصِ دین کو ایسے پیش کیا جیسے یہ نیک لوگوں کی توہین اور ان کے حقوق میں کوتاہی ہو۔ اور شرک کو اس نے ان کے سامنے ایسے ظاہر کیا جیسے یہ نیک لوگوں سے محبت اور ان کی پیروی ہے۔
اصل بنیاد: اخلاصِ دین صرف اللہ کے لیے
اس عبارت میں سب سے پہلے دین کی اصل بنیاد ذکر کی گئی ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص۔ یعنی بندگی، عبادت، دعا، نذر، ذبح، خوف، رجاء اور تمام اطاعتیں صرف اللہ کے لیے خاص کرنا۔ قرآن و سنت میں سب سے زیادہ زور اسی پر دیا گیا ہے، کیونکہ توحید ہی دین کی جڑ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا مگر یہ کہ صرف اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘(البينة: 5)
اخلاص کی ضد: شرک
اس اخلاص کی ضد شرک ہے۔ یعنی اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا، خواہ وہ نبی ہو، ولی ہو یا فرشتہ۔ شرک تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
«اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا سب عمل ضائع ہو جائے گا۔»
اسی لیے قرآنِ کریم میں سب سے زیادہ موضوع جس پر زور دیا گیا ہے وہ توحید اور شرک کی نفی ہے۔ کبھی شرک کے تاریخی انجام بیان کیے گئے، کبھی مشرکین کی کمزور دلیلوں کو رد کیا گیا، کبھی اللہ کی خالص الوہیت کو دلائل سے واضح کیا گیا۔ اور یہ سب اس انداز میں کہ ہر عامی اور اَن پڑھ شخص بھی سمجھ سکے۔
شیطان کا فریب
مصنف نے آگے بہت گہری حقیقت بیان کی: شیطان نے لوگوں کو اصل حقیقت سے ہٹا دیا۔
اس نے اخلاص کو لوگوں کی نظر میں یوں ظاہر کیا جیسے یہ «صالحین کی بے ادبی» ہو۔ یعنی اگر کوئی کہے کہ دعا، مدد اور نذر صرف اللہ کے لیے ہے، تو لوگ سمجھنے لگے کہ یہ تو اولیاء کی شان گھٹانا ہے۔
اسی طرح شیطان نے شرک کو ایک «نیک عمل» کی صورت میں پیش کیا۔ اس نے لوگوں کو یہ باور کرایا کہ بزرگوں سے مدد مانگنا، ان کے نام پر نذر و نیاز دینا یا ان کے مزاروں پر سجدہ کرنا دراصل «محبت اور تعظیم» ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ خالص شرک ہے۔
یہی وہ فریب ہے جس نے امت کی ایک بڑی تعداد کو توحید کے سیدھے راستے سے ہٹا کر شرک کی اندھیروں میں ڈال دیا۔
حاصلِ کلام
اس اصل سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ:
دین کی بنیاد صرف اللہ کے لیے اخلاص ہے۔
شرک، جو اس کا الٹ ہے، سب سے بڑا گناہ ہے۔
قرآنِ کریم کی بڑی تعلیم یہی ہے کہ توحید کو اپنایا جائے اور شرک سے بچا جائے۔
لیکن افسوس کہ شیطان نے «اخلاص» کو گستاخی اور «شرک» کو محبت کا نام دے کر عوام و خواص کو دھوکا دیا۔
اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان اخلاص اور شرک کے درمیان فرق کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھے، اور ہر وہ عمل چھوڑ دے جس میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے، خواہ وہ کتنا ہی «نیکی» کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہو۔
پہلے اصل کی بنیاد یہ ہے کہ دین صرف اور صرف اللہ کے لیے خالص کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری عبادت، دعا، خوف، امید، محبت، نذر، قربانی اور تمام اطاعتیں کسی اور کے لیے نہیں بلکہ صرف اللہ کے لیے ہوں۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے اسلام نے سب سے زیادہ واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ قرآن کی بے شمار آیات اسی توحید کو سمجھانے کے لیے اتری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کبھی اپنے آپ کو واحد معبود کے طور پر متعارف کرایا، کبھی مشرکین کی دلیلوں کو باطل قرار دیا، اور کبھی یہ بتایا کہ صرف اللہ ہی سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔ یہ وضاحت اس قدر عام فہم ہے کہ ایک عام آدمی بھی اسے سمجھ سکتا ہے۔
اس اخلاص کی ضد شرک ہے۔ شرک یہ ہے کہ بندہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی عبادت یا دعا میں شریک کرے۔ یہ سب سے بڑا گناہ اور سب اعمال کو ضائع کرنے والا ہے۔ اسی لیے قرآن میں بار بار اس سے خبردار کیا گیا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ امت کی ایک بڑی تعداد اسی بنیادی نکتے میں گمراہ ہو گئی۔
شیطان نے لوگوں کے سامنے ایک فریب کھڑا کیا۔ اس نے اخلاص کو یوں پیش کیا جیسے یہ اولیاء اور نیک لوگوں کی توہین ہو۔ یعنی اگر کوئی کہے کہ مدد صرف اللہ سے مانگنی چاہیے، دعا صرف اسی کو کرنی چاہیے تو لوگ اسے یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ بزرگوں کا احترام نہیں کرتا۔ دوسری طرف، شیطان نے شرک کو محبت اور عقیدت کا لبادہ پہنا دیا۔ لوگوں کو یہ یقین دلایا گیا کہ بزرگوں کے نام کی نذر و نیاز دینا، ان سے فریاد کرنا یا ان کے مزاروں پر سجدہ کرنا دراصل محبت اور پیروی ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ سراسر شرک ہے۔
یوں ایک ایسا معاملہ جو قرآن میں سب سے زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا تھا، وہی امت کی اکثریت کے لیے سب سے بڑی لغزش اور آزمائش بن گیا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اصل معیار وحی ہے، نہ کہ ہماری خواہشات یا معاشرتی روایات۔
دوسرا اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں اجتماع (یعنی اتحاد و اتفاق) کا حکم دیا ہے اور تفرقہ بازی سے منع فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اتنی وضاحت اور دلنشینی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ عام لوگ بھی آسانی سے اسے سمجھ سکتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی منع کیا کہ ہم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جو ہم سے پہلے تفرقہ اور اختلاف میں پڑے اور تباہ و برباد ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار یہ واضح کیا ہے کہ مسلمانوں کو دین میں جمع ہونا چاہیے اور دین کے اندر اختلاف و انتشار سے بچنا چاہیے۔ اس بات کو مزید واضح کرنے والی بے شمار احادیث بھی سنت میں موجود ہیں جو بڑی حیرت انگیز ہیں۔ لیکن بعد میں حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ دین کے اصول اور فروع میں اختلاف ہی کو علم اور دین میں سمجھ بوجھ قرار دے دیا گیا، اور دین میں اتحاد و اجتماع کی بات کرنا ایسا ہوگیا کہ اسے صرف کوئی زندیق (ملحد) یا مجنون ہی کہتا ہے۔
دین میں اجتماع کا حکم
دین اسلام کی ایک بنیادی تعلیم یہ ہے کہ اہلِ ایمان آپس میں متحد رہیں۔ قرآنِ کریم میں بار بار اس بات کا حکم آیا ہے کہ مسلمان دین کے معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ جائیں اور تفرقہ بازی سے بچیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
»اللہ کی رسی (قرآن و سنت) کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔»
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ دین میں اجتماع اصل ہے، اور تفرقہ ممنوع ہے۔
تفرقہ بازی کی مذمت
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم ان پچھلی امتوں کی طرح ہو جائیں جو دین میں اختلاف اور جھگڑوں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔ قرآن میں آیا:
»ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو واضح دلائل آجانے کے بعد بھی تفرقہ اور اختلاف میں پڑ گئے۔»
یہ آیت بتاتی ہے کہ تفرقہ بازی محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ہلاکت اور اللہ کے عذاب کا سبب ہے۔
سنت سے وضاحت
قرآن کے ساتھ ساتھ سنت میں بھی اجتماع اور اتحاد کی تعلیم بہت زیادہ آئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
تم پر لازم ہے کہ جماعت کے ساتھ رہو اور تفرقہ سے بچو، کیونکہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہوتا ہے اور دو سے وہ زیادہ دور ہوتا ہے۔اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا:
«اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے۔»
یہ تمام نصوص اس بات پر واضح دلیل ہیں کہ دین میں اجتماع اور اتحاد مطلوب ہے، اور اختلاف و انتشار ممنوع ہے۔
شیطان کا فتنہ
مصنف نے حقیقتِ حال کی نشاندہی کی ہے کہ بعد کے زمانوں میں حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ دین کے اصول اور فروع میں اختلاف اور جھگڑوں کو ہی «علم» اور «فقہ» سمجھا جانے لگا۔ یعنی جس قدر کوئی شخص زیادہ مناظرے کرے، زیادہ فرقہ وارانہ بحثوں میں الجھے، اسے دین کا بڑا عالم اور فقیہ مان لیا گیا۔ اس کے برعکس جو شخص قرآن و سنت کی اصل دعوت اتحاد اور اجتماع کی طرف بلائے، اسے یا تو «زندیق» (یعنی دین دشمن) کہا جانے لگا یا «مجنون» (پاگل) کا طعنہ دیا گیا۔
نتیجہ اور سبق
یہ اصل ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دین میں اصل مقصد اتحاد اور اجتماع ہے۔ اختلاف کو «علم» اور «فہم» سمجھنا ایک بہت بڑی گمراہی ہے۔ اصل فہم یہ ہے کہ قرآن و سنت پر سب اکٹھے ہو جائیں۔ امت کی تباہی کی جڑ فرقہ پرستی اور انتشار ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر دین کے بنیادی اصولوں پر جمع ہوں اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں۔
اس اصل کا خلاصہ یہ ہوا کہ:
دین میں اجتماع کا حکم ہے۔
تفرقہ بازی ہلاکت ہے۔
قرآن و سنت اس پر بار بار زور دیتے ہیں۔
مگر بدقسمتی سے امت میں اختلاف کو ہی «علم» سمجھ لیا گیا، اور اتحاد کی دعوت دینے والوں کو طعنہ دیا جانے لگا۔
دوسرا اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں اجتماع یعنی اتحاد کا حکم دیا ہے اور تفرقہ بازی سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔ قرآنِ کریم میں یہ بات اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ عام فہم لوگ بھی اسے بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ نے ہمیں تنبیہ کی کہ ہم ان پچھلی امتوں کی طرح نہ ہو جائیں جو دین میں تفرقہ اور اختلاف کا شکار ہوئیں اور اسی کے نتیجے میں ہلاکت اور تباہی کا سامنا کیا۔
اسلام کی اصل روح یہ ہے کہ مسلمان قرآن و سنت پر جمع ہوں اور ان کے درمیان وحدت قائم ہو۔ اسی کو قرآن نے «حبل اللہ» یعنی اللہ کی رسی قرار دیا ہے۔ اس اتحاد کے نتیجے میں مسلمانوں کو قوت ملتی ہے اور وہ باطل کے مقابلے میں ڈٹ سکتے ہیں، لیکن جب وہ اختلاف میں پڑتے ہیں تو ان کی کمزوری اور ذلت ظاہر ہو جاتی ہے۔
سنتِ نبوی بھی اسی حقیقت پر زور دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جماعت کو لازم پکڑنے کا حکم دیا اور تفرقہ سے منع فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہے اور شیطان اکیلے انسان کے قریب ہوتا ہے، جبکہ اجتماع اور اتفاق کی حالت میں وہ دور رہتا ہے۔ یہ واضح تعلیمات بتاتی ہیں کہ اجتماع دین کا حصہ ہے اور اس کے بغیر مسلمان محفوظ نہیں رہ سکتے۔
مصنف یہاں ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعد کے زمانوں میں حالات ایسے بگڑ گئے کہ دین کے اصول اور فروع میں اختلاف کو ہی «علم» اور «فقہ» سمجھ لیا گیا۔ لوگ مناظرے اور جھگڑوں کو دین کی گہرائی اور سمجھداری قرار دینے لگے۔ اس کے برعکس اگر کوئی قرآن و سنت کی اصل دعوت یعنی اتحاد و اجتماع کی بات کرے تو اسے یا تو «زندیق» کہا جاتا یا «مجنون» کا طعنہ دیا جاتا۔
یہ سب کچھ اس بات کی علامت ہے کہ امت نے دین کی اصل بنیاد کو فراموش کر دیا ہے۔ قرآن و سنت کی روشن تعلیمات کو چھوڑ کر اختلاف اور انتشار کو اپنا کر اپنی طاقت کو کھو دیا۔ اس اصل سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دین میں اصل مقصود وحدت اور اجتماع ہے، اور تفرقہ و اختلاف ہلاکت اور بربادی کا راستہ ہے۔
تیسرا اصل یہ ہے کہ دین میں اجتماع (یعنی اتحاد) کو مکمل کرنے والی چیز یہ ہے کہ ہم اپنے اوپر مقرر کیے گئے حکمران کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں، خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے اس بات کو بار بار، ہر طرح کے دلائل اور انداز میں، شریعت اور تقدیر دونوں اعتبار سے، بالکل واضح کر دیا ہے۔ لیکن بعد میں حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ یہ اصل (اطاعتِ حکمران) ان لوگوں کے ہاں بھی اجنبی ہو گیا جو اپنے آپ کو علم والا سمجھتے ہیں، پھر عام لوگوں کے ہاں اس پر عمل کی صورت حال تو کیسی ہو گی!
اجتماع کو مکمل کرنے کا ذریعہ
مصنف نے یہاں یہ اصول بیان کیا ہے کہ دین میں اجتماع (یعنی اتحاد و اتفاق) کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے امیر یا حکمران کی بات سنی جائے اور اس کی اطاعت کی جائے، خواہ وہ نسب کے اعتبار سے کمتر ہو، حتیٰ کہ اگر وہ حبشی غلام بھی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہر شخص اپنی رائے اور خواہش کے مطابق حکمران کو ماننے یا نہ ماننے لگے تو اجتماع اور اتحاد باقی نہیں رہ سکتا۔ اطاعتِ حکمران دراصل اجتماعیت کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
اطاعتِ حکمران کی وضاحت سنت میں
نبی کریم ﷺ نے اطاعتِ حکمران کے مسئلے کو بار بار اور نہایت وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
«تم پر لازم ہے کہ اپنے حکمران کی بات سنو اور مانو، چاہے تنگی میں ہو یا آسانی میں، چاہے وہ تمہیں پسند ہو یا ناگوار۔»
اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا:
»حکمران کی بات سنو اور مانو، چاہے تم پر حبشی غلام کو مقرر کر دیا جائے جس کا سر کشمش کی طرح ہو۔»یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ اطاعتِ حکمران نسب، رنگ یا زبان کے فرق پر نہیں بلکہ دین کے اتحاد کے تقاضے پر ہے۔
اطاعت کی حدود
یہ اطاعت اس وقت تک واجب ہے جب تک حکمران کھلم کھلا کفر اور اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ اگر وہ کسی گناہ کا حکم دے تو اس معاملے میں اطاعت نہیں، لیکن باقی امور میں اس کی بات ماننا ضروری ہے تاکہ نظام اور اجتماعیت قائم رہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
’’مخلوق کی اطاعت خالق کی نافرمانی میں نہیں ہے۔‘‘
علمی طبقے کی کوتاہی
مصنف نے اس دور کی ایک بڑی کمزوری کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ اصول اکثر ان لوگوں کے ہاں بھی اجنبی ہو گیا جو اپنے آپ کو علم والے کہتے ہیں۔ یعنی اہلِ علم میں سے بھی کئی لوگ حکمران کی اطاعت کو دین کا لازمی حصہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اپنے ذاتی یا گروہی مفاد کے مطابق بغاوت یا انکار کو علم و تقویٰ سمجھنے لگے۔ جب اہلِ علم اس اصل سے غافل ہو گئے تو عام لوگوں کے ہاں اس پر عمل کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟
سب سے پہلے مصنف یہ اصول بیان کرتے ہیں کہ دین میں اجتماع اور اتحاد کو مکمل کرنے کے لیے لازم ہے کہ مسلمانوں کا امیر یا حکمران جو بھی ہو، اس کی بات سنی جائے اور اس کی اطاعت کی جائے۔ اطاعتِ حکمران محض ایک شخص کی عزت یا مقام کی وجہ سے نہیں بلکہ اجتماعیت اور نظام کے قیام کی خاطر ضروری ہے۔ اگر ہر فرد اپنی مرضی سے حکم ماننے یا نہ ماننے لگے تو امت بکھر جائے گی اور اجتماع باقی نہیں رہے گا۔
نبی کریم ﷺ نے اطاعتِ حکمران کے مسئلے کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ حکمران کی بات سنی اور مانی جائے خواہ حالات خوشگوار ہوں یا سخت، اور چاہے وہ بات انسان کو پسند ہو یا ناگوار۔ یہاں تک کہ اگر کسی پر ایک حبشی غلام بھی امیر مقرر کیا جائے تو اس کی اطاعت کرنی ہوگی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شریعت کا مقصد رنگ، نسل یا حسب و نسب نہیں بلکہ نظامِ امت کی بقا اور اتحاد ہے۔
البتہ یہ اطاعت مطلق نہیں ہے بلکہ ایک حد کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر حکمران کسی ایسی بات کا حکم دے جو اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی پر مبنی ہو تو اس میں اطاعت نہیں کی جائے گی، کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔ لیکن باقی تمام معاملات میں اطاعت ضروری ہے تاکہ بغاوت اور انتشار پیدا نہ ہو۔
مصنف اس حقیقت پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ اصول زیادہ تر ان لوگوں کے ہاں بھی نامعلوم ہو گیا ہے جو خود کو علم والے سمجھتے ہیں۔ جب اہلِ علم اس مسئلے کی حقیقت کو بھول جائیں تو عام عوام اس پر کس طرح عمل کر سکتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ امت میں انتشار اور گروہ بندی نے جنم لیا۔
خلاصہ یہ کہ اطاعتِ حکمران دین کے اجتماع اور اتحاد کی حفاظت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر اس اصول کو نظرانداز کیا جائے تو امت کمزوری اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔
نتیجہ
اس اصل سے یہ واضح ہوا کہ دین کے اجتماع کو باقی رکھنے کے لیے اطاعتِ حکمران نہایت ضروری ہے۔ اگر ہر شخص اپنی رائے کے مطابق چلنے لگے تو امت ٹکڑوں میں بٹ جائے گی۔ اسی لیے شریعت نے اطاعت کو اجتماعیت کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔ البتہ یہ اطاعت مطلق نہیں بلکہ شریعت کے دائرے میں ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اطاعتِ حکمران دین کی اجتماعی زندگی کا اہم ستون ہے، اور اس کی تضعیف یا انکار امت کو انتشار اور کمزوری میں مبتلا کرتا ہے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…
رمضان کی فرضیت : رمضان کے روزے ہرمکلف مسلمان مرد وعورت پرفرض ہیں اور جوبچے…