قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7

وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا} [النساء: 94] ، {لا تَقُولُوا رَاعِنَا} [البقرة: 104] ، {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتٌ} [البقرة: 154]، {وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَدًا، إِلَاّ أَنْ يَشَاءَ اللهُ} [الكهف: 23، 24] ، {فَلا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلا تَنْهَرْهُمَا}[الإسراء: 23] ، {وَلا تَدْعُ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ}[القصص: 88] ، {وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ مِنْ إِمْلاقٍ} [الأنعام: 151] ، {وَلا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَى عُنُقِكَ} [الإسراء: 29] ، {وَلا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَاّ بِالْحَقِّ} [الأنعام: 151] ، {وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَاّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} [الأنعام: 152] ، {وَلا تَمْشِ فِي الأَرْضِ مَرَحًا} [لقمان: 18] ومثله في القرآن كثير. فهذا ما نهى الله عنه، ولم يقل لنا: لا تقولوا: إن القرآن كلامي.

اور فر مایا : اور نہ کہو اللہ تین ہیں”اور فر مایا: ’’اور جو تم سے سلام کرے تو اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں۔‘‘اور فر مایا: ’’راعنا نہ کہاکرو” ۔“ اور اللہ تعالیٰ کی راہ کے شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔لیکن تم نہیں سمجھتے” اور ہر گز ہر گز کسی کام پر یوں نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا، مگر ساتھ ہی ان شا ء اللہ کہہ لینا”تو ان کے آگے اُف تک نہ کہنا”جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو ان کے پیچھے مت پڑ۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا۔اور اپنی اولاد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔اپنا ہاتھ اپنی گر دن سے بندھا ہوا نہ رکھ۔“ اور کسی جان ناحق کو ما رنا” اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ” اور زمین پر اکڑ کر مت چل” اس کی مثالیں قرآن میں بہت زیادہ ہیں۔تو وہ یہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا قرآن میں اور ہم کو یہ نہیں کہا: ایسا نہ کہو کہ قرآن میرا کلام ہے”

وقد سَمَّت الملائكة كلام الله كلامًا ولم تسمه خلقًا، قوله: {حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ} [سبأ: 23]. وذلك أن الملائكة لم يسمعوا صوت الوحي ما بين عيسى ومحمد ﷺ، وبينهما كذا وكذا سنة. فلما أوحى الله إلى محمد -ﷺ- سمع الملائكة صوت الوحي كوقع الحديد على الصفا فظنوا أنه أمر من الساعة، ففزعوا وخروا لوجوههم سجدًا، فذلك قوله: {حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ} [سبأ: 23]  يقول: حتى إذا انجلى الفزع عن قلوبهم رفع الملائكة رءوسهم فسأل بعضهم بعضًا فقالوا: ماذا قال ربكم. ولم يقولوا، ماذا خلق ربكم. فهذا بيان لما أراد الله هداه.

اور یقیناً ملائکہ نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو کلام کہا ہے ۔ اور اس کومخلوق کا نام نہیں دیا۔اور اللہ تعالی ٰ کا فر مان ہے : یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے تو وہ پو چھتے ہیں تمھارے پر ور دگار نے کیا فر مایا ؟ جواب دیتے ہیں حق فر ما یا: اور وہ بلند و بالا اور بہت بڑا ہے”اس طرح ملائکہ نے عیسیٰ علیہ السلام اور محمد ﷺ کے درمیان وحی نہیں سنی۔اور ان دونوں کے درمیان بہت سالوں کا وقفہ تھا۔لیکن جب محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وحی کی تو فر شتوں نے وحی کی آواز ایسی سنی جیسا کہ لو ہے کی آواز سر دان پر ہو تی ہے۔ تو ملائکہ نے یہ گمان کیا کہ یہ قیامت کی گھڑی ہے۔ تو وہ ڈر گئے۔ اور ان کے چہرے سجدے میں ہو گئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے: یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دلوں سے خوف جاتا ہے تو ملائکہ اپنے سر اٹھا تے ہیں تو ایک دوسرے سے پو چھتے ہیں تو کہتے ہیں “آپ کے رب نے کیا کہا؟اور یہ نہیں کہا کہ آپ کے رب نے کیا پیدا کیا۔ پس یہ بیان اس کے لئے ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ ہدا یت کا فیصلہ کرے۔

ثم إن الجهم ادعى أمرًا آخر فقال: أنا أجد آية في كتاب الله تبارك وتعالى تدل على أن القرآن مخلوق. فقلنا في أي آية؟.. فقال: {مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ} [الأنبياء: 2] . فزعم أن الله قال: القرآن محدث. وكل محدث مخلوق فلعمري، لقد شبه على الناس بهذا. وهي آية من المتشابه فقلنا في ذلك قولاً واستعنا بالله، ونظرنا في كتاب الله، ولا حول ولا قوة إلا بالله

امام احمد رحمہ اللہ نے فر مایا: اس کے بعد جہمی نے ایک اور دعویٰ کیا۔ جہمی نے کہا: میں قرآن میں ایک آیت پا تا ہوں جو اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق ہے ۔ ہم نے کہا: کو ن سی آیت؟ جہمی نے کہا: اللہ تعالی ٰ کا یہ فر مان “ ان کے پا س ان کے رب کی طر ف سے جو بھی نئی نئی نصیحت آتی ہے”تو جہمیہ نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے: قرآن محدث ہے اور ہر محدث مخلوق ہو تی ہے ۔ پس مجھے اپنی عمر کی قسم لو گوں کو شبہہ میں ڈالا اور مذکورہ آیت متشابہہ آیت ہے ۔ہم نے کہا: ہم اس میں ایک بات کرتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہیں۔اور کتاب اللہ میں دیکھتے ہیں۔ (ولا حول ولا قوۃ الا باللہ)

‌‌اجتماع الشيئين في اسم واحد يجري عليه المدح أو الذم: قال أحمد رضي الله عنه: اعلم أن الشيئين إذا اجتمعا في اسم يجمعهما فكان أحدهما أعلى من الآخر، ثم جرى عليهما اسم مدح، فكان أعلاهما أولى بالمدح وأغلب عليه، وإن جرى عليه اسم ذم فأدناهما أولى به، ومن ذلك قول الله تعالى في كتابه: {إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحج: 65]{عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللهِ} [الإنسان: 6] يعني الأبرار دون الفجار، فإذا اجتمعوا في اسم الإنسان، واسم العباد، فالمعنى في قوله الله جل ثناؤه: {عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللهِ} [الإنسان: 6] يعني الأبرار دون الفجار، لقوله إذا انفرد الأبرار: {إِنَّ الأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ} [الانفطار: 13] . وإذا انفرد الفجار: {وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ} [الانفطار: 14] .
وقوله: {إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحج: 65] فالمؤمن أولى به وإن اجتمعا في اسم الناس، لأن المؤمن إذا انفرد أعطى المدحة لقوله: {إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ} [الحج: 65] . {وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا} [الأحزاب: 43] . وإذا انفرد الكفار جرى عليهم الذم في قوله: {أَلا لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} [هود: 18] ، وقال: {أَنْ سَخِطَ اللهُ عَلَيْهِمْ وَفِي الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُونَ} [المائدة: 5] . فهؤلاء لا يدخلون في الرحمة. وفي قوله: {وَلَوْ بَسَطَ اللهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الأَرْضِ} [الشورى: 27] .
فاجتمع الكافر والمؤمن في اسم العبد، والكافر أولى بالبغي من المؤمنين؛ لأن المؤمنين انفردوا ومدحوا فيما بسط لهم من الرزق، وهو وقوله: {وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا} [الفرقان: 67] . وقوله: {وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ} [البقرة: 3] .وقد بُسط الرزق لسليمان بن داود، ولذي القرنين، وأبي بكر، وعمر، ومن كان على مثالهم ممن بسط له فلم يبغِ. وإذا انفرد الكافر وقع عليه اسم البغي في قوله لقارون: {فَبَغَى عَلَيْهِمْ} [القصص: 76] . ونمرود بن كنعان حين آتاه الله الملك فحاج في ربه، وفرعون حين قال موسى: {رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالاً فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [يونس: 88] .فلما اجتمعوا في الاسم الواحد فجرى عليهم اسم البغي كان الكفار أولى به، كما أن المؤمن أولى بالمدح.

امام احمدرحمہ اللہ نے فرما یا : جان لو جب دو چیزیں ایک نام میں جمع ہو جائیں اور ان میں سے ایک (چیز)دوسرے سے اعلیٰ ہو ۔ پھر ان دونوں کی تعریف کی جائے تو اعلیٰ تعریف کا زیادہ اولیٰ ہو گا۔اور اگر دونوں کے لئے اسم ذم (مذمت والا نام) بو لا جاتا ہے تو دونوں میں سے ادنیٰ لفظ مذ مت کے اعتبار سے اعلیٰ سے زیادہ اولیٰ ہو گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے : ’’بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کر نے والا ہے۔ ” اور جو ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے” سے نیک لو گ مراد ہے بد کار نہیں۔ پس جب اسم الانسان اور اسم العباد میں جمع کیا تو اللہ کے اس قول کا معنی “ یعنی صرف نیک لوگ پیئے گے گنہگار نہیں پئیںگے۔اور جب انفرادی طور پر نیک لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ کے فر مان میں ہو تا ہے ۔ تو یوں ارشاد ہو تا ہے۔ “ یقیناً نیک لوگ نعمتوں میں ہو ں گے”اور جب کفار کا انفرادی ذکر ہو تا ہے تو یہ فر مان ارشاد ہو تا ہے ۔ ’’اور یقیناً بد کار لوگ دوزخ میں ہوں گے۔”اور اللہ تعالیٰ کا فر مان ہے :“ اللہ تعالیٰ لوگوں کیساتھ شفقت اور مہر بانی کر نے والا ہے” پس مومن زیادہ حقدار ہے۔اگر چہ کافر اور مومن(الناس ) میں جمع ہیں۔ اس لئے جب مومن کا انفرادی ذکر ہو تا ہے تو اس کی تعریف ہو تی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فر مان کے مطابق“یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نر می کر نے والا رحم کر نے والا ہے” اور جب کفار کا انفرادی ذکر کیا تو اس کے لئے مذمت کا لفظ کہا گیا۔ اس فر مان کے مطابق: ’’خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر”اور اللہ تعالیٰ کا کا فر مان: کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے”تو وہ یہ لوگ ہیں جو اس کی رحمت میں داخل نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا فر مان ہیں : اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لئے رزق فراخی کر دیتا تو وہ زمین میں ضرور سر کشی کر تے”تو یہاں عباد کے اسم میں کفار اور مو من کو جمع کیا گیا۔ پس کفار مو منین کی نسبت لفظ سر کشی کے زیادہ حقدار ہیں۔ لیکن جب مو من کا انفرادی ذکر ہو تا ہے تو رزق کی فراخی میں اسکی تعریف ہو تی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: ’’اور جو خرچ کر تے وقت بھی نہ تو اسراف کر تے ہیں نہ بخیلی” اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ’’اور ہمارے دیئے ہو ئے (مال) سے خر چ کرتے ہیں”اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے داؤد ،سلیمان ،ذوالقر نین اور سیدناابو بکر ، عمر ، عثمان ، علی رضی اللہ عنہم کے لئے رزق فراہم کیا تھا۔لیکن انہوں نے سر کشی نہیں کی۔ اور جب انفرادی طور پر کافر کا ذکر ہو تا ہے ، تو سرکشی کا لفظ اس پر واقع ہو تا ہے۔جیسا کہ قرآن میں قارون کا ذکر ہے۔قارون تھا تو قوم موسیٰ علیہ السلام سے لیکن ان پر ظلم کر نے لگا تھا”اور جب نمرود کو اللہ نے بادشاہی دی تو اللہ تعالیٰ سے لڑنے لگا اور فر عون بھی جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اے ہمارے رب! تو نے فر عون کو اور اس کے سرداروں کو سا مان زینت اور طرح طرح کے مال دنیاوی زندگی میں دیئے”۔ پس جب ایک اسم میں کافر اور مو من اکھٹے ہو جائیں اور اس کے لئے مذمتی لفظ بو لا جائے تو مذمت کے لئے کافر مومن سے اولیٰ ہو گا۔

فلما قال الله تعالى: {مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ} [الأنبياء: 2] . فجمع بين ذكرين: ذكر الله، وذكر نبيه، فأما ذكر الله إذا انفرد لم يجرِ عليه اسم الحدث، ألم تسمع إلى قوله: {وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ} [العنكبوت: 45] . {وَهَذَا ذِكْرٌ مُبَارَكٌ} [الأنبياء: 50]  وإذا انفرد ذكر النبي -ﷺ- فإنه جرى عليه اسم الحدث، ألم تسمع إلى قوله: {وَاللهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ}[الصافات: 96] فذكر النبي -ﷺ- له عمل، والله له خالق محدث، والدلالة على أنه جمع بين ذكرين لقوله: {مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ}[الأنبياء: 2] فأوقع عليه الحدث عنه إتيانه إيانا، وأنت تعلم أنه لا يأتينا بالأنباء إلا مبلغ ومذكر، وقال الله: {وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ}[الذاريات: 55] {فَذَكِّرْ إِنْ نَفَعَتِ الذِّكْرَى}[الأعلى:9]، {إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ}[الغاشية:21] .
فلما اجتمعوا في اسم الذكر، جرى عليهم اسم الحدث، وذكر النبي إذا انفرد وقع عليه اسم الخلق وكان أولى بالحدث من ذكر الله الذي إذا انفرد لم يقع عليه اسم خلق، ولا حدث، فوجدنا دلالة من قول الله: {مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ} [الأنبياء: 2] إلى النبي -ﷺ- لأن النبي -ﷺ- كان لا يعلم فعلمه الله، فلما علمه الله كان ذلك محدثًا إلى النبي ﷺ.

پس جب رب نے کہا: ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نئی نصیحت آتی ہے”تویہاں دو ذکر جمع کئے۔ ایک اللہ تعالیٰ کا ذکر اور دوسرا نبیﷺ کا ذکر۔ پس جب اللہ تعالیٰ کا ذکر انفرادی طور پر ہو تو اس پر حدث کا اسم جاری نہیں ہو تا کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا ہے۔“ بے شک اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے”اور یہ نصیحت و بر کت والا قرآن بھی ہم ہی نے نازل فر مایا ہے۔اور جب انفرادی طور پر ذکر ہو تا ہے تو اس پر حدث کا لفظ جاری ہوا۔ کیا آپ نے اللہ کا یہ قول نہیں سنا ہے : حالانکہ تمھیں اور تمھاری بنائی ہو ئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔ پس نبی ﷺکا ذکر کرنا ایک عمل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا خالق ہی ہے۔تو نبی ﷺ کا ذکر محدث ہو گیا۔اور اس پر دلیل اللہ کے اس قول میں ہے ۔ جو دو ذکر اکھٹے ایک اسم میں بیان ہو ئے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو نئی نئی نصیحت آتی ہے۔تو اس پر حدث کا لفظ ہمارے پاس آنے کے وقت واقع ہوا۔اور آپ جانتے ہیں ہمارے پاس خبریں صرف مبلغ اور مذکر ہی لاتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فر مایا: تو آپ نصیحت کرتے رہیں اگر نصیحت کچھ فائدہ دے۔اور نصیحت کر تے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمان والوں کو نفع دے گی”پس آپ نصیحت کر دیا کریں (کیونکہ)آپ صرف نصیحت کر نے والے ہیں،پس جب دونوں اسم ایک ذکر میں جمع ہو ئے تو اس پر حدث کا اسم جاری ہو گا۔ اور جب انفرادی طور پر نبی ﷺ کا ذکر ہو تو اس پر خلق کا اسم جاری ہوا۔اور یہ حدث کے لئے بہ نسبت اللہ کے ذکر کے زیا دہ اولیٰ ہے۔یعنی اللہ کا ذکر جب انفرادی طور پر آئے تو اس پر خلق اور حدث کا اسم واقع نہیں ہو تا۔ ہم نے ان کے رب کی طرف سے جو بھی نئی نئی نصیحت آتی ہے” وہ تو نبی علیہ الصلاۃ والسلام کی ذات کے لئے نیا (محدث) ہے۔ وہ اس کو نہیں جانتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو سکھایا۔پس جب اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو سکھا دیا تو اس طرح یہ نبی ﷺ کے لئے محدث ہو گیا۔

ثم إن الجهم ادعى أمرًا آخر فقال: إنا وجدنا آية في كتاب الله تدل على أن القرآن مخلوق. فقلنا أي آية؟ فقال: قول الله: {إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ}[النساء: 171] وعيسى مخلوق.

پھر جہمی ایک اور دعویٰ کرے گا: میں کتاب اللہ میں ایک آیت پاتا ہوں جو اس بات پر دلیل ہے کہ قرآن مخلوق ہے ہم نے کہا کون سی آیت؟ تو جہمی نے کہا: مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام۔کہ عیسیٰ علیہ السلام تو صرف اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں ،جسے مریم علیہا السلام کی طرف ڈال دیا تھا۔ اور عیسیٰ علیہ السلام مخلوق تھے۔

فقلنا: إن الله منعك الفهم في القرآن، عيسى تجرى عليه ألفاظ لا تجري على القرآن، لأنه يسميه مولودًا وطفلا وصبيًّا وغلامًا، يأكل ويشرب، وهو مخاطب بالأمر والنهي، يجري عليه اسم الخطاب والوعد والوعيد، ثم هو من ذرية نوح، ومن ذرية إبراهيم، ولا يحل لنا أن نقول في القرآن ما نقول في عيسى: هل سمعتم الله يقول في القرآن ما قال في عيسى؟ ولكن المعنى من قول الله جل ثناؤه: {إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ} [النساء: 171] فالكلمة التي ألقاها إلى مريم حين قال له: كن، فكان عيسى: بكن وليس عيسى هو الكُنُّ، ولَكِنْ بالكُنِّ كَانَ، فالكُنُّ من الله قول، وليس الكن مخلوقًا۔

پس ہم نے کہا تجھے اللہ تعالیٰ نے قرآن کے فہم کو سمجھنے سے روکا ہے، عیسیٰ علیہ السلام پر الفاظ جاری ہوتے ہیں لیکن قرآن پر لفظ مخلوق جاری نہیں ہوتا ۔کیونکہ عیسٰی علیہ السلام پر نام جاری ہوئے ہیں۔۱:پیدا ہونے والا بچہ،۲: چھوٹا بچہ،۳:مھدکا بچہ،بندہ ۔ عیسیٰ علیہ السلام کھاتے تھے، پیتے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے حکم اور نہی سے مخاطب کیا جاتا تھا۔عیسٰی علیہ السلام کے لیے وعدہ اور وعید بھی ہیں اور وہ نوح اور ابرہیم کی اولاد میں سے بھی ہیں اور ہمارے لیے یہ بات جائز نہیں کہ ہم قرآن کے بارے وہ بات کہیں جو عیسٰی علیہ السلام کے بارے کہتے ہیں۔کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو سنا کے قرآن کے بارے وہی کہتا ہو جو عیسٰی علیہ السلام کے متعلق کہتا ہے؟

تو اللہ تعالٰی کے اس فرمان :’’اور اس کی طرف سے روح‘‘کا معنی بس وہ کلمہ ہے جو مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا گیا، جب اللہ تعالی نے اس کو کہا «کن» یعنی ہوجا۔ تو عیسٰی کن کلمہ سے ہیں نہ کہ کلمہ کن تھے۔کْن اللہ تعالی کے فرمان میں سے ہے اور کْن مخلوق نہیں ہے۔

وكذبت النصارى والجهمية على الله في أمر عيسى، وذلك أن الجهمية قالوا: عيسى روح الله وكلمته، لأن الكلمة مخلوقة، وقالت النصارى: عيسى روح الله من ذات الله. وكلمته من ذات الله. كما يقال: إن هذه الخرقة من هذا الثوب، وقلنا نحن: إن عيسى بالكلمة كان، وليس عيسى هو الكلمة. وأما قول الله: {وَرُوحٌ مِنْهُ} [النساء: 171] يقول: من أمره كان الروح فيه كقوله: {وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ} [الجاثية: 13] . يقول من أمره وتفسير روح الله إنما معناها أنها روح بكلمة الله خلقها الله، كما يقال: عبد الله وسماء الله وأرض الله.

نصاری اور جہمیہ نے عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالی پر جھوٹ بولا۔ اسی لیے جہمیہ نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالی کی روح اور کلمہ تھےاور مگر یہ کلمہ مخلوق ہے۔اور نصاریٰ نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی روح ہےاور یہ روح اللہ تعالی کی ذات اور کلمہ سے ہے اور کلمہ اللہ تعالی کی ذات سے ہے۔بعینہ اسی طرح ہے جس طرح کہا جاتا ہے کہ یہ چیتھڑا اس کپڑے کا حصہ ہے۔ہم نے کہا کہ عیسٰی علیہ السلام کلمہ نہیں تھے کلمہ کی وجہ سے تھے۔ اور اس کا یہ فرمان ’’اس کی طرف سے روح‘‘تو اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے یہ روح اللہ تعالی کے حکم سے اس میں تھاجس طرح اس کا یہ فرمان ہے کہ ’’اور آسمان اور زمین کی ہر ہر چیزکو بھی اس نے اپنی طرف سے تمہارے تابع کر دیا ہے۔‘‘

اللہ تعالی فرماتا ہے :اس کے حکم سے اور رْوح اللہ کی یہ تفسیر ہے، اس کا معنی صرف یہ ہے کہ روح اللہ تعالی کےکلمہ کی وجہ سے تھی اللہ تعالی نے اس کو پیدا کیا۔ جس طرح کہا جاتا ہے عبداللہ یعنی اللہ کا بندہ، اور سماءاللہ یعنی اللہ کا آسمان ،ارض اللہ یعنی اللہ کی زمین۔

(جاری ہے)

admin

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago

رمضان المبارک کے احکام ومسائل

رمضان کی فرضیت : رمضان کے روزے ہرمکلف مسلمان مرد وعورت پرفرض ہیں اور جوبچے…

1 month ago