وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے 77سال کا عرصہ گزر چکا ہے ”یوم آزادی” ایک طرف تاریخ کے لہو رنگ اوراق کی یاد تازہ کرتی ہے، تو دوسری طرف وہ آزادی کے حسین خواب پر قربان ہوئی قیمتی جانوں، لٹی عصمتوں سے تجدید عہد وفا کا ایک اور موقع بھی فراہم کرتی ہے تاکہ ہم اپنے ماضی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حال کا محاسبہ کریں اور مستقبل کے لئے ان راہوں کا انتخاب کریں جو ہماری قوم کو زندہ ضمیرلئے حقیقی معنوں میں آزاد قوموں کی فہرست میں لا کھڑا کریں۔

ہم آج تک قومی محاسبہ سے نگاہیں چراتے ہوئے ہر سال چودہ اگست کے دن کو بھر پور جوش وخروش سے منانا قومی روایت سمجھتے آرہے ہیں۔ جشن آزادی کا مقصد بحیثیت قوم ہمارا قومی محاسبہ ہونا چاہیےترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں کھڑا ہونے کیلئے ہمیں اپنے اندر اتحاد  پیدا کرنا ہوگا۔’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ یہ پالیسی انگریز سامراج کی ہے اور اسی پالیسی کے تحت پاکستان کی تمام قومیتوں کو جانوروں کی طرح باڑوں میں رکھا گیاہے اور وطن عزیز میں بھی انگریز کے اس قانون پر بھر پور انداز میں عمل درآمد کیا جارہاہے جیسے انگریزاچھی نوکریاں صرف ان لوگوںکو دیتےجو حکومتی اہل کاروں کے خوشامندی اور چاپلوس ہوتے، بد قسمتی سے ہم نے آزادی کے بعد بھی اسی لعنت اپنائے رکھا۔

شاید کہ’’ یہ ملک سنورنے والا نہیں، یاکوئی اسے سنوارنا نہیں چاہتا، چاہے کوئی آمر ہو، یا کوئی بھاری مینڈیٹ لے کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والا!! الیکشن میں جیتنے کے لیے جہاں پیسہ اور طاقت سب سے اہم ہوں، جہاں پڑھے لکھے لوگ اس لیے الیکشن میں نہ جیت سکیں کہ ان کے پاس اپنی الیکشن مہم چلانے کے لیے رقم نہ ہو، جہاں سفارش چلتی ہو اور قابل لوگوں کو ملازمتیں نہ ملیں ، جہاں گھر سے باہر نکلیں تو یہ بھی یقین نہ ہو کہ لوٹ کر زندہ گھر بھی جانا ہے، جہاں دہشت گردی عادت کی طرح اپنا لی جائے، جہاں بیرونی قوتیں ہمارے نظام کی تخلیق کرتی ہوں ، جہاں عام آدمی کو مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا گیا ہو جہاں حکمرانوں کے اللّے تللے کم کرنے کی بجائے ٹیکسوں کا مزید بوجھ عوام پر ہی ڈالا جائے۔

14 اگست پاکستان کی آزادی کا دن ہے ۔ کوئی یہ تو بتائے کہ آزادی کا مطلب کیا ہے؟؟؟ آزادی ؟ کس چیز سے آزادی؟ ہم نے کس مقصد کے لیے آزادی حاصل کی تھی کیا متحد ہندوستان میں کرکٹ کھیلنے پر پابندی تھی؟ کیا ناچنے اور گانے پر پابندی تھی؟کیا ثقافت کے نام پر عریانی وفحاشی کے فروغ پر پابندی تھی یا آزادیٔ رائے کے نام پر اصحاب محمدﷺاور خانوادۂ نبوت ﷺ پر زبان درازی پر پابندی تھی یا سیاست کے نام پر پوری قوم سے دھوکہ بازی پر پابندی تھی مجھے بتائیے ان میں سے ایساکونساکام ہے جو وہاں رہتےہوئے نہیں کیا جاسکتاتھا کیا انہی کاموں کے لیے اس وطن ِ عزیز کو حاصل کیا تھا، کیا اسی کے لیے لاکھوں عصمتوں کو مندروں کی چوکھٹوں کی بھینٹ چڑھایاتھا؟؟؟ہم بظاہر ایک آزاد ملک کے آزاد انسان ہیں مگرہماری گردنوں میں غلامی کی بیرونی اور داخلی زنجیریں پڑی ہوئی ہیں۔ حقیقی آزادی سےہم اب بھی کوسوں دور ہیں۔ آزاد ملک میں تہذیب و تمدن پروان چڑھتے ہیں۔ انسانی اقدار اور اخلاقی روایات جنم لیتی ہیں۔ ثقافتی اور فلاحی کاموں کے ذریعے دنیاوی اور معنوی ترقی کی رفتار نظر آ تی ہے، حقیقی معنوں میں آزاد قومیں امن ومحبت کے ساتھ رہتی ہیں لیکن ہمیں یہ بھی میسر نہیں۔

مجھے اس ملک سے محبت بھی ہے۔ میںخوشی منانے کے خلاف نہیں ہوں۔ کامیابی کے بعدہمیں خوشی ضرور منانی چاہیے یہ عین انسانی فطرت ہے لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم محمد عربی ﷺ کی امت ہیں خوشی ہو یا غمی طریقہ وہی جو آج سے پندرہ صدی قبل قائم ہونے والی مدینہ کی اسلامی سلطنت کے باسیوں کا تھا ،مگرہم تو ایک ناکام قوم کہلاتےہیںہم امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام ہیں۔ آگے بڑھنے کی بجائےہم پیچھے چل پڑے ہیں۔ اگر پاکستان کا اقتدار کسی عقل مند انسان کے ہاتھ میںہوتا تو سب سے پہلے وہ ان سیاستدانوں کے تمام پیسے فارن بنکوں سے نکال کر اپنے ان عوم کی فلاح وبہبود کا کام کرتا جو غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی کی سانسیں گن رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم آزادی کا جشن منائیں یا غلامی کی زنجیروں پر ماتم کریں؟ ہم نےاپنے حکمرانوں کو وہ فوجی ہوں یا سویلین بڑی بڑی تقریریں کرتے ہوئے سنا۔ بڑی بڑی تقریبات میں ایوارڈز دیتے اور لیتے ہوا دیکھا، قومی پرچم لہراتے دیکھا اور وہاں بھی ایک ہی عہد دہرایا جاتا رہا۔ کہ’’ ہم اس ملک کو ایک عظیم ملک بنائیں گے‘‘۔ آج 77سال کے بعد اس ملک کو ہم نے جو کچھ بنایاہے وہ سب کے سامنےہے۔ پاکستان کے بعد آزادہونے والے ممالک نےترقی کی اور صنعتی طاقت بنے۔ ہم نے ریورس گیرلگایا۔ اور آج پاکستان کو ایک ایسا ملک بنادیا ہے۔ جہاں عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ جہاں عوام بجلی جیسی نعمت سے محروم ہیں۔ علاج معالجہ کی سہولیات کا یہ حال ہے کہ فری تو کجا آپ پرائیویٹ بھی حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ کیونکہ بڑے شہر دیہاتی علاقوں سے کافی دور ہوتے ہیں۔ اور پھر ہسپتالوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے دیہاتی بیچارے لائینوں میں ہی ذلیل ہوتے رہتےہیں۔ کیا پاکستان لوگوں کو ذلیل کرنے کیلئے بنایا گیا تھا۔ ملک میں گیس کی فراوانی ہونے کے باوجودہم اسے اپنے لوگوں کو فراہم نہیں کرسکتے۔ انصاف کا حصول اتنا مشکل ہے کہ اپنا سب کچھ بیچ کر بھی آپ انصاف حاصل نہیں کر سکتے۔ اور انصاف کی سبک رفتاری کا عالم یہ ہے کہ نسل گزر جائے لیکن فیصلہ نہ آئے۔ میرٹ کا تقدس ہمارے لیڈر ایسے پامال کرتےہیں کہ حقدار گلے میں رسے کا پھندا ڈال لیتا ہے۔ بددیانتی، اقرباپروری، رشوت ستانی ہم پاکستانیوں کے ماتھے کا جھومر بن چکا ہے۔ امن کا یہ حال کہ جب بھی گھر سے باہر نکلو آخری بار سمجھ کر نکلو۔ کس کس برائی کا ذکر کریں۔ شرمندگی در شرمندگی ہے۔

ہم بحیثیت قوم کرپٹ ہیں۔ہم نے کرپٹ لوگوں کو اپنا رہنما بنایا ہے، اور ان کرپٹ نوسربازوں نے آج تک اس ملک کیلئے کچھ نہیں کیا۔ ایسی پالیسیاں بنا دی ہیںکہ ایک غریب آدمی آج عوام کے مسائل حل کرنے اور اس ملک کے قیام کے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے ایوان میں نہ پہنچ سکے، یہاں ہر وہ شخص پہنچ سکتا ہے جس کے پاس قابلیت صفر ہو ڈگری بھی جعلی ہو لیکن ٹکٹ دینے والی جماعت کو بلینک چیک دینے کی وسعت رکھتاہو اور پھر الیکشن میں مد مقابل کے لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے علاوہ الیکشن مہم پر پیسہ پانی کی طرح بہانے کی صلاحیت ہو یہی یہاں کے ایوانوں کا معیار ہے جو اس پر پورا اترا وہ کامیاب ہے، اگرچہ اسے سورۃ فاتحہ اور سورۃ اخلاص بھی نہ یاد ہو نماز جنازہ کا کچھ پتہ تک نہ ہوبس سوٹ بوٹ اور ٹائی لگانی آتی ہو۔ مگر ایک مکروہ سوچ کے ذریعے اس ملک کے نوجوان طبقے کو تعلیم سے  دور رکھا گیا ہے۔ 80٪ فیصد آبادی Ruralہے اور Rural ایریاز میں گرلز، بوائز کالج، یونیورسٹیاں ممنوع ہیں۔

شکر یہ چیف جسٹس

الحمدللہ! مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 6فروری 2024ء اور 24جولائی 2024ء کے فیصلوں سے معترضہ پیراگراف سات‘ 42 اور 49c حذف کردیے ہیںجن پر حکومت اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات کیے گئے تھے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اب ان پیراگرافس کو عدالتی نظیر کے طور پر بھی پیش نہیں کیا جا سکے گا۔سپریم کورٹ نے علما کرام کی تجاویز منظور کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے 6 فروری اور 24 جولائی 2024 ءکے فیصلوں سے ٹرائل کورٹ متاثر نہیں ہو گی۔ایک بار پھر قوم جیتی ۔ جذبہ ایمانی جیتا۔ آئین پاکستان جیتا۔ رب کی رحمت ہوئی۔دینی جماعتوں کے قائدین کا بھی شکریہ جنہوں نے بروقت فیصلے کئے اور سپریم کورٹ سے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ لیا ۔سپریم کورٹ کے معزز ججز چیف جسٹس سمیت سب کا شکریہ جنہوں نے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا بلکہ حقائق کو مد نظر رکھا۔بہرحال قوم کو مبارکباد کہ اللہ نے انہیں سرخرو کیا اور کا.فر ہی نہیں دھوکے باز کا.فرو.ں کو ایک بار پھر سر عام رسوا کیا۔

قادیانی اسلام اور پاکستان کے بدترین دشمن ہیں ۔ عقیدہ ختم نبوت اور آئین پاکستان کے بھی منکر ہیں۔ اپنے سوا دیگر مسلمانوں کوکافرقرار دیتے ہیں۔جبکہ 7 ستمبر1974ء کو پوری قومی اسمبلی نے انہیں متفقہ طور پر کافر قرار دیا ۔ تب سے انہوں نے اس آئینی فیصلے کو ماننے سے انکار کر رکھاہے ۔ ایک ہی رٹ ہے کہ صرف ہم ہی مسلمان ہیں باقی سب کا. فر ہیں۔ ۔ انہوں نے بہت مرتبہ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ شائد کہیں سے کچھ بہانہ مل جائے اور ہم دوبارہ دھوکہ دے کر آئین پاکستان کی شقوں کو ختم کروا سکیں اور اس بد مقصد کے لیے انہیں بہت سی اندرونی و بیرونی قوتوں کی حمایت بھی حاصل رہی ہے۔ لیکن اللہ تعالی کے فضل وکرم سے آج تک ذلیل و رسواء ہی ہوئےکیونکہ ان کے مقابلے میں امت مسلمہ بھی بحمداللہ بیدار رہی۔

اس سارے معاملے کی ابتدا آج سے پانچ سال قبل ہوئی۔ سات مارچ 2019 ء کو پنجاب کے ضلع چنیوٹ میں قادیانیوں نے مبینہ طور پر تحریف شدہ قرآن کی تفسیر بچوں میں تقسیم کی، جسے ’تفسیرِ صغیر‘ کہا جاتا ہے۔اس واقعے کے تقریباً تین سال بعد چھ دسمبر 2022 ء کو چنیوٹ کے علاقے چناب نگر میںان کے خلا ف مقدمہ درج ہوا۔ مبارک ثانی توہین و تحریف قرآن کریم کے جرم میں گرفتار ہوا تو ذیلی عدالتوں نے جرم ثابت ہونے پر دی گئی سزا برقرار رکھی۔ آخر میں سپریم کورٹ گیا، وہاں سے کچھ ٹیکنیکل بنیادوں پر ریلیف لینے میں کامیاب ہوا۔ ضمانت مل گئی اور جیل سے رہائی بھی ۔ کیونکہ جرم میں جتنی سزا تھی شائد وہ پہلے ہی کاٹ چکا تھا۔ لیکن ضمانت کے اس فیصلے پر محترم چیف جسٹس اور دیگر ججز حضرات نے کچھ ایسا کر دکھایا جو امت کے اجتماعی ضمیر اور ان کے ایمان کو گوارا ہی نہ تھا۔ فیصلے کے خلاف ریویو پٹیشن دائر ہوئی۔ اس کا فیصلہ جولائی میں آیا اور پہلے فیصلے میں کچھ تصحیح تو کر دی گئی لیکن بہت باریک واردات کے ذریعے قادیانیوں کو حق تبلیغ دے دیا گیا جو آئین پاکستان اور اسلامی شریعت سے قطعی متصادم اور ججز حضرات کی اپنی آراء پر مشتمل تھا۔ اس فیصلے کے بعد ملک بھر کے تمام اہل حقِ، علم ودانش مضطرب ہوگئے۔ احتجاج ہوئے، فتوے لگے ، پارلیمنٹ تک میں اس پر اپوزیشن اور حکومت کے ارکان اسمبلی نے بھرپور آواز اٹھائی۔ اور اس آواز کا نتیجہ تھا کہ آج ریویو فیصلے کی تصحیح کےلئے ایک بار پھر سپریم کورٹ کے دروازے کھلے ۔ جید علماءکرام پیش ہوئے۔ کئی ایک مذہبی راہنماؤں کے نمائندگان وکلاء ان کی طرف سے پیش ہوئے۔ معزز ججز نے علماء کرام کی رائے کو تحمل سے سنا ، دلائل پر غور کیا اور بالآخر اپنی غلطی سر عام تسلیم کرتے ہوئےکہا ہم اوپر والے سے ڈرتے ہیں،یہاں تو چھوٹ ہو جائے گی اوپر چھوٹ نہیں ہوگی،یقینا فیصلوں میں غلطی ہو سکتی ہے،اس لئے نظر ثانی کا آپشن دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے معزز ججز چیف جسٹس سمیت سب کا شکریہ جنہوں نے اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا بلکہ حقائق کو مد نظر رکھا۔بہرحال قوم کو مبارکباد کہ اللہ نے انہیں سرخرو کیا اور کا.فر ہی نہیں دھوکے باز کا.فرو.ں کو ایک بار پھر سر عام رسوا کیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اچھا کیا کہ اپنے فیصلے سے رجوع کر لیا۔اس وقت عدالتوں کی کارکردگی پر عوام کا رد عمل خوشگوار نہیں۔سیاسی اور عوامی نوعیت کے امور زیادہ بہتر عدالتی دانشمندی کا تقاضا کرتے ہیں ۔ عدالت عظمیٰ کو دوسرے کئی فیصلوں میں بھی رجوع کی ضرورت ہے۔عدالت عظمیٰ کا احترام اور بھرم عوام کی نگاہ میں برقرار رہنا چاہئے ۔ عوامی اعتماد کی بحالی سے ہی عدالت کا بھرم قائم رہ سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *