Categories: جنوری2011

اچھی اور بری صحبت کی مثال

عَنْ أَبِی مُوسَی، رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ : مَثَلُ الْجَلِیسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْء ِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِیرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّا أَنْ یُحْذِیَکَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْہُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْہُ رِیحًا طَیِّبَۃً وَنَافِخُ الْکِیرِ إِمَّا أَنْ یُحْرِقَ ثِیَابَکَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِیحًا خَبِیثَۃً.

تخریج :                 صحیح بخاری، حدیث نمبر:5534 صحیح مسلم، حدیث نمبر : 6692

راوی کا تعارف :  حدیث نمبر 34 کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں۔

معانی الکلمات :

مَثَلُ: مثال Example       الْجَلِیسِ :ساتھی Fellow     الصَّالِحِ :نیک Poius/Good

السَّوْء ِ: برا Bad             کَحَامِلِ :اٹھانے والے کی طرح Like Holdor/carrier   الْمِسْکِ :قسطوری، عطر Scent/perfume

نَافِخِ :پھونکنے والا Blowing/Blower  الْکِیرِ:بھٹی Bellow           إِمَّا :یا Or

أَنْ یُحْذِیَکَ : تمہیں حصہ دیگا He will give you a part          تَبْتَاعَ :تم خریدو You Pnrchase

مِنْہُ: اس سے From him  تَجِدَ: آپ پائیں You gey/You find            رِیحًا طَیِّبَۃً : خوشبو Perfume

یُحْرِقَ :جلا دے Burn          ثِیَابَکَ : آپ کے کپڑے Your Clothes        رِیحً خَبِیثَۃً:بدبو Smell

’’سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اچھے اور برے ساتھی کی مثال عطر فروش اور بھٹی جلانے والے کی ہے۔ عطر فروش خود بخود آپ کو کچھ(ھدیہ) دیدیگایا آپ اس سے کچھ (عطر) خرید لیں گے یا (کم از کم) آپ کو (اس سے) خوشبو ضرور ملتی رہے گی۔ (اس کے برعکس) بھٹی جلانے والے کے پاس بیٹھنے سے آپ کے کپڑے جل جائیں گے یا (کم از کم) آپ کو بدبو (ضرور) آتی رہے گی۔‘‘

تشریح :

بلاشبہ صحبت انسان کے مزاج، کردار، افکارو خیالات پر اثر انداز ہوتی ہے اگر حلقۂ احباب صالح اور اعلیٰ اخلاق وکردار کے حامل لوگوں کا ہے تو اچھے اخلاق وکردار اپنانے میں بہت آسانی اور تائید ملتی ہے چنانچہ ان کے رنگ میں بہت جلد رنگا جائے گا ۔ اس کے برعکس اگر صحبت بدکردار لوگوں کے ساتھ ہے تو آہستہ آہستہ ان کے ہم نوالہ، ہم پیالہ بن کر ایک جیسا ہو جائے گا۔ (إلا من رحم ربی)

کم از کم اچھے اخلاق وکردار پر قائم رہنا بہت مشکل ضرور ہوجائے گا انسان فطری طور پر بہت کمزور واقع ہوا ہے بہت جلد اپنے لئے عذر تلاش کرنے لگتاہے۔

حدیث مذکور میں بہت خوبصورت مثال دیکر بری صحبت سے اجتناب اور اچھی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیاگیاہے کہ عطر فروش سے دوستی ہو تو عطر تحفے میں مل سکتاہے، پسند آنے پر خرید سکتاہے، جتنی دیر اس کے پاس بیٹھے گا خوشبو پاتا رہے گا۔ لیکن اگر لوہے کی بھٹی والے کے پاس بیٹھے گا تو کپڑے جلنے کا اندیشہ اپنی جگہ پر آگ کی تپش وحرارت تو ضرور ملتی رہے گی۔

نیک لوگوں کی صحبت کواختیار کرنے اور برے لوگوں سے دوری پسند کرنادرحقیقت الولاء والبراء جیسے بنیادی اصول کا تقاضا بھی ہے۔ چنانچہ یہ جذبہ(اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اور متقی بندوں کے ساتھ محبت و قرب اور باغیوں، بدکردارلوگوں سے اجتناب) اللہ کے ہاں بہت بڑا مقام رکھتاہے۔

بنی اسرائیل کے ایک شخص( جس نے سو افراد کو قتل کیا تھا) کی توبہ اور نیک لوگوں کے ساتھ قیام پذیر کے جذبے پر جنت مل جانا واضح مثال ہے۔ واللہ أعلم بالصواب

admin

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

5 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

5 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

5 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

5 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

5 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

5 days ago