Categories: جولائی2009

آئیے حدیث رسول پڑھیں

عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ :’’ مَنْ نَذَرَ أَنْ یُّطِیْعَ اللّٰہَ فَلیُطِعْہُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ یَّعْصِیَہُ فَلاَ یَعْصِیْہِ ۔‘‘
تخریج : صحیح بخاری ، کتاب الإیمان والنذور ۔ باب النذر فی الطاعۃ : حدیث :۶۶۹۶

معانی الکلمات
مَنْ : جو شخص who ever
نَذَرَ:اس نے منت مانی He concecratod / dedicated
أَنْ :یہ کہ That
یُّطِیْعَ :اطاعت / فرمانبرداری کرے Obey
فَلْیُطِعْہُ : پس اسے چاہیے کہ اس کی اطاعت کرے He may obey him
یَعْصِیْہِ :اس کی نافرمانی کرے Disobey him
ترجمہ: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص (ایسی )نذر مانے کہ اللہ کی اطاعت کرے تو وہ اس کی اطاعت (ضرور) کرے اور جو

شخص (ایسی )نذر مانے کہ اس کی نافرمانی کرے تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۔‘‘

تشریح: نذر ونیاز صرف اللہ کا حق ہے ۔غیر اللہ کی نذر ونیاز شرک ہے ۔اسی طرح نذ ر(منت) کسی ایسے کام کے کرنے کی ہونا ضروری ہے جوشرعاً جائز ہو۔ناجائز کام درحقیقت

قانون الٰہی کی خلاف ورزی ہے چنانچہ یہ جُرم (گناہ) ہے ، جس سے حتی المقدور اجتناب ضرور ی ہے ۔اچانک کوئی معاملہ درپیش ہوتو بھی رک کر غو رکرنا ضرور ی ہے کہ اس

سلسلہ میں اللہ کا دستور کیا کہتا ہے اور اسی دستور الٰہی کے مطابق اقدام کرنا فرض ہے چہ جائیکہ بندہ مستقبل میں کوئی ایسا کام کرنے کا ارادہ کر لے جو اللہ کے قانون سے

متصادم (ناجائز ) ہو۔
عموماً نذر (منت) پوری کرنا ضرور ی ہے لیکن اگر کم علمی کی وجہ سے کوئی ایسی منت مان لی ہو جوناجائز ہوتو ایسی منت پوری کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ مثلاً اگر بندہ یہ

منت مان لے کہ میرا فلاں مسئلہ حل ہو گیا تو میں اتنی شراب مفت تقسیم کرونگا یا فلاں مقبرہ تعمیر کرو ادونگا ، فلاں کا عرس کرواؤنگا وغیرہ وغیرہ یہ تمام غیر شرعی کام ہیں لہذا منت کی صورت میں بھی انکا اقدام حرام ہے ۔ البتہ منت پوری نہ کرسکنے کا کفّارہ (جو اگلی حدیث میں بیان ہورہا ہے ) ادا کرنا ضروری ہے ۔ واللہ أعلم بالصواب

نذر پوری نہ کرنے کا کفارہ

عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللہ عنہ عَنْ رَسُوْلِ اللہ ﷺ قَالَ : کَفَّارَۃُ النَّذْرِ کَفَّارَۃُ الْیَمِیْنِ

تخریج : صحیح مسلم، کتاب النذر ، حدیث نمبر۴۲۵۳
روای کا تعارف : حدیث نمبر 32 کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں
معانی الکلمات :
کَفَّارَۃٌ : Penance/ Reparation / atone ment
اَلْیَمِیْن: قسم Swear
ترجمہ: سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نذر کا کفّارہ (وہی ہے جو) قسم کا کفارہ ہے ۔
تشریح : اگر کسی بھی وجہ سے قسم پوری کرنا ناممکن ہوتو اس کا کفارہ درج ذیل ہے جوکہ سورئہ مائدۃ میں مذکور دس مساکین کو کھانا کھلانا یا دس مساکین کو لباس دینا یا ایک غلام

آزاد کرنا یا تین دن کے روزے رکھنا ہے ۔

ڈاکٹر عبدالحی المدنی

Share
Published by
ڈاکٹر عبدالحی المدنی

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago