(معلم انسانیت رہبر اعظم رسول کائنات محمد عربی ﷺ کو خالق کائنات نے نوعِ انسانی کے لئے کامل اسوۂ حسنہ بنایا ہے محسن انسانیت ﷺ کے معمولات زندگی ہی قیامت تک کے لئے شعار و معیار ہیں اور رہیں گے سید المرسلین و خاتم النبیین ﷺکی ذاتِ اقدس ہی وہ فرد کامل ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے وہ تمام اوصاف جاگزیںکئے ہیں جو انسانیت کے لئے مکمل لائحہ عمل بن سکتے ہیں آپ ﷺکے شیریں اخلاق اور کریمانہ عادات کی ایک جھلک احادیث مبارکہ کے ذریعے قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہاہوں۔)
سیدنا انس بن مالک فرماتے تھے کہ رسول اللہﷺ نہ تو بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ بہت چھوٹے قد کے تھے نہ تو بے انتہا سفید تھے اور نہ گندم گوں تھے (بلکہ سرخ وسفید تھے) آپﷺ کے بال نہ تو شدید گھونگھریالے تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے۔ اللہ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبی بنایا۔ پھر آپ مکہ میں دس سال اور مدینہ میں دس سال رہے۔ اللہ نے آپ کو ساٹھ سال (اور تین سال) کی عمر میں وفات دی۔ آپ کے سر اور داڑھی میں بیس (کے قریب) بال بھی سفید نہیں تھے۔
(وضاحت: رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں تیرہ سال بسر فرمائے مگر حدیث میں دس سال کاتذکرہ ہے جس کے بارے میںامام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی روایت اور امام سُہیلی کی تحقیق کے مطابق جن تین سالوں میں آپ ﷺ سے وحی منقطع رہی وہ نکال کر دس سال بنتے ہیں۔)
(حسن : اخرجہ الترمذي: ۳۶۳۷ والشمائل، وللحدیث شواھد کثیرۃ ۔ [السنۃ : ۳۶۴۱])
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نہ تو بہت لمبے تھے اور نہ چھوٹے قد کے۔ آپ کا سر اور داڑھی بڑی تھی۔ آپﷺ کی ہتھیلیاں سخت اور موٹی تھیں۔ (آپ کا رنگ) سرخی مائل (اور سفید) تھا آپ کی ہڈیوں کے جوڑ بڑے تھے۔ سینے کے نیچے لمبے بال تھے جب آپ چلتے تو آگے کی طرف جھک کر (تیز) چلتے گویا کہ کوئی اوپر سے نیچے اتر رہا ہے۔ میں نے آپﷺ جیسا کوئی نہیں دیکھا نہ پہلے اور نہ بعد میں۔
سیدنا براء (بن عازب) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ درمیانے قد اور چوڑے کندھوں والے تھے۔ آپﷺ کے سر کے بال کانوں کی لو تک پہنچے ہوئے تھے میںنے آپ کو سرخ کپڑے میں دیکھا ہے میں نے آپﷺ سے زیادہ خوبصورت کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔
موئے (بال) مبارک
سیدنا قتادہ (تابعی) نے کہا: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کے بالوں کے بارے میں پوچھا تو انھوںنے فرمایا: رسول اللہﷺ کے بال (بہت) کم گھونگھریالے تھے، نہ تو (بالکل) سیدھے بال تھے اور نہ گھونگھریالے۔ آپ کے بال کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ (ہی) سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے بال‘ آدھے کانوں تک تھے۔
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میںنے رسول اللہﷺ سے زیادہ خوبصورت، سر کے بالوں والا کوئی نہیں دیکھا، آپ ﷺ کے بال کندھوں کو چھو رہے تھے۔ آپ کے کندھے چوڑے تھے۔ آپ نہ چھوٹے قد کے تھے اور نہ لمبے قد کے۔ (درمیانے قد کے تھے)
سیدنا ثابت(البنانی‘ تابعی) کہتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کے خضاب کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوںنے فرمایا: آپ ﷺ خضاب (بالوں کو رنگنے کی حالت) تک نہیں پہنچے تھے۔ اگر میں چاہتا تو آپﷺ کی داڑھی کے سفید بال گن سکتا تھا (بہت تھوڑے بال سفید تھے)
سیدنا قتادہ (تابعی) نے کہا: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے خضاب لگایا تھا؟ تو انھوںنے جواب دیا: آپ اس تک نہیں پہنچے تھے۔(آپ کے بال زیادہ سفید نہیں تھے) آپﷺ کی کنپٹیوں کے پاس کچھ بال سفید ہوئے تھے‘ لیکن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مہندی اور کتم کے ساتھ سرخ خضاب لگایا تھا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ (ہی) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کے سر اور داڑھی(مبارک) میں صرف چودہ سفید بال گنے تھے۔
سیدنا سماک بن حرب (تابعی) نے کہا: جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہﷺ کے سر کے بال سفید ہوئے تھے؟ تو انھوںنے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے سر کے بال سفید نہیں ہوئے تھے سوائے چند بالوں کے جو مانگ میں تھے جب آپ تیل لگاتے تو تیل ان (کی سفیدی) کو چھپا لیتا تھا۔
مہر نبوت
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کے کندھوں کے درمیان (نبوت کی) مہر کو دیکھا ہے۔ وہ کبوتری کے انڈے جیسی‘ گول گوشت (اور) بالوں والا ٹکڑا تھی۔
سیدنا ابوزید بن اخطب الانصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے ابوزید میرے قریب آ اور میری پیٹھ پر ہاتھ پھیر‘ میں نے آپ ﷺ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو میری انگلیاں (نبوت کی) مہر پر لگیں۔ میں نے کہا: کیسی مہر؟ (تو انھوں نے) کہا: (ابھرے گوشت پر) کچھ اکٹھے بال تھے۔
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے اور میںنے آپ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر آپ ﷺ کا کھانا کھایا اور پانی پیا ہے اور میں نے آپ ﷺ کے دائیں کندھے کے اوپر مہر نبوت کو دیکھا ہے گویا وہ کالے خالوں کا مجموعہ ہے۔ گویا کہ وہ مسے ہیں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میںنے رسول اللہ ﷺ (کے جسم مبارک)کی خوشبو سے زیادہ نہ مشک کستوری سونگھی ہے اور نہ مشک عنبر‘ میںنے رسول اللہﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ ملائم نہ ریشم چھوا نہ اس سے ملائم جلدوالا کوئی اور کپڑا۔(آپ کی خوشبو سب سے زیادہ اچھی اور آپ کی ہتھیلیاں سب سے زیادہ ملائم تھیں)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس (ہمارے گھر میں) تشریف لائے اور قیلولہ کیا۔ آپ کو پسینہ آگیا تو میری ماں (ام سلیم) ایک برتن لائی اور ہاتھوں سے یہ پسینہ پونچھ کر برتن میں ڈالنے لگیں۔ پھر نبی کریم ﷺ بیدار ہوگئے تو فرمایا: اے ام سلیم! یہ کیا کررہی ہو؟ انھوںنے کہا: آپ کا یہ پسینہ ہم اپنی خوشبو میں ڈالیں گے۔ یہ خوشبو سے زیادہ پاکیزہ (اور اچھی) خوشبو والا ہے۔
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ پہلی نماز پڑھی۔ پھر آپ اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے، میں آپ کے ساتھ گیا۔ آپ کے سامنے دو لڑکے آئے تو آپ دونوں کے رخساروں پر ہاتھ پھیرتے رہے اور میرے رخسارپر ہاتھ پھیرا تو میں نے آپ ﷺ کے ہاتھ کی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گویا وہ عطر فروش کے خوشبو دار برتن سے باہر نکلا ہے۔
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ کا چہرہ سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت تھا اور آپ ﷺ سب سے زیادہ بہترین اخلاق والے تھے۔ نہ بہت زیادہ لمبے تھے اور نہ چھوٹے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کی دس سال خدمت کی ہے۔ آپ ﷺ نے مجھے کبھی اُف تک نہیں کہا اور نہ کسی کام پر جو میںنے کیا تھا‘ کہا: تونے یہ کیوں کیا ہے؟ اور نہ کسی چیز پر جسے میں نے چھوڑا یہ کہاکہ تونے اسے کیوں نہیں کیا؟ رسول اللہﷺ لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے۔ میں نے رسول اللہﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم ریشم‘ حریر یا اس جیسی کوئی چیز نہیں چھوئی۔ میں نے رسول اللہﷺ کے پسینے سے زیادہ خوشبودار کوئی کستوری یا عطر نہیں سونگھا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔ ایک دن آپﷺ نے مجھے ایک کام کے لیے بھیجا تو میں نے کہا: ’’واللہ‘ میں نہیں جائوں گا‘‘ اور دل میں یہ تھا کہ (ضرور) جائوں گا۔ پھر میں نکلا اور بازار میں کھیلنے والے بچوں کے پاس سے گزرا (تو ان کے ساتھ کھیلنے لگا) کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہﷺنے مجھے میری گدی کے پیچھے سے پکڑ لیا ہے جب میں نے آپ کو دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے ۔ آپ نے (پیار سے) فرمایا: اے انیس! تو اس کام کے لیے گیا ہے جس کا میں نے تجھے حکم دیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں‘ اب جاتا ہوں یارسول اللہﷺ!
(ورواہ النسائي فی الکبریٰ: ۱۱۳۵۰ عن قتیبۃ بن سعید: عن جعفر (بن سلیمان بہ ) و للحدیث شواھد ۔)
سیدنا یزید بن بابنوس (تابعی) سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: اے ام المومنین! رسول اللہ ﷺ کا اخلاق کیا تھا؟ انھوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ کا اخلاق قرآن تھا۔ پھر کہا: کیا تم سورۃ المؤمنون (زبانی) پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں‘ تو انھوںنے کہا: پڑھو ‘ تو میںنے پڑھی۔
’’مومن کامیاب ہوگئے جو اپنی نمازوں میں خشوع (اور عاجزی) کرتے ہیں‘‘۔ حتیٰ کہ میں(آیت نمبر9)
’’اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں‘‘
تک پہنچا تو انھوںنے فرمایا: اسی طرح رسول اللہ ﷺ کا اخلاق تھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے اللہ کے راستے میں جہاد کے علاوہ کسی چیز کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ نہ کسی خادم کو مارا اورنہ کسی عورت کو مارا۔
(صحیح البخاري:۳۵۵۹، ۳۷۵۹، ۶۰۲۹، ۶۰۳۵ ومسلم: ۲۳۲۱ من حدیث الاعمش بہ۔ [السنۃ : ۳۶۶۶])
سیدنا عبداللہ بن عمرو (بن العاص رضی اللہ عنہا )نے فرمایا کہ یقینا رسو ل اللہ ﷺ فاحش اور بے ہودہ گو نہیں تھے اور آپ فرمایا کرتے تھے: تم میں سے بہتر وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ رسول اللہﷺ فحش گو اور بے حیائی کی گفتگو کرنے والے نہیں تھے۔ نہ آپ بازاروں میں شور مچاتے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے بلکہ آپ معاف فرمادیتے اور درگزر فرماتے تھے۔
(صحیح البخاري، الادب باب ۳۸ ح ۶۰۳۱ و ۶۰۴۶ من حدیث فلیح بہ ۔ [السنۃ: ۳۶۶۹])
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ گالیاں دینے والے‘ فحش گو اور لعن طعن کرنے والے نہیں تھے۔ آپ جس پر عتاب فرماتے تو کہتے: اسے کیا ہوگیا اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجۂ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب بھی رسول اللہﷺکو دو کاموں میں سے (ایک کا) اختیار دیا گیا تو آپ نے آسان کام ہی اختیار کیا جب تک کہ اس میں (کوئی) گناہ نہیں تھا اور اگر گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب لوگوں سے زیادہ اس سے دور ہوتے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے لیے کبھی انتقام نہیں لیا۔ الا یہ کہ اگر اللہ کی حرمت کو توڑا جاتا تو آپ اللہ کے لیے اس کا انتقام لیتے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میںنے رسول اللہ ﷺکو کسی ظلم کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا جب تک کہ اللہ کی حرمتوں میں سے کسی کو توڑا نہ جائے اور اگر اللہ کی حرمتوں میں سے کسی کو توڑا جاتا تو آپ اس پر سب سے زیادہ غصہ فرماتے تھے اور جب بھی دو کاموں کے درمیان آپ ﷺ کو اختیار دیا گیا تو آپ ﷺ نے آسان کام ہی اختیار کیا بشرطیکہ اس میں کوئی گناہ نہ ہو۔
(بخاري، الادب باب من اخبر صاحبہ بما یقال فیہ:۶۰۵۹ من حدیث سفیان الثوري بہ مسلم : ۱۰۶۲ من حدیث الاعمش بہ ۔ [السنۃ : ۳۶۷۱])
سیدناابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے (ایک دفعہ غنیمت) کا مال تقسیم کیا تو ایک آدمی نے کہا: اس تقسیم کے ساتھ اللہ کی رضا مندی مطلوب نہیں۔ تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور یہ بات آپ کو بتائی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا پھر آپ نے فرمایا: اللہ موسیٰ علیہ ا لسلام پر رحم کرے۔ انھیں اس سے زیادہ تکلیف دی گئی ہے پھر انھوںنے صبر کیا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: احد والے دن‘ نبی کریم ﷺ کے اگلے دونوں دانت شہید ہوگئے اور آپ کا سر مبارک زخمی ہوا۔ آپ ﷺ کے چہرے پر خون بہہ رہا تھا اور آپ اسے پونچھ رہے تھے اور فرما رہے تھے: وہ قوم کس طرح کامیاب ہوسکتی ہے جس نے اپنے نبی کا چہرہ خون سے رنگا ہے حالانکہ وہ انھیں ان کے رب کی طرف دعوت دے رہا ہے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:
’’آپ ﷺ کے پاس کسی چیز کا اختیار نہیں ہے‘‘۔
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ چل رہے تھے آپ کو ایک پتھر آلگا۔ پس آپ گرگئے اور آپ کی انگلی زخمی ہوگئی تو آپ نے فرمایا: تو ایک انگلی ہے جو زخمی ہوئی ہے تجھے جوپہنچا وہ اللہ کے راستے میں (جہاد) سے پہنچا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طفیل بن عمرو الدوسی رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور کہا: یارسول اللہ! بے شک دوس (قبیلے) نے نافرمانی اور انکار کیا ہے پس آپ ان کے لئے بددعا فرمائیں تو رسول اللہﷺ نے قبلے کی طرف رخ کیا اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھالیے۔ لوگوں نے کہا: (دوس والے) ہلاک ہوگئے تو آپ نے فرمایا: اے اللہ دوس کو ہدایت دے اور انھیں (میرے پاس) لے آ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺکے پاس یہودی آئے تو کہا: السام علیک ( آپ پر موت ہو) آپ ﷺ نے فرمایا: وعلیکم یعنی اور تم پر بھی ہو‘ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے (یہودیوں سے) کہا: السام علیکم اور تم پر اللہ کی لعنت اور غضب ہو۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ٹھہر جائو اے عائشہ! تمھیں نرمی کرنی چاہیے سختی اورفُحش سے بچنا چاہئے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ نے نہیں سنا کہ انھوںنے کیا کہا: فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا جو میں نے جواب دیا؟ میں نے ان کی بات ان پر لوٹا دی۔ میری دعا ان کے بارے میں قبول ہوتی ہے اور ان کی دعا میرے بارے میں قبول نہیں ہوتی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپﷺ نے فرمایا: اسے اجازت دے دو‘ یہ اپنے خاندان کا برا آدمی ہے جب وہ اندر داخل ہوا توآپﷺ نے اس سے نرمی سے بات کی (جب وہ چلا گیا تو) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ نے (پہلے) وہ بات فرمائی۔ (لیکن) جب وہ اندر آیا تو آپ نے اس سے نرمی سے بات کی؟ آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے برے ٹھکانے والا وہ شخص ہوگا جسے لوگ اس کی فحش گوئی سے ڈرتے ہوئے چھوڑدیں۔وہ فحش گو آدمی تھا۔ آپﷺ نے اس لیے نرمی سے بات کی کہ کہیں فحش گوئی کرکے وہ آپ کی گستاخی نہ کردے پھر جہنمی بن جائے۔ سبحان اللہ آپﷺ کتنے مہربان تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (ہی)سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کو جب کسی آدمی سے کوئی (غلط) چیز معلوم ہوتی تو اس سے یہ نہ کہتے کہ تونے یہ کام کیا ہے؟ یا یہ بات کہی ہے بلکہ فرماتے: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں؟
سیدنا معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (ایک) نماز پڑھی تو لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے کہا: یرحمک اللّٰہ ‘ اللہ تجھ پر رحم کرے۔ لوگوں نے مجھے آنکھوں سے گھورنا شروع کردیا۔ پس میں نے کہا: ہائے میری ماں مجھے گم کردے تم مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ وہ اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے چپ کرانا چاہتے ہیں پھر جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی۔ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں آپ نے نہ مجھے مارا اور نہ مجھ سے نفرت کی اور نہ برا بھلا کہا۔ پھر فرمایا: یقینا اس نماز میں لوگوں کی کوئی بات حلال نہیں ہے یہ تو صرف تسبیح‘ تکبیر اور قراء ت قرآن ہے یا جس طرح رسول اللہﷺ نے فرمایا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اسے مارو۔ ہم میں سے کوئی اسے ہاتھ سے مارتا او رکوئی جوتے سے اور کوئی اپنے کپڑے سے مارتا تھا۔ جب وہ چلا گیا تو بعض لوگوں نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا ایسی باتیں نہ کرو‘ اس پر شیطان کی مدد نہ کرو بلکہ یہ کہو: اللہ تجھ پر رحم کرے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے پاس رو رہی تھی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ سے ڈرو اور صبر کرو‘‘۔ وہ عورت کہنے لگی: ’’آپ مجھ سے دور رہیں‘ آپ کو میری جیسی مصیبت نہیں پہنچی ہے‘‘ اس عورت نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ جب اس سے کہا گیا کہ یہ نبی کریم ﷺ ہیں تو وہ نبی مکرم ﷺ کے (گھر کے) دروازے پر آئی تو کوئی دربان نہ پایا۔ اس نے کہا: میں نے آپ کو نہیں پہچانا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: صبر صدمے کے شروع وقت ہی ہوتا ہے (بعد میں صبر آ ہی جاتا ہے)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ (ہی)سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ (اشعری رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہﷺ سے سواری مانگی پھر آپ (کسی کام میں) مشغول ہوگئے تو فرمایا: اللہ کی قسم میں تجھے سوار نہیں کروں گا۔ جب وہ چلے گئے تو آپ نے انھیں بلایاتو انھوںنے کہا: یارسول اللہ ﷺ آپ نے قسم کھائی ہے کہ مجھے سوار نہیں کریں گے۔ آپﷺ نے فرمایا: اور (اب) میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ضرور تجھے سوار کروں گا۔ پھر آپ نے اسے سوار کیا (اور قسم کا کفارہ ادا کردیا)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نرم برتائو کرنے والے انسان تھے۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کوئی چیز چاہتیں تو اسے پورا کرتے۔ آپ نے انھیں (ان کے بھائی) عبدالرحمن (بن ابی بکر) کے ساتھ بھیجا تو انھوںنے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’میں جانتا ہوں کہ تو جب مجھ سے راضی ہوتی ہے اور جب ناراض ہوتی ہے میں نے کہا: آپ کیسے جانتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تو مجھ سے راضی ہوتی ہے تو کہتی ہے نہیں محمد (ﷺ)کے رب کی قسم! اور جب ناراض ہوتی ہے تو کہتی ہے نہیں ابراہیم کے رب کی قسم‘ میںنے کہا: جی ہاں‘ اللہ کی قسم‘ اے اللہ کے رسول! میں صرف آپ کا نام لیناچھوڑ دیتی ہوں۔
رحمت و شفقت ِ نبی مکرم ﷺ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے‘ کیونکہ ان میں بیمار‘ کمزور اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور جب خود اکیلے نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی پڑھے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: میں نماز میں داخل ہوتا ہوں اوراسے لمبا کرنا چاہتا ہوں تو (کسی) بچے کا رونا سن لیتا ہوں تو اپنی نماز مختصر کردیتا ہوں‘ کیونکہ مجھے علم ہوتا ہے کہ اس بچے کی ماں پر اس کے رونے سے سخت اثر ہوتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ مشرکوں کے لئے بددعا کریں‘ تو آپ نے فرمایا: مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیابلکہ مجھے صرف رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔
(صحیح البخاري، الادب باب رحمۃ الولد ومعانقتہ وتقبیلہ:۵۹۹۷، مسلم:۲۳۱۸۔[السنۃ : ۳۴۴۶])
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (ہی) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا بوسہ لیا اور آپ ﷺ کے پاس اقرع بن حابس التمیمی رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے تو اقرع نے کہا: میرے دس بچے ہیں میں نے ان کا کبھی بوسہ نہیں لیا تو رسول اللہﷺ نے اس کی طرف دیکھا پھر فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
(صحیح البخاري، الجنائز باب قول النبي ﷺ إنا بک لمحزونون:۱۳۰۳مسلم، الفضائل باب رحمتہ بالصبیان والعیال: ۲۳۱۵۔ [السنۃ : ۱۵۲۸] )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ابوسیف لوہار کے پاس گئے۔ وہ (آپﷺ کے بیٹے) ابراہیم کے رضاعی باپ تھے۔ تو رسول اللہﷺ نے ابراہیم کو (اٹھا) لیا پھر اس کا بوسہ لیا اور اسے منہ سے لگایا۔ پھر اس کے (کچھ عرصہ) بعد ہم اس کے پاس گئے تو ابراہیم کا سانس نکل رہا تھا رسو ل اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہنے شروع ہوگئے تو عبدالرحمن بن عوف نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ بھی (رو رہے ہیں)؟فرمایا: ’’اے ابن عوف‘ یہ رحمت ہے‘‘ پھر اس کے بعد فرمایا: بے شک آنکھ روتی ہے اور دل غمگین ہے اور ہم صرف وہی کہتے ہیں جس پر ہمارا رب راضی ہے اور اے ابراہیم! بے شک ہم تیری جدائی سے غمگین ہیں۔
سیدنا ابوقتادہ السلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی چھوٹی نواسی) امامہ کو اٹھا کر نماز پڑھتے تھے۔ جب آپ سجدہ کرتے تو اسے رکھ دیتے اور جب اٹھتے تو اسے اٹھا لیتے تھے۔
سیدنا ابوہریرہ t سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ جب چھینک لیتے تو اپنے چہرے کو اپنے کپڑے یا ہاتھ سے ڈھانپ لیتے پھر اپنی آواز آہستہ کرلیتے تھے۔
(وللحدیث شواھد عند الحمیدي (۱۱۶۰) وغیرہ وانظر الحدیث السابق )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب چھینک لیتے تو آپ اپنا چہرہ ڈھانپ لیتے تھے اور آواز آہستہ کرلیتے تھے۔
سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ پردہ نشین کنواری سے بھی زیادہ حیا کرنے والے تھے۔ جب آپ کسی چیز کو ناپسند کرتے تو اس ناپسندیدگی کا اثر ہم آپ کے چہرے سے دیکھ لیتے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک بات (کو ٹھہر ٹھہر کر) بیان کرتے تھے۔ اگر کوئی (آپﷺ کی باتوں کو) گننے والا ہوتا تو اسے گن لیتا ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (ہی) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ٹھہر ٹھہر کر صاف وواضح کلام فرماتے تھے جو آپ ﷺ کے پاس بیٹھتا اسے یاد کرلیتا تھا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کلام فرماتے تو اپنی بات کا تین دفعہ اعادہ فرماتے تاکہ لوگ اسے (اچھی طرح)سمجھ لیں اور جب کسی قوم کے پاس جاتے تو (اجازت لینے کے لیے) انھیں تین مرتبہ سلام کہتے۔
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس سو دفعہ سے زیادہ بیٹھا ہوں۔ آپ کے صحابہ اشعار پڑھتے اور جاہلیت کی چیزوں کا ذکر کرتے تھے۔ آپ خاموش رہتے تھے اور کبھی کبھار ان کے ساتھ مسکرادیتے تھے۔
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہﷺ جب (ہنسی مذاق) کی کوئی بات کرتے تو مسکرا دیتے تھے۔
سیدنا(عبداللہ) بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ ہمیں (روزانہ کی بجائے) بعض دنوں میں درس دیتے تھے تاکہ ہم تنگی محسوس نہ کریں۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ خوبصورت، سب سے زیادہ سخی اور سب سے زیادہ دلیر تھے۔ ایک رات (کسی وجہ سے) مدینہ والے ڈر گئے۔ پھر لوگ اس (ڈراؤنی) آواز کی طرف چلے تو ان کے سامنے نبی کریم ﷺ آگئے۔ آپ لوگوں سے پہلے اس آواز کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ فرما رہے تھے: ڈرو نہیں‘ ڈرو نہیں۔ آپﷺ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی (بغیر زین والی) ننگی پیٹھ پر سوار تھے۔ آپ کی گردن میں تلوار لٹک رہی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اس گھوڑے کو سمندر جیسا (تیز) پایا ہے۔
(صحیح البخاري، الجھاد باب من قال خذھا وانا فلان: ۳۰۴۲، مسلم:۱۷۷۶ من حدیث ابي إسحاق السبیعي بہ )
ایک آدمی نے براء رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابوعمارہ! کیا آپ (جنگ) حنین والے دن بھاگ گئے تھے۔ براء نے کہا: رسول اللہﷺ نہیں بھاگے تھے۔ ابوسفیان آپ کی خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے جب آپ کے ارد گرد مشرکین چھا گئے تو آپ یہ کہتے ہوئے نیچے اتر آئے۔
اَنَــــا ابْـــنُ عَـبْـدِالْمُطَّلِبْ
’’میںنبی ہوں۔اس میں کوئی جھوٹ نہیں میں عبد المطلب (کے بیٹے) کا بیٹا ہوں‘‘۔
لوگوں میں آپﷺ سے زیادہ کوئی دلیر نہیں دیکھا گیا۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا ہوتا اور جنگ تیز ہوجاتی تو ہم رسول اللہﷺ کے پیچھے پناہ لیتے تھے۔ آپ ﷺ سے زیادہ کوئی بھی دشمن کے قریب نہیں ہوتا تھا۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بدر کے دن دیکھا کہ نبی ﷺدشمن کے زیادہ قریب تھے اورہم آپﷺ کے پیچھے پناہ پکڑے ہوئے تھے۔ آپﷺ اس دن سب سے زیادہ شدید جنگ لڑ رہے تھے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللہِ رضی اللہ عنہ فَقَالَ : إِنَّا یَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ؛ فَعَرَضَتْ کُدْیَۃٌ شَدِیْدَۃٌ، فَجَائُ وا النَّبِيَّ ﷺ ، فَقَالُوْا: ھٰذِہٖ کُدْیَۃٌ عَرَضَتْ فِی الْخَنْدَقِ، فَقَالَ :(( اَنَا نَازِلٌ )) ، ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُہٗ مَعْصُوْبٌ بِحَجَرٍ وَلَبِثْنَا ثَلاَثَۃَ اَیَّامٍ لَا یَذُوْقُ ذَوَاقًا، فَاَخَذَ النَّبِيُّ ﷺ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ فَعَادَ کَثِیْبًا اَھْیَلَ اَوْ اَھْیَمَ ۔
(البخاري، المغازي باب غزوۃ الخندق : ۴۱۰۱ )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم خندق کے دن (زمین) کھود رہے تھے۔ اتنے میں ایک بہت بڑا پتھر آگیا۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نبی ﷺکے پاس آئے اور کہا: یہ بہت بڑا پتھر خندق میں آگیا ہے تو آپﷺ نے فرمایا: میں اتر کر آرہا ہوں۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا۔ ہم نے تین دن کچھ بھی نہیں چکھا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے کدال لی اور اس پتھر پر ماری تو وہ ریت کے ٹیلے کی طرح ریزہ ریزہ ہوگیا۔
سخاوتِ مصطفیٰ ﷺ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ بھلائی کے کاموں میں نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ سخی تھے جب رمضان میں جبریل علیہ السلام آپﷺ کے پاس آتے تو آپ بہت زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔ جبریلw آپ کے پاس رمضان کے آخر تک ہر رات تشریف لاتے تھے۔ جب جبریل آپ سے ملتے تو آپ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوجاتے تھے۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے جو چیز بھی مانگی گئی تو آپ ﷺ نے انکار نہیں کیا۔
سیدنا انس tسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (کل کے لیے) کوئی چیز بچا کر نہیں رکھتے تھے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کے پاس آکر سوال کیا تو آپ ﷺ نے دو پہاڑوں کے درمیان (جتنی) بکریاں (تھیں) اسے دے دیں۔ وہ شخص اپنی قوم کے پاس گیا تو کہا: لوگو! مسلمان ہوجائو۔ محمدﷺ اس طرح چیزیں دے دیتے ہیں کہ آپ کو فاقے کا کوئی ڈر نہیں ہے۔
(بخاري:۲۵۸۵ عن حدیث عیسی بن یونس بہ )
سیدہ عائشہ rسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہدیہ قبول کرتے اور اس کے برابر لوٹا دیتے تھے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہوتا تو میں پسند کرتا کہ تین راتوں میں اس (سونے) میں سے ایک دینار بھی نہ بچے (اگر) اس کے لینے والے مل جائیں (تو میں انھیں دے دوں) سوائے اس چیز کے جس سے میں اپنا قرض اتار سکوں۔
سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے مانگا تو آپ نے انھیں دے دیا۔ پھر مانگا تو آپ نے دے دیا حتیٰ کہ آپ ﷺ کے پاس کچھ بھی باقی نہ رہا۔ آپ نے فرمایا: میرے پاس جو بھی مال ہوگا تو وہ میں تم سے بچا کر نہیں رکھوں گا جو عفت اختیار کرے گا اللہ اسے عفت عطا کرے گا جو بے نیازی چاہے گا اللہ اسے بے نیاز بنا دے گا جو صبر کرے گا اللہ اسے صبر عطا فرمائے گا۔ کسی شخص کو صبر سے بہترین کوئی چیز بھی نہیں دی گئی۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب صبح کی نماز پڑھتے تو مدینے کے خدمت گار اپنے برتنوں میں پانی لے آتے پانی کا جو برتن بھی دیا جاتا تو آپﷺ اس میں ہاتھ ڈبودیتے۔ بعض اوقات وہ ٹھنڈی فجر کے وقت بھی پانی اور برتن لے آتے تھے تو آپ ﷺ اس میں (برکت کے لیے) اپنا ہاتھ ڈبو دیتے تھے۔
سیدنا ابورفاعہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! میں اجنبی آدمی ہوں۔ دین سیکھنے کے لیے آیا ہوں‘ دین کے بارے میں کچھ جانتا نہیں ہوں۔ رسول اللہﷺ خطبہ چھوڑ کر میرے پاس تشریف لائے۔ ایک کرسی لائی گئی جس کے پائے لوہے کے تھے۔ آپ اس کرسی پر بیٹھ گئے اور مجھے دین کے بارے میں سکھاتے رہے۔ پھر اس کے بعد آپ نے جا کر خطبہ دیا اور اس کو اختتام تک پہنچایا۔
سیدنا (عبداللہ) ابن ابی اوفیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کثرت سے ذکر کرتے‘ (دنیاوی) باتیں بہت کم کرتے ‘ لمبی نماز پڑھتے اور مختصر خطبہ دیتے تھے اور نہ آپﷺ بیوائوں اور غریبوں کے ساتھ ان کی ضرورت پوری کرنے کے لیے چلنے سے ہی ہچکچاتے تھے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر کوئی شخص مجھے بکری کے ہاتھ یا کندھے کی دعوت دے تو قبول کرلوں گا۔
( اخرجہ الترمذي فی الشمائل: ۳۳۲ )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کو جو کی روٹی اور باسی چربی کی دعوت دی جاتی تو قبول کرلیتے تھے۔ آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس (مرہون) تھی۔ آپ اپنی وفات تک اس رہن کو چھڑا نہ سکے۔
اسود (تابعی رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا نبی کریم ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو انھوںنے فرمایا: گھر والوں کی مدد میں گھر کے کام کرتے رہتے تھے۔ جب نماز کا وقت ہوجاتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔
سیدنا عروہ (تابعی رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ گھر کے کام (بھی) کرتے تھے انھوںنے کہا: جی ہاں‘ رسول اللہﷺ اپنا جوتا گانٹھتے اور اپنا کپڑا سیتے تھے۔ جس طرح تم اپنے گھر کے کام کرتے ہو وہ بھی اپنے گھر کے کام کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، الاذان باب من کان في حاجۃ اھلہ إلخ: ۶۷۶ ۔ [السنۃ : ۳۶۷۸])
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی کریم ﷺ گھر کے کام کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا: جس طرح تم اپنے گھر کے کام کرتے ہو وہ جوتا گانٹھتے اور کپڑے کی مرمت کرتے تھے۔
سیدہ عمرہ (بنت عبدالرحمن‘ تابعیہ رحمہا اللہ) سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا: رسول اللہﷺ گھر میں کیا کام کرتے تھے؟ انھوںنے فرمایا: آپﷺ انسانوں میں سے ایک انسان تھے۔ اپنے کپڑے میں سے جوئیں نکالتے‘ اپنی بکری کا دودھ دوہتے اور اپنی خدمت کرتے تھے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سب سے زیادہ رسول اللہﷺ کو دیکھنا پسند کرتے تھے اور جب وہ آپ کو دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے تھے‘ کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ آپﷺ اسے ناپسند کرتے ہیں۔
سیدناابوہریرہ t اور ابوذر t (دونوں) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھے ہوتے تو کوئی اجنبی آتا تو اسے پتا نہیں چلتا تھا کہ آپ کون ہیں حتیٰ کہ اسے پوچھنا پڑتا۔ ہم نے نبی کریم ﷺ سے اجازت مانگی کہ ہم آپ کے لیے ایک خاص مقام بنادیں تاکہ اجنبی بھی آپ کو پہچان لے۔ پھر ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک چبوترا سا بنادیا جس پر آپ بیٹھتے تھے اورہم آپ کے ارد گرد بیٹھا کرتے تھے۔
سیدنا قدامہ بن عبداللہ بن عمار الکلابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا آپ قربانی والے دن سرخ زرد رنگ والی اونٹنی سے جمرۃ (عقبہ) کو (کنکریاں) مار رہے تھے نہ آپ کے سامنے لوگوں کو مارا جاتا تھا اور نہ دھتکارا جاتا اور نہ یہ کہا جاتا کہ ہو ہو اپنے آپ کو بچائو۔
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک ایسے گدھے پر سوار ہوئے جس پر زین کسی ہوئی تھی آپﷺ کے نیچے فد ک کی ایک چادر تھی۔ آپ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھالیا اورآپ بنو الحارث بن الخزرج میں سعد بن عبادہ کی بیمار پرسی کرنے جا رہے تھے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ جب بیمار ہوگیا تو نبی کریم ﷺ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے سر کی طرف بیٹھ گئے آپ نے اس سے کہا: ’’مسلمان ہوجا‘‘ وہ اپنے والد کی طرف دیکھنے لگا تو اس نے کہا: ابوالقاسم کی بات مان لے تووہ لڑکا مسلمان ہوگیا۔ پھر نبی کریم ﷺ وہاں سے یہ کہتے ہوئے نکلے: اس اللہ کی تعریفیں ہیں جس نے اس لڑکے کو آگ سے بچا لیا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب سفر سے تشریف لاتے تو آپ کی ملاقات آپ کے خاندان کے چھوٹے بچوں سے کرائی جاتی تھی (ایک دفعہ) آپ سفر سے آئے تو مجھے اٹھا کر آپ کے پاس لے جایا گیا تو آپ نے مجھے (سواری پر) اپنے آگے بٹھا لیا۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دو بیٹوں(حسن وحسین رضی اللہ عنہا ) میں سے ایک آیا تو آپ ﷺ نے اسے (سواری پر) پیچھے بٹھالیا۔ ایک سواری پر ہم تینوں مدینے میں داخل ہوئے۔
(اخرجہ احمد ۱/ ۴۱۱ عن عفان بہ )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم تین تین آدمی بدر کے دن‘ ایک ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ ابولبابہ اور علی بن ابی طالب‘ رسول اللہﷺ کے ساتھی تھے۔ جب رسول اللہﷺ کے (چلنے کی) باری آتی تو وہ دونوں کہتے: ہم (پیدل) چلیں گے۔ (آپ ﷺ ہی سوار رہیں) تو آپﷺ فرماتے: تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقت ور نہیں اور نہ میں تم سے زیادہ ثواب ملنے سے بےپروا ہوں۔
(اخرجہ علي بن الجعد ۱۷۲۵ البخاري:۶۲۴۷ عن علي بن الجعد، مسلم:۲۱۶۸ من حدیث شعبۃ بہ )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ(نبی ﷺ) بچوں کے پاس سے گزرے تو ان کو سلام کہا۔ پھر حدیث بیان کی کہ رسول اللہﷺ بچوں کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ان کو سلام کہا تھا۔
(اخرجہ الترمذي: ۲۶۹۶ ب والنسائي فی الکبری:ٰ ۱۰۱۶۱ (عمل الیوم واللیلۃ:۳۲۹) عن قتیبۃ بہ)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ انصار کے پاس جاتے تو ان کے بچوں پر سلام کہتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے تھے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ گزرے اور میں بچوں کے ساتھ (کھیل رہا) تھا تو آپ نے ہمیں سلام کہا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا۔
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عورتوں کے پاس سے گزرے تو ان (عورتوں) کو سلام کہا۔
( صحیح البخاري، الحج باب سقایۃ الحاج: ۱۶۳۵ )
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ پانی پینے کی جگہ کے پاس آئے اور پانی مانگا تو عباس نے کہا: اے فضل! اپنی ماں کے پاس جا اور رسول اللہﷺ کے لیے وہاں سے پانی لے آ۔ آپ نے فرمایا: مجھے پانی پلائو‘ (عباس نے) کہا: یارسو ل اللہﷺ! لوگ اس (پانی) میں ہاتھ ڈال رہے ہیں! آپ نے فرمایا: مجھے پانی پلا۔ پھر آپ نے اس سے پانی پیا پھر آپ زمزم کے پاس آئے (کچھ) لوگ پانی پلا رہے تھے اور (وہاں) کام کر رہے تھے تو آ پ نے فرمایا: کام کر، تو اچھا کام کر رہا ہے، پھر فرمایا: اگر میرے مغلوب ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اتر کر اپنی گردن پر رسی رکھ کر پانی نکالتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی ﷺکے پاس بات کرنے کے لیے ایک آدمی لایا گیا تو وہ کانپ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ڈرو نہیں میں بادشاہ نہیں ہوں میں تو قریش کی ایک عورت کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھاتی تھی۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو کبھی تکیہ لگا کر کھانا کھاتے نہیں دیکھا گیا اور نہ آپ ﷺ کے پیچھے دو پائوں چلے ہیں (آپ یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ آپ کے پیچھے پیچھے اس طرح چلیں جیسا کہ لوگ بادشاہوں کے پیچھے چلتے تھے)۔
سیدنا ابوسلمہ(تابعی رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ میں نے ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انھوںنے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو مٹی اور پانی پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے حتیٰ کہ میں نے آپ ﷺ کی پیشانی پر مٹی کا اثر دیکھا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میرے بارے میں (اس طرح) مبالغہ نہ کرنا جس طرح کہ نصرانیوں نے ابن مریم علیہا السلام کے بارے میں کیا ہے۔ میں تو صرف (اللہ کا) بندہ ہوں۔ پس کہو: اللہ کا بندہ اور اس کا رسول۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے کہا کہ میں یونس بن متٰی علیہ السلام سے بہتر ہوں تو اس نے جھوٹ کہا۔
(صحیح مسلم، الفضائل باب من فضائل إبراھیم الخلیل علیہ السلام: ۲۳۶۹ )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہا:
اے خیر البریہ! تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: وہ ابراہیمw ہیں۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دفعہ) رسول اللہﷺ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے۔سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا رہے تھے۔ آپ نے ہمیں کھڑا ہوا دیکھا تو (بیٹھنے کا) اشارہ کیا۔ ہم بیٹھ گئے اور آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا: قریب تھا کہ تم وہ کام کرو جو فارسی اور رومی کرتے ہیں وہ اپنے بادشاہوں کے پاس کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں۔ ایسا نہ کرو‘ اپنے اماموں کی اقتدا کرو اگر وہ کھڑے ہوکرنماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھ لو اور اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
( صحیح البخاري، الانبیاء باب قول اللہ تعالٰی: ووھبنا لداود سلیمان نعم العبد إنہ اواب:۳۴۲۳ مسلم، المساجد باب جواز لعن الشیطان في إثناء الصلٰوۃ:۵۴۱ ۔)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جنوں میں سے ایک (دیوہیکل) عفریت نے گزشتہ رات مجھ پر حملہ کیا تاکہ میری نماز توڑ دے۔ پھر اللہ نے مجھے اس پر اختیار عطا فرمایا تو میں نے اسے پکڑ لیا۔ پھر میں نے ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ تم سب (اپنی آنکھوں سے) اسے دیکھ سکو تو مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی کہ
’’اے اللہ !مجھے ایسی بادشاہی دے جو میرے بعد کسی اور کے لیے مناسب نہ ہو۔‘‘
پھر میں نے اسے ذلیل ورسوا کرکے چھوڑ دیا۔
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس گیا۔ آپ بورے (یا کھجور اور شاخوں کی بنی ہوئی ننگی چارپائی) پر لیٹے ہوئے تھے۔ آپﷺ کے اور اس بورے (چارپائی) کے درمیان بستر نہیں تھا۔ آپ کے جسم پر بورے (یاچارپائی) کی شکنوں کا اثر تھا۔ آپ نے چمڑے کے ایک سرہانے پر تکیہ لگا رکھا تھا جس میں کھجور کی شاخیں وغیرہ بھری ہوئی تھیں۔ میں نے گھر میں دیکھا تو اللہ کی قسم تین کھالوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں پایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کی امت کے لیے آسانی پیدا کرے۔ بے شک فارسیوں اور رومیوں کو (ہرطرح کی) آسانیاں دی گئی ہیں حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ تو آپ نے فرمایا: اے ابن الخطاب رضی اللہ عنہ تو بھی اس بارے میں بات کررہا ہے؟ ان لوگوں کو ان کی سہولتیں دنیا کی زندگی میں ہی دے دی گئی ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے اللہ تو آل محمد کے لیے گزارے والا رزق بنا (تاکہ وہ آخرت سے غافل نہ ہوجائیں)۔
( الترمذي:۲۳۷۷ من حدیث زید بن حباب بہ وللحدیث شواھد۔ [السنۃ : ۴۰۳۴])
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک چٹائی پر سوگئے۔ جب آپ ﷺ اُٹھے تو اس چٹائی کا نشان آپﷺ کے جسم پر تھا تو آپ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کے لیے کوئی (بہترین) چیز تیار کرکے بچھائیں آپ نے فرمایا: مجھے دنیا کی کیا پروا ہے میری اور دنیا کی مثال اس سوار کی ہے جو ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے رکا۔ (تھوڑی دیر) آرام کیا اور پھر اسے چھوڑ دیا (اور چل پڑا)۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے وفات تک جو کی روٹی سے دو دن (بھی) پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے سامنے بھنی ہوئی ایک بکری پڑی تھی۔ انھوںنے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھانے کی دعوت دی تو انھوںنے انکار کردیا اور فرمایا: رسول اللہﷺ دنیا سے اس حال میں تشریف لے گئے کہ آپ نے جو کی روٹی بھی سیر ہو کر نہیں کھائی۔
(اخرجہ الترمذي:۲۳۷۲ وفی الشمائل:۱۵۱، مسلم: ۲۹۷۷ عن قتیبۃ بہ۔ [السنۃ : ۴۰۷۱])
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم جو کھانا اور پینا پسند کرتے ہو‘ کیا تمھیں مل نہیں رہا؟ میں نے (ہمارے اور) آپ کے نبی کریمﷺ کو دیکھا ہے آپ کو پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے لیے (کبھی) معمولی قسم کی کھجور تک نہیں ملتی تھی۔
(اخرجہ مسلم الزھد باب ۱ ح ۲۹۷۲ من حدیث معمر، البخاري، الرقاق باب کیف کان عیش النبي ﷺ واصحابہ: ۶۴۵۸ من حدیث ھشام بہ۔ [السنۃ : ۴۰۷۴])
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہمارے اوپر ایسا مہینہ (بھی) آتا کہ ہم (اپنے گھر میں) آگ (تک) نہیں جلاتے تھے۔ (ہمارا کھانا) صرف پانی اور کھجوریں ہوتیں۔ سوائے اس کے کہ اللہ انصار کی عورتوں کو جزائے خیر دے وہ کبھی کبھار ہمیں دودھ (وغیرہ) میں سے کچھ تحفہ بھیج دیتی تھیں۔
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ رسول اللہﷺ کے گھر والوں کے پاس جو کی روٹی بھی زیادہ نہیں ہوتی تھی۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اور آپ کے گھر والے لگاتار کئی راتیں بھوکے رہتے تھے۔ کھانے کے لیے کچھ نہیں پاتے تھے۔ آپ کی روٹی عام طور پر جو کی ہوتی تھی۔
عَنْ اَبِيْ طَلْحَۃَ قَالَ : شَکَوْنَا إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ ﷺ الْجُوْعَ وَ رَفَعْنَا عَنْ بُطُوْنِنَا عَنْ حَجَرٍ وَ رَفَعَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ عَنْ بَطْنِہٖ عَنْ حَجَرَیْنِ ۔
(الترمذي: ۲۳۷۱ وفی الشمائل: ۱۳۳ ۔ [السنۃ : ۴۰۷۹])
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے پاس بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹوں سے (کپڑا) اٹھا کر ایک ایک پتھر دکھایا تو رسول اللہﷺ نے اپنے پیٹ سے (کپڑا) اٹھا کر دو پتھر دکھائے ( آپ نے بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھ رکھے تھے)۔
(اخرجہ الترمذي فی الشمائل:۳۷۷ من حدیث قتادۃ بہ وصرح بالسماع عند ابن سعد فی الطبقات ۱/۴۰۴ )
سیدنا انس t سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر اور رات کا کھانا بہت ہی کم اکٹھا ہوا (آپ نے کبھی کبھار ہی ایک دن میں دو کھانے کھائے)۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کی قسم! آل محمدﷺ نے تین راتیں پے درپے گندم کی روٹی نہیں کھائی حتیٰ کہ نبی کریم ﷺ فوت ہوگئے جب آپ فوت ہوگئے تو دنیا ہمارے اوپر امڈ پڑی۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں کئی دفعہ باسی چربی اور جو کی روٹی لے کر رسول اللہﷺ کے پاس جاتا تھا۔ میں (انس رضی اللہ عنہ )نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آل محمد(ﷺکی بیویوں) کے پاس کھانے کا ایک صاع تک نہیں ہوتا تھا اور وہ ان دنوں نو گھر والیاں تھیں۔
(احمد (۳/۲۱۳ وفی الزھد رضی اللہ عنہ ۳۹ ) عن عبدالصمد بہ بدون ذکر محمد بن سیرین ولہ طریق آخر عند ابن سعد ۱/۴۰۰ )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ فاطمہ‘ جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں تو فرمایا: یہ پہلا کھانا ہے جو تیرے ابا نے تین دنوں سے کھایا ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے اللہ (پر ایمان لانے) سے ڈرایا گیا اور (آج کل) کسی کو بھی نہیں ڈرایا جاتا۔ مجھے اللہ (پر ایمان لانے) سے تکلیف دی گئی اور آج کسی کو بھی تکلیف نہیں دی جاتی۔ مجھ پر تیس دن و رات ایسے آئے کہ میرے اور بلال کے لیے ایسا کھانا نہیں ہوتا تھا جسے کوئی ذی روح کھائے سوائے اس چیز کے جسے بلال نے اپنی بغل میں چھپا رکھا ہوتا تھا۔
سیدنا عمرو بن الحارث بیان کرتے ہیں اللہ کی قسم !رسول اللہ ﷺ نے اپنی موت کے وقت نہ درہم چھوڑا نہ دینار، نہ غلام نہ لونڈی اور نہ کوئی چیز چھوڑی سوائے سفید خچر اور اسلحہ کے اور (اُس) زمین کے جسے آپ نے صدقہ قرار دیا تھا۔
(اخرجہ مسلم، الوصیۃ باب ترک الوصیۃ لمن لیس لہ شئ یوصي فیہ: ۱۶۳۵ من حدیث الاعمش بہ ۔ [السنۃ : ۳۸۳۶])
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے نہ کوئی غلام چھوڑا نہ لونڈی اور بکری چھوڑی نہ کوئی اونٹ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میرے ورثے میں دینار تقسیم نہیں ہوں گے۔ میں نے اپنی بیویوں کے نان نفقہ اور مزدوروں کی رقم کے علاوہ جو کچھ چھوڑا وہ صدقہ ہے۔
(صحیح مسلم، الاشربۃ باب جواز استتباعہ غیرہ إلٰی دار من یثق برضاہ بذلک: ۲۰۳۸ )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن یا ایک رات رسول اللہﷺ باہر نکلے تو آپ ﷺ کی ملاقات ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی۔آپ ﷺ نے پوچھا: آپ اس وقت کس وجہ سے باہر نکلے ہیں؟انہوںنے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوک کی وجہ سے۔ آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے بھی تمھاری طرح بھوک ہی نے باہر نکالا ہے۔ اٹھو چلیں‘ تو وہ دونوں بھی آپ کے ساتھ چلے۔ پھر آپ ایک انصاری آدمی کے پاس آئے۔ وہ (انصاری) اپنے گھر میں موجود نہیں تھے۔ جب آپ کو اس کی بیوی نے دیکھا تو کہا: خوش آمدید۔آپ نے فرمایا: فلاں کہاں ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ ہمارے لیے پانی لانے گئے ہیں۔ اتنے میں انصاری آگئے تو نبی کریم ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو دیکھ کر کہا: الحمدللہ‘ آج میرے مہمانوں سے زیادہ عزت والے کوئی مہمان نہیں۔ پھر وہ گئے اور ٹہنی لے آئے جس میں گدرا اور تازہ کھجوریں تھیں اور کہا: ’’اس میں سے کھائیں‘‘ پھر چھری لے لی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’دودھ دینے والی (بکری) ذبح نہ کرنا‘‘ اس نے بکری ذبح کی۔ آپﷺ اور ابوبکروعمر رضی اللہ عنہما نے اس بکری اور ٹہنی میں سے کھایا۔ جب خوب سیر ہوگئے تو رسول اللہﷺ نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہماسے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت کے دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ تمھیں گھروں سے بھوک نے نکالا اور پھر اس حالت میں لوٹے کہ یہ نعمتیں حاصل ہوگئیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے کوئی کام کیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو (بھی) اس کی اجازت دے دی تو ایک گروہ نے اس کام سے اجتناب کیا۔ جب یہ بات نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوئی ۔تو آپ ﷺ نے خطبہ دیا۔ اللہ کی حمد بیان کی پھر فرمایا: کیا بات ہے کہ بعض لوگ اس کام سے اجتناب کرتے ہیں جو میں کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں اللہ کو ان سب سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔
( اخرجہ ھمام بن منبہ في صحیفتہ : ۱۵‘ احمد ۲/۳۱۲، ۳۱۳ عن عبدالرزاق بہ وسندہ صحیح وللحدیث طرق عند البخاريومسلم وغیرھا۔ [السنۃ : ۴۱۷۰])
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو میں جانتا ہوں اگر تم جانتے تو بہت زیادہ روتے اور بہت کم ہنستے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ ﷺ! آپ تو بوڑھے ہوگئے ہیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے (سورۂ) ہود‘ واقعہ‘ المرسلات‘ عم یتساء لون اور اذا الشمس کورت نے بوڑھابنادیا ہے۔
(متفق علیہ، اخرجہ ابوعوانۃ في مسندہ ( الجزء المفقود ۶/۲۶) البخاري:۴۸۲۹، ۶۰۹۲ مسلم : ۱۶/۸۹۹ من حدیث ابن وھب بہ مختصرًا ومطولاً)۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ میں نے رسول اللہﷺکو اس طرح پوری قوت سے ہنستے نہیں دیکھا کہ اس سے آپ کا حلق نظر آنے لگے۔ جب آپ بادل یا (تیز) ہوا کو محسوس کرتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر ظاہر ہوجاتا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ جب بادل (دیکھتے) ہیں تو خوش ہوتے ہیں اس امید پر کہ اس سے بارش ہوگی اور جب میں آپ کو دیکھتی ہوں تو آپ کے چہرۂ مبارک ناگواری کا اثر پاتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! مجھے اس (بات) کا ڈر رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو۔ ایک قوم کو ہوا (اور بادل) کے ساتھ عذاب دیا گیا ہے۔ ایک قوم نے عذاب دیکھ کر کہا تھا کہ یہ بادل ہے جس سے ہمارے لیے بارش ہوگی۔
عَنْ عَائِشَۃَ :((کَانَ النَّبِيُّ ﷺ ، إِذَا رَاٰی مَخِیْلَۃً تَغَیَّرَ وَجْھُہٗ وَتَلَوَّنَ، وَدَخَلَ وَخَرَجَ، وَاَقْبَلَ وَاَدْبَرَ، فَإِذَا اَمْطَرَتِ السَّمَائُ سُرِّيَ عَنْہُ، قَالَتْ : وَذَکَرْتُ لَہُ الَّذِيْ رَاَیْتُ، قَالَ : (( وَمَا یُدْرِیْہِ لَعَلَّہٗ، قَالَ قَوْمٌ (( فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِھِمْ قَالُوْا : ھٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا )) الْآیَۃَ ))۔
(اخرجہ ابوعوانۃ (الجزء المفقود ۶/۲۵) ومسلم: ۱۵/۸۹۹ من حدیث ابن جریج بہ)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ نبی کریم ﷺ جب بادل دیکھتے تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا تھا۔ آپ گھر میں داخل ہوتے اور باہر نکل جاتے۔ آگے آتے اور پیچھے مڑ جاتے اور جب آسمان سے بارش ہوجاتی تو آپ خوش ہوجاتے تھے۔ میں نے جب آپ سے آپ کے اس عمل کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: کیا پتا ہے کہ کیا ہوگا؟ ایک قوم نے کہا:
’’جب انھوںنے عذاب کو بصورت بادل دیکھا جو اُن کے میدانوں کا رُخ کئے ہوئے تھا تو کہا: یہ بادل ہے اس سے ہمارے لیے بارش ہوگی۔
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایک رات رسول اللہ ﷺ ڈرے ہوئے ‘نیند سے بیدار ہوئے۔ آپ فرما رہے تھے سبحان اللہ! آج رات کتنے ہی خزانے اورکتنے ہی فتنے اتارے گئے ہیں۔ کون ان حجرے والوں کو جگائے گا؟ یعنی آپ کی بیویاں تاکہ وہ نماز پڑھیں۔ دنیا میں کتنی ہی کپڑا پہننے والی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی۔
رسول اعظم ﷺ کی حسین چال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا گویا کہ آپ کے چہرے پر سورج چل رہا ہوتا تھا اور میں نے رسول اللہﷺ سے زیادہ تیز چلنے والا کوئی نہیں دیکھا گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی۔ ہم پوری کوشش کرکے آپ تک پہنچتے اور آپ (ہماری جدوجہد سے) بے فکر ہوتے تھے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہﷺ جب چلتے تو آپ ﷺ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آگے چلتے اور آپ ﷺ کی پیٹھ کو فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺجب چلتے تھے تو آپ کے قدم کا درمیانی حصہ زمین پر نہیں لگتا تھا۔ آپ اطمینان سے آگے یا پیچھے جاتے تھے۔ میں نے آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔
( مسلم :۲۳۴۰ من حدیث عبدالاعلٰی بہ مختصرًا )
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب چلتے تو ایسا معلوم ہوتا تھاگویا آپ کسی ڈھلوان سے اتر رہے ہیں۔
(صحیح البخاري، الإستئذان باب الإحتباء بالید:۶۲۷۲ )
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو کعبہ کے صحن میں دیکھا آپ ﷺ نے گھٹنے کھڑے کرکے ان کے گرد اپنے ہاتھ باندھ رکھے تھے۔
(صحیح البخاري، الشھادات باب ما قیل في شھادۃ الزور: ۲۶۵۴ مسلم، الإیمان باب بیان الکبائر واکبرھا : ۸۷ من حدیث سعید بن إیاس الجریري بہ )
سیدنا ابوبکرہ t سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیںکبیرہ گناہوں میں سے بڑے گناہ بتائوں؟ یہ بات آپ نے تین دفعہ فرمائی۔ صحابہy نے کہا: جی ہاں‘ اے اللہ کے رسولﷺ! آپ نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شرک اور والدین کی نافرمانی‘‘ آپ تکیہ لگائے ہوئے تھے پھر بیٹھ گئے اور فرمایا: ’’خبردار جھوٹی بات سے بچو‘‘ یہ بات بار بار فرمارہے تھے حتیٰ کہ ہم نے کہا: کاش آپ خاموش ہوجاتے۔
(اخرجہ الترمذي فی سننہ: ۲۷۷۰ وفی الشمائل: ۱۲۹، ابوداود:۴۱۴۳ من حدیث إسرائیل بہ )
سیدنا جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سرہانے پر اس کی بائیں طرف تکیہ لگائے دیکھا۔
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ بیمار تھے تو آپ اسامہ پر ٹیک لگائے باہر تشریف لائے آپ پر کاٹن کا ایک کپڑا تھا جسے آپ نے لپیٹ رکھا تھا۔ پھر آپ نے انھیں نماز پڑھائی۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایاکہ نبی ﷺ عیدالفطر کے دن کھڑے ہوئے پھر نماز پڑھائی۔ آپ نے پہلے نماز پڑھی پھر خطبہ دیا۔ جب آپ خطبے سے فارغ ہوئے تو عورتوں کے پاس آئے اور انھیں نصیحت کی۔ آپ ﷺبلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر بچھا رکھی تھی (اور) اس میںعورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہﷺ میری گود میں سر رکھ کر قرآن پڑھتے رہتے تھے حالانکہ میں حالت حیض میں ہوتی تھی۔
(اخرجہ مالک فی الموطا (۱/۱۷۲، روایۃ ابي مصعب: ۵۷۳) البخاري:۴۷۵ ومسلم : ۲۱۰۰ من حدیث مالک بہ )
سیدنا(عبداللہ بن زید بن عاصم الانصاری) عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوںنے نبی کریم ﷺ کو مسجد میں لیٹے ہوئے دیکھا۔ آپ ﷺ نے اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی۔
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سونا چاہتے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور فرماتے: اے میرے رب! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو زندہ کرے گا۔
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب رات کے آخری پہر سوتے تو اپنی دائیں طرف کروٹ لگا کر سوتے تھے اور جب صبح کے قریب سوتے تو اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھتے اور بازو کو کھڑا کردیتے۔
(صحیح البخاري، الدعوات باب الدعاء إذا انتبہ من اللیل: ۶۳۱۶، مسلم، صلٰوۃ المسافرین: ۷۶۳ من حدیث عبدالرحمٰن بن مھدي بہ )
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں اپنی خالہ اور نبی کریم ﷺ کی زوجۂ مبارکہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہ کے گھرمیں سویا۔ اس رات نبی کریم ﷺ ان کے گھر میں تھے۔ نبی کریم ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر اپنے گھر آئے تو چار رکعتیں پڑھیں پھر سوگئے پھر اٹھے اورکہا: ’’بچہ سوگیا ہے‘‘ یا اس جیسے الفاظ فرمائے۔ پھر آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہوگئے تو میں آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔ آپ نے مجھے اپنی دائیں طرف کردیا۔ پھر آپ نے پانچ رکعتیں پڑھیں پھر دو رکعتیں پڑھیں پھر سوگئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی پھر آپﷺ نماز کے لیے تشریف لے گئے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…