(سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے اسے مرفوعا روایت کیا ہے، کہ اگر جماعت گزرے اور اس میں سے ایک آدمی سلام کرے تو (پوری جماعت کے لیے) کافی ہے اور بیٹھے ہوئے لوگوں میں سےبھی اگر ایک آدمی جواب دے دے تو کافی ہے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے ان سے فرمایا: اے عائشہ! یہ جبرائیلعلیہ السلام ہیں تمہیں سلام کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ اور رسول اکرمﷺ سے کہا کہ آپﷺ وہ دیکھتے ہیں جو میں نہیں دیکھ سکتی۔
فائدہ: اس سے اندازہ لگائیں کہ جس ماں کو فرشتوں کاسردار اور اللہ کا مقرب ترین فرشتہ سلام کرتا ہو وہ ماں خود کتنی عظیم ہوگی؟۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والے ہیں اگر وہ بیمار ہو جائیں تو ان کی عیادت نہ کرو، اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازوں پر نہ جاؤ اور اگر تم ان سے ملو تو سلام نہ کرو۔ (فرقہ قدریہ کی طرف اشارہ ہے)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہود اور نصاری کو سلام کرنے میں ابتداء نہ کرو اور جب تمہیں ان میں سے کوئی راستہ میں ملے تو اسے تنگ راستہ کی طرف مجبور کر دو۔
سلام کرنے میں ابتداء نہ کرو، کا مطلب یہ ہے کہ انھیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو، کیونکہ سلام میں پہل کرنا درحقیقت اسلامی تہذیب کا بخشا ہوا ایک اعزاز ہے جس کے مستحق وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اسلامی تہذیب کے پیرو ہوں اور مسلمان ہوں اس اعزاز کا استحقاق ان لوگوں کو حاصل نہیں ہو سکتا جو دین کے دشمن اور خدا کے باغی ہوں، اسی طرح ان باغیوں اور دشمنوں کے ساتھ سلام اور اس جیسی دوسری چیزوں کے ذریعے الفت و محبت کے مراسم کو قائم کرنا بھی جائز نہیں ہے۔
کیونکہ ارشادِ باری تعالی ہے۔
آپ ایسی کوئی قوم نہ پائیں گے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اور ان لوگوں سے بھی دوستی رکھتی ہو جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہوں۔
ہاں اگر وہ لوگ سلام میں خود پہل کریں اور السلام علیک یا السلام علیکم کہیں تو اس کے جواب میں صرف علیک یا علیکم کہہ دیا جائے۔
حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاری جو دین کے دشمن ہیں اور اپنے مکر و فریب اور سازشوں کے ذریعہ اسلامی پرچم کو سرنگوں کرنا چاہتے ہیں، اس سلوک کے مستحق ہیں کہ جب وہ راستےمیں ملیں تو ان پر راستہ تنگ کردیا جائےتاکہ وہ سکڑ کر گزرنے پر مجبور ہو جائیں تاکہ اسلام کی عظمت و شوکت اور مسلمانوں کا رُعب و دبدبہ اور غیر مسلم کی ذلّت و پستی ظاہر ہو، کیونکہ یہ اسلامی حمیّت کی بات ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابوسفیان بن حرب نے انہیں بتایا کہ ہرقل نے انہیں قریش کی ایک جماعت میں بلا بھیجا، جو شام میں تجارت کی عرض سے گئی ہوئی تھی وہ لوگ اس کے پاس گئے پھر پوری حدیث بیان کی اور کہا کہ ہرقل نے رسول اکرمﷺ کا خط منگوایا جسے پڑھا گیا، اس میں لکھا ہوا تھا۔
یہ تحریر اللہ کے بندے اور اس کے رسول ﷺکی طرف سے ہرقل کی طرف بھیجی گئی ہے جو روم کا بڑا حاکم ہے۔ سلام ہے اس پر جوراہِ ہدایت کی اتباع کرے: امابعد۔
عمرو بن غا لب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں، عمار اور اشتر ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمار نے کہا اماں جان! السلام علیک انہوں نے جواب میں فرمایا: السلام علی من اتبع الھدی (اس شخص پر سلام ہوجو ہدایت کی پیروی کرے) عمار نے دو تین مرتبہ انہیں سلام کیا اور پھر کہا کہ بخدا آپ میری ماں ہیں اگرچہ آپ کو یہ بات پسند نہ ہو، انہوں نے پوچھا یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ عمار نے بتایا کہ یہ اشتر ہے، انہوں نے فرمایا: تم وہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، اشتر نے کہا جی ہاں! میں نے ہی اس کا ارادہ کیا تھا اور اس نے بھی یہی ارادہ کر رکھا تھا، انہوں نے فرمایا: اگر تم ایسا کرتے تو تم کبھی کامیاب نہ ہوتے اور اے عمار! تم نے یا میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے، الا یہ کہ تین میں سے کوئی ایک وجہ ہو، شادی شدہ ہونے کے باوجود بدکاری کرے، اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو جائے، یا کسی شخض کو قتل کرے، جس کے بدلے میں اسے قتل کر دیا جائے۔
سیدنا ابووائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اہلِ فارس (ایران کے زعماء اور سرداروں) کو اسلام کی دعوت دینے کے لیےیہ مکتوب بھیجا: آ یت (بسم اللہ الرحمن الرحیم) خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف سے رستم ومہران کے نام جو زعماء ایران میں سے ہیں، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى اس شخص پر سلامتی ہو جو حق و ہدایت کی پیروی کرے۔ بعد ازاں! واضح ہو کہ ہم تمہیں اسلام (قبول کرنے) کی دعوت دیتے ہیں، اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے ہو تو ذلت وخواری کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرو اور اگر تم اس (جزیہ ادا کرنے) سے (بھی) انکار کرو گے تو تمہیں آگاہ ہو جانا چاہئے کہ ہلاکت و پشیمانی تمہارا مقدر بن چکی ہے، کیونکہ بلاشک وشبہ میرے ساتھ ایسے لوگوں کی جماعت ہے جو خون بہانے کو (یا خدا کی راہ میں اپنی جان قربان کر دینے کو) اسی طرح پسند کرتے ہیں جس طرح ایران کے لوگ شراب کو پسند کرتے ہیں اور سلامتی ہو اس پر جو حق وہدایت کی پیروی کرے۔
شراب کی مثال دینے کامطلب یہ تھاکہ جس طرح تم ایرانیوں کو شراب کے نشہ میں کیف وسرور حاصل ہوتا ہے اسی طرح میری جماعت کے لوگوں کواللہ کی راہ میں قتل وقتال میں سرمستی وسرشاری حاصل ہوتی ہے یا ان کو اللہ کی راہ میں جان لینے اور جان دینے میں وہی خوشی اور وہی لذت حاصل ہوتی ہے جو تم شراب میں محسوس کرتے ہو۔ (واللہ اعلم بالصواب)
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ یہودی ایک روز رسول اکرمﷺ کے پاس آئے اور کہا’’ السّام علیکم‘‘ یعنی تم پر موت آئے (نعوذباللہ)۔ تو میں نے ان پر لعنت کی، آپﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوگیا ہے میں نے کہا آپﷺ نے نہیں سنا جو ان لوگوں نے کہا، فرمایا: تم نے نہیں سنا، جومیں نے کہہ دیا ’’علیکم‘‘ یعنی تم پر ہو۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ یہود نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا السَّامُ عَلَيْکَ آپ نے فرمایا: وَعَلَيْکُم،م المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہانے کہا: السَّامُ عَلَيْکُمْ وَلَعَنَکُمُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيْکُم (تم پر ہلاکت ہو اور اللہ تم پر لعنت کرے اور تم پر اپنا غضب نازل کرے) رسول اکرمﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! اس کو چھوڑو، نرمی اختیار کرو، اور سختی سے بچو فرمایا: بدگوئی سے بچو، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا، کیا آپ نے نہیں سنا، جو ان لوگوں نے کہا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا جو میں نے جواب دیا، میری دعا ان کے حق میں قبول ہوتی ہے لیکن ان کی دعا میرے حق میں قبول نہیں ہوتی۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ کے صحابہ نے عرض کیا کہ رحمت عالمﷺ کے اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں تو ہم کیسے جواب دیں؟ آپ نے فرمایا: کہو وعلیکم اور تم پر بھی یعنی اگر واقعتاً تم نے سلامتی کی دعا کی ہے تو تم پر بھی اور اگر موت کی بدعا کی ہے کہ تو وہ بھی تم پر ہی ہو۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا ابو عبدالرحمن الجہنی اور سیدنا ابوبصرہ الغفاری رضی اللہ عنہما نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
[النساء: 94] ،(4591)
عمروبن دینار، عطاء، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کی کہ(وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا۔ الخ) (4۔ النسآء:94) اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ کچھ مسلمان کسی جہاد سے واپس آرہے تھے کہ انہیں راستہ میں ایک گڈریا ملا تو اس نے مسلمانوں سے السلام علیکم کہا، مسلمانوں نے اس کو مار ڈالا اور اس کی تمام بکریاں لے لیں، چنانچہ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ابن عباس نے اس آیت میں السلام کا لفظ پڑھا ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اکرمﷺ سے پوچھا کہ کس قسم کا اسلام بہتر ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: کھانا کھلاؤ اورسلام کرو جس کو جانتے ہو اور جس کو نہ جانتے ہو (سب کو)
طفیل بن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آتے اور صبح صبح ان کے ساتھ بازار کو جاتے، طفیل کہتے ہیں جب ہم بازار میں پہنچے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہر ایک ردی بیچنے والے پر اور ہر دکاندار پر اور ہر مسکین پر اور ہر کسی پر سلام کرتے ایک روز میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا انہوں نے مجھے بازار لے جانا چاہا میں نے کہا تم بازار میں جا کر کیا کرو گے نہ تم بیچنے والوں کے پاس ٹھہرتے ہو نہ کسی اسباب کو پوچھتے ہو اس سے یہیں بیٹھے رہو ہم تم باتیں کریں گے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اے پیٹ والے اور طفیل (بڑے) پیٹ والے تھے، ہم بازار میں صرف سلام کرنے جاتے ہیں، ہر اس کو سلام کرتے ہیں جس سے ملاقات ہوتی ہے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…