Categories: اپریل 2016

صحیح معنوں میں کامیاب انسان

 (حدیث نمبر:91)

عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ، وَجَعَلَ قَلْبَهُ سَلِيمًا، وَلِسَانَهُ صَادِقًا، وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً، وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً، وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً، وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً۔
تخریج:مسند أحمد ، کتاب مسند الأنصار حديث أبي ذرّ :

22
راوی کا تعارف: حدیث نمبر 56 کی تشریح میں ملاحظہ فرمائیں۔
معانی الکلمات:

قَدْ بے شک Indeed أَفْلَحَ کامیاب ہوگیا Succeded
مَنْ جو Who أَخْلَصَ خالص کر ليا Purified
قَلْبَهُ اس کا دل His heart لِلْإِيمَانِ، ایمان کيلئے For faith
جَعَلَ اسے بنايا He made سَلِيمًا، سلامت ، محفوظ Safe
لِسَانَهُ اس کی زبان His tongve صَادِقًا سچی Truthfull
نَفْسَهُ اس کا نفس/جان Soul مُطْمَئِنَّةً مطمئن Satisfied
خَلِيقَتَهُ اس کی طبیعت ومزاج His nature مُسْتَقِيمَةً سیدھی/معتدل/صحیح Straight/Correct
أُذُنَهُ اس کے کان His ears مُسْتَمِعَةً سننے والے Hearer,Listener
عَيْنَهُ اس کی آنکھ His eye نَاظِرَةً دیکھنے والی Watcher
ترجمہ :  سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’بلاشبہ وہ شخص کامیاب ہے جس کا دل اللہ تعالیٰ ایمان کیلئے خالص کر دے، اس کے دل کو(لغویات سے) محفوظ اس کی زبان کو سچا، اس کے نفس کو اطمینان والا، اس کی طبیعت کو سیدھا ، اس کے کانوں کو سننے والا اور اس کی آنکھ کو دیکھنے والی بنا دے‘‘۔
تشریح : بلاشبہ ہر شخص کامیاب ہونا چاہتا ہے، ناکامی سے بچنا چاہتا ہے انسان از خود انتہائی بے بس اور کمزور ہے اسے ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق کی حاجت رہتی ہے چنانچہ اگر وہ اپنے رب کو منوانے میں کامیاب ہوجائے نتیجتاً اللہ تعالیٰ اس کی مدد اور اس کے لیے خیر وبھلائی کا فیصلہ کرلے تو اس کے تمام مقاصد پورے ہوجاتے ہیں۔
مذکورہ حدیث ایک طرف اصل کامیابی کی علامات بیان کرتی ہے تو دوسری طرف انسان کو ترغیب دلاتی ہے کہ وہ رب سے ان نعمتوں کے حصول کی التجا ودعا بھی کرے کیونکہ بن مانگے، مفت میں یہ عظیم نعمتیں نہیں ملتی جب یہ نعمتیں کسی شخص کو حاصل ہوجائیں تو خوبیاں بن کر اس کی عملی زندگی میں نظر آتی ہیں جو دوسرے لوگوں کیلئے مشعل راہ اور قابل رشک بنتی ہیں۔
۱۔ دل میں خالص ایمان جو ہر قسم کی ملاوٹ ،شرک، بدعت ،منافقت سے پاک ہو ۔
۲۔ قلب سلیم جس میں کسی شخص کیلئے بغض،حسد،کینہ، نفرت نہ ہو ۔
۳۔سچ بولنے والی زبان جو جھوٹ سے پاک ہو ۔
۴۔ سیدھی اور صاف طبیعت ومزاج جو دوغلاپن سے محفوظ ہو ۔
۵۔ سننے والے کان جن میں قوت سماعت ہو اور صرف خیر کی طرف ہی متوجہ رہتے ہوں۔
۶۔ دیکھنے والی آنکھ جو قوت بصارت رکھتی ہو اور محرمات سے اجتناب کرتی ہو ۔
۷۔ اطمینان والا نفس جو قناعت رکھتا ہو اور صرف خیر کے کاموں میں دلچسپی رکھتا ہو ۔ واللہ اعلم

ڈاکٹر عبدالحی المدنی

Share
Published by
ڈاکٹر عبدالحی المدنی

Recent Posts

حج کے پس پردہ ایک عظیم انتظامی معجزہ

ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے…

6 days ago

عاشوراء کا روزہ دس محرم الحرام کو رکھنا ہی راجح ہے

رسول اللہ ﷺنے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنی حیات مبارکہ…

6 days ago

اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو عمر رضی اللہ عنہ ہلاک ہو جاتے

قارئین ذی وقار! کافی عرصہ سے اس روایت پر لکھنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری…

6 days ago

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور جوارِ نبوی ﷺ کی سعادت

جب سيدنا عمر رضى اللہ عنہ كو ابولؤلؤ فيروز مجوسى نے نيزہ مارا تو آپ…

6 days ago

یہ تھے ہمارے عمر فاروق رضی اللہ عنہ

زخمی زخمی عمر فاروق جب وصیتیں کر رہے تھے تو سیدنا علی آنسوؤں بھری آنکھیں…

6 days ago

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت

میں تاریخ سے لڑنا نہیں چاہتا اگر تاریخ کہے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا…

6 days ago