Categories: مئی 2018

مدارس کے طلباء رمضان کی چھٹیاں کیسے گزاریں؟

محترم ومکرم طلبہ ! يقینا آپ لوگ جس راہ کے مسافر ہیں وہ انتہائی قابل فخر علم کی راہ ہے اس راہ کے مسافر جن سعادت کے مالک ہیں وہ شاید کسی کو نصیب ہوں۔
اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :

يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ(المجادلۃ:11)

ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا اور اللہ تعالیٰ ( ہر اس کام سے ) جو تم کر رہے ہو ( خوب ) خبردار ہے ۔
اس سے بڑا درجہ اورکیا ہوسکتا ہے کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ :

شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

اللہ تعالیٰ ، فرشتے اور اہل علم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عدل کو قائم رکھنے والا ہے ، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔(آل عمران:18)
یہاں اللہ رب العزت نے اپنی توحید پر گواہ فرشتوں اور اہل علم علماء کو بھی اس عظیم شہادت میں شامل فرمایا ہے۔
اورپھر اتنی بڑی سعادت کہ اس راه پر چلنے والے کیلئے جنت کا راستہ آسان کیا جاتا ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :

مَا مِنْ رَجُلٍ يَسْلُكُ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقَ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ (سنن ابی داود : 3643)

جو شخص حصول علم کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا تو اسے اس کا نسب آگے نہیں کر سکے گا ۔
عام طور پر شعبان کا مہینہ شروع ہوتے ہی مدارس میں تعطیلات کا سلسلہ شروع ہوجاتاہے ۔ بعض مدارس میں شعبان کے پہلے ہفتے اور بعض اداروں میں دوسرے ہفتے سے چھٹیاں شروع ہوجاتی ہیںجوپورے رمضان اور اس کے بعد شوال کی دس یا پندرہ تاریخ تک جاری رہتی ہيں۔
اسی مناسبت سے بطور خاص طلباء کرام کے لئے کچھ معروضات پیش کی جارہی ہیں، امید ہے کہ ہمارے عزیزطلباء اوران کے والدین و سرپرستان اس پر توجہ دیں گے۔ چونکہ مدارس میں دین اور دینی علوم کو پڑھایاجاتا ہے اور اگرچہ یہاں مروجہ عصری تعلیم گاہوں کی مانند سوشل سائنس یا اخلاقیات یا نفسیات وغیرہ جیسے موضوعات نہیں پڑھائے جاتے مگرشب و روز کی تربیت اور نصابی کتابوں کی تعلیم کے دوران اساتذہ اپنے طلباء کو ان چیزوں کی بھی ضرور تعلیم دیتے ہیں۔پھر یہ کہ جو چیزیں آپ مدرسوں کی چار دیواری میں رہتے ہوئے پڑھتے ہیں وہ ایک علم ہے اور جب مدرسے سے باہر نکل کر اپنے اپنے گھروں، بستیوں اور شہروں کا رخ کرتے
ہیں اور چھٹی کے دن اپنے گھروں میں گزارتے ہیں تو وہ
آپ کے لئے عملی میدان ہوتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہوتا ہے کہ جو کچھ تعلیمی ادارے میں پڑھا ہے ، نہ صرف انہیں یادرکھنے ، انہیں دوہراتے رہنے کا اہتمام کیا جائے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہوتاہے کہ آپ ان  تمام اخلاقیات پر پابندی اور مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں جو آپ کوسکھائی گئی ہیں اور نہ صرف خود قائم رہیں بلکہ اپنے گھر والوں ، محلے کے دوست واحباب اور گاؤں کے لوگوں پر بھی اچھے اثرات مرتب کرنے کی کوشش کریں۔ جو لوگ ابھی طالب علم ہیں وہی چند سالوں کے بعد باقاعدہ عملی میدان میں اتریں گے اوران کے سامنے ایک بہت بڑی جمعیت کی قیادت کا چیلنج ہوگا۔
مسلمان آج کے ناگفتہ بہ دور میں بھی اپنے سماجی و دینی مسائل و مشکلات میں اپنے علماء سے ہی رجوع کرتے ہیں اورانہی سے ان کے حل کی تدبیریں چاہتے ہیں، لہذا شروع ہی سے ہمارے طلباء کا کرداراوران کی علمی و عملی زندگی ایسی ہونی چاہئے کہ لوگ ان کے اندر اپنا راہنما اور قائد دیکھیں اوران کے بتائے ہوئے طریقوں کی پیروی کرنے کی کوشش کریں۔
اس لیے طلبہ کو علامہ اقبال کے اس شعر کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ
سبق پڑھ تو صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
کام لیا جائے گا تجھ سے دنیا کی امامت کا
ان چھٹی کے دنوں کا زیادہ تر حصہ رمضان المبارک کے مہینے پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس مہینہ کی اسلام میں کیا اہمیت ہے اوراس کی برکات و ثمرات کیا کیا ہیں ؟ان سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ آپ اگر حفظ کے طالب علم ہیں یا حفظ مکمل کرچکے ہیں تو اہتمام کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کریں ،اپنے اسباق کو دہرائیں اورکوشش کریں کہ تراویح میں پورا قرآن سنا سکیں۔ یہ ممکن نہ ہو، تو سننے کا اہتمام کریں اوراگر باقاعدہ تراویح میں قرآن پاک سننے کابھی موقع میسر نہ ہوتو تراویح کی نمازوں میں اہتمام سے شرکت کرنے کے ساتھ صبح وشام کم سے کم ایک یادوپارے تو پڑھے ہی جاسکتے ہیں۔کوشش کریں کہ قرآن پاک سے آپ کا رشتہ چھٹی کے دنوں میں بھی اسی طرح مضبوط رہے جس طرح تعلیم کے دنوں میں تھا۔
سنن نسائی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِذَا عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ (متفق علیہ)

صاحب قرآن کی مثال اس شخص کی مانند ہے جس کے اونٹ رسی سے بندھے ہوں، جب تک وہ ان کی نگرانی کرتا رہتا ہے تو وہ بندھے رہتے ہیں، اور جب انہیں چھوڑ دیتا ہے تو وہ بھاگ جاتے ہیں ۔
اور ویسے بھی اس بابرکت ماہ ميں قرآن مجید کی تلاوت کرنا بہت ہی بڑے اجر ثواب کا باعث ہے اور نبی کریم ﷺکی سنت بھی ہے ۔
جو بچے ابتدائی دینیات کی تعلیم حاصل کررہے ہیں ان کے والدین صبح یا شام کے ایک متعین وقت میں اپنی نگرانی میں ان بچوں کوپڑھنے میں لگائیں، جو کتابیں وہ پڑھ رہے ہیں یا پڑھ چکے ہیں ان کاآموختہ (یعنی پچھلا سبق)دوہرانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ تعلیمی سلسلہ جاری رہے۔بہت سے مقامات پر رمضان کے مہینے میں بھی تعلیم يعنی دورہ جات کا اہتمام کیا جاتا ہے، ممکن ہوتو ان بچوں کو وہاں داخل کرائیں۔جو طلباء عربی درجات میں پڑھتے ہیں انہیں بھی عبادات و تلاوت کے اہتمام کے ساتھ مطالعہ و کتب بینی کے لئے ایک وقت مخصوص کرکے رکھنا چاہئے۔ جو درجہ آپ مکمل کرچکے ہیں،اس میں پڑھی ہوئی کتابوں کامطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ سال جس کلاس میں داخل ہونے والے ہیں اس کی بھی تیاری کرتے رہیں تاکہ جب اگلا تعلیمی سال شروع ہوتو اس کلاس میں پڑھائی جانے والی کتابوں سے پہلے ہی تعارف ہو اور انہیں سمجھنے میں دشواری پیش نہ آئے۔ایک بڑی تعداد ان حضرات کی بھی ہوتی ہے جو ہر سال اپنا تعلیمی سفر مکمل کرلیتے ہیں ،ان کے سامنے کئی مسائل ہوتے ہیں۔کچھ وہ ہوتے ہیں جو آئندہ کسی خاص موضوع یا شعبے میں تخصص حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ اس موضوع سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کریں اوراس کے لئے تیاری کریں،کچھ وہ احباب ہیں جو مدارس میں تدریسی خدمات انجام دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ،ایسے فضلاء بھی مطالعہ اور پڑھے ہوئے مواد کے استحضار کا اہتمام کریں تاکہ رمضان کے بعد جب کسی ادارے میں تدریس کے لئے امیدوار ہوں تو وہاں ہونے والے انٹرویو وغیرہ کو آسانی سے پاس کرسکيں اور جب پڑھانے پر مامور ہوں اور انہیں مختلف درجات کی الگ الگ کتابیں پڑھانے کے لئے دی جائیں تو آسانی محسوس ہو، کچھ فضلاء ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس وقت ہوتاہے اوروہ اپنا اگلا تعلیمی سفرعصری تعلیم گاہوں سے شروع کرنا چاہتے ہیں۔توان کے لئے ضروری ہے کہ وہ پہلے معتمد ذرائع اختیار کرکے ان تعلیم گاہوں میں داخلے کے اصول و ضوابط اور شرائط وغیرہ کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں اورپھر اس کے لئے تیاری کریں۔علم کی کوئی انتہا نہیں ہے،آپ کا علم جتنا زیادہ وسیع ہوگا اور مطالعے میں جتنی وسعت ہوگی،اسی قدر آپ کی فکر میں پختگی آئے گی اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ ہمارے دین میں سیکھنے کی حد تک ایک علم اور دوسرے علم کے مابین کوئی تفریق نہیں ہے۔اسلام کی بنیاد ہی تعلیم پر رکھی ہے ،لہذا وہ اپنی نسلوں کو ہر علم کے حصول کی ترغیب دیتاہے۔
جیسا کہ فرمان نبوی ﷺہے :

طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ

’’حصول علم ہر مسلمان (مرد وعورت)پر فرض ہے‘‘۔(سنن ابن ماجہ:224)
البتہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے علم کو کیسے استعمال میں لاتے ہیں یا مدارس سے فارغ ہوکر عصری تعلیم گاہوں میں داخل ہونے کے بعد آپ کی زندگی کیسی گزرتی ہے۔اپنے فکر،وضع قطع اور اصول و اخلاق پر مضبوطی سے قائم رہ کر بھی آپ بڑی سے بڑی ڈگری اوراعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔بہرحال ایسے فضلاء جو عصری اداروں کا رخ کرنا چاہتے ہیں وہ پہلے پوری تیاری کرلیں،یہ بھی طے کرلیں کہ ان کے لئے کونسا موضوع مناسب ہوگا اور کس فن سے انہیں زیادہ انسیت ہے،اسی حساب سے اپنا ذہن بنائیں اور داخلہ وغیرہ کے سلسلے میں کوشش کریں۔
ایسابھی دیکھنے میں آتاہے کہ بہت سے طلباء مدرسے کے احاطے میں توغیر اختیاری طورپر تمام اخلاقیات،نمازوں اور دیگر اچھی اور عمدہ اعمال کے عادی ہوتے ہیں مگر جوں ہی چھٹی ہوئی اور گھر پہنچے، ساری اخلاقیات اور اچھائیاں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں،ایسے طلباء کے ذریعے مدارس کا شبیہ خراب ہوتا ہے اور لوگوں تک غلط پیغام جاتا ہے،وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ شاید ان کے اداروں میں کوئی نظم و ضبط نہیں ،کسی قسم کی اخلاقی تربیت نہیں دی جاتی اور انہیں بس وقت گزاری کے لئے وہاں رکھا جاتاہے۔
راقم الحروف کو اپنا طالب علمی کا زمانہ یاد آ رہا ہے کہ وہ الحمد للہ ٹوپی پہنے بغیر کبھی بھی باہر نہیں نکلتے اور گلی کوچوں پر کھڑے ہر شخص کو سلام دعا کیا کرتے تھے ایک بار راستے میں کھڑے کسی بندے نے پاس بلاکر کھا کہ مجھے آپ کا کردار بہت پسند ہے کیونکہ آپ ہمیشہ سر پر ٹوپی رکھا کرتے ہیں اور سلام کرنے کی عادت اپنائے ہوئے ہیں تو اس سلسلے میں طلباء کو چاہیے کہ وہ اپنا ظاہری کردار

درست رکھیں تاکہ لوگ اس کے کردار کو ديکھتے ہی مدارس کی طرف راغب ہوں اور آپکی شخصیت سے مطمئن بھی ہوں۔
اور طلبہ کے والدین کو بھی کافی بیداری و مستعدی کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے۔طلباء کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ دین اور دینی علوم کے طالب علم ہیں،قرآن مجید واحادیث رسول ﷺ میں ان طالب علموں کے مقام و مرتبہ کو بیان کیاگیا ہے اور جو شخص جتنا اہم اور اعلیٰ مرتبے کا حامل ہوتا ہے اس کی ذمہ داریاں بھی اسی قدر اہم اور غیر معمولی ہوتی ہیں،آپ ابھی سے یہ سمجھیں کہ آپ کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے قوم کی امامت و قیادت کے لئے کیاہے،آپ علم محض اپنے لئے نہیں حاصل کررہے بلکہ ایک دنیا آپ سے امید لگائے بیٹھی ہے، آج کے پُر آشوب دور میں جبکہ غیروں کے ساتھ ساتھ خود اپنوں سے بھی مسلمانوں کو بے شمار خطرات لاحق ہیں مخلص اور باعمل علماء اور دینی رہبر ہی ان کی صحیح راہنمائی کرسکتے ہیں، پس اپنے اخلاق و کردار کو ایسا بنائیے کہ لوگ آپ سے اچھا تأثر لیں نمازوں کی پابندی کریں اور گھر محلے میں موجود ان لوگوں کوبھی اس کی ترغیب دیں جو نماز نہیں پڑھتے۔ایک وقت مختص کرکے اپنے اہل خانہ ماں باپ، بھائی بہن ،دوست واحباب اور ديگر لوگوں کو بھی دین کی باتیں بتائيں چھٹی کے ان دنوں میں عام طلباء وفضلاء کو بھی تبلیغ و دعوت کے لئے وقت نکالنا چاہیے تاکہ اپنی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو اور ملت کی ضروریات و مسائل سے واقفیت کے ساتھ انسانیت کی مشکلات کا علم ہواور پھر وہ جب باقاعدہ عملی میدان میں اتریں تو پوری انسانیت کے خیر و فلاح کی فکر کے ساتھ اتریں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ تمام طلبہ وفضلاء کو دین حنیف پر گامزن رکھے اور ان کی ہر حال میں نصرت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
۔۔۔

ایڈیٹر

Share
Published by
ایڈیٹر

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago