قارئین کرام ! بارشوں کا موسم چل رہا ہے وطن عزیز کے کافی مقامات پر ابر رحمت برس پڑی ہے اسلام نے جہاں ہر مقام پر اپنے ماننے والوں کی رہنمائی کی ہے وہیں بارش کے متعلق بھی ان کی رہنمائی کی ہے اور ان کو احکام عطا کیے ہیں ۔
لہذا آئیں ذیل میں بارش اور اس کے بعض احکام ملاحظہ فرمائیں ۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کل کیا ہونے والا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے، کل کیا کرنا ہوگا اس کا کسی کو علم نہیں ، نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ اسے موت کس جگہ آئے گی ۔
’’اور نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ بارش کب ہوگی ۔‘‘
اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :
اور وہی ہے جو لوگوں کے نا امید ہو جانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے وہی کارساز اور قابل حمد و ثنا ہے ۔
اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :
اور ہم نے آسمان سے پاک پانی نازل کیا ۔
اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا ہے اور اس سے باغات اور کٹنے والے کھیت کے غلے پیدا کئے ہیں ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں، آپ تو صرف تبسم فرماتے تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا ( آپ تردد اور تشویش میں مبتلا ہو جاتے ) تو ( ایک بار ) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہوگی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری ( گھبراہٹ اور پریشانی ) جھلکتی ہے ( اس کی وجہ کیا ہے؟ ) آپ نے فرمایا :
اے عائشہ ! مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ ایک قوم ( قوم عاد ) ہوا کے عذاب سے دو چار ہو چکی ہے ۔(سنن ابی داؤد : 5098)
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حدیبیہ میں ہم کو صبح کی نماز پڑھائی۔ رات کو بارش ہو چکی تھی نماز کے بعد آپ ﷺلوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ لوگ بولے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا : پروردگار فرماتا ہے .
آج میرے دو طرح کے بندوں نے صبح کی۔ ایک مومن ہے ایک کافر۔ جس نے کہا : اللہ کے فضل و رحم سے پانی پڑا وہ تو مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کا منکر ہوا اور جس نے کہا : فلاں تارے کے فلاں جگہ آنے سے پانی پڑا اس نے میرا کفر کیا، تاروں پر ایمان لایا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺسے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر ( رکھنے ) کا حکم دیا تو وہ آپ کے لیے عید گاہ میں لا کر رکھا گیا، آپ ﷺنے لوگوں سے ایک دن عید گاہ کی طرف نکلنے کا وعدہ لیا، تو رسول اللہ ﷺ (حجرہ سے ) اس وقت نکلے جب آفتاب کا کنارہ ظاہر ہوگیا، آپ ﷺمنبر پر بیٹھے، اللہ تعالیٰ کی تکبیر و تحمید کی ….پھر آپ ﷺنے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی، پھر حاضرین کی طرف پشت کر کے اپنی چادر کو پلٹا، آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اتر کر دو رکعت پڑھی
اسی وقت اللہ نےآسمان سے بادل بھیجے، جن میں گرج اور چمک تھی، پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی ۔
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
نبی کریم ﷺنے دعا استسقاء کی تو اپنی چادر کو الٹا کیا ۔ (صحیح بخاری : 1011)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
نبی کریم ﷺنے بارش مانگنے کے لیے دعا فرمائی تو اپنے ہاتھوں کی پشت کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ (صحیح مسلم : 2075)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کبھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قحط پڑتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے وسیلہ سے دعا کرتے اور فرماتے :
اے اللہ ! پہلے ہم تیرے پاس اپنے نبی کریم ﷺکا وسیلہ لایا کرتے تھے۔ تو، تو پانی برساتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی کریم ﷺ کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں تو، تو ہم پر پانی برسا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : چنانچہ پھر خوب بارش برسی۔(صحیح بخاری : 1010)
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
جب کسی قوم میں فحاشی عام ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کردیتا ہے اور جب کوئی قوم زکوٰۃ کی ادائیگی روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ایک دفعہ ایک شخص زمین میں ایک صحرائی ٹکڑے پر کھڑا تھا۔ اس نے ایک بادل میں آوازسنی : فلاں کے باغ کو سیراب کرو۔ وہ بادل ایک جانب بنا اور ایک پتھریلی زمین میں اپناپانی انڈیل دیا۔ پانی کے بہاؤ والی ندیوں میں سے ایک ندی نے وہ سارا پانی اپنے اندر لے لیا۔ وہ شخص پانی کے پیچھے پیچھے چل پڑا تو وہاں ایک آدمی اپنے باغ میں کھڑا اپنے کدال سے پانی کا رخ ( اپنے باغ کی طرف ) پھیر رہا ہے۔ اس نے اس سے کہا : اللہ کےبندے !تمھارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا : فلاں ! وہی نام جو اس نے بادل میں سنا تھا ۔اس (آدمی ) نے اس سے کہا : اللہ کے بندے ! تم نے مجھ سے میرا نام کیوں پوچھا ہے؟ اس نے کہا : میں نے اس بادل میں جس کا یہ پانی ہے ( کسی کو ) یہ کہتے سناتھا ۔ فلاں کے باغ کو سیراب کرو تمھارا نام لیا تھا ۔تم اس میں کیا کرتے ہو۔ اس نے جواب دیا
تم نے یہ بات کہہ دی ہے تو میں ( تمھیں بتا دیتا ہوں ) اس باغ سے جو کچھ حاصل ہوتا ہے میں اس پر نظر ڈال کر اس کا ایک تہائی حصہ صدقہ کردیتا ہوں ایک تہائی میں اور میرے گھر والے کھاتے ہیں۔اور ایک تہائی اسی ( باغ کی دیکھ بھال ) میں لگادیتا ہوں۔ (صحيح مسلم : 7473)
اللہ رب العالمین کا فرمان ہے :
(سیدنا نوح علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم کے لوگو ! تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو ، تاکہ وہ برسنے والے بادل تم پر بھیج دے ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے
رسول اللہ ﷺجب بارش ہوتی دیکھتے تو یہ دعا کرتے اللهم صيبا نافعا اے اللہ ! نفع بخشنے والی بارش برسا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كه ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش برسنے لگی تو رسول اللہ ﷺ اپنا ( سر اور کندھے کا کپڑا ) کھول دیا حتیٰ کہ بارش آپ پر آنے لگی۔ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا :
کیونکہ وہ نئی نئی ( سیدھی ) اپنے رب کی طرف سے آرہی ہے۔ (صحیح مسلم : 2083)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
نبی کریم ﷺ سردی و بارش کی راتوں میں مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ اعلان کر دے کہ لوگو ! اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو۔ (صحیح بخاری : 666)
جناب نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں
جب امراء بارش کے حالت میں مغرب اور عشاء کو جمع کرتے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ جمع کر لیتے تھے ۔(موطا مالک : 386)
امام ابن حزم رحمہ اللہ تحریر کرتے ہیں :
ہم نے سیدنا عمر و عثمان رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے ، کہ انہوں نے عید کے دن بارش ہونے کے وجہ سے لوگوں کو مسجد میں نماز عید پڑھائی ۔(المحلی : 3/310)
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :
وہ زمین جسے آسمان ( بارش کا پانی ) یا چشمہ سیراب کرتا ہو۔ یا وہ خود بخود نمی سے سیراب ہو جاتی ہو تو اس کی پیداوار سے دسواں حصہ لیا جائے اور وہ زمین جسے کنویں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جاتا ہو تو اس کی پیداوار سے بیسواں حصہ لیا جائے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگوں پر عام بارش ہو اور زمین سبزہ نہ اُگائے ۔
سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ہوا کو گالی مت دو، اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو :
اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری مانگتے ہیں اور وہ بہتری جو اس میں ہے اور وہ بہتری جس کی یہ مامور ہے، اور تیری پناہ مانگتے ہیں اس ہوا کےشر سے اور اس شر سے جو اس میں ہے اور اس شر سے جس کی یہ مامور ہے۔
اللہ رب العزت کے حضور دعا ہے کہ باری تعالیٰ خوشی ، مسرت وشادمانی کی ہر ایک صورت میں اپنا شاکربندہ بنا ئے اور غمی اور پریشانی وتکلیف میں صابر بنائے۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…