انسان خطا کا پتلا ہے۔اس سے دانسہ لغزشیں ہوتی رہتی ہیں یقینا یہ فطرتی امر ہے یہ اتنی عیب کی با ت نہیں جتنی خطا ہوجانے کے بعد اس غلطی کا احساس تک نہ ہونا اور اسکی تلافی نہ کرنا یا معافی نہ مانگنا یہی بڑی معیوب ہے اللہ تعالی کو اپنے وہی بندے پسند ہیں جو غلطی ہوجانے کے بعد معافی کے خواستگار ہوتے ہیں سب سےبڑی غلطی شرعی معاملات میں کوتاہی کرنا ہے جسے گناہ کہا جاتا ہے ۔یہ گناہ انسان کے لیے نا صرف معاشی تنگیوں اور بے شمار مصائب ومشکلات کا باعث بنتے ہیںبلکہ اخروی فوز وفلاح اور جنت کے حصول میں بھی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔لہٰذا مسلمان کے لیے ہر دو زندگیوں میں فلاح ، راحت و کامیابی اور کامرانی پانے کے لیے گناہوں سے حتی الوسعت (طاقت وقدرت )پاک ہونا ضروری ہے جسکا پہلا ذریعہ تو اللہ تعالی سے اپنے گناہوں سے پکے وسچے دل سے اور خلوص سے معافی مانگتے رہنا ہے،اور دوسرا ذریعہ ان اعمال کو اپنانا ہے جو گناہوں کی باعث بنتے ہیں ۔
آج کے اس موضوع میں ہم احادیث صحیحہ سے اخذ کر کے ان اعمال کا تذکرہ کریں گے جن کے ذریعے گناہوں کا کفارہ ہوتاہے ۔ان اعمال کو ۔کفارات۔اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ گناہوں کو چھپالیتے ہیں ،اور ان پر پڑدہ ڈال دیتے ہیں (لسان العرب5/148)
جیسے قسم توڑنےکا کفارہ ،ظہار کا کفارہ اور قتل خطاوغیرہ کا کفارہ ادا کرنے پر اس خطا کی تلافی ہو جاتی ہےاسی طرح ان اعمال کے اہتمام سے گناہوں کی معافی ہوجاتی ہے گویا کفارہ گناہوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔ (النھایۃ فی غریب ا لحدیث والاثر 4/189۔مفردات الفاظ القرآن 717)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا ۔
کہ اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں :اے ابن آدم تو جب تک مجھ سے دعا کرتا رہے گااور مجھ سے مغفرت کی امید رکھے گا میں تب تک تجھے بخشتا رہوں گا ۔خواہ تجھ میں جوبھی برائی ہو ،مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے مغفرت مانگےتو میںمعاف کر دوں گا،اور کوئی مجھے پرواہ نہیں ہے ۔اے ابن آدم! اگرزمین بھر کر بھی گناہ لے کر میرے پاس آجائے لیکن مجھ سے ایسی حالت میں ملے کہ تونے میرے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں تجھے زمین بھر کر مغفرت سے نوازوں گا۔
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مجھ سے فرمایا
اور تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو،برائی کے بعد نیکی کرو،وہ اسے مٹادیتی ہے اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔(سنن الترمذی:1987)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایا
جس شخص نے وضو کیا،اور اچھی طرح وضو کیا، اس کے جسم سے اسکے گناہ خارج ہوجاتے ہیں ،یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں۔(صحیح مسلم:245)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا
جو بھی مسلمان آدمی اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالی اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان میں ہونے والے اس گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے(صحیح البخاری 160،صحیح مسلم 227)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
آدمی کی باجماعت نمازکو اس کے گھر یا بازار میں نماز پڑھنے پر پچیس گنا فضیلت حاصل ہے اور یہ فضیلت تب حاصل ہوتی ہے جب آدمی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر مسجد کی جانب روانہ ہوجائے اسے صرف نماز (کےارادے)نے ہی (گھر سے)نکالا ہو تو وہ جو بھی قدم اٹھاتا ہے اسکے بدلے میں اسکا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے اور اس کا ایک گناہ ختم کردیا جاتا ہے ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
پانچ نمازیں اور ایک جمعے سے دوسرا جمعہ؛ ان کے دورانی عرصے میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں،جب تک کہ ان میں کبیرہ گناہوں کی ملاوٹ نہ ہو ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
جو شخص ہر نماز کے بعد 33مرتبہ سبحان اللہ33مرتبہ الحمدللہ ،33مرتبہ اللہ اکبر پڑھتا ہے جو کہ کل ننانوے بن جاتے ہیں اور پھر سو کا عدد پور ا کرنے کے لیے ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیءقدیر پڑھ لیتا ہے تو اسکے گناہوں کو بخش دیا جاتاہے خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ر سول اللہ
ﷺنے فرمایا
اللہ کے لیے کثرت سے سجدے کرنا خود پر لازم کر لوکیونکہ تم جو بھی اللہ کوسجدے کرتے ہو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہارا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور ایک گناہ ختم کردیتا ہے ۔
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
جس بندے سے بھی گناہ سرزد ہوجاتا ہے پھر وہ وضو کرتا ہے اور کھڑےہوکر دو رکعت نماز پڑھتا ہے پھر اللہ تعالی سے مغفرت مانگتا ہے تو اس کو بخش دیا جاتا ہے پھر آپ ﷺنے یہ آیت پڑھی :
اور وہ لوگ کہ جب ان سے کوئی فحش کام سرزد ہوجاتا ہے (یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے)وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھے ہیںتو فورا انہیں اللہ کی یاد آجاتی ہے پھر وہ اپنی گناہوں کی مغفرت مانگتے ہیں،کیونکہ اللہ کے سوااورکون ہے جو معاف کر سکتا ہے۔،
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا :
جس شخص نے ایمان کی حالت میںاور ثواب کی نیت سے رمضان المبارک کے روزے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئےجاتے ہیں۔
اور جس نے ایمان کی حالت میںاور ثواب کی نیت سے لیلۃالقدر کاقیام کیاتو اس کے بھی گزشتہ گناہوں کو بخش دیا جاتاہے ۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا
جس شخص نے ایمان کی حالت میںاور ثواب کی نیت سے رمضان المبارک کا قیام کیا،اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
قیام اللیل (نماز تہجد)کا التزام کیا کرو،کیونکہ یہ تم سے پہلے لوگوںکی پختہ عادت تھی اور بلاشبہ قیام اللیل،اللہ کی قربت پانے کا ذریعہ،گناہوںسے روکنے کاباعث برایئوں کاکفارہ اور جسم سے بیماری کے خاتمہ کا سبب ہے
نماز جمعہ کے آداب کو ملحوظ رکھنا گناہوںکی مغفرت کا ذریعہ ہے۔سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا
جس نے غسل کیا، پھر جمعہ پڑھنے آیااور جس قدر ہوسکی نمازپڑھی ،پھر خطبہ جمعہ سے فارغ ہونے تک خاموشی اختیار کی ،پھرامام کے ساتھ نماز ادا کی تو اسکے اس جمعہ سے لے کر اگلے جمع تک کے گناہ اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔(صحيح مسلم:857)
سیدنا ابو ہریرہ t سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :
مسلمانوں پرجو بھی پریشانی اور مصیبت رنج وغم اور تکلیف وملال آتاہے،یہاں تک کہ اسے کانٹا بھی چھبتا ہے تو اللہ تعالی اس کے بدلے میںبھی گناہوںکا کفارہ فرمادیتا ہے۔
سیدنا معاذ t بیان کرتے ہیںرسول اللہ ﷺنے فرمایا
صدقہ گناہوں کو اس طرح ختم کردیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتی ہے ۔(سنن ا لتر مذی )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
جوشخص اللہ کی رضا کے لیے حج کرے پھرنہ ہی گناہ اور فسق کا کوئی کام کرےتو اس طرح (گناہ سے پاک ہوکر)واپس آتاہے جیسے وہ اس دن( گناہوں سے پاک )تھاجب اسکی ماں نے اسے جنم دیاتھا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے دوران ہونے والے گناہوںکا کفارہ بن جاتا ہے اور حج مبرور کی جزاءجنت کے سوا کچھ نہیںہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ’’جو لوگ بھی جمع ہوکراللہ کا ذکر کرتے ہیںاور ان کی اس سے غرض صرف رضاۓ الٰہی کا حصول ہو تو انہیں آسمان سے ایک آوازلگانے والا (فرشتہ)آواز لگاتا ہے کہ تم اس حالت میں اٹھوگے کہ تمہیں بخش دیا گیا ہوگا اور تمہاری برائیوں کونیکیوںمیں تبدیل کردیا گیا ہوگا۔‘‘
سیدنا معاذبن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جوشخص کھاناکھائےاوریہ دعا پڑھے
تمام تعریفیںاللہ کے لیے ہیںجس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیرمیری قوت وطاقت کے مجھے یہ عنایت فرمایاتو اسکے گزشتہ گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے۔(سنن ابن ماجہ)
’’تمام تعریفیںاللہ کے لیے ہیںجس نے مجھے یہ لباس پہنایااور بغیرمیری قوت وطاقت کے مجھے یہ عنایت فرمایا
تو اسکے گزشتہ گناہوں کو بخش دیا جاتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا
جب امام(غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ )پڑھتا ہے تو تم آمین کہا کرو، کیونکہ یقیناجسکا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے سے مواقفت اختیار کر گیا اسکے گزشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
سیدنازید tسے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے
(میںاس اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوںجس کے سواءکوئی معبود نہیں وہ ہمیشہ زندہ رہنے اور تھامے رکھنے والی ذات ہے ،اور میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں) تین مرتبہ پڑھااسکو بخش دیا جاتاہے،خواہ وہ میدان جہاد سے بھاگاہو۔(مستدرک حاکم1884)
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ نبی ﷺ نے فرمایا:جب بھی دو مسلمان شخص ملاقات کرتے ہیںاور ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے پہلےانہیںبخش دیاجاتاہے۔
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلمان سے تین دن سے زیادہ تک بول چال کرنا ترک کر دے، اس لیےکہ جب تک وہ ناراض رہتے ہیںتب وہ حق سے برگشتہ رہتے ہیں،ا ن دونوں میںسے جس نے پہلے ناراضگی کو ختم کیا اس کایہ عمل گزشتہ گناہوںکا کفارہ بن جاتا ہے اور اگر ان دونوںکواسی حالت میں موت آجائےتو یہ دونوں جنت میں داخل نہیںہوسکیں گے۔‘‘
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:
’’اللہ کی راہ شہادت پاناقرض کے سوا ہر چیز کا کفارہ بن جاتا ہے ۔(صحیح مسلم 1886)
سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
گناہ سےتوبہ کرنے والا ایسا ہے کہ اس نے کوئی گناہ نہ کیاہو۔(سنن ابن ماجہ4250)
سیدنا جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺنے فرمایاجو شخص کسی مجلس میںبیٹھے اور اس میں اس سے بہت سی فضول باتیں ہوجائیںتو وہ اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کلمات پڑھ لے تو اس مجلس میںسرزد ہونے والی تمام کوتاہیاں بخش دی جائیںگی
اے اللہ تو پاک ہے اپنی تعریف سمیت میںگواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،میںتجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔
سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺایک روز بہت خوش دکھائی دے رہے تھے اور آپ ﷺکہ چہرے مبارک سے خوشی کے آثار جھلک رہے تھے، لوگوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آج آپ بہت خوش نظر آرہے ہیں اور چہرے سے بھی خوشی کے آثار واضح ہورہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایاجی ہاں، آج میرے پاس میرے پروردگار کی طرف سے ایک آنے والا (یعنی فر شتہ )آیا اور اس نے کہاآپ کی امت میں سے جو بھی شخص آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا اللہ تعالی اس کے بدلے میںاسکی دس نیکیاں لکھ دے گا،اس کے دس گناہ مٹادے گا اور اس کے دس درجات بلند فرمادے گا۔‘‘(مسند احمد 16350)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…