24 فکر آخرت
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ صحابہ کے ایک گروہ کے پاس آئے وہ ہنس رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا :
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تمہیں وہ باتیں معلوم ہو جائیں جو میں جانتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔ پھر نبی کریم ﷺ واپس پلٹ گئے اور لوگ رونے لگے۔ اللہ عزوجل نے آپ کی طرف وحی کی : اے محمد ! تم میرے بندوں کو نا امید کیوں کرتے ہو؟ نبی کریمﷺ واپس پلٹے اور فرمایا : خوش ہو جاؤ، سیدھے ہو جاؤ اور قریب ہو جاؤ ۔(السلسلة الاحادیث الصحیحة:3194)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے :
اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس امت میں سے جو شخص میرے بارے میں سنے ،یہودی ہو یا عیسائی پھر مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ آگ میں داخل ہوگا۔ (سلسلة الاحاديث الصحيحة : 157)
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے ( اجر کے ) برابر بھی نہیں پہنچ سکے گا ۔ (سنن ترمذی : 3861)
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے !شرک چیونٹی کی آہٹ سے بھی ہلکی چیز ہے ۔(صحیح ادب المفرد : 554)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ خلاف معمول ایسے وقت میں گھر سے نکلے کہ جب آپ نہیں نکلتے تھے اور نہ اس وقت آپ سے کوئی ملاقات کرتا تھا، پھر آپ کے پاس ابوبکر رضی الله عنہ پہنچے تو آپ نے پوچھا : ابوبکر تم یہاں کیسے آئے؟ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں اس لیے نکلا تاکہ آپ سے ملاقات کروں اور آپ کے چہرہ انور کو دیکھوں اور آپ پر سلام پیش کروں، کچھ وقفے کے بعد عمر رضی الله عنہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا : عمر ! تم یہاں کیسے آئے؟ اس پر انہوں نے بھوک کی شکایت کی، آپ نے فرمایا : مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہے ، پھر سب مل کر ابوالہیشم بن تیہان انصاری کے گھر پہنچے، ان کے پاس بہت زیادہ کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں مگر ان کا کوئی خادم نہیں تھا، ان لوگوں نے ابوالھیثم کو گھر پر نہیں
پایا تو ان کی بیوی سے پوچھا : تمہارے شوہر کہاں ہیں؟
اس نے جواب دیا کہ وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، گفتگو ہو رہی تھی کہ اسی دوران ! ابوالہیشم ایک بھری ہوئی مشک لیے آ پہنچے، انہوں نے مشک کو رکھا اور رسول اللہ ﷺ سے لپٹ گئے اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر سب کو وہ اپنے باغ میں لے گئے اور ان کے لیے ایک بستر بچھایا پھر کھجور کے درخت کے پاس گئے اور وہاں سے کھجوروں کا گچھا لے کر آئے اور اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا : ہمارے لیے اس میں سے تازہ کھجوروں کو چن کر کیوں نہیں لائے؟ عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے چاہا کہ آپ خود ان میں سے چن لیں، یا یہ کہا کہ آپ حضرات پکی کھجوروں کو کچی کھجوروں میں سے خود پسند کر لیں، بہرحال سب نے کھجور کھائی اور ان کے اس لائے ہوئے پانی کو پیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یقیناً یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا ۔(سنن ترمذی : 2369)
ابو بکرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو سجدے میں پڑا ہوا تھا، آپ ﷺنماز کی طرف جا رہے تھے۔ آپ نے نماز مکمل کر لی اس کے پاس سے واپس پلٹے تو وہ سجدے میں پڑا ہوا تھا۔ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوگئے اور فرمایا : اسے کون قتل کرے گا ؟ ایک آدمی کھڑا ہوا اپنے بازو چڑھائے اور تلوار سونت لی اسے حرکت دے کر کہا : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! میں اس آدمی کو کس طرح قتل کروں جو سجدے میں پڑا ہوا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمدعربی ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں؟ آپ ﷺ نے پھر فرمایا : اسے کون قتل کرے گا ؟ ایک آدمی کھڑاہوا اور کہنے لگا :میں، اس نے اپنے بازو چڑھائے، اپنی تلوار سونت کر حرکت دی جب اس کا ہاتھ حرکت میں آیا تو کہنے لگا : اے اللہ کے نبی! میں اس آدمی کو کس طرح قتل کروں جو سجدے کی حالت میں پڑا ہوا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دے رہا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا :
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم اسے قتل کر دیتے تو یہ پہلا اور آخری فتنہ ہوتا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا : كیا ہم جنت میں ہم بستری كر سكیں گے؟ آپﷺ نے فرمایا :
ہاں اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم پرجوش طریقے سے یہ کام کرو گے پھر جب وہ اس سے فارغ ہوگا تو وہ اسی طرح كنواری اور پاک ہوگی۔ (سلسلة الاحاديث الصحيحة : 3351)
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ذو الحلیفہ میں تھے کہ وہاں ایک مردہ بکری اپنے پاؤں اٹھائے ہوئے پڑی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیکھو کیا تم یہ جانتے ہو کہ یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک ذلیل و بے وقعت ہے؟
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک بے قیمت ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ بے وقعت ہے، اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پَر کے برابر بھی ہوتی تو وہ اس سے کافر کو ایک قطرہ بھی نہ چکھاتا ۔ (سنن ابن ماجه : 4110)
سیدنا كرز بن علقمہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہ ایک آدمی نے كہا : اے اللہ كے رسول ! كیا اسلام كی بھی كوئی انتہا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اہل عرب یا عجم كا جو بھی گھر ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے بھلائی كا ارادہ فرما لیا ہے اللہ تعالیٰ ان گھروں میں اسلام داخل كر دے گا، پھر فتنوں كا ظہور ہوگا۔ جس طرح سائے ہوتے ہیں۔ ( اس آدمی نے ) كہا : واللہ ہرگز نہیں اگر اللہ نے چاہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :
اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! پھر تم بڑی تعداد میں واپس لوٹو گے اور ایک دوسرے كی گردن مارو گے۔ (سلسلة الاحاديث الصحيحة : 2560)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے :
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اللہ تعالی اپنی رحمت صرف رحم کرنے والے شخص پر نازل کرتا ہے ۔ لوگوں نے کہا : ہم سب رحم کرتے ہیں ، آپﷺ نے فرمایا : اپنے کسی دوست پر رحم (مہربانی) کرنا رحم نہیں بلکہ وہ تمام لوگوں پر رحم (مہربانی) کرے۔
سيدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ( عمر رضی اللہ عنہ کو ) فرمایا :
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر شیطان تمہیں کسی راستے پر چلتا دیکھتا ہے تو اسے چھوڑ کر وہ کسی دوسرے راستے پر چل پڑتا ہے۔ (صحیح بخاری : 3294)
سيدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام نکلنا دنیا اور جو كچھ اس میں ہے سب سے بہتر ہے اور تم میں سے كوئی شخص جنگی صف میں كھڑا ہو تو یہ اس كے لئے ساٹھ سال كی نماز سے بہتر ہے۔(سلسلة الاحاديث الصحيحة : 2924)
سيدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جب کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا اسے کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالی اس سے خطائیں اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتے گراتا ہے ۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی بدگوئی اور فحش گوئی كو نا پسند كرتا ہے۔
اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک امین کو خائن نہ سمجھا جائے اور خائن کو امین نہ سمجھا جانے لگے، اورفحش گوئی، بدگوئی، قطع رحمی اور برے پڑوسیوں كی اكثریت نہ ہو جائے۔ مومن كی مثال سونے كے ٹكڑے كی طر ح ہے كہ اس كے مالک نے اس میں پھونک ماری نہ تو یہ تبدیل ہوا اور نہ كم ہوا۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد ﷺ كی جان ہے ! مومن كی مثال كھجور كے درخت كی طرح ہے جو صاف خوراک حاصل كرتا ہے اور پاكیزہ پھل دیتا ہے۔ اگر زمین پر گر بھی جائے تو خراب نہیں ہوتا نہ ہی ٹوٹتا ہے۔ (سلسلة الاحاديث الصحيحة : 2288)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کوئی مرد نہیں جو اپنی بیوی کو اس کے بستر کی طرف بلائے اور وہ انکار کرے مگر وہ جو آسمان میں ہے اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ وہ ( شوہر ) اس سے راضی ہو جائے ۔
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تک ایمان نہ لے آؤ، اور مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو، اور کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جس سے تمہارے درمیان محبت قائم ہو : تم سلام کو آپس میں پھیلاؤ ۔( سنن ترمذی : 2510)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو شخص بھی اللہ کے راستے میں زخمی ہوا اور اللہ تعالی خوب جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ہے وہ قیامت کے دن اس طرح سے آئے گا کہ اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو گا رنگ تو خون جیسا ہو گا لیکن اس میں خوشبو مشک جیسی ہوگی۔(صحیح بخاری : 2803)
۔۔۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…