آج کے اس پرفتن دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کادفاع کرنا علماءاہل سنت والجماعت کا فریضہ ہے۔دشمنان صحابہ کی طرف سےدیگر اصحاب رسولﷺ کی بنسبت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر زیادہ تنقیدکی جاتی ہے،بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عزتوں پر حملے کرنے والوں کی ابتداء اسی مظلوم صحابی سے ہوتی ہے۔
اسی بناء پر اگر یہ کہاجائے کہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کےدفاع میں تمام اصحاب رسول کا دفاع مضمر ہے تو غلط نہ ہوگا۔
اہل سنت کے مشہور ثقہ امام ربیع بن نافع الحلبی رحمہ اللہ (المتوفی۴۴۱ھ) فرماتے ہیں:
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺکے صحابہ کے لیے پردہ ہیںجب کوئی شخص اس پردے کوکھول دےگا تو وہ اس پردے کے پیچھے جو لوگ ہیں ان پر بھی تنقید کرےگا۔[تاریخ بغداد ج۱ص۲۲۳ت۴۸طبع دار الكتب العلمية،تاریخ دمشق ج۵۹ص۲۰۹طبع دار الفكر وسندہ صحیح]
اسی جذبہ کے پیش نظر بعض اکابرین کے حکم پر بندہ ناچیز کو اس عظیم ومظلوم صحابی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر ہونے والے اعتراضات کا مفصل جائزہ لینےکی سعادت حاصل ہوئی ہے ۔الحمدللہ علی ذلک
بعض محسنین کے اصرار پر اس مفصل جائزےکا کچھ حصہ (جوکہ کاتب وحی پرمشتمل ہے)مجلہاسوئہ حسنہ کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہاہے۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کوجلیل القدرصحابی ہونے کے ساتھ کاتب وحی اورخال المؤمنین یعنی مومنوں کا ماموں ہونے کاشرف بھی حاصل ہے۔
سیدناعبداللہ بن عباس بیان کرتےہیں کہ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نےرسول اکرمﷺ سے کہا:
اے اللہ کے نبیﷺ آپ مجھے تین چیزیں عطا فرما دیجیے (یعنی تین چیزوں کے بارے میں میری درخواست قبول فرمالیجیے)آپﷺ نے جوابا ارشاد فرمایا:جی ہاں۔(ابوسفیان رضی اللہ عنہ )نےعرض کیا میری بیٹی ام حبیبہ r عرب کی سب سے زیادہ حسین وجمیل خاتون ہے میں اسے آپ کی زوجیت میں دیتاہوں ۔آپﷺ نے فرمایا:جی ہاں۔(ابوسفیان رضی اللہ عنہ )نے عرض کیاکہ آپ معاویہ کو کاتب وحی بنالیں۔توآپﷺ نے فرمایا :جی ہاں۔پھر (ابوسفیان رضی اللہ عنہ )نے عرض کیاکہ آپ مجھے کسی دستے کا امیر بھی مقرر کردیں تاکہ میں کفار سے لڑائی کروں جس طرح میں(قبول اسلام سے قبل) مسلمانوںسے لڑائی کرتاتھاتو آپﷺ نے فرمایا:جی ہاں۔[صحیح مسلم کتاب فضائل الصحابۃ باب من فضائل ابی سفیان برقم۶۴۰۹]
اس صحیح حدیث سے ثابت ہواکہ امیرمعاویہ کو کاتب وحی اور خال المؤمنین ہونے کاشرف حاصل ہے۔
سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے میں نے کہا آپﷺ میرے لیے ہی تشریف لائے ہیں۔میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا۔آپﷺ نے میرے کندھوں کے درمیان تھپکی لگائی اورفرمایا کہ جائو معاویہ رضی اللہ عنہ کومیرے پاس بلائو اور وہ (معاویہ)کاتب وحی تھے۔(ابن عباس رضی اللہ عنہ )کہتے ہیں میں نے جاکر انہیں بلایا تو بتایاگیاکہ وہ کھانا کھا رہے ہیں۔میں نے آکر رسول اللہﷺ کوبتایا تو آپ نے فرمایادوبارہ جائو انہیں بلائو میں ان کے پاس(دوسری بار )گیا تو بتایا گیاکہ وہ کھانا کھارہے ہیں ۔میں واپس رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی اطلاع دی تو آپﷺ نے (بطورمزاح)تیسری بارفرمایا:اللہ اس کے پیٹ کو سیر نہ کرے۔[دلائل النبوہ للبیھقی ج۶ص۲۴۳طبع دارالکتب العلمیہ وسندہ صحیح]
مسند طیالسی میں اسی حدیث کے یہ الفاظ ہیں:
یعنی رسول اللہﷺ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ آپ کے لیے وحی کی کتابت کریں۔[مسند أبي داود الطيالسي ج۴ص۴۶۴ح۲۸۶۹،ط مصر]
بعض لوگ اس حدیث میں موجود الفاظ(لا اشبع الله بطنه) کو دیکھ پریشان ہوجاتے ہیں بلکہ بعض ناصبیوں نے تو اس صحیح حدیث کاہی سرےسے انکار کردیا۔ العیاذ باللہ
حالانکہ یہی الفاظ صحیح مسلم( ۹۶/ ۲۶۰۴)میں بھی موجود ہیں جبکہ بخاری ومسلم کی تمام مرفوع ومتصل روایات کی صحت پر اجماع ہے۔
حقیقت میں ان الفاظ سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس سےان کی منقبت وفضیلت ثابت ہورہی ہے۔ لغت عرب سے واقفیت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ کلام عرب میں اس طرح کے الفاظ مزاح اور تکیہ کلام کے طور پر بولے جاتے ہیں۔
جیساکہ مشہور لغوی ابومنصورالازہری ابوعبید سے نقل کرتےہوئے کہتے ہیں:
ایسی باتیں اہل عرب کے اس طریقے کے مطابق ہوتی ہیں،جس میں وہ کسی کے بارے میں بد دعا کرتےہیں لیکن اس کے وقوع کا ارادہ نہیں کرتے یعنی بددعا کا پورا ہوجانا مراد ہی نہیں ہوتا۔[تهذيب اللغة ج۱ص۱۴۵،ط دار إحياء التراث العربي]
مزید توضیح کے لیے چند ائمہ کی تصریحات پیش خدمت ہیں۔
شارح مسلم علامہ نووی رحمہ اللہ (المتوفٰی۶۷۶ھ)اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں:
امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث سے یہ سمجھاہے کہ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ بددعاکے مستحق نہیں تھےیہی وجہ کہ انہوں نے اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیاہے امام مسلم کے علاوہ دیگراہل علم نے بھی اس حدیث کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مناقب میں شامل کیاہےکیونکہ نبی اکرمﷺ کے یہ الفاظ حقیقت میں ان کے لیے دعا بن گئے تھے۔[شرح صحيح مسلم ج۱۶ص۱۵۶،ط دار إحياء التراث العربي]
مشہور مؤرخ ومفسرعلامہ ابن کثیر رحمہ اللہ (المتوفٰی۷۷۴ھ) فرماتے ہیں:
امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کو پہلی حدیث کے متصل بعد ذکر کیاہے،اس حدیث سے سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔[البداية والنهاية ج۸ص۱۲۸ونسخۃ اخریٰ ج۸ص۱۲۰]
امام آجری رحمہ اللہ (المتوفٰی۳۶۰ھ)نے اس حدیث کو باب ذكر استكتاب النبي صلى الله عليه وسلم لمعاوية رحمه الله بأمر من الله عز وجل میں ذکر کرکہ بتایاکہ اس حدیث سے معاویہ کی فضیلت مترشح ہورہی ہے۔[کتاب الشريعة قبل حدیث ۱۹۳۴]
حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ (المتوفٰی۴۷۱ھ)اسی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:
امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں سب سے صحیح ترین روایت یہی ہے۔[تاریخ دمشق ج۵۹ص۱۰۶،ط دار الفكر]
قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ (المتوفٰی۵۴۴ھ)اس حدیث کی توضیح میں فرماتے ہیں:
اس قول کو سبقت لسانی پر محمول کیاجائےگا جس میں وقوع کا ارادہ نہیں ہوتااورنہ ہی اللہ تعالیٰ سے اس کی قبولیت کی رغبت ہوتی ہے۔[اکمال المعلم ج۸ص۷۵،ط دارالوفاء]
علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ اسی حدیث کے بارے میں کہتے ہیں:
امیرمعاویہ کی فضیلت میں سب سے صحیح ترین ابن عباس کی حدیث کہ وہ کاتب وحی تھے ہے جس کو امام مسلم نے اپنی صحیح میں درج کیاہے۔[تنزيه الشريعة للکنانی ج۲ص۸،ط دار الكتب العلمية]
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفیٰ۸۵۲ھ)نے اس طرح کے ایک جملے کے متعلق فرماتے ہیں:
یہ ایسا کلمہ ہے جو زبان پر جاری ہوجاتاہے اور اس کی حقیقت مقصود نہیں ہوتی۔[فتح الباری ج۱۰ص۵۵۷،ط دارالسلام]
علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (المتوفٰی۴۴۹ھ) بھی اس طرح کی ایک حدیث کی توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
یہ ایسا کلمہ ہے کہ جس سے بددعامراد نہیں ہوتی،اسے صرف تعریف کے لیے استعمال کیاجاتا ہے جیساکہ کوئی شاعرعمدہ شعر کہےتوعرب لوگ کہتے ہیں قاتله الله(اللہ اسے مارے)اس نے عمدہ شعر کہاہے۔[شرح صحيح البخارى ج۹ص۳۲۹،ط مكتبة الرشد]
علامہ ابن الملقن رحمہ اللہ (المتوفٰی۸۰۴ھ)اس طرح کے ایک جملے کے بارے میں فرماتے ہیں:
یہ ایک ایساکلمہ ہے جس کے ذریعہ عرب لوگ دعا دیتے ہیں اور وہ اس کی حقیت اوروقوع کا ارادہ نہیں رکھتے۔ [التوضيح ج۲۳ص۱۳۹،ط دار النوادر]
علامہ ابو عبد الرحمن محمد ناصر الدين البانی رحمہ اللہ (المتوفٰی۱۴۲۰ھ)اسی حدیث(لا اشبع اللہ بطنہ) کےبارے میں فرماتے ہیں:
بعض گمراہ فرقے اس حدیث کو غلط استعمال کرتے ہوئے اس سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اس حدیث میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو ان کی تائید کرتی ہو،اس حدیث سے معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص کیسے ثابت ہوگی اس میں تو یہ ذکر ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ کے کاتب وحی تھے۔[سلسلة الاحاديث الصحيحة ج۱ص۱۶۵برقم۸۲،ط مكتبة المعارف]
ائمہ دین کی ان تصریحات سے ثابت ہوا کہ اس حدیث سےسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تنقیص ثابت نہیں ہوتی بلکہ یہ حدیث تو ان کی فضیلت وشرف کو واضح کررہی ہے ۔
نیز یہ تو بات تھی ان الفاظ کے متعلق جو کہ بطورتکیہ ومزاح بولے جاتے ہیں لیکن اگر رسول اکرمﷺ کسی صحابی کے لیے حقیقت میں بددعابھی کرلیں تو اس کوبھی اللہ تعالیٰ دعامیں بدل دیتاہے۔
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:
اے اللہ بلاشبہ محمدﷺبشرہے اسے انسانوں کی طرح غصہ آجاتاہے،میں نے تجھ سے ایسا وعدہ لیاہواہے جس کو تونہیں توڑےگا وہ یہ ہے جس مؤمن کو میں تکلیف دوں یا برابھلا کہوں یا اسے ماروں تو ان چیزوں کو اس کے لیے گناہ کا کفارہ بنادے اور روزقیامت ان چیزوں کو اس کے لیے اپنی قربت کا ذریعہ نادے۔[صحیح مسلم برقم ۲۶۰۱]
دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں:
اے اللہ میں بشرہوں لہذا مسلمانوں میں سے کسی کو بھی میں برابھلا کہوں یا بددعا کروں یا اسے ماروں تو ان چیزوں کو اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنادے۔[صحیح مسلم۲۶۰۰]
امام ابن عساکر رحمہ اللہ (المتوفٰی۵۷۱ھ)فرماتے ہیں:
بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ یہ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ افضل ترین فضیلت ہے کیونکہ نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے اے اللہ میں بشرہوں عام انسانوں کی طرح مجھے بھی غصہ آتاہےلہذا مسلمانوں میں سے کسی کو بھی میں برابھلا کہوں یا بددعا کروں یا اسے ماروں تو ان چیزوں کو اس کے لیے پاکیزگی اور رحمت بنادے۔[تاريخ دمشق ج۷۱ص۱۷۰ت۹۶۵۰،ط دارالفکر]
امام العصر علامہ ذہبی رحمہ اللہ (المتوفٰی۷۸۶ھ) نے بھی ان الفاظ(لا أشبع الله بطنه)کی توجیہہ میں رسول اللہﷺ کا یہ فرمان(اللهم من سببته أو شتمته من الأمة فاجعلها له رحمة) پیش فرمایاہے۔[سير أعلام النبلاءج۳ص۱۲۳ت۲۵،ط مؤسسة الرسالة]
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک ذاکرین(اللہ کا ذکرکرنے والوں)کی مجلس میں فرمایا :
میں رسول اکرمﷺ کا سالا ہوں،آپﷺ کی کتابت میرے ذمہ تھی اور میں ہی آپﷺ کی سواری تیار کرتاتھا۔[الشریعۃ للآجری ج۵ص۲۴۶۱ ح۱۹۴۷، طبع دار الوطن الرياض وسندہ صحیح]
اس سےمعلوم ہوا کہ امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا رسول اللہﷺ سے خاص(گہرا) تعلق تھا۔
امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کا کاتب وحی ہوناسلف صالحین رحمہم اللہ کی نظر میں سیدناامیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی اور خال المؤمنین ہونے پر سلف صالحین کا اتفاق ہے۔
جیساکہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
یعنی معاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی ہونے پر اجماع ہے۔ [البداية والنهاية ج۵ص۳۵۴،ط دار الفكر]
اور اسی طرح سلف صالحین کے متفقہ عقائد پر مشتمل کتاب موسوعة مواقف السلف في العقيدة والمنهج والتربية میں امیر معاویہ کے بارے میں سلف کا متفقہ موقف یوں بیان کیاگیاہے:
وہ (معاویہ)خال المؤمنین اور اللہ تعالیٰ کی وحی کےکاتب تھے۔ [موسوعة مواقف السلف في العقيدة ج۱ص۲۸۸شاملہ]
آنے والی سطور میں اس حوالے سے ۳۰سلف صالحین کی عبارات بمع حوالہ پیش خدمت ہیں۔
(۱)اہل بیت کےچشم وچراغ سیدنا عبداللہ بن عباس فرماتےہیں :
معاویہ کاتب وحی تھے۔[دلائل النبوہ للبیھقی ج۶ص۲۴۳طبع دارالکتب العلمیہ وسندہ صحیح]
(۲)مشہورتبع تابعی اور ثقہ امام معافٰی بن عمران رحمہ اللہ (المتوفیٰ۱۸۵۔۱۸۶ھ) فرماتے ہیں:
معاویہ نبی اکرمﷺ کے صحابی،سسرالی رشتہ دار (یعنی سالے) آپﷺ کے کاتب اور اللہ کی وحی کے سلسلے میں آپﷺ کے امین تھے۔[تاريخ بغدادج۱ص۲۲۴ ت ۴۸ط دار الكتب العلمية، تاريخ دمشق ج۵۹ص۲۰۸ت ط دار الفكر وسندہ صحیح]
(۳)امام اہل سنت ابوعبداللہ احمدبن حنبل الشیبانی رحمہ اللہ (المتوفی۲۴۱ھ)ابوالحارث احمدبن محمد الصائغ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے امام احمد رحمہ اللہ سے بذریعہ خط پوچھاکہ آپ اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہیں جس کا یہ دعوی ہوکہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی اور خال المؤمنین نہیں مانتا تو امام صاحب نے دوٹوک الفاظ میں فرمایا:
یہ انتہائی بری اور ردی بات ہے،ایسے لوگوں سے کنارہ کشی کی جائے، ان کی مجلس اختیار کرنے سے باز رہا جائے اور انکی گمراہیوں سے لوگوں کو واقف کیا جائے۔ [السنة لابی بکر بن خلال ج۲ص۴۳۴ رقم۶۵۹ط دار الراية الرياض وسندہ حسن]
(۴)امام ابوبکرمحمدبن حسین الآجری رحمہ اللہ (المتوفی۳۶۰ھ) لکھتے ہیں:
یعنی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کی طرف سے وحی قرآن کو لکھنے والے تھے۔[الشريعة ج۵ص۲۴۳۱ط دار الوطن الرياض]
(۵)امام ابومحمد علي بن احمد بن سعيد بن حزم الظاہری رضی اللہ عنہ (المتوفیٰ۴۵۶ھ) سیدنامعاویہ اورزید بن ثابت رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرماتے ہیں:
اللہ کے نبیﷺ نے ان دونوں کو صرف وحی اور اس کے علاوہ(خطوط وغیرہ)لکھنےکے لیے رکھاہواتھا، اس (کتابت)کے علاوہ ان کے ذمہ کوئی اور کام نہیں تھا۔ [جوامع السيرة ج۱ص۲۷ط دار المعارف مصر]
(۶)امام ابومنصورمعمربن احمد اصبھانی رحمہ اللہ (المتوفیٰ۴۲۸) اہل سنت کا اجماعی عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی کی وحی کا کاتب وامین،نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک ہی سواری پر سفر کرنے اورخال المؤمنین ہونے کاشرف حاصل ہے۔[الحجة في بيان المحجة للامام اسماعيل بن محمد بن الفضل الاصبھانی ج۱ص۲۴۸ط دار الراية وسندہ صحیح]
(۷)امام ابو عمر يوسف بن عبد الله بن عبدالبر الاندلسی رحمہ اللہ (المتوفیٰ۴۶۳ھ)فرماتے ہیں:
آپ رضی اللہ عنہ ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں رسول اللہﷺ کےکاتب وحی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ [الاستیعاب ج۳ص۱۴۱۶ت۲۴۳۵ط دار الجيل بيروت]
(۸)امام ابوبکراحمدبن علی بن ثابت بن مھدی،خبیب بغدادی رحمہ اللہ (المتوفیٰ۴۶۳ھ) فرماتے ہیں:
نبی اکرمﷺ نے انہیں کتابت وحی کاکہا۔[تاريخ بغداد ج۱ص۲۲۲ت۴۸ط دارالکتب العلمیہ]
(۹)ابو القاسم علي بن الحسن ،ابن عساکر رحمہ اللہ (المتوفی۵۷۱ھ) فرماتے ہیں:
معاویہ خال المؤمنین(مومنوں کے ماموں) اور رب العالمین کی وحی کو لکھنے والے ہیں۔[تاریخ دمشق ج۵۹ص۵۵ت۷۵۱۰ط دار الفكر]
مزیدفرماتے ہیں:
سیدنا امیرمعاویہ کی فضیلت میں سب سے صحیح حدیث ابوحمزہ کی حدیث ہے کہ سیدناعبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں معاویہ کاتب رسولﷺ تھے،اس روایت کوامام مسلم نے اپنی صحیح میں درج کیاہے۔ [ج۵۹ص۱۰۶]
(۱۰)ابو الفرج عبد الرحمن بن علي ،ابن الجوزي رحمہ اللہ (المتوفیٰ۵۹۷ھ) لکھتے ہیں :
معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے کاتب تھے۔[تلقيح فهوم أهل الاثر ج۱ص۳۳۳،ط بيروت]
ایک اورمقام پرامام ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتےہیں:
نبی اکرمﷺ نے انہیں کتابت وحی کاکہا۔[المنتظم في تاريخ الامم والملوك ج۵ص۱۸۵ط دارالکتب العلمیہ]
کاتبین وحی کاتذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
بارہ آدمی وحی لکھنے کا کام کرتے تھے۔ابو بكر ،عمر،عثمان ، علي ،ابي بن كعب ،زيد ،معاوية ،حنظلہ بن ربيع ،خالد بن سعيد بن العاص ،ابان بن سعيد ،علاء بن حضرمي۔[كشف المشكل من حديث الصحيحين ج۲ص۹۶،ط دار الوطن الرياض]
تنبیہ:امام ابن الجوزی رحمہ اللہ کے متعلق بعض ناصبیوں کا یہ کہناکہ وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے قائل نہیں تھے غلط ہے مندرجہ بالا تین عبارات سے ان کی اس بات کی تردید ہورہی ہے،باقی امام صاحب نے جو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے یزید پر جرح کی ہے اس کا یہ قطعامطلب نہیں کہ وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کے منکر ہیں ناصبیوں کو ائمہ دین کے بارے میں اس طرح کی الزام تراشی سے اللہ کا خوف کرنا چاہیے۔
(۱۱)شیخ الاسلام،فاتح رافضیت امام ابو العباس احمد بن عبد الحليم بن عبد السلام،ابن تیمیہ الحرانی رحمہ اللہ (المتوفیٰ۷۲۸ھ)امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
اور وہ(معاویہ) وحی لکھاکرتے تھے پس وہ ان حضرات میں سے تھے جن کو نبی اکرمﷺ نے کتابت وحی پر امین مقرر کیاتھا۔[منهاج السنة النبوية ج۷ص۴۰،ط جامعة الامام محمد بن سعود الاسلامية]
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
یعنی امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے نزدیک امانتدار تھےاوران پرنازل ہونے والی وحی لکھا کرتے تھے۔[مجموع الفتاوى ج۴ص۴۷۲،ط المدينة النبوية]
اور اسی طرح جب دشمنان صحابہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی ہونے کاانکارکیاتو شیخ الاسلام نے قلم کوجنبش دیتے ہوئے لکھا:
روافض کی یہ بات علم ودلیل سے کوری ہے،(جواب دو!کہ)اس بات پر کیادلیل ہے کہ سیدناامیرمعاویہ نے صرف خطوط لکھے ہیں،وحی کا ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔ [منهاج السنة النبوية ج۴ص۴۲۷،باب الرد على مزاعم الرافضي عن معاوية،ط جامعة الامام محمد بن سعود الاسلامية]
(۱۲)مؤرخ اسلام امام ابوالفداء اسماعيل بن عمر بن كثير دمشقی رحمہ اللہ (المتوفیٰ۷۷۴ھ)فرماتے ہیں:
ہمارابتانے کا مقصد یہ ہے کہ امیرمعاویہ رحمہ اللہ ان جملہ کاتبین وحی میں سے ہیں،جوکتابت وحی کافریضہ سرانجام دیاکرتےتھے۔[البداية والنهاية ج۸ص۱۱۹،ط دار الفكر]
(۱۳)امام ابومحمدعبد الله بن احمد بن محمد بن قدامہ المقدسی رحمہ اللہ (المتوفیٰ۶۲۰ھ) مسلمانوں کا عقیدہ بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ خال المؤمنین(مومنوں کے ماموں)، اللہ کی وحی کے کاتب اورمسلمانوں کے خلیفہ تھے۔[لمعۃ الاعتقاد ص۴۰]
(۱۴)ابو عبد الله حسین بن ابراہیم الھمذاني رحمہ اللہ (المتوفٰی۵۴۳ھ)فرماتے ہیں:
معلوم ہوناچاہیے کہ معاویہ رحمہ اللہ مومنوں کے ماموں اور اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی وحی(قرآن) کو لکھنے والے تھے۔[الاباطيل والمناكيرج۱ص۳۵۶،ط دار الصميعي]
(۱۵)ابو الحسن علي بن بسام الشنتريني رحمہ اللہ (المتوفٰی۵۴۲ھ) فرماتےہیں:
سیدنامعاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کاتب وحی،نبی اکرم ﷺ کےسسرالی رشتہ دار(سالے)اور آپﷺ کے ساتھ ایک ہی سواری پر سفر کرتے تھے۔[الذخيرة في محاسن اهل الجزيرة ج۱ص۱۱۰،ط الدار العربية للكتاب]
(۱۶)ابو عبد الله محمد بن احمد بن عثمان الذھبی رحمہ اللہ (المتوفیٰ۷۴۸ھ) فرماتے ہیں:
یعنی ابن عباس سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے وہ فرماتےہیں:۔۔معاویہ وحی لکھاکرتےتھے۔[تاریخ اسلام ج۲ص۵۴۰ت۹۵،ط دار الغرب الاسلامي]
(۱۷)ابو عمرو خليفہ بن خياط رحمہ اللہ (المتوفٰی۲۴۰ھ)کہتے ہیں:
معاویہ بن ابی سفیان آپﷺ کے پاس کتابت کا کام کرتے تھے۔[تاريخ خليفة بن خياط ص۹۹،ط مؤسسة الرسالة]
(۱۸)امام ابو زكريا يحيى بن شرف النووي رحمہ اللہ (المتوفی۶۷۶ھ) فرماتے ہیں:
آپ رضی اللہ عنہ ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں رسول اللہﷺ کےکاتب وحی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ [تھذیب الاسماء واللغۃ ج۲ص۱۰۱،ط دار الكتب العلمية]
(۱۹)ابو الفضل احمد بن علي بن محمدبن حجر العسقلانی رحمہ اللہ (المتوفیٰ۸۵۲ھ)فرماتے ہیں:
[تقریب التھذیب ص۹۵۴ت۶۸۰۶بتحقیق الشیخ ابی الاشبال ط دارالعاصمۃ]
دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:
یہ معاویہ رضی اللہ عنہ وہ ہیں جو کاتب وحی تھے۔[لسان الميزانج۵ص۹۵ت۴۶۱۹،بتحقیق ابی غدہ]
(۲۰)ابواسحاق ابراہیم الشاطبی رحمہ اللہ (المتوفٰی۷۹۰ھ) فرماتے ہیں:
سیرت نگاروں نے یہ بات بیان کی ہےکہ رسول اکرمﷺ کے کئی کاتب تھے جو آپ کے لیے وحی وغیرہ لکھا کرتے تھے انہی میں سے عثمان،علی، معاویہ، مغیرہ بن شعبہ،ابی بن کعب اورزیدبن ثابت رضی اللہ عنہم ہیں۔ [الاعتصام ج۱ص۳۱۸،ط دار ابن الجوزي]
(۲۱)شارح بخاری ابو حفص عمر بن علي،ابن الملقن رحمہ اللہ (المتوفی۸۰۴ھ)فرماتے ہیں:
سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ مومنوں کے ماموں ابوعبدالرحمان بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ،اموی خلیفہ،کاتب وحی فتح مکہ والے سال مسلمان ہوئے۔[التوضيح ج۳ص۳۴۳،ط دار النوادر۔دمشق]
(۲۲)امام احمد بن محمد بن ابى بكر قسطلاني رحمہ اللہ (المتوفٰی۹۲۳ھ) امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتے ہیں:
وہ کتابت وحی کے ساتھ مشہور تھے۔[المواهب اللدنية بالمنح المحمدية ج۱ص۵۳۳،ط المكتبة التوفيقية]
نیز لکھتے ہیں:
آپ رضی اللہ عنہ رسول اکرمﷺ کے کاتب اور بےشمار مناقب ومراتب کے مالک تھے۔[ارشاد الساري لشرح صحيح البخاري ج۱ص۱۷۰،ط مصر]
(۲۳)عبد الرحمن بن ابي بكر السیوطی رحمہ اللہ (المتوفٰی۹۱۱ھ) لکھتے ہیں:
آپ رضی اللہ عنہ رسول اکرمﷺ کے کاتب تھے۔[تاريخ الخلفاء ج۱۴۸،ط مكتبة نزار مصطفى الباز]
(۲۴)ابو الحسين محمد بن محمد، ابن ابي يعلى رحمہ اللہ (المتوفٰی۵۲۶ھ)فرماتےہیں:
معاویہ مومنوں کے ماموں اوراللہ تعالی کی وحی(قرآن) کو لکھنے والے تھے۔[الاعتقاد لابن أبي يعلى ص۴۳،ط دار اطلس الخضرا]
(۲۵)امام احمد بن محمد بن علي بن حجر ہیثمی رحمہ اللہ (المتوفٰی۹۷۴)امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کادفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وہ تمام مومنوں کے ماموں اور کاتب وحی ہیں ۔[الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة ج۲ص۷۰۸،ط مؤسسة الرسالة]
(۲۶)ابو عبد الله محمد الانصاری رحمہ اللہ (المتوفٰی۷۰۳ھ) امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق لکتے ہیں:
وہ کاتب وحی اور مومنوں کے ماموں ہیں۔[الذيل والتكملة لكتابي الموصول والصلة ج۱ص۶۰۵،ط دار الغرب الإسلام]
(۲۷)ابوعبداللہ محمدبن محمدالمراكشي رحمہ اللہ (المتوفٰی۶۹۵ھ) امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے ہیں:
رسول اکرمﷺ نے امیر معاویہ کو کاتب مقرر کیا تھا۔ [البيان المغرب ج۱ص۹،ط دار الثقافة]
(۲۸) علامہ ابن العماد الحنبلی رحمہ اللہ (المتوفٰی۱۰۸۹) امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کےبارے میں لکھتے ہیں:
وہ کاتبین وحی میں سے ایک تھے۔[شذرات الذهب ج۱ص۲۷۰،ط دار ابن كثير]
(۲۹)علامہ محمود بن احمد العینی رحمہ اللہ (المتوفٰی۸۵۵ھ) لکھتے ہیں:
(۳۰)محمد بن اسعد الصديقي الدواني لکھتے ہیں:
معاویہ کاتب وحی تھے۔[الحجج الباهرة ص۱۳۲،ط مكتبة الامام البخاري]
ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وحی اور خال المؤنین ہونے پر اسلاف امت کا اتفاق ہے۔
کتب شیعہ سے ثبوت
مذہب شیعہ کی درج ذیل معتبر کتب میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی تسلیم کیا گیاہے۔
معاني الاخبار ص۳۴۶،طبع دارالمعرفہ
معانی الاخبار اردو مترجم ج۲ص۳۹۳۔۳۹۴،طبع کراچی
الإحتجاج للطبرسی ج۱ص۲۳۹،ط انتشارات الشریف الرضی
شرح نهج البلاغة لابن ابي الحديد ج۱ص۲۳۸
اوراسی طرح دورحاضر کا بہت بڑا فتنہ اور نیم شیعہ انجنیئر محمدعلی مرزا نے بھی اپنے لیکچر میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی کہاہے۔
مرزا کے کسی چاہنے والے نے بھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتب وحی تسلیم کیاہے۔
[خال المؤمنین ایک صحابی اورکاتب وحی ص۲۷]
۔۔۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…