قارئین کرام ! سینگی لگوانا ایک مسنون علاج ہے ۔جس میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لیے شفا رکھی ہے۔
یہ علاج رسول اللہ ﷺنے خود بھی کروایا ہے اور اپنی امت کو بھی اس کا حکم دیا ہے ۔
لیکن آج کل لوگوں کا اس کو ترجیح نہ دینے کی وجہ سے یہ تقریبا کم ہو چکا ہے ۔
لہذا آئیں ! سینگی کے فوائد و احکام ملاحظہ فرمائیں ۔
اور سینگی لگوا کر شفا پائیں ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
معراج کی رات میرا گزر فرشتوں کی جس جماعت پر بھی ہوا اس نے یہی کہا : محمد ( ﷺ ) ! آپ سینگی کو لازم کر لیں ۔ (سنن ابن ماجه : 3477)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
شفاء تین چیزوں میں ہے۔ شہد کے شربت میں، سینگی لگوانے میں اور آگ سے داغنے میں لیکن میں اپنی امت کو آگ سے داغ کر علاج کرنے سے منع کرتا ہوں۔
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
بہترین علاج سینگی لگوانا ہے ۔(المستدرك للحاكم : 7468)
ایک روایت کے لفظ ہیں :
جو علاج تم كرتے ہو اگر كسی میں خیر ہے تو سینگی میں ہے۔
(سلسلة الاحاديث الصحيحة : 2301)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جو سترہویں، انیسویں اور اکیس ویں تاریخ کو سینگی لگوائے تو اسے ہر بیماری سے شفاء ہوگی ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ انہوں نے نافع رحمہ اللہ سے کہا : میرا خون جوش ماررہا ہے، میرے لئے سینگی لگانے والا تلاش كرو اور كوشش كرنا كہ نرم ہاتھ والا ہو۔ كوئی بوڑھا یا بچہ نہ لے آنا۔ كیونكہ میں نے رسول اللہﷺ سے سناآپ فرما رہے تھے:
نہار منہ سینگی لگوانا زیادہ فائدہ ہے۔ اس میں شفا اور بركت ہے، عقل اور حفظ كو زیادہ كرتی ہے، جمعرات كے دن اللہ كی بركت پر سینگی لگواؤ ۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
نبی کریمﷺنے گردن کے پہلوی حصوں اور گردن کے زیریں حصوں پر تین پچھنے لگوائے۔
ابن جوزی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : مونڈھوں کا پچھنا کندھے اور حلق کے درد کے لیے مفید ہے اور گردن کے پہلوی حصے کا پچھنا سر کی بیماریوں اور اس کے دوسرے اجزا چہرہ، زبان ، کان ، آنکھ ، ناک ، اور حلق کی بیماریوں میں بہت مفید ہے ۔ خون کی زیادتی یا فساد خون کی وجہ سے یہ بیماریاں لاحق ہو گئی ہیں ۔(الطب النبوی : 1/44)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
جب تم میں سے کسی شخص کا خون جوش مارے تو وہ سینگی لگوائے، کیونکہ جب خون جوش مار تا ہے تو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے ۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
رسول اللہ ﷺنے اپنے پاؤں کے اوپر والے حصے پر تکلیف کی وجہ سے سینگی لگوائی اور آپ محرم تھے۔ (سنن نسائي : 2852)
سیدہ سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
جب كسی كے سر میں درد ہوتا تو آپﷺ اس سے كہتے: جا ؤ اور سینگی لگواؤ، اور جب کسی كی ٹانگ میں درد ہوتا تو اس سے كہتے : جاؤ اور اسے مہندی سے رنگ دو (مہندی لگاؤ ) ۔ (سلسلة الاحاديث الصحيحة : 2059)
صحیح بخاری میں ہے کہ :
رسول اللہ ﷺنے احرام کی حالت میں اپنے سر پر سینگی لگوائی ۔ آدھے سر کے درد کی وجہ سے جو آپ کو ہو گیا تھا۔ (صحیح بخاری : 5701)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
نبی کریم ﷺنے سینگی لگوائی اور سینگی لگانے والے کو اس کی مزدوری دی ۔(صحیح بخاری : 2278)
۔۔۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…