عنقریب رمضان کا مبارک مہینہ سایہ فگن ہے ، چاروں طرف مسلمانوں میں خوشی ہی خوشی ہے اللہ کے نیک بندوں کو اس مہینے کا شدت سے انتظار ہوتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ نیکی،برکت، بخشش، عنایت، توفیق،عبادت، زہد،تقوی، مروت، مساوات، صدقہ وخیرات،رضائے الہی، جنت کی بشارت،جہنم سے خلاصی کا مہینہ ہے رب کریم سے دعا ہے کہ ہمیں اس ماہ مبارک میں ان ساری نعمتوں سے مالامال کردے ، آمین !
رمضان المبارک کا روزہ ، تراویح ، صدقہ ، دعا، ذکر ، تلاوت ، مناجات ، عمرہ اور دیگر اعمال صالحہ جہاں مردوں کےلئے ہیں وہیں عورتوں کے لئے بھی ہیں ان اعمال کا اجر وثواب جس طرح مردوں کو نصیب کرتا ہے ویسے ہی اللہ تعالی عورتوں کو بھی عطاکرتا ہے ۔ خواتین میں عام تصور یہ ہوتا ہے کہ رمضان تو صرف مردوں کا ہے ، ہمارا کام صرف سحری پکانا اور افطار تیار کرنا ہے عورتیں روزہ رکھتی ہیں مگر دیگر اعمال خیر میں پیچھے رہتی ہیں ، اس کی بنیادی وجہ رمضان المبارک کے احکام ومسائل سے عدم واقفیت ہے جس طرح مردوں پر روزہ رکھنا فرض ہے ویسے عورتوں پر بھی فرض ہے اور جس طرح مردوں کو رمضان المبارک میں کثرت سے اعمال خیر انجام دینا چاہیے ویسے ہی عورتوں کو بھی انجام دینا چاہیے یعنی عموما تو انہیں تمام قسم کی طاعت وبھلائی پر محنت کرنا مثلا تلاوت قرآن کریم ، اور اس میں تدبروتفکر، بکثرت صدقہ وخیرات،ذکرالہی اور فرائض وواجبات کے علاوہ نفلی عبادات پر محنت کرنا چاہیے لیکن یہاں رمضان سے متعلق ان امور کا ذکر کیا جاتاہے جو مسلمان خواتین کےلئے انجام دینا مستحب وپسندیدہ ہیں ۔
جیسے ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں کہ روزہ جیسے مردوں پر فرض ہے ایسے ہی عورتوں پر بھی فرض ہے کیونکہ روزے کے متعلق اللہ تعالی کا عمومی حکم وارد ہوا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ
اے ایمان والو ! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔ ( البقرہ : 183 )
نبی ﷺ کا فرمان ہے :
اس وقت تک لوگ بھلائی کی راہ پر گامزن رہیں گے جب تک کہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ۔
اور اس سے یہودونصاری کی مخالفت مقصود ہے ۔
کیونکہ یہود و نصاری افطاری میں تاخیر کرتے ہیں ۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :
رسول اللہ ﷺ نماز مغرب سے پہلے تازہ کھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے ،اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجوروں سے افطار کرلیا کرتے تھے ، اگر خشک کھجوریں میسر نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹوں پر ہی روزہ
افطار کرلیا کرتے تھے ۔ ( سنن ترمذی : 696 ، مسند احمد : 12676 )
ویسے دعا ہروقت مشروع ہے اور دعا عبادت ہے مگر بعض اوقات دعا کے لئے بہت اہم ہیں ، ان میں ایک افطار کا وقت بھی شمار کیاجاتاہے ، اس کی متعدد دلیلیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے ۔
تین قسم کے لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی ہے ۔ ایک منصف امام کی ،دوسرے روزہ دار کی جب وہ افطار کرے، تیسرے مظلوم کی ۔(صحيح الترمذي:2526)
بغیر سحری کے بھی روزہ درست ہے مگر نبی کریم ﷺ نے خود بھی سحری کھائی ہے اور دوسروں کو بھی سحری کی ترغیب دی ہے اور فرمایاہے کہ
سحری کھاؤ کیونکہ اس میں برکت ہے ۔( صحیح بخاری : 1923)
اور فرمایا کہ
ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کا فرق ہے ۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ :
افطار میں جلدی كرو اور سحری میں تاخیر كرو ۔
روزے کے ساتھ تمام تر برے کاموں سے گریز کرنا چاہیے حتی کہ اگر کوئی گالی دے تو کہہ دیں میں روزے سے ہوں آپ ﷺ نے فرمایا :
جب تم میں سے کوئی روزے کی حالت میں ہو تو گندی باتوں اور نادانیوں سے پرہیز کرے ، اگر کوئی تمہارے ساتھ گالی گلوچ اور قتال کرے تو کہہ دو میں روزے سے ہوں ، میں روزے سے ہوں۔ (صحيح مسلم:1151)
اور ایک روایت میں فرمایا کہ
اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی ) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔( صحيح بخاري: 1903 )
عورتوں میں گالی گلوچ اور لعن طعن بہت زیادہ ہے ، روزے کی حالت میں اس کا خاص خیال رکھنا ہے کہ زبان سے کہیں گندی باتیں نہ نکلیں روزہ صرف بھوک وپیاس برداشت کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ روزے کے آداب یہ ہیں کہ ہم ہاتھ ، پیر ، دل ، دماغ اور زبان تمام اعضائے بدن کو منکرات سے دور رکھیں ۔
نبی پاک ﷺ نے فرمایا:
جس شخص نے کسی روزہ دارکو افطار کروایا تواس شخص کوبھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا ثواب روزہ دار کےلئے ہوگا،اور روزہ دارکے اپنے ثواب میںسے کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی۔(صحيح الترمذي:807)
عورت چاہے تو اپنے ذاتی پیسے سے دیگر خواتین کو افطار کراسکتی ہیں ،شوہر کی طرف سے افطار کی دعوت پر بیوی کو بھی اجر ملے گا اگر اس کے کاموں میں مدد کرتی ہے ۔
رمضان میں مرد کی طرح عورت بھی عمرہ کرسکتی ہے ،اس ماہ مبارک میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے ، ایک دوسری روایت میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ حج کرنے کے برابر کہا گیا ہے ۔
نبی معظم ﷺ نے ایک انصاریہ عورت سے فرمایا تھا:
جب رمضان آئے تو تم عمرہ کرلینا کیونکہ اس (رمضان ) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے ۔(صحيح مسلم:1256)
یہاں ایک بات یہ واضح رہے کہ عورت کے لئے عمرہ کے سفر میں محرم کا ہونا ضروری ہے ، بغیر محرم سفر کرنے اور عمرہ کرنے سے گنہگار ہوگی ۔
آپ ﷺ کا دستور تھا کہ وہ ہمیشہ مسواک کیا کرتے تھے اور رمضان شریف میں بکثرت اس کا اہتمام کیا کرتے تھے سيدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں نے نبی کریم ﷺ کو روزے کی حالت میں شمار کرنےسے زیادہ مسواک کرتے دیکھا۔
اگربچہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتاہوتو اسے عادتا روزہ رکھوانا چاہیے جیسا کہ سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :
ہم اپنے بچوں سے روزہ رکھواتے تھے اور ان کےلئے کھلونے رکھتے ، جب بچے کھانے کےلئے روتے تو ہم انہیں وہ کھلونے پیش کردیتے یہاں تک کہ افطار کا وقت ہوجاتا۔ ( صحیح بخاری : 1960 )
مذکورہ حدیث میں ایک عورت کا بہترین کردار بیان کیا گیاہے کہ اسے اپنے بچوں سے بھی روزہ رکھوانا چاہیے ۔
جس طرح مرد کے لئے اعتکاف مسنون ہے اسی طرح عورت کےلئے بھی اعتکاف مشروع ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ اعتکاف کی جگہ صرف مسجد ہے جیساکہ قرآن کی آیت سے واضح ہے اور نبی معظمﷺ نے اس پہ عمل کرکے دکھایا ہے اگر عورت اعتکاف کرے تو اسے بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرنا ہوگا ۔
اعتکاف رمضان میں کئے جانے والے ان اعمال میں سے ہے جس کی تاکید آئی ہے اور یہ ان سنتوں میں سے سنت مؤکدہ ہے جس پہ نبی كريمﷺ نے ہمیشگی برتی ہے اور آخری عشرے میں اس کی تاکید کی ہے ۔ اس کی دلیل سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی ﷺ ہرسال رمضان میں دس دن کا اعتکاف کیا کرتے تھے ، انتقال کے سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔(صحیح بخاری : 2044 )
خود نبی علیہ الصلاة والسلام کے زمانہ میں بلکہ ازواج مطھرات بھی اعتکاف میں بیٹھا کرتیں تھیں جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی روایت میں ہے کہ :
نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ میں آپ ﷺ کے لیے ( مسجد میں ) ایک خیمہ لگا دیتی۔ اور آپ ﷺ صبح کی نماز پڑھ کے اس میں چلے جاتے تھے۔ پھر سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے خیمہ کھڑا کرنے کی ( اپنے اعتکاف کے لیے ) اجازت چاہی۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی اور انہوں نے ایک خیمہ کھڑا کر لیا جب سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو انہوں نے بھی ( اپنے لیے ) ایک خیمہ کھڑا کر لیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے کئی خیمے دیکھے تو فرمایا، یہ کیا ہے؟ آپ کو ان کی حقیقت کی خبر دی گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا، کیا تم سمجھتے ہو یہ خیمے ثواب کی نیت سے کھڑے کئے گئے ہیں۔ پس آپ ﷺ نے اس مہینہ ( رمضان ) کا اعتکاف چھوڑ دیا اور شوال کے عشرہ کا اعتکاف کیا۔( صحیح بخاری : 2033 )
سعودی عرب میں تو عورتیں مسجد میں آکر جماعت سے تراویح کی نماز ادا کرتی ہیں ، تراویح جسے قیام اللیل اور تہجد بھی کہتے ہیں رمضان المبارک میں اس کا اجر بہت بڑھ جاتا ہے نبی آخر الزماں ﷺ کا فرمان ہے :
جس نے رمضان کی راتوں میں نماز تراویح پڑھی، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ، اس کےسابقہ تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔(صحيح مسلم:759)
لہذا عورتوں کو بھی تراویح کی نماز کا اہتمام کرنا چاہیے ، اگر مسجد میں عورتوں کےلئے علیحدہ انتظام نہ ہو تو گھر پر ہی جماعت سے یا اکیلے تراویح کی آٹھ رکعات نماز پڑھے پھر تین رکعات وتر پڑھے ۔
لیلۃ القدر کی اہمیت و فضیلت پہ ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے جس سے اس کی فضیلت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے اس رات قیام کا اجر پچھلے سارے گناہوں کا کفارہ ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :
جو لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کرے اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔
جہاں تک اس رات کی تعیین کا مسئلہ ہے تو اس سلسلے میں علماء کے مختلف اقوال ملتے ہیں مگر راجح قول یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (21،23،25،27،29) میں سے کوئی ایک ہے اس کی دلیل نبی کریمﷺ کا فرمان ہے ـ:
لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔(صحيح البخاري:2017)
لہذا عورتوں کو بھی طاق راتوں میں شب بیداری اور خوب طاعت وبھلائی کا کام کرنا چاہیے فقط جاگنا ہی مقصود نہیں بلکہ جاگ کر بھلائی کا کام کرنا مقصود ہے ۔
بیمارعورت کی دو قسمیں ہیں ایک وہ بیمار عورت جو روزہ کی وجہ سے مشقت یا جسمانی ضرر محسوس کرے یا شدید بیماری کی وجہ سے دن میں دوا کھانے پہ مجبور ہو تو اپنا روزہ چھوڑ سکتی ہے ضرر و نقصان کی وجہ سے جتنا روزہ چھوڑے گی اتنے کا بعد میں قضا کرے گی اللہ تعالی کا فرمان ہے:
اورجوکوئی مریض یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔(البقرۃ:184)
دوسرى وہ بیمار جن کی شفایابی کی امید نہ ہو اور ایسے ہی بوڑھے مرد و عورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں ان دونوں کےلیے روزہ چھوڑنا جائز ہے اور ہر روزے کے بدلے روزانہ ایک مسکین کو نصف صاع(تقریبا ڈیڑھ کلو) گیہوں، چاول یا کھائی جانے والی دوسری اشیاء دیدے اللہ تعالی کا فرمان ہے :
اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں ۔(البقرة:184)
یہاں یہ دھیان رہے کہ معمولی پریشانی مثلا زکام ، سردرد وغیرہ کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز نہیں ہے ۔
رمضان میں مسافر کےلیے روزہ چھوڑنا جائز ہے جیساکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے کہ :
اورجوکوئی مریض یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔(البقرۃ:184 )
اگر سفر میں روزہ رکھنے میں مشقت نہ ہو تو مسافر حالت سفر میں بھی روزہ رکھ سکتی ہے اس کے بہت سارے دلائل ہیں جیسا کہ ایک صحابی نبی کریم ﷺ سے سفر میں روزہ رکھنے کے بابت پوچھتا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اگر تم چاہو تو روزہ رکھو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو ۔( صحيح النسائي:2293) مسافرہ چھوڑے ہوئے روزے کی قضا بعد میں ادا کرے گى۔
حیض والی اور بچہ جنم دینے والی عورت کےلیے خون آنے تک روزہ چھوڑنے کا حکم ہے اور جیسے ہی خون بند ہوجائے روزہ رکھنا شروع کردے کبھی کبھی نفساء چالیس دن سے پہلے ہی پاک ہوجاتی ہیں تو پاک ہونے پر روزہ ہے عورت کےلئے مانع خون دوا استعمال کرنے سے بہتر ہے طبعی حالت پہ رہے حیض اور نفاس کے علاوہ خون آئے تو اس سے روزہ نہیں توڑنا ہے بلکہ روزہ جاری رکھناہے ۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ
اللہ تعالی نے مسافر کے لئے آدھی نماز معاف فرما دی اور مسافر اور حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزے معاف فرما دیئے۔( صحيح النسائي:2314)
دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت کو جب اپنے لئے یا بچے کےلئے روزہ کے سبب خطرہ لاحق ہو تو روزہ چھوڑ سکتی ہے بلاضرر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہےجب عذر کی وجہ سے عورت روزہ چھوڑدے تو بعد میں اس کی قضا ادا کرے حاملہ اور مرضعہ کے تعلق سے فدیہ کا ذکر ملتا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے ۔ واللہ اعلم
۔۔۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…