قارئین کرام ! بعض روزے دار حضرات جانے ان جانے میں کچھ غلطیوں کے مرتکب ہوتے ہیں یا ان سے ایسے اعمال سرزد ہوتے ہیں جو ایک روزے دار کے لیے مناسب نہیں ہوتے ۔
بغرض تنبیہ ایسے بعض اعمال ذیل میں بیان کیے جاتے ہیں ۔
تاکہ ہم سب ان سے احتیاط برتیں ۔
بعض لوگ سحری پر بیدار کرنے کے لیے ڈھول پیٹتے ہیں یا آلات موسیقی کا استعمال کرتے ہیں جو صحیح نہیں ۔ سحری پر اٹھانے کے لیے مسنون طریقہ آذان دینا ہے رسول اللہ ﷺ کے دورمیں سحری کی آذان ہوتی تھی ۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے :
جب بلال اذان دیں تو کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں ۔ (سنن نسائی : 639)
بعض لوگ بغیر نیت کے روزہ رکھتے ہیں جو صحیح نہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
جس نے فجر ہونے سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ۔ (سنن نسائی : 2454)
یاد رہے کہ نیت کا تعلق دل سے ہے نہ کہ زبان سے ۔
بعض لوگ جان بوجھ کر سحری نہیں کرتے جو صحیح نہیں ، سحری کرنی چاہیے رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
سحری کھاؤ کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔ (صحیح بخاری : 1923)
بعض لوگ سحری میں جلدی کرتے ہیں جو صحیح نہیں ، بلکہ آرام و سکون کے ساتھ آذان فجر تک سحری کی جائے ۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
افطار میں جلدی كرو جبکہسحری میں تاخیر ۔(سلسلة الاحاديث الصحيحة : 1773)
بعض لوگ روزے کی حالت میں مسواک کرنا ترک کر دیتے ہیں اور مسواک کو مفاسد روزہ سمجھتے ہیں جو صحیح نہیں۔رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں مسواک فرماتے تھے ۔سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
میں نے نبی کریم ﷺ کو روزے کی حالت میں اس
قدر مسواک کرتے دیکھا جو شمار بھی نہیں کر سکتا ۔(صحیح بخاری
: 1/ 928 )
بعض لوگ روزے کی حالت میں سرمہ لگانے یا سر پر تیل وغیرہ ڈالنے کو ترک کر دیتے ہیں اور اسے مفاسد روزہ سمجھتے ہیں جو صحیح نہیں ، بلکہ روزے کی حالت میں سرمہ اور تیل وغیرہ ڈالا جا سکتا ہے ۔سيده عائشہ رضي اللہ عنها سے مروی ہے کہ : اكْتَحَلَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ رسول اللہ ﷺ نے روزے کی حالت میں سرمہ لگایا ۔ (سنن ابن ماجہ : 1678 )
سيدنا ابن مسعود رضي اللہ عنه فرماتے ہیں :
جب تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو اسے تیل کنگھی کر لینا چاہیے ۔(صحيح بخاري : 1/ 926)
بعض لوگ روزے حالت میں وضو کرتے ہوئے ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرتے ہیںجو صحیح نہیں ،رسول اللہ ﷺ نے اس عمل سے منع فرمایا ہے ۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے :
ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرو سوائے اس کے کہ تم روزے سے ہو ۔ (سنن ابي داؤد : 2366)
بعض لوگ روزہ رکھ کر سو جاتے ہیں اور نمازوں سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں جو صحیح نہیں بلکہ نمازوں کا خاص خیال رکھتے ہوئے انہیں اپنے وقت پر ادا کیا جائے ۔
بعض لوگ روزے کی حالت میں فضول تھوکتے رہتے ہیں اور ان کا گمان ہے کہ اپنا تھوک نگلنے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے جو درست نہیں اور ان کے اس عمل سے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے ۔
امام عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
يَبْتَلِعُ رِيقَهُ.
روزہ دار اپنی تھوک نگل سکتا ہے۔(صحيح بخاري 1/ 928)
بعض لوگ روزے کی حالت میں معمولی معمولی سی باتوں پر گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں جو صحیح نہیں ۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
جب تم میں سے کوئی شخص کسی دن روزے سے ہو تو وہ فحش گوئی نہ کرے، نہ جہالت والا کوئی کام کرے، اگر کوئی شخص اس سے گالی گلوچ یا لڑائی جھگڑا ( کرنا ) چاہے تو وہ کہے : میں روزے سے ہوں،میں روزے سے ہوں۔ (صحيح مسلم : 2703)
بعض لوگ غروب آفتاب پر اذان نہیں دیتے بلکہ اندھیرا پھیلنے کا انتظار کرتے ہیں اور اندھیرا پھیل جانے کے بعد اذان دیتے ہیں جو صحیح نہیں ۔
بعض لوگ اذان شروع ہونے پر افطاری نہیں کرتے بلکہ اذان مکمل ہونے کا انتظار کرتے ہیں اور اذان مکمل ہونے کے بعد افطار کرتے ہیں جو صحیح نہیں ۔
افطار میں جلدی كرو اور سحری میں تاخیر ۔(سلسلة الاحاديث الصحيحة : 2233)
بعض لوگ افطاری و سحری میں خود تو پیٹ بھر کر کھاتے ہیں لیکن ان کا مسکین پڑوسی بھوکا رہتا ہے جو صحیح نہیں ۔
رسول الله ﷺکا فرمان ہے :
وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔(سلسلة الاحاديث الصحيحة : 159)
$ سحری اور افطاری میں نشہ آور چیزیں استعمال کرنا
بعض لوگ سحری اور افطاری میں سگریٹ اور نسوار جیسی نشہ آور چیزیں استعمال کرتے ہیں جو صحیح نہیں ۔ نشہ آور چیزیں استعمال کرنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے ۔
بعض لوگ رمضان کی راتوں میں بیویوں سے صحبت کو جائز نہیں سمجھتے جو صحیح نہیں ۔ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے :
روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لئے حلال کیا گیا ہے ۔ (البقرہ : 187)
بعض لوگ احتلام کو مفاسد روزہ سمجھتے جو صحیح نہیں ۔ علامہ ابن باز رحمه الله فرماتے ہیں :
احتلام ہوجانے سے روزہ باطل نہیں ہوتا ۔(مجموع الفتاوي 275 /15)
بعض لوگ روزے کی حالت میں اور افطاری کے وقت دعاؤں سے غفلت کا شکار ہوتے ہیں جو صحیح نہیں ۔ کیونکہ یہ دعاؤں کی قبولیت کی گھڑیاں ہوتی ہیں لہذا ان ساعتوں میں دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے ۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
تین دعائیں رد نہیں ہوتیں ،باپ کی دعا ، روزہ دار کی دعا اور مسافر کی دعا ۔(سلسلة الاحاديث الصحيحة : 2845)
بعض لوگ محفل شبینہ کا اہتمام کرتے ہیں جس میں ایک ہی رات کی تراویح میں قرآن پڑھ کر پورا کرتے ہیں جو صحیح نہیں بلکہ آرام و سکون کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر اچھے انداز میں قرآن مجید پڑھنا چاہیے ، نہ کہ جلد بازی اختیار کی جائے ۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھتا ہے وہ اسے سمجھتا نہیں ہے ۔ (سنن ابي داؤد : 1390)
بعض لوگ اعتکاف میں ذکر واذکار اور عبادت کی طرف توجہ کرنے کی بجائے مسجد میں آنے والے نمازیوں کے ساتھ باتیں کرنا بیٹھ جاتے ہیں یا بلا عذر مسجد سے باہر نکل پڑتے ہیں جو صحیح نہیں بلکہ اعتکاف کی شرعی پابندیوں کا خیال رکھا جائے ۔
بعض لوگ ابتدائی راتوں میں تو بڑے شوق سے نماز تراویح ادا کرتے ہیں مگر کچھ راتوں کے بعد اسے ترک کر دیتے ہیں جو صحیح نہیں
رسول الله ﷺکا فرمان ہے :
اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح مسلم : 783)
بعض خواتین زیب و زینت اختیار کرکے نماز تراویح ادا کرنے مسجد جاتی ہیں جو صحیح نہیں ، بلکہ مسجد جاتے ہوئے مکمل شرعی پردے کا اہتمام کیا جائے ۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک خاتون ملی جس سے آپ نے خوشبو پھوٹتے محسوس کیا، اور اس کے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تھے تو آپ نے کہا : جبار کی بندی! تم مسجد سے آئی ہو؟ وہ بولی : ہاں، انہوں نے کہا : تم نے مسجد جانے کے لیے خوشبو لگا رکھی ہے؟ بولی : ہاں، آپ نے کہا :
میں نے اپنے حبیب ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو اس مسجد میں آنے کے لیے خوشبو لگائے، جب تک واپس لوٹ کر جنابت کا غسل نہ کر لے ۔(سنن ابی داؤد : 4174)
بعض لوگ عید کی خریداری کے لیے آخری عشرے کی بابرکت گھڑیاں بازاروں کے نذر کر دیتے ہیں جو صحیح نہیں ان بابرکت گھڑیوں کو اذکار و عبادت میں صرف کیا جائے اس رات کی فضیلت کے متعلق اللہ تبارک کا فرمان ہے :
شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ (سورة القدر : 3)
بعض عورتيں عید کی خریداری کے لیے زیب و زینت اختیار کرکے بے پردہ بازاروں کا رخ کرتی ہیں جو صحیح نہیں ان کی طرف سے یہ خریداری ان کے مرد بھی کر سکتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :
جو عورت عطر لگائے اور پھر لوگوں کے سامنے سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ زانیہ ہے ۔
۔۔۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…