اس بارے میں مختلف روایات ہیں جن کا تعلق مختلف ازمان و اوقات سے ہے،بہر طور سفید بالوں کی کل تعداد تقریباًتیس(30) تھی۔واللہ اعلم
امام احمد بن حنبل (المتوفیٰ:246ھ)نے کہا:
ثابت البنانی رحمہ اللہ نے کہا:میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا:کیا رسول اللہ ﷺ بوڑھے ہوگئے تھے؟،انہوں نے جواب دیا: اللہ عز و جل نے اپنے رسول کی روح اس حال میں قبض کی کہ انہیں بڑھاپے کے عیب میں مبتلا نہ کیا،آپ کے سر اور داڑھی میں جس دن آپ فوت ہوئے تیس سفید بال نہ تھے۔
ان سے پوچھا گیا:کیا یہ (بڑھاپے کے باعث سفید بال)عیب کی بات ہے؟انہوں نے جواب دیا:تم اسے عیب ہی سمجھتے ہو،لیکن ہم تو اسے زینت شمارکرتے تھے۔
(مسند احمد:12474)
امام محمد بن اسماعیل البخاری (المتوفیٰ:256ھ)نے کہا:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہاآپ کی روح قبض کی گئی اس حال میں کہ آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفیدنہ تھے۔(صحیح بخاری:3547)
امام محمد بن عیسیٰ بن سورۃ الترمذی(المتوفیٰ:279ھ) نے کہا:
رسول اللہ ﷺ کے تقریباً بیس بال سفید تھے۔
(شمائل ترمذی:40،الصحیحۃ:2096)
امام ابو عبداللہ محمد بن یزید(ماجہ)القزوینی (المتوفیٰ: 273ھ) نے کہا:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا:کیا رسول اللہ ﷺ نے خضاب لگایا (بالوں کو رنگا)؟،تو انہوں نے جواب دیا:آپکی داڑھی کے سامنے والے حصے میں تقریباًسترہ یا بیس سے زائد سفید بال دیکھے نہیں گئے۔ (سنن ابن ماجہ:3629،سلسلہ صحیحہ:2096)
امام احمد بن حنبل (المتوفیٰ:246ھ)رحمہ اللہ نے کہا:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا:میں رسول اللہ ﷺ کے سر اور داڑھی میں 14 سفید بال ہی گن سکا۔(مسند احمد :12690،علامہ البانی نے اسے صحیح کہا:مختصر الشمائل:31)
امام احمدبن حجر العسقلانی(المتوفیٰ:852ھ)نے کہا:
سابقہ مختلف روایات کی بنا پر اختلاف ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سر اور داڑھی میں کتنے بال سفید تھے،علامہ بلقینی نے ان روایات میں یہ تطبیق دی ہے کہ ان روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپکے سفید بال بیس سے زیادہ نہ تھے،اور دوسری روایت میں صراحت ہے کہ بیس سے کم سترہ تھے،پس اس طرح دس بال تو تھوڑی (داڑھی بچہ)میں ہوئے اور اس سے زائد بال بقیہ داڑھی میں،کیونکہ لفظ ”اللحیۃ“،”داڑھی“تھوڑی وغیرہ کو شامل ہے۔(سبل الہدیٰ والرشاد فی سیرۃ خیر العبادلمحمد بن یوسف الصالحی الدمشقی:2/37)
علامہ عبدالرحمن بن ابی بکرجلال الدین السیوطی (المتوفیٰ:911ھ) نے کہا:
تمام روایات کے درمیان یہ تطبیق د ی گئی ہے کہ اسکا تعلق مختلف اوقات سے ہے،ابن سعد کی روایت بتاتی ہے کہ وہ کتنے سفید بال گن سکے،جبکہ دیگر روایت بتاتی ہیں کہ کتنے سفید بال تھے،پس انس رضی اللہ عنہ 14 سے زیادہ گن نہ سکے جبکہ حقیقت میں سفید بال 17 یا 18یا تقریباً 20 تھے۔(الشمائل الشریفہ،ص:34)
ہمیں تیس سفید بالوں والی روایت سب سے صحیح اور حقیقت سے قریب ترمعلوم ہوتی ہے،کیونکہ :
نبی کریم ﷺ کے سفیدبالوں کی تعداد کے متعلق دو قسم کی روایات ہیں ،ایک وہ جن میں بالوں کی تعداد گننے کا ذکر ہے اور دوسری وہ جن میں اندازہ بتایا گیا ہے،اور اندازہ بھی گنے بغیر قائم کرنا مشکل ہے،لہذا یہ تمام روایات یا توظن و تخمین پر قائم ہیں،یا ان کا تعلق مختلف ازمان سے ہے،یہی وجہ ہے کہ روایات میں اختلاف ہے۔
نیز ان روایات میں سر اور داڑھی کے جن حصوں کے سفید بالوں کا ذکر ہے ان میں مانگ شامل نہیں ہے ،جیسا کہ ان روایات میں سر،داڑھی،تھوڑی اور کنپٹیوں کی صراحت ہے،اسی لئے زیادہ سے زیادہ تعداد بیس بیان کی گئی ہے،جبکہ آپ ﷺ کی مانگ میں بھی سفید بال تھے،جیسا کہ سیدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ کی روایت میں صراحت ہے،نیز انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی بعض روایات میں اس طرف اشارہ ہےجو ہم ذکر کر آئے ہیں۔
مسند احمد(12474)کی ایک روایت میں سفید بالوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 30 بیان کی گئی ہے،اور اسکا تعلق یوم وفات رسول ﷺ سے ہے،جیسا کہ پہلی روایت میں ہے،جبکہ دوسری روایت (صحیح بخاری: 3547)بھی اسی دن سے متعلق ہے لیکن اس میں تعداد 20 بیان کی گئی ہے،اور دونوں روایات کے راوی بھی ایک ہی ہیں یعنی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ،جبکہ بقیہ روایات کا تعلق خاص یوم وفات سے نہیں ہے۔
پہلی اور دوسری روایات کا تعلق ایک ہی دن سے ہے،سند کے اعتبار سے دونوں صحیح ہیں،دونوں میں راوی صحابی بھی ایک ہیں،پس ان میں تطبیق کی ایک ہی صورت ہے (فیما اعلم)کہ :20 والی روایت میں مانگ کے سفید بال شمار نہیں کئے گئے،جبکہ 30 والی روایت میں مانگ کے سفید بال بھی شمار کئے گئے ہیں،نیز تیس کا عدد بیس کے عدد کو شامل ہے۔واللہ اعلم
زیر نظر مضمون میں زیادہ تر روایات سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، انہوں نے دس سال تک نبی کریم ﷺ کی خدمت کی،اور آپکی وفات کے بعد بھی اکثر راتیں آپکے دیدار کی سعادت حاصل کرتے رہے،لہذا ان کے بیان کی اہمیت مسلّم ہے،اس بارے میں درج ذیل روایت ملحوظ رہے۔
امام احمد بن حنبل (المتوفیٰ:246ھ)نے کہا:
مجھ پر ایسی راتیں کم ہی گذری ہیں کہ میں نے جن میں اپنے خلیل ﷺ کو نہ دیکھا ہو،یہ بات کہتے ہوئے انس رضی اللہ عنہ کی آنکھیں بہہ پڑیں۔(مسند احمد:،طبقات ابن سعد:7/15،تاریخ دمشق:9/358،علامہ ہیثمی نے اسے صحیح کہا)
آپ ﷺکے بال نہ تو بالکل سیدھے تھے نہ ہی مکمل گھنگھریالے تھے بلکہ لہر دار تھے ۔
امام محمد بن اسماعیل البخاری (المتوفیٰ:256ھ)رحمہ اللہ نے کہا:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا:
نبی ﷺ بھرے ہاتھوں والے تھے،میں نے آپ کے بعد آپ جیسا نہیں دیکھا،اور نبی ﷺ کے بال ہلکے گھنگھریالے تھے،نہ مکمل گھنگھریالے نہ مکمل سیدھے۔ (صحیح بخاری:5906)
امام محمد بن عیسیٰ بن سورہ الترمذی(المتوفیٰ:279ھ) نے کہا:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہارسول اللہ ﷺ گورے تھے گویا آپ چاندی سے ڈھلے ہوں،ہلکے گھنگھریالے بالوں والے۔(شمائل ترمذی:12،صحیحہ الالبانی :مختصر الشمائل:27)
ہمارے اس دعوے کی دلیل درج ذیل روایات ہیں:
امام مسلم بن حجاج القشیری (المتوفیٰ:261ھ)رحمہ اللہ نے کہا:
سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہارسول اللہ ﷺ دائیں جانب کو پسند کرتے تھے،پاکی حاصل کرنے میں ،جب وہ پاکی حاصل کرتے اور کنگھی کرنے میں جب وہ کنگھی کرتے،اور جوتی پہننے میں جب وہ جوتی پہنتے۔(صحیح مسلم:،کتاب الطہارۃ باب التیمن فی الطھور وغیرہ)
امام ابو یعلیٰ نے کہا:
سیدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک اورداڑھی مبارک سفیدی کی جانب مائل ہوگئے تھے،اور جب آپ تیل لگالیتے اور کنگھی کرلیتےتو یہ واضح نہ ہوپاتا،اور جب آپ کے سر کے بال بکھرے ہوتے توتم اسے دیکھ لیتے۔(مسند ابی یعلیٰ:7456،مشیخۃ الآبنوسی لابی الحسین محمد بن احمد بن محمد بن علی الصیرفی ابن الآبنوسی البغدادی (المتوفیٰ:457ھ): 215، المستخرج لابی عوانۃ:10348،تاریخ دمشق:3/294–4/165،صحیح مسلم، کتاب الفضائل،باب شیبہ ﷺ،شعب الایمان للبیہقی: 1353،مصنف ابن ابی شیبہ:31808،حسین سلیم اسد نے اسے حسن کہا)
امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث الازدی السجستانی (المتوفیٰ:275ھ)رحمہ اللہ نے کہا:
صحابی رسول ﷺ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم میں سے کوئی ہر روز کنگھی کرے یا نہانے کہ جگہ میں بول و براز کرے۔(سنن ابی داؤد:28،صحیح ابی داؤد:22)
امام محمد بن عیسیٰ بن سورہ الترمذی(المتوفیٰ:279ھ) نے کہا:
سیدنا عبد اللہ بن مغفل المزنی رضی اللہ عنہ نے کہارسول اللہ ﷺ نے کنگھی کرنے سے منع کیا مگرایک دن چھوڑ کر۔(سنن ترمذی:1756،الصحیحہ:501)
امام محمد بن عیسیٰ بن سورہ الترمذی(المتوفیٰ:279ھ) نے کہا:
نبی ﷺ ایک دن چھوڑ کر کنگھی کیا کرتے تھے۔
حوالہ و تحقیق:
امام ابو بکر بن ابی شيبہ، عبد الله بن محمد بن ابراہيم بن عثمان بن خواستی العبسی (المتوفیٰ: 235ھ)نے کہا:
امام نافع رحمہ اللہ نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بسا اوقات ایک دن میں دو مرتبہ(سر میں) تیل لگاتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ:25558،الاحاد والمثانی لابن ابی عاصم:738)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ عمل بظاہر حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے لیکن ہمارے خیال میں اس مسئلے میں وسعت ہے،اور اسکا تعلق حاجت سے ہے،بسا اوقات ،خاص طور پر سفر کی حالت میں دھول مٹی کے باعث ہر روز ہی تیل لگانے اورکنگھی کرنے کی حاجت ہوتی ہے،اور کبھی چند دنوں تک بھی حاجت نہیں پڑتی،اصل بالوں کا اکرام اور نظافت کا حصول ہے اور یہ دونوں امر شرعاً مطلوب ہیں،چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اِکرام الشَعر کے متعلق ارشاد فرمایا:
جسکے بال ہوں وہ انکا اکرام کرے۔
اورنظافت کی اہمیت کے متعلق یہ حدیث نہایت اہم ہے ،سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ:
رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائےتو آپ نے ایک شخص کو دیکھا جسکے بال بکھرے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا:کیا اسکے پاس کچھ نہیں جسکے ذریعے یہ اپنے بال سنوار لے؟اور ایک اور شخص کو دیکھا جسکا لباس میلا تھا ،تو آپ نے فرمایا:کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے یہ اپنا لباس دھولے۔(سنن ابی داؤد:4062)
البتہ بننے سنورنے میں مبالغہ کرنا قابل مذمت ہے کیونکہ یہ مشرکین عجم کا طریقہ ہے،اور رسول اللہ ﷺ نے انکی مخالفت کرنے کا حکم دیا ہے ،اور اپنے صحابہ کرام کی بھی اسی نہج پر تربیت کی ،خاص طور پر ظاہری وضع قطع اور حلیہ سازی میں،جیسا کہ (آپ ﷺ کی داڑھی مبارک بڑی اوراعتدال کے ساتھ دراز تھی)کے عنوان کے تحت چوتھی دلیل کے ضمن میں ہم تفصیل سے بیان کر آئے ہیں۔
نیز تابعی عبداللہ بن شقیق(المتوفیٰ:108ھ)نے کہا:
نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی(سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ) جو مصر کے گورنر تھے ان کے پاس ایک دوسرے صحابی (غالباًانکا نام عبید تھا)آئے تو انہوں نے گورنر کودیکھا کہ انکا سر پراگندہ اور بال بکھرے ہیں،تو انہوں نے کہا:میں تمہیں اس حال میں کیوں دیکھتا ہوں حالانکہ تم گورنر ہو؟تو فضالہ نے جواب دیا:رسول اللہ ﷺہمیں ”الارفاہ“سے منع کرتے تھے-ایک روایت (مسند احمد:23969) میں ہے-بہت زیادہ ارفاہ سے منع کیا۔راوی نے کہا:ہم نے پوچھا:الارفاہ”کیا ہے؟انہوں (غالباً عبداللہ بن بریدہ یا عبداللہ بن شقیق رحمھما اللہ)نے کہا:ہر روز کنگھی کرنا۔(سنن نسائی :5058،سلسلہ صحیحہ:502)
امام محی السنۃ، ابو محمد الحسين بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (المتوفیٰ: 516هھ) رحمہ اللہ نے کہا:
”الارفاہ“رفہ سے ہے،جسکا معنی ہے کہ اونٹ ہر روز پانی پر آئے،”الرفاھیۃ“،”خوشحالی و فارغ البالی“بھی اسی سے ماخوذ ہے،پس نبی ﷺ نے تیل لگانے اور کنگھی کرنے سے بکثرت لطف اندوز ہونے کو ناپسند کیا،اور لباس پر لباس بدلنا،اور کھانے پر کھانےبدلنا جیسا کہ عجمیوں کا رواج ہےبھی اسی معنی میں ہے،اور آپ ﷺ نے ان تمام امور میں اعتدال اختیار کرنے کا حکم دیا،یہ معنی نہیں کہ پاکیزگی و نظافت کو ترک کردیا جائے کیونکہ نظافت دین کا حصہ ہے۔(شرح السنۃ:12/83)
نیزسیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے عامل کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا:
عیش پسندی اور مشرکین کی سی زیب و زینت(ایک روایت،صحیح ابن حبان:5454، میں ہے)عجمیوں کی سی زیب و زینت اختیار کرنے سے بچو۔(صحیح مسلم،کتاب اللباس والزینۃ۔باب تحریم استعمال اناء الذہب والفضۃ علی الرجال والنساء)
اس بارے میں مختلف روایات ہیں ،گذشتہ سطور میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی بعض روایات کے مطابق نبی کریم ﷺ کے سر اور داڑھی میں اسقدر سفید بال نہ تھے کہ آپکو خضاب لگانے کی ضرورت پڑتی(صحیح مسلم،کتاب الفضائل ،باب شیبہ ﷺ)،اورانس رضی اللہ عنہ کے مطابق نبی ﷺ نے خضاب کا استعمال کیا بھی نہیں(ایضاً)،اور جن روایات میں آپکے خضاب شدہ بالوں کے ملنے کا ذکر ہے تو انس رضی اللہ عنہ کے مطابق وہ بعد میں رنگے گئے یا خوشبو کی وجہ سے انکا رنگ بدل گیا(مستدرک حاکم:4201،دلائل النبوۃ للبیہقی: 1/239)اس معنی کی بعض روایات سیدنا جابر بن عبداللہ ،سیدنا ابو الدرداء وغیرہ رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہیں۔
لیکن بعض دیگر صحابہ کرام سے مروی روایات کے مطابق نبی کریم ﷺ نے خضاب کا استعمال کیا ہے۔
نفی والی روایات ہم ذکر کرچکے ہیں ،نیز ذہن نشین رہے کہ اثبات” نفی“ پر مقدم ہوتا ہے،کیونکہ نفی سے لاعلمی ثابت ہوتی ہے جبکہ اثبات ”علم“کی دلیل ہے ،امام ابو زکريا محی الدين يحییٰ بن شرف النووی (المتوفیٰ: 676ھ)نے ان دو قسم کی روایات کے درمیان درج ذیل تطبیق دی ہے:
راجح یہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے کبھی کبھار خضاب لگایا ہے اور زیادہ تر خضاب استعمال نہیں کیا،پس ہر ایک نے اپنے مشاہدے کے مطابق نقل کیا،اور اس نقل میں وہ سچا ہی ہے،یہ تاویل ہی متعین ہےکیونکہ ابن عمر رضی اللہ عنہماکی حدیث صحیحین میں ہے(جسکے مطابق نبی کریم ﷺ نے خضاب لگایاہے)اسے ترک کرنا ممکن نہیں نہ ہی اسکی تاویل ممکن ہے۔(شرح مسلم: 15/95)
نیزامام احمدبن حجر العسقلانی(المتوفیٰ:852ھ)نے کہا:
ان دونوں احادیث میں توفیق یہ ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کی نفی کوسفید بالوں کی اسقدر کثرت کی نفی پر محمول کیا جائے گاکہ خضاب کی ضرورت پڑے،اور یہ کہ انہیں نبی ﷺ کو خضاب لگا دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا،اور خضاب کا اثبات کرنے والوں کی حدیث کواس بات پر حمل کیا جائے گا کہ آپ نے یہ عمل بیان جواز کے لئے کیا لیکن اس پر ہمیشگی نہیں کی۔(فتح الباری:6/572)
نیز علامہ احمد بن علی بن عبد القادر، ابو العباس الحسينی العبيدی، تقی الدين المقريزی (المتوفیٰ: 845ھ)نے اثبات و نفی والی سبھی روایات ذکر کرنے کے بعد کہا:
میرے نزدیک نبی ﷺ اسقدر سفید بالوں والے نہ تھے کہ آپ کو خضاب کی حاجت ہوتی جیسا کہ اس پر اہل علم کا اجماع ہے،اسکے باوجود کبھی کبھار آپ اپنے سفید بالوں کا رنگ تبدیل کرلیا کرلیتے،اور کبھی انہیں انکے حال پر چھوڑدیتے،مجھے امید ہے کہ یہی درست ہے ان شاء اللہ۔(امتاع الاسماع:7/74)
اب اثبات والی روایات ملاحظہ ہوں:
امام ابو عبداللہ محمد بن یزید(ماجہ)القزوینی (المتوفیٰ:273ھ)نے کہا:
عثمان بن موہب رحمہ اللہ نے کہامیںام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنھاکے پاس گیا تو انہوں نے میرے سامنے رسول اللہ ﷺ کا ایک بال نکالا جو حنَّاء اور کتم سے رنگا ہوا تھا۔(سنن ابن ماجہ:3623،صحیح بخاری:5897)
امام محمد بن عیسیٰ الترمذی(المتوفیٰ:279ھ) نے کہا:
میں نے رسول اللہ ﷺ کا رنگا ہوا بال دیکھا،عبداللہ بن محمد بن عقیل راوی نے کہا:میں نے رسول اللہ ﷺ کا رنگا ہوا بال سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس دیکھا۔(شمائل ترمذی:48)
ان دوروایات پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے،جیسا کہ امام احمد بن الحسین ابو بکر البیہقی(المتوفیٰ:458ھ)رحمہ اللہ نے کہا:
امام ابوبکر الاسماعیلی رحمہ اللہ نے کہا:اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبی ﷺ نے خضاب لگایا ہو،کیونکہ ممکن ہے کہ اس بال کو بعد میں رنگا گیا ہو یا اسے ایسی خوشبو میں رکھا گیا ہوجس میں زردی ہو جو بال پر لگ گئی ہو۔(بیہقی شعب الایمان:5983)
یہ اشکال احتمالی ہے جو درست بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی ، بہر طور اس سے حتمی طور پریہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ان بالوں کو بعد میں ہی خضاب لگایا گیاہے نیز یہ احتمال درج ذیل صریح روایات کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا۔
امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب بن علی الخراسانی النسائی (المتوفیٰ:303ھ)نے کہا:
سند:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہانبی کریم ﷺ دباغت شدہ چمڑے سے بنی جوتیاں پہنتے تھے،اور ورس اور زعفران بوٹی سے اپنی داڑھی کو زرد کیا کرتے تھے،(نافع نے کہا)اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے-بخاری کی روایت میں ہے-ابن عمر نے کہا:زرد خضاب اس لئے لگاتا ہوں کہ میں نے نبی ﷺ کو اسکا خضاب لگاتے دیکھا،پس مجھے محبوب ہے کہ میں بھی یہی خضاب لگاؤں۔(سنن نسائی:5244،صحیح بخاری:166–5851)
امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب بن علی الخراسانی النسائی (المتوفیٰ:303ھ)نے کہا:
سیدنا ابو رمثہ رفاعہ بن یثربی التمیمی تیم الرباب رضی اللہ عنہما نے کہا میں اور میرے والد نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ نے اپنی داڑھی کو حنَّاء(مہندی)-ایک روایت میں ہے-زرد رنگ سے مل رکھا تھا۔(سنن نسائی:5083–5084،سنن ابی داؤد:4208،صحیح نسائی:3/1044)
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…