قارئین کرام ! ہم نے اپنے سابقہ معروضات میں پانی پلانے کا اجر و ثواب بیان کیا تھا زیر نظر مضمون میں پیش خدمت ہے : کھانا کھلانے کا اجر و ثواب !
آئیں ملاحظہ فرمائیں ! اور نيکی کے اس کام میں سبقت اختیار کریں ۔
سيدنا ابو موسي رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا :
قیدی کو چھڑاؤ ، بھوکے کو کھانا کھلاؤ ، بیمار کی عیادت کرو ۔
سيدنا صهيب رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا :
تم میں سے اچھا شخص وہ ہے جو کھانا کھلائے۔ (صحيح الترغيب والترهيب : 948)
سيدنا جابر رضي الله عنه سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا :
الله تعالي کے نزدیک پسندیدہ کھانا وہ ہے جس میں کھانے والے ہاتھ زیادہ ہوں ۔(سلسلة الصحيحة : 1494)
سيدنا ابوهريره رضي الله عنه سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا :
یہ افضل عمل ہے کہ تم اپنے مؤمن بھائی کو خوشی پہنچاؤ یا اس کا قرض ادا کرو یا اسے کھانا کھلاؤ ۔(سلسلة الصحيحة : 1494)
سيدنا ابوهريره رضي الله عنه سے مرفوعاً مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول الله ﷺ کی خدمت میں دل کے سختی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :
اگر تو چاہتا ہے کہ تیرے دل میں نرمی پیدا ہو تو ، تو مسکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر ۔(مسند احمد : 7576)
سيدنا ابوهريره رضي الله عنه سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا : مجھے سخت بھوک لگی ہے، اور ایک روایت میں ہے : میں بھوکا ہوں ۔ آپ نے اپنی بیویوں کی طرف پیغام بھیجا ، تو انہوں نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ہمارے پاس صرف پانی ہے ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : اس شخص کو کون کھانا کھلائےگا، یا مہمان نوازی کرے گا ؟ اللہ اس پر رحم فرمائے ۔ ایک انصاری جس کا نام ابوطلحہ تھا، نے کہا : میں ! پھر وہ لے کر اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہا : رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی خاطر مدارت کرو کوئی چیز چھپا کر نہ رکھو اس نے کہا : ( واللہ ) ہمارے پاس تو صرف بچوں کا کھانا ہے ابو طلحہ نےکہا : کھانا تیار کرو، چراغ درست کرو، اور جب بچے رات کا کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو، اس نے کھانا تیار کیا چراغ درست کیا اور بچوں کوسلادیا، پھر وہ کھڑی ہوئیں گویا کہ چراغ درست کر رہی ہیں اور اسے بجھا دیا، اور دونوں (ابوطلحہ اور ان کی بیوی ) مہمان پر ظاہر کرنے لگے کہ وہ بھی کھانا کھا رہے ہیں ۔ ( مہمان نے کھانا کھا لیا ) ان دونوں نے بھوکے رات گزاری جب صبح ہوئی ، ابو طلحہ رسول اللہ ﷺکے پاس گئے تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم دونوں کے تمہارے مہمان کے ساتھ عمل کی وجہ سے مسکرایا یا خوش ہوا، اور اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:
اور یہ لوگ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ یہ خود سخت ضرورت مند ہوں اور جو لوگ اپنے نفس کی بخیلی سے بچالئے گئے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (سلسلة الاحاديث الصحيحة : 3272)
سيدنا علي رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا :
جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا ( یہ سن کر ) ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! یہ کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے ، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں۔ (سنن ترمذی : 1984)
اسی طرح سیدنا ھانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ :
اے اللہ کے رسول ! ایسا عمل بتائیں جو جنت واجب کر دے ؟ آپ ﷺنے فرمایا :اچھی بات کرنا اور کھانا کھلانا ۔(المعجم الڪبير : 470)
سيدنا سعد بن ابی الوقاص رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا :
بیشک تو جو کچھ خرچ کرے اور اس سے تیری نیت اللہ کی رضا حاصل کرنی ہو تو تجھ کو اس کا ثواب ملے گا۔ یہاں تک کہ اس پر بھی جو تو اپنی بیوی کے منہ میں (کھانا) ڈالے۔(صحيح البخاري : 56)
ایک روایت کے لفظ ہیں :
جب آدمی ثواب کی نیت سے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے ۔(صحيح بخاري : 55)
سيدنا ابوذر رضي الله عنه سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا :
ابوذر! جب تم شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسیوں کو یاد رکھو۔(صحيح مسلم : 6688)
سيدنا ابن عباس رضي الله عنهما سے روايت ہے رسول الله ﷺ نے فرمایا :
وہ بندہ مؤمن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے ۔(مسند ابي يعلي : 2699)
سيدنا ابوهريره رضي الله عنه سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ :
جب تم میں کسی شخص کا خادم اس کا کھانا لائے تو اگر وہ اسے اپنے ساتھ نہیں بٹھا سکتا تو کم از کم ایک یا دو لقمہ اس کھانے میں سے اسے کھلا دے کیونکہ اس نے ( پکاتے وقت ) اس کی گرمی اور تیاری کی مشقت برداشت کی ہے۔(صحيح بخاري : 5460)
وہ لوگ جو خود تو پیٹ بھر کر کھاتے ہیں لیکن فقراء و مساکین کا خیال نہیں رکھتے ان کے متعلق قرآن مجید میں ہے کہ وہ قیامت کے دن جہنم میں ہوں گے اور اپنے جہنم میں جانے کا سبب بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ :
ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ ہی مسکینوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے ۔(المدثر: 44)
۔۔۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…