Categories: فروری 2021

بچھڑا کچھ اس ادا سے کی رُت ہی بدل گئی

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

25 جنوری بروز سوموارتقریباً نمازِ مغرب سے کچھ پہلے سابق چیئرمین بیت المال پاکستان اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے ساتھ ساتھ بہت سی دینی درسگاہوں کے سرپرست اعلیٰ اور مدیر ڈاکٹر محمد راشد رندھاوا  رحمہ اللہ بھی كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِکے قانون وضابطے کے تحت اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ

جہاں بہت جگہوں پر ان کا غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا کیا گیا اسی میں ایک شمار جامعہ ابی بکر کا بھی ہے کہ جہاں دوسرے دن بروز منگل گیارہ بجے ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی گئی جس کی امامت کے فرائض نائب مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ فضیلۃ الشیخ ضیاء الرحمن المدنی حفظہ اللہ نے انجام دیئے۔

شیخ ضیاء الرحمن المدنی نے نماز جنازہ کی ادائیگی سے قبل حزین دل اور اشکبار آنکھوں سے ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے حوالے جو موتی بکھیرے ہیں ان میں سے چند قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیئے جاتے ہیں ۔

ڈاکٹر راشد رندھاوا رحمہ اللہ کے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ پربڑے احسانات ہیں، وہ ساری باتیں تو بیان نہیں کی جاسکتی مگر

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ۰۰۶۰

اس احسان کا تقاضا یہ ہے کہ کچھ نہ کچھ اس احسان کا مداوا کیا جائے اور اس کا بدلہ دیا جائے جبکہ اللہ تبارک وتعالی نے ہمیں بدلہ دینے کا طریقۂ کار بتادیا ہے، ماں باپ کے حقوق تو پورے نہیں کیئے جاسکتے لیکن نیک اولاد ہی ہے جو اپنے ماں باپ کے لیے دعا کرتی ہے اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نیک ہیں یا بَد ،تو جائزہ لیجیے کہ آپ اپنے محسنین کے لیے اور اپنے ماں باپ کے لیے کس قدر دعائیں کرتے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے :

وَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ

’’ نیک اولاد وہی ہے جو اپنے ماں باپ کے لیے دعائیں کرتی ہے ۔‘‘

تو دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالی ان تمام طلبہ کو ڈاکٹر صاحب کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اور ہمیں اخلاص سے ان کے لیے دعائیں کرنے کی توفیق دے۔

نبی کریم ﷺ نے تو ایک عام آدمی کے لیے بھی کہا ہے کہ

فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ

محترم ڈاکٹر صاحب تو ہمارے والد تھے جن سے ہم محروم ہوگئے تو ضروری ہے کہ خلوص ِدل کے ساتھ ان کے لیے دعائیں کی جائیں اور میت کیلئے خلوص ِدل سے دعا کرنے کا فائدہ ایک قیراط کے برابر ثواب کی شکل میں ملتاہے، اور پھر یہ بھی نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے کہ اگر کسی کے لیے غائبانہ دعا کی جاتی ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ ایک فرشتہ مقرر کر دیتاہےاور وہ کہتاہے کہ

وَلَكَ مِثْلُ ذَلِكَ

جو آپ اپنے بھائی کے لیے دعا مانگ رہے ہیں اللہ تبارک وتعالی اسی کا بدلہ آپ کو عطا فرمائے۔ تو اس طرح جنازہ پڑھیے جس طرح آپ اپنا جنازہ پڑھ رہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کا جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی بنیادوں میں جو کردار ہے وہ شب وروز کی گردش سے بھلایا نہیں جاسکتا۔ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ جامعہ ابی بکر کی زمین خریدنے میں ہی پیش پیش تھے جو کہ تعمیر جامعہ سے ہوتے ہوئے جامعہ کے تیسرے مدیر بنے جبکہ پہلے مدیر مؤسس الجامعہ شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ ، اور دوسرےمدیر پروفیسر عبد الحفیظ اور ان کے بعد ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔

ڈاکٹر صاحب حکومت پاکستان کی طرف سے بیت المال کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔ یادرہے کہ ڈاکٹر صاحب کا شمار پاکستان کے مایہ ناز دل کے ڈاکٹروں میں ہوتاہے۔ وہ اپنی تمام تر مصروفیات کو چھوڑ کر تقریباً مہینہ میں ایک بار ضرور جامعہ تشریف لاتے اور طلبہ واساتذہ کو نصیحتیں فرمایا کرتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ مالی لحاظ سے بھی بڑے طاقتور ثابت ہوئے اور اس معاملہ میں لوگوں کے کام آنا ، اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھتے تھے۔

ہزاروں سے گزر کر لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو رقم ادھار دے دیا کرتے تھے اور اپنے مال کو ہمیشہ اللہ ورسول کی اطاعت وفرمانبرداری میں خرچ کیا کرتے تھے۔

نیک صالح اولاد وہی ہوتی جو اپنے والدین اور محسنین کے لیے دعائیں کرتی ہے، ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ ہمارے والد بھی اور محسن بھی تھے لہٰذا بغیر بخل کے اخلاص اور للہیت سے ہمیں ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کرنی چاہئیں۔

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی امانتداری اور دیانتداری کا یہ عالَم تھا جب بھی جامعہ میں تشریف آوری ہوتی تو کھانا کھانے تک کے پیسے جمع کروا کے جاتے ۔

غائبانہ نمازِجنازہ میں تقریباً کراچی کے اکثر سلفی جامعات کے مدراء اور مدرسین نے شرکت کی اور نمازِ جنازہ کے بعد شیخ ضیاء الرحمن المدنی سے تعزیت کی ، جن میں سرفہرست معہد السلفی کے مدیر شیخ داؤد شاکر، جامعہ الاحسان کے مدیر شیخ احسن سلفی ، جامعہ ستاریہ کے مدیر شیخ محمد سلفی اور مفتی انس مدنی ، معہد القرآن کے مدیر ڈاکٹر خلیل الرحمن لکھوی اور کثیر تعداد میں علماء عظام وطلباء کرام شامل ہیں۔

دعا گو ہیں کہ اللہ ذوالجلال والاکرام ان کی جملہ لغزشوں کو درگزر فرمائے اور ان کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین

ایڈیٹر

Share
Published by
ایڈیٹر

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago