Categories: اپریل 2022

توحید کی عظمت اور شرک کی ہزیمت

’’اللہ تعالیٰ‘‘ کی ذات رفعِ مکانی ،علوِّ مرتبت ، اختیارات اورصفاتِ کاملہ کے اعتبار سے پوری مخلوق سے ارفع ،اعلیٰ اوربے مثال ہے۔مخلوق میں کوئی بھی کسی اعتبار سے ذاتِ کبریاءکا ہم مرتبہ نہیں۔یہاں تک کہ انبیائے کرامo اور سرورِ دو عالم uبھی رفعِ مکانی ،علوِّ مرتبت اورصفاتِ حسنہ کے اعتبار سے ربِّ ذوالجلال کے ہم مثل اور ہم پلّہ نہیں ہیں۔جو شخص نبی معظم uیا کسی ہستی کو ذات ، اسماء، صفات اوراختیارات میں ’’اللہ تعالیٰ ‘‘ کے ہم پلّہ یا مشابہ قرار دیتا ہے وہ اس ہستی کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے۔ شرک سب سے بڑا گناہ ہی نہیں بلکہ جھوٹ، حق کو چھپانا، فطرت سے بغاوت، انتہائی ظلم ، بے وقوفی، بغاوت، فساد کی جڑ، ذلّت کا موجب، گناہوں کا منبع، اندھیرا، اندھا پن، جھاگ، شیاطین کی دعوت، عہد شکنی، بے وفائی، شک اور بے قراری، گندگی، باطل ، کفر، ناشکری، گمراہی، پھٹکار کا باعث ، آخرت میں جہنم میں جانے کا سبب ہوگا۔شرک کے مقابلے میں توحید ہے۔توحید سب سے بڑی سچائی، شہادت، فطرت کی آواز، عدل، دانائی، اللہ تعالیٰ کی تابعداری، امن کی بنیاد، بلندیوں کا زینہ، نیکیوں کا سرچشمہ، روشنی، بصیرت، اصلیت، انبیاء کی دعوت، رب سے کیے ہوئے عہد کی وفا، دل کا قرار، پاکیزگی، دلائل پر مبنی حق، ایمان، شکر، ہدایت، ’’اللہ‘‘ کی رحمتوں کا موجب، جنت کی ضمانت ہے۔مشرک ہمیشہ کے لیے جہنم میں جلتارہے گا اورموحّد ہمیشہ ہمیش کے لیے جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوگا۔

توحید سب سے بڑی سچائی ہے جبکہ شرک سب سے بڑا جھوٹ ہے :

﴿قَالَ اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۰۰۱۱۹﴾ ( المائدۃ:۱۱۹)

اللہ فرمائے گا یہ وہ دن ہے کہ جس میں سچے لوگوں کو ان کاسچ فائدہ دے گا۔ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ’’اللہ‘‘ ان پر ہمیشہ کے لیے راضی ہوگیا اور وہ ’’اللہ‘‘ پر راضی ہوگئے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘

یہاں صدق سے پہلی مراد’’ اللہ‘‘ کی توحید ہے کیونکہ اس سچائی کے علاوہ کوئی سچائی قیامت کے دن نجات کا ذریعہ نہیںبن سکتی۔

﴿وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا۰۰۱۴ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا يَاْتُوْنَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَيِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ۰۰۱۵﴾

’’اورہم نے اصحابِ کہف کے دلوں کوعقیدۂ توحید پر مضبوط کر دیا جب وہ قائم ہو گئے تو انہوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سواکسی اور معبود کو نہیں پکاریں گے ،اگر اس کے سوا کسی کو معبود کہیں تو یقیناً ہم زیادتی کی بات کریں گے ۔ یہ ہماری قوم ہے جنہوں نے ’’اللہ‘‘ کے سوا کئی معبود بنا لیے ہیں، یہ اپنے معبودوں کے لیے واضح دلیل کیوں نہیں لاتے۔ اس سے بڑا ظالم کون ہو گا جو ’’اللہ‘‘ پر جھوٹ بولتا ہے ۔‘‘(الکہف:۱۴،۱۵)

اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ان کو ایمان او ر ہدایت میں مزید بڑھایا اوران کے دلوں کو مضبوط کر دیا۔جب وہ اپنی دعوت اور عقیدہ لے کر اٹھے تو لوگوں نے انہیں غار میں چھپنے پر مجبور کر دیا، وہ یہ کہتے ہوئے غار میں داخل ہوئے کہ تم لوگ اپنے معبودوں کے بارے میں ٹھوس شرعی اورعقلی دلیل کیوں پیش نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی او رکی عبادت کرنا، اور اس کے حق میں دلیل دینا ’’اللہ‘‘ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے، ظلم اور حماقت ہے۔

﴿قُلْ اُوْحِيَ اِلَيَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ۰۰۱ يَّهْدِيْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ۰۰۲ وَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ۰۰۳ وَّ اَنَّهٗ كَانَ يَقُوْلُ سَفِيْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ۰۰۴ وَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ۰۰۵﴾ (الجن:۱تا۵)

’’نبی کریم فرما دیں کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جِنّوں کے ایک گروہ نے قرآن غور سے سنا اور پھر جا کر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔جو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ کیونکہ کسی کو اس کی بیوی اور بیٹا بنانے سے ہمارے رب کی شان بہت بلند و بالا ہے۔ ہمارے بیوقوف ’’اللہ‘‘ کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں۔ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جِنّ’’اللہ ‘‘کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے ۔‘‘

توحید بہت بڑی شہادت جبکہ شرک حق بات کو چھپانا ہے:

﴿شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُؕ۰۰۱۸﴾ (آل عمران:18)

’’اللہ‘‘ اس کے فرشتے اور اہلِ علم اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ ’’اللہ ‘‘کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور وہ کائنات کو عدل کے ساتھ قائم رکھے ہوئے ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

یہاں ’اُولُوا الْعِلْمِ‘سے مراد سب سے پہلے انبیاء کرامo اور ان کے بعد درجہ بدرجہ ان کے اصحاب، شہداء اورایماندار ہیں۔ اس فرمان میں یہ بات بھی عیاں ہو گئی ہے کہ حقیقی اہلِ علم اورعلمائے حق وہ ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لاتے اور اس کا پرچار کرنے والے ہیں اوراس پر قائم رہتے ہیں ۔کائنات میں توحید کی گواہی سے بڑھ کر کوئی شہادت نہیں۔ اسے قسط بھی کہا گیا ہے ۔ قسط کا معنی ہے ’’ہرچیز اپنے اپنے دائرئہ کار میں ٹھیک ٹھیک کام کرتی رہے۔‘‘

﴿قُلْ اَيُّ شَيْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِيْدٌۢ بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَىِٕنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِيْ بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ۰۰۱۹﴾(الأنعام: 19)

’’اے نبیe! ان سے پوچھیں کہ کون سی چیز گواہی میں سب سے بڑی ہے ؟فرما دیجیے ’’اللہ‘‘ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور یہ قرآن میری طرف وحی کیاگیا ہے تاکہ میں تمہیں اس کے ذریعے ڈرائوں اورجس تک اس کا پیغام پہنچے۔ کیا واقعی تم گواہی دیتے ہو کہ بے شک ’’اللہ ‘‘ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے؟ اعلان کریںکہ میں یہ گواہی نہیں دیتا۔ فرما دیجیے وہ اکیلا ہی معبود ہے ،جن کو شریک بناتے ہو میں ان سے بریٔ الذمہ ہوں ۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی وحدانیت پر دلائل دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کی شہادت سے بڑھ کر کسی کی شہادت بڑی نہیں ہو سکتی۔ شہادت کی دو اقسام ہیں عینی اور یقینی۔

عینی شہادت کا معنٰی ہے کہ واقعہ شہادت دینے والے کے سامنے پیش آیا ہو اور وہ پوری سچائی کے ساتھ اس کی گواہی دے۔ یقینی شہادت کا مفہوم یہ ہے کہ اس  کے اتنے واضح اور ٹھوس دلائل اور شواہد ہوں کہ کوئی اس کی تردید نہ کر سکے ۔ ’’اللہ تعالیٰ ‘‘ کی شہادت ان اصولوں کی بنیاد پر کامل اور اکمل حیثیت رکھتی ہے ۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی شہادت کو شہادتِ کبریٰ کا درجہ حاصل ہے۔

توحید، انسانی فطرت کی آواز اورشرک، فطرت سے بغاوت ہے :

﴿وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى ١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَۙ۰۰۱۷۲ اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ۰۰۱۷۳﴾ (الأعراف:172۔173)

’’جب آپ کے رب نے آدمu کی اولاد سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو پیدا فرمایا اورانہیںانہی پر گواہ بنا کر پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہاکیوں نہیں۔ ہم اس کی شہادت دیتے ہیں۔فرمایاکہ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کہو بلاشبہ ہم اس سے بے خبرتھےیایہ کہو کہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا نے کیاتھا اور ہم ان کے بعد آنے والے تھے کیا گمراہ لوگوں کے کرنے کی وجہ سے تو ہمیں سزا دیتاہے ۔‘‘

﴿فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا١ؕ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَۗۙ۰۰۳۰﴾ ( الروم:۳۰)

’’حکم ہوا کہ اپنے آپ (e)کو دین حنیف پر قائم رکھیں یہی فطرت ہے ۔اسی فطرت پر ’’اللہ ‘‘ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، لیکن اکثر لوگ اسے نہیں جانتے۔‘‘

جہاں تک عقیدۂ توحید کو انسانی فطرت میں ودیعت کرنے کا تعلق ہے، اس کی گواہی ہر انسان اپنی زندگی میں دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مکہ کے مشرک بڑے ظالم اور ضدی تھے ۔ انھوں نے نبی معظمe کے ساتھ شرک کی حمایت میں کئی جنگیں لڑیں لیکن ان میں سے جب کسی کو بڑی اور ناگہانی مصیبت پیش آتی تو وہ اقرار کرتا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مشکل کشا اور حاجت روا نہیں ہے ۔

توحید، عدل ہے اورشرک، سب سے بڑا ظلم ہے:

﴿شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُؕ۰۰۱۸﴾ (آل عمران: ۱۸)

’’اللہ ‘‘اور اس کے فرشتے اور اہلِ علم اس بات پر گواہ ہیں کہ ’’اللہ‘‘ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ عدل کے ساتھ دنیا کو قائم رکھنے والا ہے، اس غالب اور حکمت والے کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

﴿وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ يَعِظُهٗ يٰبُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۰۰۱۳﴾ (لقمان: ۱۳)

’’اور لقمان کی بات یاد کرو جب وہ اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا، اس نے اپنے بیٹے سے فرمایاکہ میرے بیٹے ’’اللہ‘‘ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، حقیقت یہ ہے کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔‘‘

ظلم کا معنی ہے ’’وَضْعُ الشَّيْءِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّهِ‘‘ ’’کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنا ۔‘‘  شرک کرنے والا’’ اللہ‘‘ کی صفات کو دوسروں میں سمجھتا ہے، اس لیے وہ ظلمِ عظیم کا ارتکاب کرتا ہے۔

توحید، دانائی ہے اورشرک، حماقت ہے :

﴿ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا۰۰۳۹﴾ (بنی اسرائیل: ۳۹)

’’یہ حکمت سے بھرپور باتیں ہیںجو آپ کے رب نے آپe کی طرف وحی کی ہیں کہ ’’اللہ‘‘ کے ساتھ دوسرا معبود نہ بنا نا ، ورنہ ملامت کیا ہوا اور دھتکارا ہوا جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس فرمان سے پہلے گیارہ کاموں کا حکم دیا اور گیارہ باتوں سے منع فرمایاہے۔ آخر میں ’’ذٰلِكَ‘‘کا لفظ استعمال فرما کر مذکورہ باتوں کا احاطہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حکمت و دانائی کی باتیں ہیں ۔ جو آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہیں ۔ ان میں سب سے بڑی حکمت کی یہ بات ہے کہ صرف ایک’’ اللہ ‘‘کی عبادت کی جائے۔ یہاں دانائی کو توحید اور شرک کو بیوقوفی قرار دیا گیا ہے۔

﴿وَّ اَنَّهٗ كَانَ يَقُوْلُ سَفِيْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ۰۰۴﴾ (الجن: ۴)

’’اور ہمارے نادان لوگ اللہ کے بارے میں خلافِ واقع باتیں کرتے رہے ہیں۔‘‘

اہلِ مکہ سفر کے دوران صحرا ء یا جنگل میں پڑائو ڈالتے تو قافلے کا ایک فرد آواز دیتا کہ اے جِنّات کے سردار ہم نے یہاں پڑائوڈالاہے لہٰذا ہماری حفاظت فرمانا ۔ ان کے شرکیہ عقیدے کی تردید کرتے ہوئے موحد جِنّات کی زبان سے کہلوایا گیا کہ اَن دیکھی قوتوں اور جنات سے مدد طلب کرنا بیوقوفوں کا طریقہ ہے۔

توحید سب سے بڑی نیکی ہے، شرک سب سے بڑا گناہ اور بہتان ہے :

﴿لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِيّٖنَ١ۚ …﴾ ( البقرۃ :۱۷۷)

’’نیکی صرف مشرق ، مغرب کی طرف منہ کر نے میں نہیں، حقیقتاً نیکی یہ ہے کہ اللہ، قیامت کے دن، فرشتوں ، کتاب اور نبیوں پر ایمان لایا جائے۔‘‘

﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِيْمًا۰۰۴۸﴾

 ’’یقیناً ’’اللہ ‘‘ اپنے ساتھ شرک کرنے کو نہیں بخشے گا اور اس کے سوا جسے چاہے گا بخش دے گا۔جس نے ’’اللہ‘‘ کے ساتھ شرک کیا اس نے بہت بڑا گناہ کیا۔ ‘‘(النساء:۴۸)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِیِّ قَالَ  الْکَبَائِرُ الإِشْرَاكُ بِاللهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْیَمِینُ الْغَمُوسُ(رواه البخاری: باب الْیَمِینِ الْغَمُوسِ)

’’سیدناعبداللہ بن عمرو نبی کریمسے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ’’اللہ‘‘ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی قسم اُٹھانا کبیرہ گناہ ہیں ۔‘‘

توحید’’اللہ ‘‘کی تابع داری اورشرک اس کی بغاوت :

﴿اَوَ لَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَ الشَّمَآىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ۰۰۴۸ وَ لِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ هُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۠۰۰۴۹ ﴾  (النحل: ۴۸تا۴۹)

’’ کیا انہوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ ’’اللہ‘‘ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ہر چیز کے سائے دائیں اور بائیں طرف ’’اللہ‘‘کو سجدہ کرتے اور وہ عاجزی اختیار کیے ہوئے ہیں اور ہر چیز ’’اللہ‘‘ہی کو سجدہ کرتی ہے جو چیز آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ہر چلنے والا چوپایا اور فرشتے بھی ’’اللہ‘‘کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘

﴿فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ يَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ١ؕ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ٞ ثُمَّ اِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۰۰۲۳﴾

’’جب ’’اللہ‘‘ انھیں نجات دے دیتا ہے تو وہ زمین میں بلا وجہ سرکشی کرنے لگتے ہیں ۔ اے لوگو! تمہاری سرکشی سے تمہیں ہی نقصان ہوتا ہے ۔ دنیا کی زندگی ایک فائدہ ہے پھر تم نے ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ ہم تمہیں بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے ۔‘‘(یونس: ۲۳)

 توحید امن کی بنیاد اور شرک فساد کی جڑ ہے :

﴿وَ كَيْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَيُّ الْفَرِيْقَيْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ۰۰۸۱ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَؒ۰۰۸۲﴾ (الأنعام:۸۱۔۸۲)

(سیدنا ابراہیمu نے اپنی قوم سے فرمایا) ’’میں ان سے کیوں ڈروں ؟جنھیں تم نے شریک بنا لیا ہے، جبکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے ان کو’’اللہ ‘‘کے ساتھ شریک بنالیا ہے جس کی اس نے تم پر کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اگر تم جانتے ہو تو بتائو دونوں گروہوں میں سے امن کا زیادہ حق دار کون ہے ؟ جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ خلط ملط نہیں ہونے دیا یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور یہی ہدایت پانے والے ہیں۔‘‘

﴿وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ۰۰۵۵﴾ (النور:۵۵)

’’اللہ‘‘ نے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے جوتم میںایمان لائیں اور نیک عمل کریں گے۔’’اللہ‘‘ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا۔ جس طرح ان سے پہلے لوگوں کوبنا چکاہے۔ ان کے لیے ہر صورت ان کے دین کو مضبوط کرے گا۔ جسے ’’اللہ ‘‘نے ان کے حق میںپسند فرمایا ہے اوران کے خوف کو ہر صورت امن میں بدل دے گا۔ بس وہ میری بندگی کریں اورمیرے ساتھ کسی کوشریک نہ بنائیں جواس کے بعد کفر کریں گے وہ لوگ فاسق ہیں ۔‘‘

تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں کا عقیدہ مضبوط رہا۔ اس وقت تک مسلمان مضبوط اور غالب رہے۔ جب سے عقیدہ کمزور ہوا تو اس وقت سے امت زوال پذیر ہوئی جا رہی ہے۔

﴿اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآىِٕكُمْ مَّنْ يَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَيْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَؒ۰۰۴۰ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ۰۰۴۱﴾  (الروم:۴۰۔۴۱)

’’ اللہ‘‘ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیتا ہے پھر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا کیا تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو ان میں سے کوئی کام کرسکتا ہو ؟ ’’اللہ‘‘ مشرکوں کے شرک سے پاک اوربہت ہی بلند و بالا ہے ۔ لوگوں کے اپنے ہاتھوں کے کیے کی وجہ سے خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہو گیا ہے تاکہ اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزا چکھایاجائے شاید کہ وہ پلٹ آئیں۔‘‘

توحید کا عقیدہ بلندیوں سے ہمکنار کرتا ہے، شرک ذلت اور پستی سے دوچار کرتا ہے :

﴿مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا١ؕ اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِيْنَ يَمْكُرُوْنَ السَّيِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓىِٕكَ هُوَ يَبُوْرُ۰۰۱۰﴾

’’جو عزت چاہتا ہے، عزت ساری کی ساری ’’اللہ‘‘کے اختیار میں ہے، وہی پاکیزہ کلمات اور نیک عمل کو اوپر اٹھاتا ہے۔ جو لوگ بُری چالیں چلتے ہیںاُن کے لیے سخت عذاب ہے اور اُن کا مکر غارت ہونے والا ہے۔‘‘ (الفاطر: ۱۰)

﴿حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اَوْ تَهْوِيْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ۰۰۳۱﴾ (الحج:۳۱)

’’یکسو ہو کر ’’اللہ‘‘ کے بندے بن جاؤ  اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور جو ’’اللہ‘‘ کے ساتھ شریک بنائے گا گویا وہ آسمان سے گر پڑا۔اسے پرندے اُچک لیں گے یا آندھی اُسے ایسی جگہ پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔‘‘

جس طرح آسمان سے گرنے والا ٹکڑے، ٹکڑے اور بوٹیاں ہو جاتا ہے، اسی طرح مشرک فکر و عمل کے اعتبار سے بکھرجاتا ہے وہ اعتقادی طور پر منتشر اور خودداری کے حوالے سے انتہائی تہی دامن ہوتا ہے۔ اسی بات کا نتیجہ ہے کہ اچھا بھلا پڑھا لکھا انسان کبھی فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے آدمی سے قسمت دریافت کرتا ہے، اور کبھی بت کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہوتا ہے۔ ایک قبر کے سامنے سجدہ کر رہا ہے اور دوسرا قبر کے پاس بیٹھے ہوئے مجاور کے سامنے فریاد کر رہا ہوتا ہےاور در، در کی ٹھوکریں کھانے کو ثواب اور سعادت سمجھتا ہے، ان کے مقابلے میں مومن غریب ہو یا امیر ، پڑھا ہو یا اَن پڑھ وہ اپنے رب کو چھوڑ کر کہیں جانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔گویا کہ عقیدۂ توحید کو مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سکھلاتا ہے۔

توحید نیکیوں کا سرچشمہ ، شرک تمام گناہوں کا منبع ہے:

﴿اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِۙ۰۰۲۴ تُؤْتِيْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۰۰۲۵﴾  (ابراهیم:۲۴۔۲۵)

’’کیا آپ نے غور نہیں کیا کہ ’’اللہ‘‘ نے ایک پاکیزہ کلمہ کی مثال بیان فرمائی ہے، جو نہایت فائدہ مند درخت کی مانند ہے اس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک ہیں۔وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اور ’’اللہ ‘‘لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے،تا کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘

﴿وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةِ ا۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ۰۰۲۶يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ يُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ١ۙ۫ وَ يَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُؒ۰۰۲۷ ﴾ (ابراهیم:۲۶۔۲۷)

’’اور بُرے کلمہ کی مثال بے فائدہ درخت کی طرح ہے،جو زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا جائے ،اس کے لیے قرار نہیں۔جو ایمان لائیں ’’اللہ‘‘ ان کو مضبوط بات کے ساتھ قائم رکھتا ہے ،دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور ’’اللہ‘‘ظالموں کو گمراہی کے لئےچھوڑ دیتا ہے اور ’’اللہ‘‘جو چاہے کرتا ہے ۔‘‘

 توحید، روشنی ہے اورشرک، اندھیرے ہیں:

﴿اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ۙ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِيٰٓـُٔهُمُ۠ الطَّاغُوْتُ١ۙ يُخْرِجُوْنَهُمْ۠ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَؒ۰۰۲۵۷﴾

 ’’ اللہ ‘‘ ایمان والوں کا دوست ہے وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور کفارکے ساتھی شیاطین ہیں وہ انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں یہ لوگ جہنمی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ (البقرۃ:۲۵۷)

 توحید بصیرت ہے اور شرک اندھا پن ہے:

﴿ قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ۠ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ١ۙ۬ … …﴾ (الرعد:۱۶)

’’ان سے پوچھیں آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے ؟فرما دیں ’’اللہ‘‘ ہی ہے۔ فرمائیں پھر کیا تم نے اس کے سوا مددگار بنا رکھے ہیں جو اپنے بھی نفع اور نقصان کے مالک نہیں؟فرمادیں کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوتے ہیں ؟…‘‘

شرک کرنے والوں کے اندھا ہونے پر غور فرمائیں کہ غیر مسلم اپنے ہاتھوں سے بت تراش کر اور مسلمانوں کی اکثریت بزرگوں کے مزار بنا کر ان سے مانگتے اور انہی کے سامنے جھکتے ہیں۔نہ بت تراشنے والے سوچتے ہیں کہ انہیں ہم نے خود تراشا ہے اور نہ مزار بنانے والے خیال کرتے ہیں کہ جن کے مزار بنا کر ہم ان سے مرادیں مانگتے ہیں کہ وہ تو اس قدر بے بس ہیں کہ نہ خود غسل کر سکتے اور نہ چل کر قبر میں لیٹ سکتے ہیں۔

توحید اصل ہے اورشرک جھاگ ہے :

﴿اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا١ؕ وَ مِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْيَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ۰۰۱۷﴾

’’اس نے آسمان سے پانی اتارا جس سے نالے اپنی اپنی کشادگی کے مطابق بہہ نکلے، پھر اس ریلے نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا اور جن چیزوں کو کوئی زیور یا سامان بنانے کی غرض سے آگ پر تپاتے ہیں ان سے بھی اسی طرح کا جھاگ ابھرتا ہے ۔ ’’اللہ ‘‘اسی طرح حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ جھا گ بے کا ر چیز ہے او ر جو چیز لوگوں کے لئے فائدہ مند ہے وہ زمین میں رہ جاتی ہے۔ ’’اللہ ‘‘اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے۔‘‘(الرعد:۱۷)

توحید، انبیاء oکی دعوت اورشرک، شیاطین کی دعوت ہے:

﴿وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ١ؕ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ۠۰۰۳۶﴾ (النحل:۳۶)

’’یقیناً ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ ’’اللہ‘‘ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو ۔ ان میں سے کچھ وہ تھے جنہیں ’’اللہ تعالیٰ‘‘نے ہدایت دی اور کچھ وہ جن پر گمراہی مسلّط ہو گئی ۔پس زمین میں چل ، پھر کر دیکھو جھٹلانے والوںکا کیا انجام ہوا۔‘‘

﴿اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًاۙ۰۰۱۱۷لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًاۙ۰۰۱۱۸ وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّيَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ۠ خَلْقَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ يَّتَّخِذِ الشَّيْطٰنَ وَلِيًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِيْنًاؕ۰۰۱۱۹﴾ (النساء:۱۱۷تا۱۱۹)

’’وہ اللہ کو چھوڑ کر صرف دیویوں کی پرستش کرتے ہیں، وہ نہیں عبادت کرتے مگر باغی شیطان کو پوجتے ہیں، جس پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ اس نے کہا تھا میں تیرے بندوں میں سے مخصوص حصہ لے کر رہوںگا اور انہیں راہِ راست سے بہکاتا رہوںگا، امیدیں دلاتا رہوںگااور انہیں کہوں گا کہ جانوروں کے کان چیر یں اور ان سے کہوں گا کہ ’’اللہ‘‘ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑ دیں۔ سنو جو ’’اللہ‘‘کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنائے گا وہ واضح طور پر نقصان میں پڑ جائے گا۔‘‘

توحید ’’رب‘‘ سے کیے ہوئے عہد کی وفا ، شرک اُس سے عہد شکنی اوربے وفائی ہے:

﴿وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى ١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَۙ۰۰۱۷۲﴾

’’جب آپ کے رب نے سیدنا آدمu کی اولاد سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں ان پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارارب نہیںہوں؟ انہوں نے کہاکیوں نہیں ہم اس کی شہادت دیتے ہیں۔ فرمایا: ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کہو بے شک ہم اس سے غافل تھے۔‘‘(الاعراف: ۱۷۲)

﴿وَ الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَ يَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ وَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ۰۰۲۵﴾ ( الرعد:۲۵)

’’اور جو لوگ ’’اللہ‘‘ سے پختہ عہد کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اسے کاٹ دیتے ہیں جس کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے او وہ رزمین میں فساد کرتے ہیں ،یہی لوگ ہیں کہ جن پر لعنت برستی ہے اور ان کے رہنے کے لیے بد ترین جگہ ہے ۔‘‘

توحید، دل کا قرار ،شرک، شک اوربے قراری ہے :

﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُؕ۰۰۲۸﴾ (الرعد:۲۸)

’’و ہ لوگ جو ایما ن لا ئے اور ان کے دل ’’اللہ‘‘ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں۔ سن لو ! اللہ کی یا د سے ہی دل اطمینان پاتے ہیں ۔‘‘

﴿يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَ اَخِيْهِ وَ لَا تَايْـَٔسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا يَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ۰۰۸۷﴾  (یوسف:۸۷)

’’اے میرے بیٹو !جائو یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو ، ’’اللہ‘‘ کی رحمت سے مایو س نہ ہو ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی رحمت سے کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں ۔ ‘‘

توحید، پاکیزگی اورشرک، گندگی ہے:

﴿وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ۰۰۱۰۰﴾  ( یونس: ۱۰۰)

’’اور کسی کے لیے ایمان لانا ممکن نہیں مگر ’’اللہ‘‘ کی توفیق سے او ر وہ ان لوگوں پر پلیدی ڈال دیتا ہے جو عقل نہیں کرتے۔‘‘

 توحید ،حق ہے اور شرک، باطل ہے:

﴿ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُؒ۰۰۳۰﴾ (لقمان: ۳۰ والحج: ۶۱۔۶۲)

’’یہ اس لیے ہے کہ یقیناً ’’اللہ‘‘ہی حق ہے اور اُسے چھوڑ کر جن کو لوگ پکارتے ہیں وہ باطل ہیں اور یقیناً اللہ ہی بلند وبالا اور بڑا ہے۔‘‘

﴿فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ۰۰۳۲﴾ ( یونس:  ۳۲)

اللہ ‘‘ہی تمہارا سچا رب ہے ۔ پھر سچ کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے ؟ پس تم کہاں پھیرے جاتے ہو۔‘‘

 توحید ،ایمان ہے اور شرک، کفر ہے:

﴿اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىِٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ ﴾ (البقره: ۲۸۵)

’’رسول اس چیز پرایمان لایا جو اس کی طرف ’’اللہ‘‘کی طرف سے اتاری گئی اور سب مومن ’’اللہ‘‘، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ ‘‘

﴿وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُهُمْ وَ لَا يَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِيْرًا۰۰۵۵﴾ ( الفرقان: ۵۵)

’’وہ لوگ ’’اللہ‘‘ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں نہ نفع دے سکتے اور نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں اور کافر اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے۔ ‘‘

 توحید ،شکر ہے اور شرک، ناشکری ہے:

﴿وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ يَّشْكُرْ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ۰۰۱۲﴾ (لقمان: ۱۲)

’’ ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی تھی تاکہ ’’اللہ‘‘کا شکر ادا کرے، جو شکر کرے گا اُس کے شکر کااُسے ہی فائدہ پہنچے گا اور جو کفر کرے گا بلاشبہ ’’اللہ ‘‘اس سے بے پرواہ ہے کیونکہ وہ لائقِ تعریف ہے۔‘‘

 توحید سب سے بہتر ین دعوت ہے اور شرک، شیطان کا راستہ ہے:

﴿وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۰۰۳۳﴾ (حٰم السجده: ۳۳)

’’اور اُس شخص کی بات سے کس کی بات اچھی ہوسکتی ہے کہ جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیے اور اقرار کرتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘

﴿اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًاۙ۰۰۱۱۷﴾ (النساء: ۱۱۷) ’’

یہ ’’اللہ‘‘کو چھوڑ کر صرف دیویوں کی پرستش کرتے ہیں ۔ حقیقت میں یہ صرف باغی شیطان کوپوجتے ہیں۔ ‘‘

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago