اللہ رب العزت کا پسندیدہ دین دین اسلام ہے۔جس کی تکمیل امام الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ پر کی گئی ہے۔صحابہ کرا م رضی اللہ عنہم اجمعین نے اسلام کی سربلندی کیلئے اپنا تن ،من ،دھن قربان کر دیا۔یہ آسمان نبو ت کے درخشندہ ستارے ،آفتاب رسالت کی سنہری کرنیں اور گلشن محمدی کے مہکتے پھول جنہوں نے سارے عالم کو اسلام کی ضیاپاشیوں سے منور کر دیا۔اسی جانثار انِ نبوت کے قبیل کے سرخیل جانشین رسول خلیفۃ المسلمین امیرالمومنین سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وفاتِ رسول کے بعد انتہائی پریشان کن اور نازک حالات میں چوطرفہ یلغا ر کرتے فتنوں اور مشکلات کا بڑی جرات و پامردی سے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کسی محاذ پر پرچم اسلام کو سر نگوں نہ ہونے دیا۔صحابہ کرام ،تابعین ،تبع تابعین اور محدثین نے ہر دور میں اسلا م کے پرچم کو سربلند رکھا۔انہی اعاظم رجال میں سے ایک تقویٰ وخشیت کے پیکر ،زہد و ورع کے امام محی السنۃ ،قامع البدعۃ فضلیۃ الشیخ پروفیسر محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ ہیں ۔جو اسلاف کی عظمتوں کے امین ،سلسلہ محدثین کے گل سرسبد ،سادگی و انکسار کا مجسمہ کم گو ،متانت و سنجیدگی کے پیکر مگر دل و دماغ میں تعلیم و تربیت کا طوفان لئے ہوئے ۔نمونہ سلف صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ سے شرف تلمذ اور انکی دُعا ئے خاص نے مزید مہمیز دی اور جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کی بناء ڈالی ۔
اس کی امیدیں قلیل ،اسکے مقاصد جلیل
ہر دو جہاں سے غنی ا س کا دل بے نیاز
فکر کی بلندی اور سوچ کی اُڑان نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ (مدینہ یونیورسٹی)ایسی عظیم الشان جامعہ کی طرح ڈالی ۔تودنیا بھر کے مختلف ممالک چائنہ ،تھائی لینڈ،انڈونیشیا، ملائشیا ،افریقہ ،ایران ،افغانستان ،مالدیپ ،سری لنکا ودیگر کئی ممالک سے تشنگان ِعلم کشاں کشاں اس جامعہ کی طرف کھینچے چلے آئے۔یہ ادارہ دیگر جامعات سے اس لحاظ سے منفرد حیثیت کا حامل ہے کہ اس میں ذریعہ تعلیم عربی ہے اور تقریباََپنتالیس ممالک کے طلباء اس میں زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے تھے۔
یہ1985-86کی بات ہے کہ تحصیل علم کا شوق ہمیں کشاں کشاں الہ آباد(قصور)سے باب الاسلام سندھ کی دھرتی کراچی لے گیا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ یہ طویل ترین اور پُر صعوبت سفر حصول علم کے شوق اور جذبے سے ایساآسان ہوا کہ مشکلیں سب آساں ہوگئی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں داخلہ کی بنیادی وجہ یہ ہے۔کہ جامعہ میں میرے دو خالہ زاد بھائی (کزن) فضلیۃ الشیخ مولانا محمد طاہر باغ حفظہ اللہ جو کہ آجکل جامعہ میں استاد بھی ہیںاور حافظ محمد امین شاہد حال مقیم کینڈا ۔دونوں جامعہ میں پڑھتے تھے۔حافظ محمد امین کی ترغیب پر ہم جامعہ میں آئے پھر جامعہ میں ایسا دل لگاجامعہ کی انتہائی دلکش ،جاذب نظر اورخوبصورت عمارت ،حسن انتظام ،پُرکشش ماحول اور اس پر مستزاد اساتذہ کر ام کی اپنے بچوں کی طرح شفقت و محبت اور پیار اور مدیر الجامعہ الشیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کی ہر ایک سے محبت ۔تو ایسے خوبصورت ماحول میں پڑھنے کو کس کا دل نہیں چاہے گا۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے کتنے سال بیت گئے ۔ابتداء میں حفظ القرآن جناب قاری فضل الرحمان رحمہ اللہ سے کیا ۔شعبہ حفظ میں کیا اساتذہ تھے اس وقت قاری محمد ادریس رحمہ اللہ آف پھولنگر (قصور)شعبہ حفظ کے مدیر تھے۔بڑے ہی پیارے ہر دلعزیز قاری بشیر احمد بلتستانی اللہ کریم انکی عمر دراز کرے اور بھی بڑے قراء کرا م تھے۔جن میں ایک نام قاری محمد سلیمان رحمہ اللہ کا ہے۔ہمارا حفظ کا دور بڑا خوبصورت تھا۔صبح اٹھنا نماز کے بعد کلاس پھر ناشتہ اور کلاس میں میرے جامعہ کے دوستوں میں الحمدللہ پورے جامعہ کے طلباء ہی دوست تھے لیکن کچھ خاص دوست بھی ہوتے ہیں۔ ایک بھائی عبدالروف بن مولانا منیر شاکر سیالکوٹی ہو اکرتے تھے۔عبدالروف اس دنیا میں نہیں رہے۔اللہ تعالی مغفر ت فرمائے میرے بڑے پیارے دوست تھے۔نصراللہ لکھوی،مجیب عالم،حافظ طارق ،حافظ افتخار احمد شاہد ،عبدالرحمن عابد ،عمر فاروق ،لالہ معاذ،خالدشاہین ،حبیب الرحمن،مقبول احمد، مہر محمد الیاس ،شفیق الرحمن فرخ،عتیق الرحمن اور عنائیت اللہ کاشمیری وغیرہ جامعہ میں بہت ساری شرارتیں بھی ہوئیںجن کا تذکرہ ممکن نہیں۔ حفظ کے بعد جب مرکز اللغۃ میں گئے تو وہاں الشیخ عبدالرحمن چیمہ حفظہ اللہ اورالشیخ فاروق احمد قصوری حفظہ اللہ سے تقریباََ دوسال تعلیم حاصل کی ۔بعد ازاں معھد العلمی میں الشیخ موسیٰ موسوک ،الشیخ ایمن ،الشیخ نور البصیر اور دیگر اساتذہ سے فیض یاب ہوئے اور جامعہ میں رہتے ہوئے مجھے بہت سے اساتذہ و مشائخ کی خصوصی خدمت کا موقع ملا جن میں فضلیۃ الشیخ حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ ،الشیخ الدکتورنصیر اختر حفظہ اللہ ،مولانا محمد صادق خلیل رحمہ اللہ اور الشیخ مولانا حافظ محمد یحییٰ میرمحمدی رحمہ اللہ دوران تعلیم جن اساتذہ کا بہت زیادہ پیار ملا خصوصاََ فضیلۃ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ ،الشیخ عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ ،سر نوید ظفر حفظہ اللہ ،الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ اور الشیخ حافظ عبدالغفار اعوان ثم المدنی حفظہ اللہ جامعہ کا دوربڑا بھرپور تھا۔بچپن کی شرارتیں بھی دوستوںکے ساتھ تھیںاور یہ بھی جامعہ کا شرف ہے کہ اس دور کا کوئی بھی ساتھی بے روز گار نہیں ہے سب بڑے اچھے اچھے مناصب پر فائز ہیں۔یہ جامعہ کی ہی برکت ہے کہ میری رشتہ داری حافظ عبدالوحید صاحب سے ہوئی اور پھر ڈاکٹر حافظ افتخار احمد شاہد صاحب کی بھی فراغت کے بعد سے الحمدللہ میں 1990ء سے جامع مسجد الامیر سعد بن خالد بن عبدالرحمن آل سعود الریاض سعودی عرب میں تین سال امامت کے فرائض سر انجام دئیے پھر الریاض شہر سے مکہ روڈ پر القویعیہ ایک قصبہ ہے ۔جس کی خصوصیت یہ ہے کے بڑے بڑے جید علماء اس قصبے سے تعلق رکھتے ہیں۔فضیلۃ الشیخ عبداللہ جبرین رحمہ اللہ معروف خطیب دکتور عبدالرحمن العریفی ،دکتور عبداللہ سلطان ،دکتور عبدالرحمن بن عبداللہ جبرین اس قصبے میںچھ سال امامت کے فرائض سر انجام دئیے۔یہاں قہطانی قبیلے کے لوگ تھے۔بہت اچھے لوگ بڑے مہمان نواز اور ملنسارلوگ تھے۔اللہ کے فضل وکرم سے بدوی زبان میں نے یہاں سے سیکھی ۔اور ایسی سیکھی کہ یہاں لندن مکتب الدعوہ میں الشیخ العریفی القویعیہ سے تھے۔الشیخ صلاح البدیر امام مسجد النبوی شریف جب مکتب الدعوہ لند ن تشریف لائے تو لندن ریجن میں الشیخ سے میرا تعارف کرایا ۔الشیخ البدوی من القویعیہ تو الشیخ صلاح بڑے خوش ہوئے ۔اسی طرح لند ن کے قریب بڑا خوبصورت مقام ہے ۔ہین لی(HENLEY)وہاں الشیخ شعیب میرپوری ،فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن السیدیس امام کعبہ و دیگر دو ساتھی اور راقم الحروف ہرن کا باربی کیو کر رہے تھے۔تو الشیخ امام کعبہ نے کوئی بدوی جملہ بولا تو میں نے جب بدوی میں جواب دیا ۔توا لشیخ بڑے خوش ہوئے تو پوچھا یہ کہاں سے سیکھی ۔تو میں نے الشیخ کا گاؤں اور یہ سب کچھ بتایا تو بڑے خوش ہوئے2018ء میںامام کعبہ الشیخ عبدالرحمن السیدیس کی خصوصی دعوت پر الحمدللہ میں نے حج کیا اور الشیخ امام کعبہ اور ان کے والد گرامی کی ضیافت میں شرکت کی سعادت بھی ملی تو القویعیہ میں میں نے الحمدللہ امامت کیساتھ ساتھ بڑے کا م کئے چھ ماہ بکریاں بھی چرائیں ،بہت سے سانپ مارے ،کھجوروں کے باغ میں مزدوری کی ،الحمدللہ بھرپور بدوی زندگی گزاری بعد ازاں الریاض منتقل ہو گیا۔الریاض میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ساتھ مضبوط تعلق رہاپھر 2008ء میں لندن یوکے منتقل ہوگیا۔ایک مہینہ لندن رہنے کے بعد امیر جماعت مولانا ثناء اللہ سیالکوٹی کی ہدایت پر لندن کے نواح میں ریڈنگ شہر میں جماعتی برانچ میں امامت کیلئے منتقل ہوگیا۔لندن قیام کے دوران حافظ عبدالوحید انورجو کہ مولانا سیالکوٹی کے داماد بھی ہیںانہوں نے میری بڑی ہیلپ کی اللہ تعالی انہیں جزائے خیر عطا فرمائے اور شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ گوجرانوالہ کے بیٹے کے داماد الشیخ عبداللہ شاکر نے بھی بڑی معاونت فرمائی ۔ریڈنگ میں 2015ء تک امام رہا۔پھر اس کے بعد یوکے کی بہت بڑی چیرٹی پینی ایبل کے ساتھ ٹی وی پروگرام کے لئے منسلک ہوگیااور تین سال تک اسلام ٹی وی پروگرام کرتا رہااور پھر جماعتی چیرٹی اسلامک ویلفیئر کیساتھ کام کیااورآجکل ہومینٹی کئیر ریلیف کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔میں ویک فیلڈ یوکے میں مقیم ہوںیہاں الحمدللہ مرکز باب الاسلام کے نام سے کچھ جگہ خرید لی ہے اور کچھ مزید کوشش جاری ہے۔بڑا عظیم الشان اور خوبصورت مرکز بنے گا۔اس مرکز کا نام عظیم اسکالر ڈاکٹر محمد حماد لکھوی بن مولانامحی الدین لکھوی رحمہ اللہ نے رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔میری بڑی دلی خواہش تھی ۔کہ پرانے ساتھیوں سے ملا جائے انہیں اکٹھا کیا جائے توا للہ کی توفیق سے پہلے چھانگا مانگا اور پھر اس سال جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں یہ اکٹھ ہوا۔اللہ تعالی نے یہ کوششیں قبول کیں۔اے اللہ جامعہ ابی بکر کو ہمیشہ سلامت رکھنا شاد باغ رکھنااور ہمارے شیخ کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنادے ۔آمین
اپنی علالت کے باعث یہی لکھ سکا ہوں۔دکتور الشیخ مقبول احمد مکی حفظہ اللہ اللہ تعالیٰ آپکو اس کاوش کا اجر عظیم عطا فرمائے۔آمین
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…