مکمل نام: عبدالحئی ولد محمد عبداللہ ولد جہاں خان المدنی
تاریخ ولادت :28مارچ انیس سو سڑسٹھ 1966ء
والد محترم کو یہ اعزازحاصل ہے کہ اپنی بہت بڑی برادری (جوکہ کراچی،راولپنڈی،ملتان خوردوغیرہ میں پھیلی ہوئی ہے میں پہلے اہلحدیث ہیں اسکےساتھ ساتھ اپنی برادری میں پہلے مدرس ہیں ۔اپنی دیانت داری اور تعلیم کی بدولت بہت عزت و توقیر پائی ۔مسلک حقہ اہلحدیث قبول کرنے کی پاداش میں محلےکے بعض گھروں کی طرف سے راستہ اور پانی بند ہونے کی صعوبتیں برداشت کیں تاہم اللہ تعالیٰ نے استقامت عطا فرمائی اور پھر وہ ایک دن آیا کہ جس حویلی سے راستہ بند کیا گیا تھا وہ حویلی ہی اللہ نے ہمیں دے دی ۔اپنے تمام بھائیوں اور اولاد کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی چنانچہ بھائی اور اولاد سب کو اللہ تعالیٰ نے اسی راہ ہدایت پر چلا دیا۔
مجھے یہ فخر ہے کہ والد محترم نے میری دینی تعلیم پر خصوصی توجہ دی،چنانچہ پرائمری میں تعلیم کے دوران ہی مولانا محمد ابراہیم ولدنیک محمد صاحب (پورے علاقے میں فرشتہ صفت معروف ہیں )کے حلقہ درس میں بٹھا دیا۔ناظرہ قرآن مجید مکمل کرنے کے بعد حفظ قرآن شروع کروایا گیا۔اسکول کے بعد مجھے صرف مسجد تک محدود رکھا گیا ۔مرکزی مسجدمیں دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تلقین فرماتے۔چنانچہ لاؤڈسپیکر پر میری تلاوت قرآن کریم اور آذان ایسی مشہور ہوگئی کہ مجھے وہابیوں کی مسجد میں آذان دینے والا لڑکا پکارا جانے لگا۔حفظ القرآن کے 22 پارے مکمل کرنے کے بعد قرآن مجید کا لفظی ترجمہ بھی استاد محترم نے شروع کروادیا۔چنانچہ آٹھویں جماعت کے رزلٹ سے چند روز قبل ترجمہ قرآن کی تکمیل ہوگئی جب آٹھویں جماعت کا رزلٹ آیا تو میں گھر سے باہر تھا والد محترم نے پیغام بھجوا کر بلایا اور گود میں لے کر چومنے لگے اور فرمایا مبارک ہو تم نے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے ۔میں نے دل ہی دل میں یہ فیصلہ کر رکھا تھا کہ بڑے ہوکر مولانا بنوں گا ۔اسکول کی تعلیم کے دوران تختی نویسی ،تلاوت قرآن کے متعدد مقابلے جیتنے کی سعادت حاصل ہوئی۔یونین کونسل میں ضلع بھر کے تمام یونین کونسلز کے چیئرمین اکٹھے ہوئے تو افتتاحی تلاوت قرآن کیلئے اس وقت کے چیئرمین ملک زمر خان مرحوم نے مجھے خصوصی طور پر اسکول سے بلوایا ۔اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خوش الحانی میں تلاوت قرآن سن کر بہت تعریف کی گئی اور پنڈی گھیپ کے چیئرمین نے اپنی کرسی سے اٹھ کر انتہائی شفقت سے گلے لگایااور تین سو روپے انعام دیا۔دوسرے دن اخبارات میں تصویراور انعام کی خبر پڑھ کر والد صاحب کے بہت سے دوستوں نے سلام اور مبارکباد بھیجی ۔
جب میں میٹرک کا طالبعلم تھا تو مولانا عبدالغفور شاکر صاحب جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے فارغ التحصیل ہوکر واپس آئے تو مرکزی مسجد میں انکے دروس کا سلسلہ شروع ہوا ۔مولانا ابراہیم اعوان خطیب مرکزی مسجد اور اپنے والد محترم سے مولانا عبدالغفور کی روزانہ تعریف سنتا تھا چنانچہ جب میٹرک کے امتحان سے فارغ ہوا تو رزلٹ تک تقریبا تین ماہ میں مولانا عبدالغفور صاحب کی قربت حاصل کرلی میرا ذوق و شوق دیکھ کر مولانا نے مجھے اپنا شاگرد بنا لیا اور ابتدائی کتب ’’صرف بہائی،صرف میر ‘‘وغیرہ پڑھانی شروع کردیں ۔مولانا صاحب بہت خوش ہوئے۔مگر میرے والدین میٹرک کے رزلٹ کے بعد مجھے ایف ایس سی کیلئے کالج میں داخل کروانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔میں اپنے طور پر مولانا بننے کا ارادہ کر چکا تھا لیکن والد صاحب کے سامنے اعتراض کی جرات نہیں کر سکتا تھا چنانچہ مولانا صاحب سے عرض کی کہ میرے والد گرامی سے منظوری لے کر مجھے دینی مدرسہ میں داخل کروائیں ۔مولانا موصوف نے نہایت حکمت سے اپنے درس حدیث میں فضائل علم شرعی پر دو دن مسلسل گفتگو کی اور اسکے بعد میرے دیگر اساتذہ مولانا محمد ابراہیم ولد نیک محمد ،ماسٹر شیر محمد صاحب اور مولانا ابراہیم صاحب اعوان خطیب جامع مرکزی مسجد کی موجودگی میں میرے والد محترم کو میراشوق اور ارادہ بتایا جس پر وقتی طور پر والد صاحب خاموش رہے مگر بعد میں فرمانے لگے کہ عبدالحئی اپنے شوق سے جو راستہ اپنانا چاہے میری طرف سے اجازت ہے۔مولانا محمد ابراہیم صاحب فرمانے لگے عبداللہ صاحب آپکو مبارک ہو آپ نے اللہ کے راستے میں وہ بیٹا وقف کیا ہے جو دنیوی تعلیم میں بھی سب سے زیادہ لائق ہے اور ہر سال پوزیشن ہولڈر رہا ہے ورنہ عام لوگ تو ایسے بچے کو دینی تعلیم دلاتے ہیں جو اسکول میں فیل ہورہا ہوتا ہے ۔
اللہ کے فضل و کرم سے آج بھی گورنمنٹ بوائز سکینڈری اسکول ملتان خورد کے برآمدے میں اعزازی بورڈ پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر عبدالحئ ولد محمد عبداللہ جلی حروف میں لکھا ہوا ہے ۔بڑے بھائی اور چچا پاکستان نیوی میں تھے جب انکو میرا ارادہ معلوم ہوا تو انہوں نے والد صاحب کی طرف خط لکھا کہ اگر عبدالحئ کو دینی مدرسہ میں داخل کروانا ہے تو پنجاب کے بجائے ہمارے پاس کراچی بھیج دیں ۔یہاں ایک نیا مدرسہ’جامعہ ابی بکر الاسلامیہ ‘شروع ہوا ہے اس میں داخل کرادیں گے ۔چنانچہ 3مئی 1983ءکو کراچی پہنچا دوسرے دن صبح چچا جان کے ہمراہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ آیا تو داخلے جاری ہونے کی وجہ سے کافی گہما گہمی دیکھی ۔نئی عمارت نے متاثر کیا بالخصوص عربی زبان میں درس و تدریس کا سن کر دعائیں کرنے لگا کہ اللہ تعالیٰ یہیں داخلہ کروادے۔
ان دنوں جامعہ ابی بکر میں صرف دو شعبہ جات تھے’مرکز اللغۃ العربیہ‘کے تین سال اور کلیۃ الحدیث کے چار سال مرکز اللغۃ العربیہ کے پہلے سال میں داخلے کیلئے آنے والےامیدواران تقریباً ڈیڑھ صد تھے۔دنیوی تعلیم کم از کم میٹرک شرط داخلہ تھی ۔کچھ طلباء انٹرمیڈیٹ اور چند گریجویٹ بھی تھے ۔پہلے تحریری امتحان لیا گیا جس میں صرف پچاس طلباء کے پاس ہونے کا اعلان ہوا اسکے بعد انٹرویو ہوا اور صرف 35 طلباء کو داخلہ دیا گیا ۔الحمدللہ ان میں ایک نام میرا بھی تھا ۔
انٹر ویو تک تقریباً دو ہفتے روزانہ گھر سے آتا رہا ۔داخلے کے اس طریقہ کار پر لوگوں کا تبصرہ روزانہ سننے کو ملتا تھا ۔کچھ لوگ کہتے تھے کہ دینی تعلیم کیلئے اتنی سخت شرائط ،امتحان ،انٹرویو غیر شرعی و غیر ضروری ہیں مگر بعض حضرات اسے تحسین پیش کرتے تھے کہ معیاری ادارہ ،معیاری طلبہ و معیاری نتائج کیلئے یہ سب ضروری ہے ۔
داخلے کے بعد ہاسٹل میں مولانا عبدالرحمن صاحب (وارڈن )نے جگہ دی ۔چارپائی کا فریم ،نوار،اور پینٹ دیا کہ رنگ کر لو ایک دن بعد چارپائی کو کمرے میں لگا دینا۔لائبریری سے نصابی کتب لیں اور باقاعدگی سے کلاس شروع ہوگئی اس وقت مرکز اللغۃ العربیہ کے پہلے ہی سال میں بلوغ المرام تھی ۔تفسیر میں صفوۃ التفاسیر ۔الحمدللہ فترہ اولیٰ کے امتحان میں میری پہلی پوزیشن تھی ۔جب مرکز اللغۃ العربیہ کی پہلی کلاس ہم پڑھ چکے تو جامعہ نے اپنے تعلیمی نظام (شعبہ جات،نصاب) میں کچھ تبدیلیاں کیں چنانچہ مرکز اللغۃ العربیہ کا نام تبدیل کرکے المعھد العلمی رکھا اور دورانیہ چار سال کر دیا گیا۔مزید ایک سال گزرا تو المعھد العلمی کو المعھد الثانوی کا نام دے دیا گیا۔اس وقت مدیر التعلیم ڈاکٹر عبدالجواد خلف عبدالجواد (مصری)تھے ۔جامعہ میں داخلے کے بعد جس شخصیت نے مجھے اپنا گرویدہ بنایا وہ مولانا عبدالرحمان صاحب(وارڈن) ہیں ۔اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ عمر دراز عطا فرمائے۔آج بھی موصوف طلباء کی محبوب شخصیت ہیں جس کی بڑی وجہ ان کی شفقت پدرانہ ،شرافت اور پارسائی ہے۔جامعہ میں ایک سال پڑھنے کے بعد ایسے تذبذب کا شکار ہوگیا کہ دینی تعلیم چھوڑنے کا سوچنے لگا چنانچہ ایک دن اخبار میں نیوی میں کمیشن (کیڈٹ شپ ) کا اشتہار دیکھا چنانچہ بھرتی سینٹر واقع لکی سٹار کراچی سے فارم لے آیا ۔ہیڈ کواٹر اسلام آباد بھیجا ۔بنیادی شرائط پوری ہونے کی وجہ سے میڈیکل ٹیسٹ کیلئے بلوایا گیا ۔انٹر ویو اور تحریری امتحان بھی پاس کرلیا ۔ آئی ایس ایس بی کیلئے کوہاٹ بلایا گیا اس سارے عمل میں تقریباً ڈیڑھ ماہ گزر چکا تھا ۔جامعہ میں استاذ الشیخ شبیر احمد نورانی صاحب جن سےتعلیمی اوقات کے بعد بھی عربی کی معلم وغیرہ پڑھتا تھا انکو پتہ چلا تو مجھے تقریباً ایک گھنٹے تک دینی علم کی فضیلت بتاتے رہے اور آخر میں کہنے لگے جرنل ضیاء الحق بھی نماز پڑھتے وقت مولانا صاحب کی اقتداء و اتباع کرتا ہے ۔اب تمہاری مرضی ۔۔۔بس یہ بات میرے دماغ میں کلک کرگئی اور کمیشنڈ آفیسر بننے کا ارادہ ترک کر کے دوبارہ یکسوئی سے دین کی تعلیم میں مگن ہوگیا البتہ دنیوی تعلیم کو بھی ضروری سمجھا ۔چنانچہ انٹر میڈیٹ بورڈ کے سالانہ امتحانات کا شیڈول دیکھا تو فوراً بورڈ آفس سے جا کر انرولمنٹ فارم لے کر آیا اور باقی احباب مولانا یوسف ضیاء ،مولانا بشیر احمد ،مولانا رفیق صاحب کو بھی بتایا یوں ہمارا ایک گروپ اس امتحان کی تیاری کرنے لگا ۔الحمدللہ دو ماہ کی تیاری کے بعد 1985 میں یہ امتحان بھی پاس کرلیا ۔1986 میں وفاقی اردو کالج کراچی میں شام کی شفٹ میں بی اے کیلئے داخلہ لے لیا ۔(مذکورہ کالج میں کلیہ فنون میں استاذ پروفیسر محمد یامین محمدی مرحوم کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ اہلحدیث مسلک سے تعلق رکھتے ہیں چنانچہ ان سے ملاقات کی اپنا تعارف کروایا تو بہت خوش ہوئے وہیں انکے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار ہوگئے ۔کوئی بھی شخص میری معرفت مسئلہ لے کر جاتا تھا تو مایوس نہیں لوٹتا تھا )الحمدللہ اسی کالج سے بی اے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا اس کے بعد ایم اے جرنلزم (صحافت)میں داخلہ لے لیا جب پروفیسر صاحب کو پتہ چلا کہ میں انکے کالج میں ایم اے صحافت کا طالب علم ہوں تو خود میری کلاس میں تشریف لائے اور فرمایا کل کالج میں ذرا جلدی آنا مجھے تم سے بات کرنی ہے۔
دوسرے دن جب ملاقات ہوئی تو کہنے لگے کہ تمہارا تعلیمی شوق قابل قدر ہے ۔صحافت میں ماسٹر ڈگری خوب ہے مگر آپ کا اصل شعبہ اسلامیات ہے لہذا پہلے اس میں ایم۔اے کرو چنانچہ میں نے کراچی یونیورسٹی میں پرائیوٹ امیدوار کے طور پر ایم۔اے اسلامیات میں بھی انرولمنٹ کروا لی ۔اور 1991 میں جبکہ مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا کراچی یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں ایم اے اسلامیات کا امتحان پاس کرلیا۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے میں طالب علمی کے دوران مختلف مساجد میں دروس و خطبات جمعہ بھی دیے۔عزیز آباد میں پانچ مسلسل دروس ’’عقائد شیعہ‘‘ کے موضوع پر بھرپور تیاری کرکے دیے جس سے مقبولیت ملی۔اسکے علاوہ تنظیمی سرگرمیوں کا شوق بھی کمایا ۔مرکزی انجمن اہلحدیث پاکستان قائم ہوئی تو ڈاکٹر عبدالجبار (ڈالمیا والے)جو کہ اس کے بانی تھے انہوں نے گلشن اقبال کے حلقہ کا جنرل سکریٹری نامزد کیا ۔اس پلیٹ فارم پر دعوتی اور تنظیمی مصروفیات بھی رہیں ۔اسی طرح 1986 میں جب علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید نے کراچی میں اہلحدیث یوتھ فورس پاکستان کو فعال بنانے کیلئے جامعہ ستاریہ الاسلامیہ اور جامع مسجد اہلحدیث کورٹ روڈ میں میٹنگز کیں جن میں شمولیت کی۔علامہ مرحوم کی تڑپ اور اہلحدیث کاز کیلئے جذبہ ولائحہ عمل پر فدا ہونے کا جی چاہنے لگا ۔چنانچہ عبدالخالق آفریدی،حافظ عبیداللہ انور ،مولانا سلیمان خان،مولانا سیف اللہ خالد وغیرہ کے ساتھ چلنے لگا مگر تھوڑے ہی عرصے میں انکے باہمی اختلافات اور ذاتیات نے متنفر کردیا ۔23 مارچ 1987 کو قلعہ لچھمن سنگھ لاہور میں فضیلۃ الشیخ علامہ شہید کی تقریر کے دوران بم دھماکہ اور نتیجتاً مولانا حبیب الرحمن یزدانی ، عبدالخالق قدوسی،خان نجیب خان،شیخ احسان الحق اور پھرقائد اہلحدیث علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی شہادت نے جہاں بہت سارے مردہ دلوں کو بھی زندہ کرکے جذبہ خدمت دین دیا وہیں میں نے باقاعدہ اہلحدیث یوتھ فورس کراچی کے نظم میں شمولیت اختیار کرلی ۔مگر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں دیگر تنظیمات پر ان دنوں پابندی تھی جس بنا پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا بہرحال میرے رفقاء (کارکنان یوتھ فورس) حافظ عبدالستار عاصم صاحب،عبدالوہاب صاحب،نصراللہ لکھوی صاحب،خالد محمود ظہیر صاحب ،ریاض احمد ظہیر صاحب وغیرہ نے بھرپور انداز میں کام جاری رکھا۔مدینہ یونیورسٹی میں داخلے سے قبل اہلحدیث یوتھ فورس کراچی ڈویژن کا صدر بھی بنایا گیا۔
مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ بھی حیران کن طور پر ہوا عنایت اللہ مغل صاحب کشمیری جو کہ جامعہ ابی بکر کے طالبعلم بھی تھے اور ڈاک بھی لایا کرتے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ الشیخ مسعود عالم صاحب (مدیر تعلیم) نے المعھد الثانوی سے امسال فارغ ہونے والے چند طلباء کے کاغذات مدینہ یونیورسٹی ارسال کیے ہیں ۔میں اس وقت کلیۃ الحدیث کے تیسرے سال میں داخل ہوچکا تھا چنانچہ میں نے اپنی اسناد وغیرہ فوٹو کاپی کروائیں اور بغیر کسی تصدیق از وزارت خارجہ یا سعودی سفارت خانہ اسی دن مدینہ منورہ ارسال کردیں ۔انہی دنوں والد محترم حج کیلئے روانہ ہونے لگےتو میں نے علیحدگی میں خصوصی درخواست کی کہ میرے لئے مقام ملتزم کے ساتھ لپٹ کر دعا کیجئے گا کہ میرا مدینہ یونیورسٹی میں اسی سال داخلہ ہوجائے ۔والد صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے کعبۃ اللہ پہنچ کر پہلی دعا ہی یہی کی ۔چنانچہ وہ دعا ایسے قبول ہوئی کہ والدصاحب جب حج سے واپس کراچی پہنچے تو میں انہیں پنجاب چھوڑنے روانہ ہوا اور مدینہ یونیورسٹی سے میرا اشعار القبول(داخلے کا لیٹر )جامعہ ابی بکر پہنچ گیا ۔مغل صاحب نے یہ خط میرے پنجاب کے پتے پر روانہ کردیا ،میں کراچی پہنچا تو سب سے پہلے طاہر آصف صاحب جامعہ میں مجھے ملے اور کہنے لگے مبارک ہو میں سمجھا والد صاحب کے حج کی مبارکباد دے رہے ہیں زمزم اور کھجور پیش نہ کرسکنے کی معذرت کی تو کہنے لگے آپکا مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ ہوگیا ہے آپکو لیٹر نہیں ملا؟ چنانچہ خوشی سے پھولے نہ سمانے والا حال ہوا ۔اپنا سامان سمیٹا احباب سے الوداعی ملاقات کی ۔الشیخ مسعود عالم صاحب کلاس میں تدریس فرما رہے تھے مگر میں نے مخل ہونے کی گستاخی کرڈالی ۔الوداعی معانقہ کے ساتھ ان سے معذرت بھی چاہی کہ اگر کوئی گستاخی ہوئی ہو تو معاف فرما دیں ۔شیخ صاحب نے بڑی محبت سے رخصت کردیا مگر میرے احباب اور کمرے کے ساتھیوں نے اصرار کیا کہ شام کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں ۔لہذا پنجاب روانگی کا پروگرام اگلے دن تک ملتوی کردیا شام سے پہلے اہلحدیث یوتھ فورس کے دفتر جا کر ساتھیوں سے الوداعی ملاقات کی اور دفتر میں اپنا استعفیٰ چھوڑ کر دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر صادق حسین بسمل (جو کہ جامعہ کے باورچی تھے)انکے ہاتھ کا بنا چکن قورمہ کھایا اور رات کے وقت بڑے بھائی سے ملنے کوثر نیازی کالونی انکے گھر پہنچ گیا دوسرے دن چچا وغیرہ سے ملنے کے بعد پنجاب روانہ ہوگیا اور رشتہ دار ملنے کیلئے آنے لگے ۔اگلے روز والد صاحب کے ہمراہ سعودی کلچرل آفس پہنچا تو اسلم صاحب سے ملاقات ہوئی جو کہ اسی دفتر میں کام کرتے تھے انہوں نے نئے طلباء کی فہرست دیکھی تو میرا نام نہیں تھا ۔میں پریشان ہوگیا کہنے لگے فکر کی کوئی بات نہیں بعض اوقات کچھ طلباء کے نام تاخیر سے پہنچتے ہیں لہذا انتظار کریں کچھ دن شدید پریشانی میں گزارے پھر اپنے شعار القبول کی نقل اور ٹیلیگرام عمید القبول والتسجیل کوبھیجی چنانچہ چند روز بعد نئی لسٹ آن پہنچی جس میں میرا نام بھی تھا۔
الملحق الثقافی سے ویزے کیلئے لیٹر لے کر سعودی ایمبسی پہنچا الحمدللہ نصف گھنٹے میں ویزا اسٹمپ ہوگیا دوبارہ سعودی کلچرل آفس سے سعودی ائیر لائنز کیلئے لیٹر لیا اور دوسرے ہی دن کی ٹکٹ بک کرلی۔والد محترم اسلام آباد ائیر پورٹ تک رخصت کرنے تشریف لائے ۔لاؤنج میں بیٹھے ہو ئے مسافرین میں سے خالد احترام صاحب سے تعارف ہوا موصوف مولانا عبدالرحمن سلفی امام جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان کے بھانجے ہیں اور کئی سالوں سے مدینہ میں ہی مقیم تھے اب یونیورسٹی میں انکا داخلہ ہوا تھا تو بطور طالبعلم نیا ویزہ لگوانے پاکستان آئے تھے وہیں انکے ساتھ دوستی ہوگئی ۔میں نے ارادہ کیا تھا مدینہ منورہ پہنچ کر یونیورسٹی کے بجائے پہلے مسجد نبوی میں حاضری دوں(شاید یہی ادب کا تقاضا بھی ہے)مدینہ منورہ ائیر پورٹ پر پہنچے تو خالد احترام صاحب اصرار کرنے لگے کہ میرے ساتھ گھر چلیں بعد میں آپکو یونیورسٹی پہنچا دوں گا۔میں نے اپنا ارادہ بتایا تو کہنے لگے کہ میرا گھر مسجدنبوی کے بالکل قریب پیدل فاصلے پر ہے لھذا میرے ساتھ چلیں۔انکے دروازے کے باہر ہی سامان رکھا اور وہ مجھے حرم نبوی میں لے آئے ۔پہلی مر تبہ جب حرم نبوی میں داخل ہوا سارا بدن کانپنے لگا ،ظہر اور عصر کی نمازیں حرم شریف میں ادا کیں ۔خالد صاحب یونیورسٹی لے گئے ابتدائی اجراءت ہوئے ۔ہاسٹل میں کمرہ اور بیڈ نمبر الاٹ ہوا سامان وغیرہ رکھا خالد صاحب نے رخصت ہوتے ہوئے بتایا کہ روزانہ شام کو یونیورسٹی کی بسیں نماز مغرب اور عشاء کیلئے طلباء کو مسجد نبوی لے جاتی ہیں خوشی کی انتہاء ہوئی عمارت سے باہر نکلا اور یونیورسٹی کی موقف الحافلات پر پہنچا بسیں تیار تھیں اس طرح دوبارہ حرم نبوی روانہ ہوگیا راستے میں مولانا عبدالرزاق عفیف صاحب سے ملاقات ہوئی (موصوف میرے علاقے کے تھے اور اس سال یونیورسٹی سے فارغ ہوئے تھے مگر ابھی آئے نہیں تھے ۔اس وقت تلہ گنگ شہر میں مسجد حمزہ اہلحدیث مسجد و مدرسہ کے بانی و مہتمم ہیں )دوسرے دن انٹرویو کے بعد باقاعدہ کلاس میں بیٹھ گیا ۔
دوران تعلیم یونیورسٹی رحلات میں مسجد قباء،احد ،خندق،بئر رومہ،بدر،خیبر،تبوک،طائف،مدائن،صالح وغیرہ دیکھے اور ایک خصوصی رحلہ جو ہماری درخواست پر ترتیب دیا گیا تھا اس میں حرم نبوی کی توسیع دیکھی اور اسکے متعلق وہاں کے ترکی انجینئرز کی بریفنگ سنی بالخصوص حجرہ عائشہ رضی اللہ عنھا (جہاں رسول اللہ ﷺو صاحبین ابوبکر و عمر کی قبریں ہیں )کی اندرونی حالت دیکھی ۔شیخ صفی الرحمن مبارکپوری الرحیق المختوم لکھ کر دنیا میں سیرت نگاری پر پہلا انعام حاصل کرنے والے انڈین اہلحدیث سکالر کے متعلق معلوم ہوا کہ موصوف مدینہ یونیورسٹی کے زیر اہتمام قسم السیرۃ والتاریخ الاسلامی میں انسائیکلو پیڈیا تیار کرنے والی ٹیم میں شامل ہیں اور یونیورسٹی میں ہی ڈیوٹی کرتے ہیں ان سے خصوصی ملاقات کیلئے محمد جمال (انڈین طالب علم)کے ساتھ حاضر ہوا ۔پہلی ملاقات میں ہی شیخ موصوف نےعلم و عمل کے ساتھ ساتھ عمر میں بھی بڑے ہونے کے باوجود اپنے دوستانہ رویہ سے اپنے بہت قریب کرلیا چنانچہ اکثروبیشتر مغرب وعشاء کے درمیان حرم نبوی میں ان کے ساتھ رفاقت اور استفادے کی سعادت ملتی رہی۔
رات کے مطالعہ میں ایک اضافی کتاب ’’فتح الباری شرح صحیح البخاری‘‘شروع کی کیونکہ اس کتاب کے متعلق استاد مکرم شیخ محمد شریف صاحب سے ایک جملہ سنا تھا ’’من قرأ الفتح فتح الله عليه‘‘ چنانچہ الحمدللہ مقدمہ اور پہلی نو جلدیں ترتیب وار پڑھ لیں۔متعدد مسابقات ثقافیہ میں حصہ لے کر یونیورسٹی کی طرف سے متعدد مرتبہ قلم، کچھ کتب اور دیگر انعام حاصل کیے ۔التاریخ الاسلامی میں تحریری مقابلے میں حصہ بھی لیا ’’ صوبہ سندھ کی فتح ‘‘ موضوع منتخب کیا بفضل اللہ تعالیٰ مذکورہ موضوع پر عربی میں مقالہ لکھ کر ایک ہزار ریال انعام حاصل کیا ،اسی طرح ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہوا کہ نصاب میں سنن الترمذی اور سنن ابن ماجہ کی منتخب احادیث کی اسانید اور تراجم الرواۃ لکھے ۔استاذ الحدیث دکتور عبدالعزیز البعیمی کو دکھائے انہوں نے بہت پسند کیا اور مذکرہ کاپی کرکے اپنی تمام کلاسوں میں تقسیم کیا ۔
مدینہ یونیورسٹی میں بہت سے پاکستانی طلباء سے دوستی ہوئی بالخصوص محمد ادریس عتیق صاحب،ابو سیف حافظ جمیل احمد صاحب عبیداللہ غازی صاحب ،حافظ اقبال صدیق صاحب وغیرہ۔
الحمدللہ ماہنامہ مجلہ الدعوہ کی تقسیم مدینہ منورہ میں سب سے پہلے میں نے شروع کی میرے بعد شاید مولانا یوسف سلفی صاحب (جواب یوسف طیبی مشہور ہیں) نے یہ کام جاری رکھا۔ خانپور سے تعلق رکھنے والے محبوب احمد صاحب جواب بھی مدینہ منورہ میں کام کرتے ہیں سے دوستی ہوئی ان کے گھر پر کچھ لوگوں سے دعوتی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا محبوب بہت محنت کرتے تھے، مختلف لوگوں کو جمع کر لاتے تھے، عقیدہ کی اصلاح پر خصوصی نشستیں ہوتی رہیں۔ آخری سال میں مولانا عبدالعظیم صاحب جو کہ معہد الشریعہ والصناعہ کوٹ ادو کے سفیر تھے نے مذکورہ ادارے میں تدریس کی پیشکش کی مگر میں فیصلہ کر چکا تھا کہ جامعہ ابی بکر ہی میں کام کرنا ہے لہذا ان سے معذرت کرلی۔
فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب گھر پہنچا تقریباً ایک ماہ تک گھر میں ہی رہا اس دوران علامہ محمد مدنی مرحوم (مہتمم جامعہ اثریہ جہلم) کا ایک خط موصول ہوا اور دو عدد خط قاری عبد الوکیل خانپوری (مہتمم جامعہ محمدیہ خانپور) کی طرف سے موصول ہوئے جن میں ان کے ادارے میں تدریس کے لیے نہ صرف کہ پیشکش کی گئی بلکہ بھر پور مراعات کا بھی وعدہ دیا گیا، ان سے بھی معذرت کی۔
جامعہ ابی بکر پہنچا شیخ محمد ظفر اللہ مرحوم سے ملاقات کی بتایا کہ میں مدینہ یونیورسٹی سے فارغ ہوگیا ہوں فرمانے لگے بس اب جامعہ میں کام شروع کردو۔ دوسرے دن میں نے تحریری طور پر درخواست بھی جمع کروادی جس پر شیخ موصوف نے ایک ہفتہ بعد تنخواہ، المعہد الثانوی میں مختلف مضامین کی تدریس اور دعوتی ذمہ داریاں تحریر کرکے باضابطہ طور پر تقرری فرمادی۔ 28 ستمبر 1993ء سے تدریس شروع کر دی۔ چند روز بعد جب میں المعہد الثانوی کی دوسری کلاس میں اصول حدیث پڑھا رہا تھا۔ شیخ محمد ظفر اللہ صاحب اچانک کلاس میں آکر بیٹھ گئے میں مدرس کی کرسی پر بیٹھنے کی بجائے کلاس میں چل پھر کر ابتدائی مصطلحات کی تشریح کر رہا تھا۔ الحمد للہ شیخ صاحب کے رعب ودبدبہ کے باوجود میری خود اعتمادی متأثر نہ ہوئی چنانچہ موصوف نے دفتر میں بلا کر بہت تعریف کی تین سینئر اساتذہ کی موجودگی میں فرمایا آپ کی ظاہری وجاہت سے مجھے اتنا اندازہ نہیں تھا لیکن آپ کا تدریسی انداز دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ Confident (پر اعتماد) ہیں۔ اور بے تکلفی میں فرمانے لگے بعض پرانے اساتذہ بھی مجھے کلاس میں دیکھ کر اپنی گفتگو اس طرح جاری نہیں رکھ سکتے۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی بتادیا کہ مجھے فلاں فلاں اصحاب نے اپنے اداروں میں تدریس کی پیشکش کی تھی مگر میں مطمئن تھا کہ مجھے اپنی مادرِ علمی (جامعہ ابی بکر) ضرور قبول کر لے گی۔ شیخ صاحب نے فرمایا میری تو ہر ممکن کوشش ہے کہ یہاں کے طلباء اسی ادارے سے منسلک رہیں۔ مجھے ایل ایل بی کا شوق تھا چنانچہ وفاقی اردو کالج شام کی شفٹ میں متعلقہ شعبہ میں داخلہ لے لیا ایک دن کالج سے جب واپس آرہا تھا۔ جامع کلاتھ مارکیٹ کے پاس شیخ محمد ظفر اللہ مرحوم اور شیخ خلیل الرحمن لکھوی صاحب سے آمنا سامنا ہوگیا۔
بتایا کہ قانون پڑھ رہا ہوں خوش ہوئے دوسرے روز مجھے جامعہ ابی بکر سے جامعہ کراچی لے گئے اور فرمایا کہ پی ایچ ڈی کرو مختلف موضوعات جو اس ڈگری کے لیے منظور ہوچکے تھے لسٹ دکھائی اور اپنے ہر طرح کے تعاون کی بھی یقین دہانی کروائی، مگر میری اپنی سستی کہ تأخیر ہی ہوتی گئی۔
میں نے اپریل 1997ء میں کراچی ایئر پورٹ کے عقب بھٹائی آباد میں جامع مسجد المدنی کی بنیاد رکھی۔ شیخ محمد ظفر اللہ نے جون 1997ء میں سپر ہائی وے پر واقع برانچ میں تمام اساتذہ کی دعوت کی وہاں میں نے شیخ مرحوم سے تذکرہ کیا کہ میں نے مسجد کا کام شروع کیا ہے تو فرمانے لگے یہ علاقہ میں نے دیکھا ہے کچی آبادی ہے مگر مستقبل میں اس کی اہمیت ہوگی آپ اپنے قریب مزید پلاٹ خریدنے کی کوشش کریں میں وہاں ہوٹل تعمیر کروں گا تاکہ بیرونی مہمان کے لیے ایئر پورٹ کے نزدیک رہائش بن جائے مجھے شیخ مرحوم کی دوراندیشی پر از حد حیرت ہوئی۔ دوسرے ہی روز پنجاب روانہ ہوگئے اور واپسی پر 30 جون 1997ء کو روڈ ایکسیڈنٹ کے نتیجہ میں شیخ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون
مختلف مساجد میں دروس وغیرہ ہوتے رہے تاہم شیخ خلیل الرحمن لکھوی صاحب کے حکم پر خطبہ جمعہ مسجد خالد بن ولید بالمقابل این ای ڈی یونیورسٹی میں جاری رکھا حالانکہ دیگر متعدد مساجد کی انتظامیہ کی طرف سے بھرپور پیش کش ہوئی مگر اپنے استاد محترم کے حکم کومقدم رکھا چنانچہ 19 سال تک یہاں خطبہ جمعہ میں بیس پارے سورۃالنمل تک کی تفسیر مکمل کی۔ معہدالقرآن الکریم میں متعدد فتنے جنم لیتے رہے ہیں چنانچہ ایک فتنے کی زد میں آتے ہوئے شیخ خلیل الرحمن کے نہ چاہتے ہوئے مجھے وہاں سے خطابت ترک کرنا پڑی۔ احباب کے اصرار پر ماہانہ ایک خطبہ اپنے ادارے المرکزالمدنی اور دو خطبات جمعہ بلال مسجد میں جبکہ چوتھا جمعہ مختلف مساجد میں ہوتا ہے۔
جمعیت اہلحدیث سندھ کے امیر شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی صاحب اور شیخ محمد حسین بلتستانی صاحب ایک روز تشریف لائے اور مجھے اپنے ساتھ گلشن حدید لے چلے۔ شیخ ناصر صاحب فرمانے لگے میرا درس ہے مگر میری طبیعت ناساز ہے آپ درس دیں گے۔
تقریباً نصف گھنٹے کا درس ہوا واپسی پر شیخ نے جمعیت اہلحدیث سندھ کے پلیٹ فارم پر کام کرنے کی دعوت بھی دی مگر میں نے حسب عادت معذرت ہی کی کیونکہ صرف میں نہیں جامعہ کا ہر فارغ التحصیل اس جامعہ سے اتنی ہی محبت رکھتاہے اور شاید یہ نام کا اثر ہے ، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر کے موقعہ پر نبی کریم ﷺ سے عرض کیا تھا کہ ہم وہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے کہا تھا :
اذهب أنت وربك فقاتلا إنا ههنا قاعدون
ہم آپ کو کبھی چھوڑنے والے نہیں ہیں۔
کاش شیخ ظفر اللہ مرحوم کے بعد جامعہ کی انتظامیہ اس جذبے کی قدر کر سکے۔
نومبر 1999ء میں این ای ڈی یونیورسٹی میں بحیثیت لیکچرار اسلامیات کے لیے درخواست دی تحریری امتحان میں 73 امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا، تین ابتدائی پوزیشن ہولڈرز کو انٹرویو کے لیے بلایا گیا چنانچہ الحمد للہ 13 افراد پر مشتمل بورڈ نے انٹرویو میں بھی کامیاب قرار دیا۔ جنوری 2000ء سے یونیورسٹی میں تدریس شروع کر دی اور اپنے ادارے المرکز المدنی کی تعمیر وترقی پر توجہ بھی تیز کر دی ۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مسجد کی دو منزلیں مکمل ہوگئیں، ویلفیئر ہسپتال اور مدرسۃ البنات اور اسکول کی تعمیر ہوچکی ہے اور تین منزلہ عمارت مکمل ہوچکی ہے تاہم دس بیڈز پر مشتمل بیس سال سے ویلفیئر ہسپتال خدمت خلق کر رہا ہے جہاں روزانہ تقریباً 100 مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جارہی ہیں۔ مدرسہ میں تقریباً 260 طالبات اور 93 طلباء زیر تعلیم ہیں اسکول میں 270 طلباء طالبات زیر تعلیم ہیں ان شاء اللہ انٹرمیڈیٹ تک طالبات کے لیے رفاہی اسکول تعمیر بنانے کا ارادہ ہے ۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ’’فتوی ثنائیہ عصر حاضر کے تناظر میں۔ ایک تحقیقی وتنقیدی جائزہ‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کے لیے مقالہ تحریر کر کے ڈگری حاصل کی تحقیقی مقالہ جات کی تعداد 55 ہوچکی ہے جوکہ ملکی و بین الاقوامی تحقیقی مجلہ جات میں شائع ہو چکے ہیں اور اب این ای ڈی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر گریڈ 21 خدمات سرانجام دے رہا ہوں آٹھ مختلف ممالک میں بین الاقوامی کانفرنسز میں عربی اور انگریزی میں خطاب کر چکا ہوں۔شہر میں مختلف مقامات پر ہفتہ وار اور ماہانہ دروس کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بتوفیق اللہ تاہم تمام تر مصروفیات کے باوجود جامعہ ابی بکر کے درودیوار،طلباء اور اساتذہ سے محبت میں کمی نہیں آئی چنانچہ بروز اتوار حاضر ہو کر دو کلاسیں پڑھاتا ہوں بلکہ اکثر وبیشتر صرف زیارت کے لیے حاضر ہوتا ہوں اور اپنے بچوں کو بھی گاہے بگاہے جامعہ دکھانے کے لیے لاتاہوں کہ یہ میری جامعہ ہے۔
مدیر جامعہ کی خدمت میں مشورے اور گزارشات:
1۔ جامعہ میں طلباء اور اساتذہ کے لیے انگریزی زبان کے کورسز کروائے جائیں تاکہ جامعہ کے منسوبین اس بین الاقوامی زبان میں بھی تحریر وتقریر کے ذریعے کلمۂ حق بلند کریں۔
2۔ تصنیف وتالیف کا الگ شعبہ قائم کرکے منظم طریقے سے نشرواشاعت شروع کی جائیں۔
3۔ دار الافتاء میں اساتذہ کرام کے ساتھ طلباء کو جزوقتی ذمہ داری سونپی جائے تاکہ ہمہ وقت فون پر اور تحریر کے ذریعے دینی سوالات کے جوابات سے عوام کی راہنمائی ہوسکے۔
4۔ طلباء کے لیے تربیتی نشستوں کا خصوصی اور مسلسل اہتمام کیا جائے۔
5۔ جامعہ کے طلباء، فضلاء اور اساتذہ شیخ ظفر اللہ مرحوم کا سا اخلاص وپیار مانگتے ہیں۔
تعلیمی کوائف :
میٹرک۔ راولپنڈی بورڈ
انٹرمیڈیٹ۔ کراچی
بی اے ۔ کراچی یونیورسٹی
ایم اے ۔ کراچی یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی
فاضل عربی ۔ کراچی بورڈ
العالمیہ۔ وفاق المدارس السلفیہ
الاجازہ العالیہ۔ مدینہ یونیورسٹی
ایل ایل بی ۔ کراچی
ہومیوپیتھی۔ کراچی
الیکٹرہومیوپیتھی۔ فیصل آباد
پی ایچ ڈی۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
پوسٹ ڈاکٹریٹ۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…