Categories: فروری 2022

روشنی کے چراغ

میرا نام محمد حسین بن نور الدین بن حیدر علی بن محمد حسین بن حافظ محمد لکھوی بن حافظ بارک اللہ لکھوی بن حافظ احمد بن حافظ محمد امین بن مالک عالم شاہ بن ابو داؤد ڈھنگ شاہ ہے۔میرا سلسلۂ نسب محمد بن علی بن ابی طالب رحمہ اللہ المعروف (محمد بن الحنفیہ ) تک پہنچ جاتاہے۔میں رینالہ خورد ضلع اوکاڑہ کے قریب گاؤں چک نمبر 18/1Lمیں پیدا ہوا جب میری پیدائش کی خبر میرے جد امجد حیدر علی مرحوم کو ملی تو انہوں نے میرانام اپنے والد محترم کے نام پر رکھا اور کہا کہ یہ میرا پوتا میرے والد گرامی کا نام پیدا کرے گا مجھے یہ فخر ہے کہ جد امجد نے میری دینی اور عصری تعلیم پر خصوصی توجہ دی ناظرہ قرآن پاک اور ابتدائی کتب خود پڑھائیں پھر مولانا قدرت اللہ لکھوی مرحوم والی مسجد میں قاری نور احمد اور قاری عطاء اللہ کے حلقۂ درس میں بٹھا دیا اور ساتھ ساتھ گاؤں کے پرائمری اسکول میں داخلہ دلوادیا۔ پرائمری کے بعد رینالہ خورد کے مڈل اسکول میں داخلہ لیا مڈل کے بعد ہائی اسکول میں ایڈمیشن لیا۔گاؤں سے رینالہ خورد کا سفر تقریباً 4 کلومیٹر ہے شروع میں روزانہ پیدل اسکول جایا کرتا تھا کچھ سال بعد سائیکل خرید لیا۔ حتی کہ میٹرک کا امتحان پاس کر لیا، پرائمری سے لے کر میٹرک تک جد امجد ہوم ورک اور مطالعہ اپنی نگرانی میں کروایا کرتے تھے۔ اور بعض مضامین خود پڑھایا کرتے تھے خاص کر ریاضی کے ماہر تھے(مجھے یاد ہے کہ مڈل کی کلاسوں میں میرے ریاضی کے نمبر سوفیصد آتے تھے، مڈل بورڈ کا امتحان دینے والے طلباء مجھے کہتے کہ ہمارا ریاضی کا پرچہ آپ حل کردیں) گرمیوں کی چھٹیوں میں حفظ قرآن اور صرف ونحو کی ابتدائی کتب پڑھا کرتا تھا۔

میٹرک تک ان کی اجازت کے بغیر کہیں جانہیں سکتا تھا۔ روزانہ پوچھ گچھ ہوتی تھی حتی کہ رات کو ان کے ہاں سویا کرتا تھا۔ اب میں سوچتا ہوں کہ انہوں نے مجھ پر کتنی محبت اور محنت کی اور مجھے اس مقام تک پہنچایا تو ان کے لیے دعائیں نکلتی ہیں۔ میں ان کے لیے صدقہ جاریہ ہوں۔ إن شاء اللہ

عربی مضمون میرے چچا افتخار الدین حیدر پڑھایا کرتےتھے۔ یوں میٹرک تک تعلیم حاصل کر لی انہی ایام میں الشیخ خلیل الرحمن لکھوی مدینہ یونیورسٹی سے متخرج ہوکر واپس لوٹے تو انہوں نے والد ماجد سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے میرے متعلق بات کی تو والد صاحب نے جد امجد کی طرف بھیج دیا کہ وہی فیصلہ کریں گے۔ جب شیخ صاحب نے بات کی تو جد امجد بخوشی راضی ہوگئے، الشیخ خلیل الرحمن لکھوی مدینہ یونیورسٹی کی طرف سے بحیثیت مدرس جامعہ ابی بکر کراچی میں مبعوث ہوکر آئے تھے۔ ستمبر 1980ء کی بات ہے کہ جامعہ ابی بکر کا یہ ابتدائی تدریسی سال اور میرا بھی ابتدائی سال تھا۔ میرے ہم سفر اور کلاس فیلو محمد حامد لکھوی بن مولانا محی الدین لکھوی مرحوم بھی تھے۔ پہلی مرتبہ اتنا لمبا سفر کیا تھا ڈر تھا کہ کہیں دل نہ اُکتا جائے لیکن شیخ خلیل الرحمن لکھوی کی شفقت پدری اور الشیخ عبد الغفار اعوان حفظہ اللہ کے انداز گفتگو فضیلۃ الشیخ عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ کے بے پناہ جذبۂ تدریس اور فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الجواد خلف عبد الجواد مصری کی مخلصانہ ادارت نے خوب دل لگادیااور طلباء کرام کی بے پناہ محبتوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔

جب ہم جامعہ کے گیٹ کے اندر داخل ہوئے تو سب سے پہلے جس شخصیت نے ہم کو متأثر کیا وہ جامعہ کے محسن ومخلص اور مدیر پروفیسر ظفر اللہ مرحوم دامت برکاتہ تھے۔ ان کا اخلاق وکردار اور سیرت سے ہم بہت متأثر ہوئے ان کے سایہ شفقت میں والدین کی جدائی کا احساس بھی نہ ہوا۔

الحمد للہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ جامعہ کے ابتدائی تدریسی سال سے پڑھنا شروع کیا اور اب تک جامعہ کے ساتھ منسک ہوں یا یوں کہہ لیں کہ میں جامعہ کا پہلا طالب علم ہوں مجھ سے پہلے جامعہ کے اندر کسی طالب علم نے قدم نہیں رکھا تھا۔

کچھ ایام کے بعد طلباء کی گہما گہمی شروع ہوگئی درخواستیں جمع ہونی شروع ہوئیں اور انٹرویو کے لیے تاریخ کا اعلان ہوا۔ الشیخ عطاء اللہ ساجد نے انٹرویو لیا اور مرکز اللغۃ العربیۃ کے پہلے سال میں داخلہ ہوگیا اس وقت مرکز کے تین سال اور کلیۃ الحدیث کے چار سال تھے اب نظام تبدیل ہوچکا ہے۔

مرکز اللغۃ کی پہلی کلاس اور پہلا حصہ الشیخ خلیل الرحمن لکھوی نے پڑھایا عربی میں تدریس تھی اس لیے کچھ پلے پڑ گیا اور باقی کے اوپر سے گزر گیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے محنت کی نعمت سے نوازا، محنت اور جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پہلے سال پوزیشن حاصل کی۔ اس طرح یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا۔اس دوران اصول حدیث کا دورہ ہوا جس میں فارغ التحصیل علماء کرام اور طلباء کرام نے حصہ لیا ، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اساتذہ کی دعاؤں سے پہلی پوزیشن حاصل کی۔

جامعہ میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم حاصل کرنے کی اجازت تھی چنانچہ انٹر(ایف۔اے) کا امتحان پرائیویٹ طور پر پاس کیا۔ مرکز اللغۃ العربیہ کے تین سالہ کورس سے فارغ ہوکر کلیۃ الحدیث کے پہلے سال میں پڑھ رہا تھا تو اساتذہ کرام سے مشورہ کرنے کے بعد ہم تین ساتھیوں نے جامعۃ الملک سعود الریاض میں قسمت آزمائی کے لیے کاغذات بھیج دیئے اور ساتھ ساتھ دعائیں بھی شروع کر دیں۔ اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ اگلے سال ہی میرا اور الشیخ محمد طاہر باغ(مشرف العام جامعہ ابی بکر الاسلامیہ) کا معہد اللغۃ العربیۃ میں داخلہ ہوگیا۔ 1984 کی بات ہے کہ داخلہ کی خبر ہمیں پروفیسر حافظ محمد سعید امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے توسط سے ملی کیونکہ آپ اس وقت جامعہ الملک سعود کے کورس (الدبلوم العالی) سے متخرج ہوئے تھے۔ ہمیں تجسس ہوا کہ وہ کون سے طالب علم ہیں اس خبر کی تصدیق کےلیے ہم نے حافظ صاحب سے پاکپتن میں ملاقات کی انہوں نے ہمیں داخلے کی مبارکباد دی، ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی یہ خبر تمام طلباء کرام اور خاندان میں پھیل گئی۔

اب ہم اشعار القبول(داخلے کا لیٹر) کے منتظر تھے کہ کب ہمارے ہاتھ میں داخلے کا لیٹر آتاہے ہم اس انتظار میں تھے کہ جامعہ میں عید الاضحیٰ کی چھٹیاں ہوگئیں اب ہماری پریشانی مزید بڑھ گئی کہ گھر اور خاندان والوں کو کیا منہ دکھائیں گے۔ اس کشمکش کے دوران میں نے چھٹیاں جامعہ میں ہی گزاردیں۔ عربی محاورے کے مصداق (الانتظار أشد من الموت) جیسے جیسے دن گزرتے گئے ہماری پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا گیا لیکن اللہ اللہ کرکے ایک دن ڈاکیے نے ہمیں لیٹر کی خوشخبری سنائی اور ساتھ ہی مٹھائی کا مطالبہ کر دیا جو ہم نے خوشی سے قبول کر لیا۔ اس وقت جامعہ ابی بکر میں مدیر التعلیم وعمیدکلیۃ الحدیث ڈاکٹر عبد الجواد مصری تھے۔ جب ان کو ہمارے داخلے کی خبر ملی تو بہت خوش ہوئے اور مبارکباد دی اور فوراً ہی (الملحق الثقافی) میں فون کر دیا اور کہا کہ ہمارے جامعہ کے دو طالب علم ویزے کے سلسلہ میں آرہے ہیں ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے۔ جب ہم دفتر پہنچے تو انہوں نے ہمیں اھلا وسھلا کہا اور مبارکباد پیش کی ہم نے کاغذات پیش کیئے تو انہوں نے چند ایام کے بعد مراجع کے لیے کہا جب ہم دوبارہ گئے تو انہوں نے سعود ی قونصلیٹ کے نام ویزے کا لیٹر تھما دیا، قونصلیٹ میں ویزے کے لیے پاسپورٹ جمع کروادیا تو دوسرے جن ویزا اسٹیمپ ہوگیا۔ دوبارہ کلچرل آفس سے ٹکٹ کے لیے لیٹر لیا اور سیدھے سعودی ایئر لائنز پہنچے ٹکٹ لیا اور ایک ہفتہ کے بعد سیٹ بک کروائی اور گھر والوں کو ملنے کے لیے پنجاب چلے گئے۔ سفر سے دو روز قبل ہم جامعہ میں پہنچے یہ دن دعوتیں کھانے میں گزر گئے۔

تعلیمی ایام کے دوران اساتذہ کرام اور طلباء نے بڑی محبت دی یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب جاتے ہوئے تمام طلباء کرام نے بڑی محبت اور دعاؤں کے ساتھ الوداع کیا یہاں تک کہ بعض اساتذہ اور طلباء ایئر پورٹ تک الوداع کرنے کے لیے تشریف لائے۔

جامعہ کے ایام میں ریاض سے ایک طالب علم عبد الالہ معہد اللغۃ میں پڑھتا تھا اس سے دوستی ہوگئی، جب ہم (میں اور شیخ طاہر باغ) ریاض ایئر پورٹ پر پہنچے تمام اجراءات سے فارغ ہوکر باہر نکلے تو پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر چکر لگا رہے تھے کہ ایک پاکستان ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا کیا بات ہےپریشان کیوں ہو؟ ہم نے جواب دیا کہ پہلی مرتبہ ریاض آئے ہیں، دوست کو فون کرنے کے لیے چینج نہیں ہے۔ وہ ہمارے لیے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوا اس نے ایئر پورٹ سے فون کیا لیکن وہ گھر پر نہیں تھا۔ ایئر پورٹ ریاض شہر سے کافی دور تھا۔ اس نے کہا انتظار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ریاض جاکر قریب سے فون کریں گے ہم اُس کے ساتھ بیٹھ گئے۔ ریاض شہر پہنچ کر اس نے پھر فون کیا اب عبد الالہ گھر پر تھا اس نے ہمارے متعلق بتایا اور کہا ہم فلاں جگہ پر آپ کا انتظار کر رہے ہیں وہ تقریباً دس منٹ کے اندر پہنچ گیا۔ ملاقات کے بعد ہمیں گھر لے گیا ہم نے اس پاکستانی کا شکریہ ادا کیا۔ اس نے ہم سے کرایہ بھی وصول نہیں کیا۔ عبد الالہ کے والد محترم ڈاکٹر حسین آل شیخ جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ریاض میں پروفیسر تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی، بہت خوش ہوئے، وہ ایک مرتبہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں آئے تھے۔

بدھ کے روز عصر کے بعد ہم ان کے ہاں پہنچے نماز ادا کرنے کے بعد قہوہ اور کھجوروں کے ساتھ ہماری تواضع کی گئی۔ قہوہ بہت کڑوا تھا ہم سے پیا نہ جاتا تھا مگر مجبوراً دوائی سمجھ کر پی لیا بعد میں ہم قہوہ پینے کے عادی ہوگئے۔ سعودی عرب میں جمعرات اور جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے اس لیے جمعہ تک ہم نے ان کے ہاں قیام کیا۔ عبد الالہ کے ساتھ ہم جمعرات کو ریاض کی سیر کے لیے نکل گئے۔ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد کھانا کھایا پھر ہم ان کے اقرباء کے ہاں خرج شہر جو تقریباً 70 یا 80 کلومیٹر ریاض سے دور ہے چلے گئے۔ وہاں انہوں نے شام کی دعوت کا بندوبست کیا ہمارے سامنے انہوں نے ایک بڑا تھال چاول اورمرغی کا رکھ دیا ہم نے کہا اتنا ہم نہیں کھا سکتے انہوں نے کہا جتنا آپ کھا سکتے ہیں کھالیں بقیہ کھانا ضائع نہیں ہوگا وہ کھانا ہماری عورتیں کھائیں گی۔

ہمیں ان کی بات پر بہت تعجب ہوا اس لیے ہمارے ہاں تو یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ ان کی ثقافت ہے اور یہی سنت رسول اللہ ﷺ ہے۔

عشاء کے بعد ہم وہاں سے آئے اور آرام کیا پھر ہفتہ کے روز صبح سویرے ڈاکٹر حسین آل شیخ نے ہم کو جامعۃ الملک سعود مکتب سکن الطلاب کے مشرف کے پاس چھوڑ دیا۔ پھر ہم نے پاکستانی طلباء کو تلاش کیا تو ہماری ملاقات سب سے پہلے نجیب الرحمن کیلانی سے ہوئی پھر محمود حسین شاہ صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ہمیں اپنے کمرے میں عارضی طور پر ٹھہرایا پھر ہوسٹل حاصل کرنے کے لیے تمام اجراءات مکمل کیئے۔ پھر کلاس روم میں اپنا نام رجسٹر کروانے کے لیے تگ ودو کی یہ تمام کام تقریباً دو تین دن میں مکمل ہوئے۔ ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ کلاس اٹنڈ کرنے سے پہلے عمرہ کی سعادت حاصل کی جائے۔ اور مسجد نبوی کی بھی زیارت کی جائے۔ ہم بھی راضی ہوگئے بحیثیت مسلمان ہر ایک کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ سعودیہ میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلے زیارت حرمین شریفین کی جائے اورمیں سمجھتا ہوں کہ ادب کا تقاضا بھی یہی ہے ۔

ہمارے دوست محمود شاہ صاحب کے پاس گاڑی تھی ان کے ساتھ پروگرام طے ہوا ہمارے ساتھ دو اور ساتھی مل گئے ، ہم پانچ ساتھی ہوگئے ، پروگرام یہ طے ہوا کہ عصر کے بعد ریاض سے سفر شروع کریں گے سب سے پہلے مسجد نبوی کی زیارت کی جائے گی ۔ ریاض اور مدینہ کا فاصلہ تقریباً 1200 کلومیٹر ہے۔ سفر کی تیاری کے لیے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کیا اور سفر شروع کر دیا۔ ارادہ تھا کہ تمام رات سفر جاری رکھا جائے اور فجر کی نماز کے بعد آرام کیا جائے۔ الحمد للہ سفر خیریت کے ساتھ جاری رہا یہاں تک کہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد آرام کی خاطر کمبل وغیرہ نکال لیے تو شاہ صاحب نے کہا کہ سفر جاری رکھا جائے کیونکہ 200 کلو میٹر باقی رہ گیا ہے۔

زیارت مسجد نبوی کے بعد ہی آرام کریں گے۔ ہم نے کہا اگر آپ ڈرائیونگ کرسکتے ہیں تو ہمیں کوئی حرج نہیں ہے۔ سفر پھر جاری ہوا یہاں تک کہ سورج نے اپنا منہ دکھانا شروع کر دیا اب ہم آسانی سے اردگرد کا جائزہ لے سکتے تھے سفر کی تھکاوٹ کی وجہ سے کبھی نیند آجاتی اور کبھی جاگ پڑتے۔ ڈرائیور کے لیے یہ صورتحال خطرناک تھی۔اگر ڈرائیور سوجائے تو تمام معاملہ ہی خطرناک ہوجاتاہے ہم نے دیکھا کہ کبھی کبھار ان کو اونگھ آجاتی تو ان کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ آرام کر لیں کہیں حادثہ نہ پیش آجائے لیکن ڈرائیور مصرتھا کہ سفر جاری رکھا جائے جب صبح کے سات بجے تو ڈرائیور کو اونگھ آگئی سعودیہ میں ڈرائیونگ سیدھے ہاتھ ہوتی ہے جب اونگ آئی تو کار الٹے ہاتھ جاکر پھر سیدھے ہاتھ آئی اور دو تین قلابازیاں کھا کر سڑک کے نیچے دور جاکر کلٹی ہوگئی۔ ہم تمام ساتھی محفوظ رہے مگر الشیخ طاہر باغ کو کان پر چوٹ آئی لیکن بڑی چوٹ سے محفوظ رہے ۔

کار کی ایسی بری حالت ہوئی کہ لوگوں نے کہا کہ اس کار سے کوئی زندہ نہیں بچاہوگا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو محفوظ رکھا۔

مغرب کے قریب مدینہ منورہ پہنچ گئے ایک دن قیام کے بعد عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ چلے گئے۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد ریاض واپس پہنچے اور کلاس اٹنڈ کر لی۔ دو سال کا پیریڈ پلک جھپکتے ہی مکمل ہوگیا اس دوران پروفیسر ظفر اقبال(مدیر الدعوۃ ماڈل اسکول پاکستان) ڈاکٹر عبد اللہ قاضی(پرنسپل قصور کالج) اور شیخ الحدیث حافظ عبد السلام (جامعہ رحمانیہ لاہور) ، الدبلوم العالی میں پڑھنے کے لیے آئے ان کی صحبتوں اور علم سے خوب استفادہ کیا۔

معہد اللغۃ مکمل کرنے کے بعد کلیہ کے لیے درخواست دی جو منظور ہوگئی اور پھر کلیۃ الآداب میں پانچ سال پڑھا تعلیم کے دوران حرمین شریفین کی کئی بار زیارت اور حج ادا کیئے۔ مکہ،جدہ،طائف،مدینہ منورہ،دمام،خرج اور دوسرے مقامات میں یونیورسٹی کے رحلات کے ساتھ شرکت کی۔

اسکاؤٹنگ اور مسابقات میں بھی حصہ لیا، جامعہ کے ہال میں احمد دیدات،الشیخ ابن باز اور الشیخ صالح العثیمین رحمہم اللہ اجمعین کے لیکچر سنے۔

جامعہ کے رحلہ کے ساتھ الشیخ ابن باز رحمہ اللہ کے مکتب میں ان سے ملاقات کی۔

جامعہ میں پاکستانی طلباء کا اسبوعی اجلاس ہوتا تھا جس میں پاکستان کی مشہور شخصیات کو مدعو کیا جاتا تھا۔ ان میں الشیخ پروفیسر ظفر اللہ مرحوم، ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب اور الشیخ حافظ شریف چنگوانی قابل ذکر ہیں۔

ریاض شہر کے اندر مختلف مساجد میں الشیخ ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب کے دروس میں شرکت کیاکرتا تھا اور بعض سعودی مشائخ کے دروس میں بھی شرکت کی۔ خلیج کی جنگ کے دوران جامعہ میں چھٹیاں ہوگئیں تو ہم نے حرم میں ڈیرے جمالیئے۔

مولانا معین لکھوی رحمہ اللہ تعالی عمرہ کی غرض سے مکہ آئے تو ان کے ساتھ بہت سی نشستیں ہوئیں۔ ایک دفعہ ہم ان کو غارِ ثور پر لے گئے، بڑھاپے کے باوجود ہمارے ساتھ پیدل غارِ ثور پر چڑھے۔

تعلیم کے دوران سعودی طلباء سے گہری دوستی ہوگئی جب فارغ ہوئےتو دوستوں نے مشورہ دیا کہ سعودیہ کا مستقل ویزہ لے لیں ہم ویزہ لینے میں آپ کا ہر ممکن تعاون کریں گے لیکن ہم جامعہ ابی بکر الاسلامیہ(مادرِ علمی) میں تدریس کی نیت کرچکے تھے اس لیے ایک خط بنام الشیخ ظفر اللہ مرحوم کے لکھا۔ ریاض کے سفر کے دوران انہوں نے ہم سے ملاقات کی تو بہت خوش ہوئے اور کہا اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہوسکتی ہے آپ تو ہمارے بیٹے ہیں۔ اسی نئے تدریسی سال سے تدریس شروع کر دو۔ میں اور الشیخ طاہر باغ صاحب نے خروج نہائی لگوایا اور پاکستان آگئے۔

میں نے جامعۃ الملک سعود ریاض سے تخرج کے بعد مادر علمی (جامعہ ابی بکر الاسلامیہ) میں 1993ء سے تدریسی فرائض شروع کر دیئے۔

المعہد الثانوی میں مختلف مضامین کی تدریسی ذمہ داریاں سونپیں گئیں۔ اور ساتھ ساتھ میں نے ایم اے اسلامیات کی ڈگری کراچی یونیورسٹی سے حاصل کر لی۔

جب الشیخ ظفر اللہ مرحوم کو ایم اے کی خبر دی تو بہت خوش ہوئے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اب آپ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کرنی ہے میں نے جواباً کہا کس موضوع پر؟ تو فرمانے لگے لکھوی خاندان پر جن کی علمی،دینی اور سیاسی خدمات دوصدیوں پر محیط ہے۔ اور اس رفیع المرتبت خاندان کے علماء کرام نے بے پناہ علمی وتصنیفی اور تدریسی وتعلیمی خدمات سرانجام دیں جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

جامعہ محمدیہ اوکاڑہ، جامعہ ابی ہریرہ رینالہ خورد، جامعہ ابن تیمیہ لاہور، معہد القرآن الکریم کراچی، مرکز تعلیم القرآن دیپالپور، جامعہ عائشہ الصدیقہ للبنات رینالہ خورد، جامعہ محمدیہ للبنات اوکاڑا، مدرسہ تعلیم القرآن للبنات اوکاڑا، حافظ محمد لکھوی مرحوم نے پنجابی اشعار میں تفسیر محمدی سات جلدوں میں لکھی۔

اس خاندان کے اہل علم کا قلم وقرطاس سے ہمیشہ رشتہ قائم رہا ہے لیکن افسوس ہے کہ ان کے بزرگوں کے حالات وسوانح آج تک منضبط شکل میں حیطہ تحریر میں نہیں لائے گئے۔

نہ اس خاندان کے کسی صاحب قلم نے اس کام کی طرف عنان توجہ مبذول کی اور نہ ان کے تلامذہ میں سے کسی نے اس خدمت کو لائق اعتناء جانا حالانکہ ان کے تلامذہ کی وسعت پذیر فہرست میں بہت سے حضرات علم وفضل اور تحریر وکتابت میں منفرد حیثیت کے حامل ہیں۔

لکھوی خاندان کے علماء کرام مروجہ علوم وفنون میں عبور ومہارت رکھنے کی بناء پر قبلہ گاہ شائقین علم تھے۔ اور بلاشبہ بعض اصحاب تدریس جن میں مولانا عطاء اللہ لکھوی مرحوم جو فنون میں درجہ امامت پر فائز تھے۔

مولانا محمد علی لکھوی مرحوم نے مدینہ منورہ جاکر مسجد نبوی میں غلغلہ درس بلند کیا او ردیار عرب اور افریقہ کے علماء وطلباء پر اپنے فضل وکمال کی دھاک بٹھا دی۔

یہ گفتگو سن کر میرے دل میں یہ ولولہ پیدا ہوا کہ ان شاء اللہ میں ضرور اس خلا کو پُر کروں گا تو اس جذبہ کےتحت میں نے کراچی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا۔ اور میرے مقالہ کا موضوع برصغیر پاک وہند میں لکھوی خاندان کی علمی،دینی اور سیاسی خدمات کا تحقیقی جائزہ ہے۔

یہ مقالہ چھ ابواب پر مشتمل ہے جن کے تحت میں نے خانوادہ لکھویہ کی ابتداء اکابر علماء کرام کے تذکرے، علمی وتصنیفی خدمات کا جائزہ، دینی اور دعوت وتبلیغ کی سرگرمیاں اور سیاسی سرگرمیاں درج کی ہیں۔

ان موضوعات پر میں نے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ اور لکھوی خاندان کے اکابر علماء کرام کے تذکرے تفصیل سے ذکر کیئے ہیں ان میں سے حافظ محمد لکھوی، محدث مولانا عبد القادر لکھوی، مولانا عطاء اللہ لکھوی، مولانا محمد حسین لکھوی، مولانا محی الدین لکھوی، مولانا محمد علی لکھوی، مولانا عبد الرحمن لکھوی، مولانا حبیب الرحمن لکھوی، مولانا عزیز الرحمن لکھوی، حضرت مولانا معین الدین لکھوی، مولانا شفیق الرحمن لکھوی، مولانا صلاح الدین حیدر لکھوی، مولانا حفیظ الرحمن لکھوی ومولانا مفتی ڈاکٹر خلیل الرحمن لکھوی قابل ذکر ہیں۔

دینی خدمات کے تحت میں نے اکابر علماء کرام کا تذکرہ کیا ہے، جنہوں نے اس خانوادہ سے براہِ راست استفادہ کیا جس میں سے مولانا عبد الوہاب محدث دھلوی امیر جماعت غرباء اہلحدیث، قاطع مرزائیت مولانا ثناء اللہ امرتسری، حافظ عبد اللہ محدث روپڑی، حضرت مولانا عبد الجبار کھنڈیلوی، مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی، مولانا اسحاق بھٹی اور ڈاکٹر مجیب الرحمن آف امریکہ قابل ذکر ہیں۔

یہ مقالہ میں نے برائے حصول سند پی ایچ ڈی لکھا ہے اور ان شاء اللہ یہ مقالہ عنقریب کتابی صورت میں منصۂ شہود پر آئے گا۔

تدریس کے ساتھ ساتھ کراچی کی مختلف مساجد میں دروس اور خطبات کا سلسلہ بھی شروع کیا ہوا ہے اور آجکل مسجد بیت الرضوان میٹروول میں مستقل خطابت کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں اورنداء الجامعہ لاہور اور مجلہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں مضامین لکھ رہا ہوں کچھ چھپ چکے ہیں اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

تدریسی فرائض کے ساتھ ساتھ ادارتی ذمہ داریاں بھی سرانجام دے رہا ہوں۔ 2004 سے لے کر 2007ء تک ادارۃ الامتحانات کی ذمہ داری رہی۔2008ء سے لے کر 2010 تک مدیر المعہد العلمی الثانوی کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیئے۔ 2011 سے لے کر اب تک مدیر التعلیم اور عمید کلیۃ الحدیث الشریف کے فرائض سرانجام دے رہاہوں۔ وللہ الحمد

تعلیمی کوائف:

میٹرک ملتان بورڈ

انٹرمیڈیٹ کراچی بورڈ

شہادۃ ثانویہ ابو بکر اسلامک یونیورسٹی کراچی

بی اے ریاض یونیورسٹی سعودی عرب

ایم اے کراچی یونیورسٹی

پی ایچ ڈی کراچی یونیورسٹی

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago