Categories: فروری 2022

مدارس دینیہ ،علم و عرفان کے روشن منارے

ایک اسلامی معاشرے کی بقا و سلامتی میں جہاں دیگر عوامل کا کردا ر اہمیت رکھتا ہے وہاں ایک اہم ترین پہلو اس معاشرے میں قرآن و حدیث کی تعلیمات بھی ہے۔بلکہ اسلامی معاشرے کی بنیاد ہی قرآن و سنت کی تعلیمات ، ان کی نشر و اشاعت اور اساتذہ کرام کا ان علوم کو معاشرے کے افرد کے فکر ونظر میں راسخ کرنا ہے۔اور اس مقصد کے لیے مدارس کا قیام وہ مضبوط ستون ہیں جن پر الہامی علوم کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

بر عظیم پاک و ہند علوم دینیہ اور قرآن و سنت کی دعوت و تبلیغ اور نشر و اشاعت کا بہت بڑا مرکز رہا ہے۔ہندو پاک میں اپنے علم و فضل سے اسلام کا پرچم سر بلند رکھنے والے سینکڑوں جید علما کرام کی دینی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں۔ بیشتر علما کرام نے قومی سیاست میں بھی ہمہ جہت خدمات انجام دی ہیں اوراسلام کی نظریاتی ، معاشرتی ،سماجی اور سیاسی حفاظت کے لیے اپنے خون سے تاریخ رقم کی ہے۔

اگر آج کے جدید فکر و فلسفہ اور گمراہ کن معاشرے میں اسلامی اقدار کا وجود، مساجد کا قیام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی روح باقی ہے اورجو قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں تو یہ بلاشبہ ان دینی مدارس کی مرہونِ منت ہیں۔یہ دین متین کے وہ سودائی ہیں جنہوں نے فقر و فاقہ جھیل کر اور دنیا کے عیش و آرام ٹھکرا کر دین کے پودے کی آبیاری کی اور اسے کسی موقع پر مرجھانے نہ دیا اور اسے ایک ایسا گھنا شجر طیبہ بنا دیا جس کے سائے تلے ہزاروں علم کے پیاسوں کی تشنگی دور ہوئی ۔مدارس کانظم و نسق ، ادب و احترام، شفاف ماحول استاذ و تلمیذ کے درمیان عزت و تکریم کا تعلق، قرآن و حدیث ،فقہ اور دین کے بنیادی فلسفہ کا شعوری ادراک، عزتِ نفس اور احترامِ آدمیت کا مکمل شعور مدارس کی تعلیمات کا اساسی وصف ہے۔

ماضی میں بھی عالم اسلام میں عموماً اور مشرقی علاقوں میں خصوصاً مدارس کی اس قدر بہتات تھی کہ ابن جبیر جو اندلس کا مشہور سیاح تھا ، مدارس کی اتنی کثیر تعداد، ان کے اوقاف اور وافر غذائی پیداوار دیکھ کر ششدر رہ گیا اور اس نے اندلس کے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ مشرق جاکر علوم حاصل کریں۔

مفکر اسلام علامہ اقبال دینی مدارس کی افادیت، اہمیت اور ان کی خدمات کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں۔’’ ان مکتبوں ، مدرسوں کو اسی حالت میں رہنے دو، غریب مسلمانوں کے بچوں کو ان ہی مکتبوں میں پڑھنے دو۔اگر یہ ملاّ اور درویش نہ رہے اور مسلمان ان مکتبوں کے اثر سے محروم ہوگئے تو صورتِ حال بالکل وہی ہوگی جو اسپین میں ہے کہ وہاں آٹھ سو برس مسلم حکومت کے با وجود آج غرناطہ اور قرطبہ کے کھنڈر ، الحمرا اور باب الخواتین کے سوا اسلام کے پیروؤں اور اسلامی تہذیب کے آثار کا کوئی نقش نہیں ملتا۔‘‘

وطن عزیز کے طول و عرض میں علوم دینیہ اور تہذیب و تمدن کے چراغوں کو فروزاں کیے ہوئے یہ دینی مدارس رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر اسلامی اقدار اور روایات کے فروغ کے لیے شبانہ روز کوشاں ہیں۔مدارس کا سب سے بڑا کردار قرآن و حدیث کی زبان عربی کو اس کی پوری صحت او ر اس کی فصاحت وبلا غت کے ساتھ زندہ رکھنا ہے، جبکہ عصری علوم کے ادارے دنیا کی اس عظیم زبان سے یکسر محروم ہیں اور مغربی زبان اور اس کے فکر و فلسفہ کو حرزِ جاں بنائے بیٹھے ہیں ، عربی اور قومی زبان اردو ان کے لیے شجر ممنوعہ ہے۔اور وہ اپنا یہ احساسِ کمتری نئی نسل کے ذہنوں میں انڈیل رہے ہیں۔

دینی مدارس سے بغض و عداوت اور ان پر بے بنیاد تنقید اور مختلف حربوں سے ان کو ہراساں کرنے کا اصل سبب ،مغرب کے ایجنڈے کی تکمیل ہے جو اس نے عرصہ دراز سے امت مسلمہ پر مسلط کیا ہوا ہے۔عسکری میدانوں میں اپنی شکست خوردگی کو محسوس کرکے اب انہوں نے اپنا ہدف تبدیل کردیا ہے۔اب وہ امت مسلمہ کی نسل نو اور ان لوگوں کو جو اسلام کو اپنی ذہنی اور عملی عیاشیوں کے لیے سدِّراہ سمجھتے ہیں، اپنے دست راست کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔کیونکہ وہ مسلمانوں کے درخشاں ماضی سے سہما ہوا ہے۔ اقبال نے ابلیس کا قول نقل کیا ہے:

ہے اگر مجھ کو خطر کوئی تو اُس اُمت سے ہے

جس کی خاکستر میں ہے اب تک شرارِ آرزو

خال خال اس قوم میں اب تک نظر آ تے ہیں وہ

کرتے ہیں اشکِ سحر گاہی سے جو ظالم وضو

قرآن و حدیث اسلامی تعلیمات کا منبع ہیں اور دینی مدارس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسلامی تعلیمات کے ماہرین، قرآن وحدیث پر گہری نگاہ رکھنے والے علما اور علوم اسلامیہ میں دسترس رکھنے والے رجالِ کار پیدا کیے جائیں جو مستقبل میں مسلمان معاشرہ کا اسلام سے ناتا جوڑنے ، مسلمانوں میں اسلام کی بنیادی اور ضروری تعلیم عام کرنے اور اسلامی تہذیب و تمدن کی ابدی صداقت کو اجاگر کرنے کا فریضہ انجام دیں۔ اور بلا شبہ مدارس اپنے اس بلند مقصد کے حصول میں بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ آج برعظیم میں اسلام کی جو روشنی نمایا ں نظر آتی ہے ، در حقیقت وہ ان ہی مدارس کا فیضان ہے۔

آج پوری دنیا میں مسلمانوں کو بحیثیت ایک ملت کے ختم کرنے کی کوشش جاری ہے۔ہمارا دشمن ہمارے ملی وجود اور تہذیبی خصوصیات کی بیخ کنی کرنے پر آمادہ ہے۔اگر آج اسلام اپنی تمام خصوصیات و امتیازات کے ساتھ نظر آرہا ہے ، تو وہ انہیں مدارسِ عربیہ کے طفیل سے ہے ۔ اگر یہ مدرسے نہ ہوتے ، اگربچوں اور بچیوں کا قرآن و سنت کی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والے یہ علما کرام، شیخ عظام اور اساتذہ کرام نہ ہوتے تو ہمارے بچے اور کچھ ہوتے نہ ہوتے کم از کم مسلمان نہیں ہوتے۔ یہ ادارے لاکھوں بچوں کے کفیل بھی ہیں اور ناخواندگی کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کا مؤثر ذریعہ بھی۔ آج جو طول و عرض میں بڑی چھوٹی مساجد نظر آرہی ہیں اور جن سے اللہ اکبر کی صدائیں سنائی دیتی ہیں یہ ان ہی مدارس کی عطا ہے ۔یہ وہ پاسبانِ منبر و محراب ہیں جن کے وجود سعیدسے یہ روشن و تابناک شمعیں روشن ہیں ، علم و عرفان کی یہ شمعیں نہ ہوتیں تو آج انسانیت دین الٰہیہ سے محروم جہالت کے اندھیروں میں ٹھوکریں کھا رہی ہوتی ۔

سید علامہ سلیمان ندوی رحمہ اللہ مدارس کی اہمیت و ضرورت اور مسلم معاشرے پر ان کے احسانِ عظیم کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ ہم کو یہ صاف کہنا ہے عربی مدرسوں کی جتنی ضروت آج ہے ، کل اس کی ضرورت آج سے بڑھ کر ہوگی ۔مدارس جہاں بھی ہوں، جیسے بھی ہوں کسی بھی مکتب فکر سے ہوں ان کا سنبھالنا، چلانا اور انہیں قائم رکھنا مسلمانوں کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ اگر ان عربی مدرسوں کا کوئی اور فائدہ نہ بھی ہو تو یہ کیا کم ہے یہ غریب طبقوں میں مفت تعلیم کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ‘‘

اپنی مدد آپ کے طور پر ان دینی مدارس کا قائم و دائم رہناخالق کائنات کا خصوصی فضل وکرم اور احسانِ عظیم ہے۔ اور ان مدارس کے اکابرین اور اساتذہ کرام کی نیک نیتی اور دین حق کی نشر و اشاعت اور دعوت تبلیغ کا دنیا میں بول بالااور ان کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ خیز ہونا اللہ ربّ العزت کی طرف سے شرفِ قبولیت کا واضح ثبوت ہے۔قرآن و سنت کا علم نافع دینے والے استاذ کی قدر و منزلت اللہ کے رسول ﷺ کے اس فرمان سے واضح ہوتی ہے کہ:

وَإِنَّ الْعَالِمَ لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ، وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ، كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ

’’عالِم کے لیے آسمان و زمین کی ہر مخلوق ، حتٰی کہ مچھلیاں پانی میں مغفرت کی دعاکرتی ہیں اور علم کی فضیلت عابد پرایسے ہے جیسے چاند کو ستاروں پر فضیلت حاصل ہے اور علما انبیاکے وارث ہیں اور انبیا نے اپنے ورثے میں دیناراور درہم نہیں چھوڑے، وہ تو (دین ) کا علم ہی ورثے میں چھوڑ کر جاتے ہیں ، پس جس نے وہ علم حاصل کیا ، اس نے

(شرف و فضل) کا یک بڑا حصہ حاصل کر لیا۔‘‘( ابو داؤد:3641، ترمذی:2682)

جس طرح گھر محض درو دیوار ، فرش اور چھت ، رنگ و روغن اور آرائش و زیبائش کا نام نہیں ہوتا بلکہ گھر انسانوں کے ایک د وسرے کے احترام،رواداری، محبت و اخوت اور دکھ درد میںاشتراک کا نام ہے۔اسی طرح کسی بھی تعلیمی ادارے میں خواہ وہ عصری علوم کے ہوں یا علومِ دینیہ کے۔اس کے دو اہم ستون ہوتے ہیں جو اس کی عمارت کو استحکام اور اس کے ماحول کو سکون و راحت پہنچاتے ہیں۔ ایک اساتذہ و مشائخ اور دوسرے طلبہ۔ ادارے کو فعال بنانا ، حصول علم کے ساتھ تہذیب و اخلاق ، شائستگی، ادب و احترام اور حفظ مراتب کا لحاظ رکھنا لازمی امر ہے۔یہی چیزیں اداروں کو بے مثال اور علم و فضل کا مقام عطا کرتی ہیں۔

اس میں جو سب سے اہم چیز ہے وہ ہے ایک شاگرد یا طالب علم کا اساتذہ کے ساتھ رویہ(attitute)ہے۔ سورۃ الکہف میں سیدناموسیٰ علیہ السلام اور سیدناخضر رحمہ اللہ کا ذکر کیا گیا ہے جس میں ایک استاذ کے مقام و مرتبے اور طالب علم کے صبر اور حصول علم میں عجلت کو بیان کیا گیاہے۔اور بتایا گیاہے کہ طالب علم پر استاذ کا احترام اور اس کے مرتبے کا لحاظ کتنا ضروری ہے۔ اس حوالے سے امام رازی رحمہ اللہ ’’تفسیر کبیر ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’جان لو کہ یہ آیتیں بتا رہی ہیں کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے جب سیدناخضر سے تعلیم حاصل کرنی چاہی تو بہت سارے (شاگردانہ اور طالبانہ) آداب و نرم خوئی کا مکمل خیال رکھا۔‘‘(یہاں اشارہ سورہ لکہف کی آیت 66 کی طرف ہے)

امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ یہ سفر حضرت موسیٰ علیہ السلام پرفرض نہ تھا مگر حصول فضائل کے لیے آپ نے اس پُر مشقت سفر کو بر داشت کیا، طالب علم کو چاہیے کہ ارادہ بلند رکھے ،ایک جگہ فرمایا :

لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا (الكهف:62)

’’ ہمیں اس سفر میں بہت تکلیف دہ تھکاوٹ برداشت کرنی پڑی ہے۔‘‘

معلوم ہوا کہ راہِ علم میں مسافتیں جس قدر کٹھن ہوتی ہیں اسی کے مطابق ہمت و حوصلہ کو بروئے کا ر لا کر ہی اس دشت خار زار کی منزلیں طے کی جاسکتی ہیں۔

حصول علم کے حوالے سے رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ:

تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، وَتَعَلَّمُوا لِلْعِلْمِ السَّكِينَةَ، وَالْوَقَارَ، وَتَوَاضَعُوا لِمَنْ تَعْلَمُونَ مِنْهُ (المعجم الأوسط،ح:6184)

’’ علم سیکھو اور علم کے لیے سکون و وقار سیکھو اور جس سے استفادہ کرو اس کے آگے توا ضع و انکساری سے پیش آؤ۔‘‘

مجمع الزوائدمیں لکھا ہے کہ ثابت بنانی رحمہ اللہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے شاگرد اور مشہور تابعی ہیں۔جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاتے تو ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیتے ، اس لیے سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنی لونڈی سے کہا کرتے تھے کہ میرے ہاتھوں میں خوشبو لگادے، وہ آئے گا تو بغیر ہاتھ چومے نہ جائے گا۔‘‘سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: ’’ عالِم اپنی قوم میں مثل نبی کے ہوتاہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کی شان میں فرمایا ہے کہ اگر لوگ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود باہر دولت کدہ سے تشریف لاتے تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہوتا۔‘‘(بحوالہ: سورۃ الحجرات)

مذکورہ بالاتمام حالات و واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شاگرد یا طالب علم کو استاد کی عزت و احترام میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہیے، اس کو باپ کے برابر معزز اور محترم سمجھنا چاہیے ،یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جس کے صلب سے انسان پیدا ہوتا ہے وہ اسے اس مادی دنیا میں لانے کا سبب بنتا ہے جبکہ علم دینے والا استاذ روحانی باپ ہوتاہے اور وہ طالب علم کی روح کو سیراب کرتا ہے اور اس میں قرآن و سنت کے حوالے سے للہیت، تقویٰ اور اس کی کردار سازی کی نشوونما کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ طالب علم کو اس کا مقصد زندگی سمجھاتا ہے اور دنیا اور آخرت کی زندگی کی بھلائیاں کیسے حاصل ہوتی ہیں اس کا شعوری احساس اس کے قلب و نظر میں اجاگر کرتا ہے۔

دراصل استاذ اور شاگرد کے مابین رشتہ ایک مقدس رشتہ ہوتا ہے۔ جو تحصیل علم کے لیے بنیادی اکائی اور بہت بڑا عنصر ہے۔ اور اس تقدس کی نزاکت کو محسوس کرنا اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا دونوں کے لیے لازمی ہے۔استاذ کااپنے مقام و مرتبے کو پیش نظر رکھتے ہوئے شاگرد کے ساتھ مشفقانہ رویہ رکھنا ضروری ہے ، اس لیے کہ پیار و محبت اور حسن سلوک سے تو وحشی جانور بھی انسان کے مطیع و فرمانبردار ہوجاتے ہیں ،ان کے شاگرد تو اشرف المخلوقات میں سے ہیں ،ان کو سدھارنا ، تربیت کرنا ، ان کی کردار سازی کرنا اور معاشرے کا ایک صالح انسان بنانا جانورکو سَد ھانے سے کہیںزیادہ آسان ہے۔بہت زیادہ سخت رویہ ذہنی تناؤ پیدا کرتا ہے ،پھر فیصلے جذبات کے زیر اثر ہونے لگتے ہیں ۔عام طور پر شاگرد عمر کے اس حصے میں ہوتے ہیں جس میں قوت فیصلہ کی کمی ہوتی ہے۔ جذباتیت شعور کو اپنے تابع کر لیتی ہے اور پھر علم و عمل کی راہیں دھندلاجاتی ہیں۔یہ موقع استاذ کے لیے بلا شبہ مشکل ہوتا ہے مگر وہ اپنے علم کی گہرائی اور وسعت قلبی سے کام لے کر اپنے شاگردوں کو بھٹکنے نہیں دیتا۔ یہ شاگرد ہی تو اس کا اثاثہ ہوتے ہیں جن کو وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے،پھر بھلا وہ کیسے اس اثاثے کی طرف سے غافل ہوسکتا ہے۔

آخر میں ایک ذرا تلخ بات نوکِ قلم پر آرہی ہے کہ استاذ اور شاگرد کا یہ مقدس اور روحانی رشتہ دینی تعلیمی اداروں سے بھی رخصت ہورہا ہے۔دنیاوی (عصری) تعلیمی اداروں میں تواس کا تصور ہی عنقا ہے، لیکن رفتہ رفتہ اب دینی طلبہ اور اساتذہ میں بھی اس مستحکم، مربوط رشتے کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔اور اب یہ رشتہ محض رسمی اور نام کی حد تک باقی رہ گیا ہے اور وہ بھی درس گاہ کی حدود اور پڑھائی کے اوقات تک!پھر اس سے آگے (درس گاہ سے باہر) استاذ اور شاگرد میں رابطے کا فقدان اور عقیدت و ادب و احترام کی کمی واقع ہورہی ہے۔اب چونکہ طلبہ اور اساتذہ میں وہ تعلق قائم نہیں رہا ، اس لیے علمی ذوق اور علمی رنگ بھی ان میں پیدا نہیں ہوتا۔علمی استعداد اور عملی تربیت سب ہی کمزور پڑ گئی ہیں۔اس لیے مدارس میں طلبہ کی تربیت اور اساتذہ کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا اور ایسے طریقے اختیار کرنا بہت ضروری ہیں کہ طلبہ اور اساتذہ میں باہم ربط و مناسبت پیدا ہوجائے۔

اساتذہ کرام اور طلبہ کے مابین روابط و مناسبت

اساتذہ اور طلبہ کے مابین ربط و مناسبت اور ذہنی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے اور طلبہ کی نظر میں اساتذہ کا مقام و مرتبہ اور ان کی اصل حیثیت کو سمجھنے کے لیے ایک اہم چیز اکابرین کی سوانح عمری) Auto-biography (کا مطالعہ طلبہ کے ذہن میں کشادگی ، وسعت اور فہم وفراست پیدا کرتا ہے۔ ایک صاحب علم کی ان کوششوں کو جاننے کے لیے کہ انہوں نے کسی بھی شعبہ میں جو اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے اس کے لیے اسے کن دشوار گھاٹیوں سے گزرنا پڑا ہے ، کسبِ علم کے لیے علم و عرفان کی شمع سے روشنی حاصل کرنے کے لیے کہاں کہاں خاک چھاننی پڑی ہے۔کیونکہ حصول علم سے صاحبِ علم بننے تک کا سفر بڑاہی صبر آزما اور تھکا دینے والا ہوتا ہے۔انگریزی کی ایک کہاوت ہے کہ:

Like a candle one should melt in the pursue of knowledge

’’ آدمی کو علم کے پیچھے موم بتی کی طرح پگھل جانا چاہیے۔‘‘

جب انسان اپنی خواہشات، اپنی تمناؤں اور اپنے عیش و آرام کو علم کی خاطر خیرباد کہہ دیتا ہے تب اسے علم کی یہ بلندیاں نصیب ہوتی ہے۔ سوانح عمری انسان کی انہیں کاوشوں ، قربانیوں اور زندگی کی کٹھنائیوں سے گزرنے کا نام ہے۔کامیاب اور فاتح لوگوں کی سوانح حیات طلبہ کے اندر جوش و ولولہ کی ایک نئی روح پھونک دیتی ہے۔اور اپنے اساتذہ اور اکابرین کی زندگیوں کو اپنے لیے مشعل راہ بنانے کا جذبہ قلب و ذہن میں متحرک ہوجاتا ہے۔ جو لوگ اپنی سوانح حیات قلمبند کرتے ہیں ان کا طالبان علم پر یہ احسانِ عظیم ہے کہ ان کو پڑھ کر ذہن کی وہ تمام پرتیں کھل جاتی ہیں جن پر ذہول و نسیان کی گرہیں پڑی ہوتی ہیں۔

علوم دینیہ کے طلبہ کے لیے اپنے اساتذہ ، شیوخ ، علما اور فضلا کی سوانح حیات کا گہرا مطالعہ ان کی علمی استعداد میں اضافہ اور ان کی ذہنی صلاحیتوں کو مہمیز کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔اس عمل میں یہ چیز بھی ذہن میں رہے کہ طالب علم اپنے ذہن کو ہر قسم کے ریب و تشکیک سے پاک کر کے اور اساتذہ کرام سے کسی بھی قسم کا سوئے ظن رکھے بغیر خالی الذہن ہوکر اور اپنی اصلاح اور کردار سازی کے نقطہ نظر سے ان کی زندگیوں کے اتار چڑھاؤ اور ان کے تہذیب و اخلاق کے پہلوؤں پر ایک طالبانہ انداز میں غور و تدبر کرے۔ اساتذہ کا ادب و احترام طلبہ کو مستقبل میں عزت و وقار عطا کرتا ہے۔کیونکہ عزت کر کے ہی عزت حاصل ہوتی ہے۔

اساتذہ کو بھی اپنے طرز عمل میں وقار اور اخلاص پیدا کر کے نیت نیتی سے طلبہ کے ساتھ ربط و تعلق کی ڈور کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے، بعض طلبہ بڑی حساس طبیعت کے حامل ہوتے ہیں ، دوران درس و تدریس ان کی عزت نفس کا خیال رکھنا بھی استاذ اور شاگرد کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔طلبہ کی غلطیوں پر مشفقانہ انداز میں سرزنش کرنا استاذکے بڑے پن کا اظہار ہے۔

یہ ذہن میں رہے کہ شاگرد جب اساتذہ کی سوانح حیات کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے ذہن میں اپنے استاذ کے لیے اس کی عظمت اور تقدس کا ایک ہالہ بن جاتاہے او ر وہ اسی تناظر میں استاذ کی شخصیت کو دیکھتا ہے۔استاذ اور شاگرد دو ایسی ہستیاں ہیں جو علم کی رسی کو دونوں جانب سے تھامے ہوتے ہیں۔ اگر رسی میں ضرورت سے زیادہ تناؤ پیدا ہوجائے تو اس کے ٹوٹنے کا احتمال پیدا ہوتا ہے۔

جو سوانح عمری لکھتا ہے اسے اپنی تحریر اور عمل میں مطابقت پیدا کرنا لازمی ہے، اہل علم کا سوانح حیات لکھنے کا مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ اس کو پڑھ کر طالبان علم کے دل میں علم کی محبت کے چراغ روشن ہوں اور اس کے اندر حصول علم اور تدریس علم کی حرارت پیداہو۔یہ علم دین کی خدمت کا ایک انداز ہے جو بعد از موت بھی لوگوں کو نفع پہنچاتا رہے گا۔ اور شاگرد کو بھی سوانح حیات کے آئینہ میں خود کو دیکھ کر صاحب سوانح حیات کی شخصیت میں خود کو ڈھالنا علم اور عالم کے رشتے کو بنیانِ مرصوص بنانا ہے۔

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago