ابی جی رحمہ اللہ نے کہا کہ:
«عمر فاروق بھائی (فضیلۃ الشیخ الاستاذ عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ) مدارس میں وہی لوگ کیوں آتے ہیں جو ڈاکٹر ، انجینئر ، آرمی مین یا وکیل نہ بن سکے، یعنی ساری ذہانتیں دنیاوی میادین کی طرف چلی جاتی ہیں»
شیخ عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ نے اس جملے پر بحث نہیں کی کہ ایسا نہیں ہے یا یہ غلط ہے یا اس کی وجہ یہ ہے بلکہ ابن (روحانی) ابراہیم علیہ السلام بنتے ہوئے یہ کہا:
بھائی جان آپ کے بیٹے تو ڈاکٹر، انجینئر ، وکیل اور آرمی مین بن سکتے ہیں نا تو آپ اپنے بیٹے دیجیے۔
اب ابی جی رحمہ اللہ نے بڑے بھائی وقار فیض سے پوچھا : نہیں ابی جی مجھے مولوی نہیں بننا (وہ الگ بات ہے کہ اپنے فیصلے کا مداوا اس طرح کیا کہ اپنا لاڈلا اور چہیتا بیٹا ناسک فیض جامعہ ابی بکر کو دے دیا )
ان سے چھوٹے بھائی انوار فیض سے پوچھا : تو ان کا جواب تھا،ابی جی نہیں مجھے مولوی بننے کا کوئی شوق نہیں۔
آخر کو قسمت کا ھما اور قرعہ فال میرے نام نکلامیٹرک کے امتحان دے کر فراغت ہی فراغت تھی۔
اور اس سے قبل ایسے ہی ایک دن قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ شیخ عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ حسب معمول جمعرات کو گھر تشریف لائے تو انہوں نے دیکھا کہ میں قرآ ن ،مجید کی آیت پڑھنے کے بعد اس کا ترجمہ پڑھتا ہوں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا تمہیں قرآن مجید سمجھنے کا شوق ہے ؟
سو عربی زبان سیکھنے کے لیے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں داخلہ لے لیا تاکہ قرآن مجید سمجھنے میں آسانی ہو جائے۔
ابتدائی ایام میں بعض غیر ملکی اساتذہ (جن میں سے ایک صومالی استاد بعد میں مدیر تعلیم بھی بنے، ایک لبنان کے استاد تھے اور ایک مغرب الجزائر سے تھے)اور ایک پاکستانی استاد کے سخت و جابرانہ رویوں سے تنگ آ کر ارادہ کیاکہ:
یہ میدان میرے لیے نہیں جہاں سختی ہی سختی ہے کیونکہ میں جس تعلیمی ماحول سے آیا تھا وہاں ایسی کوئی سختی نہ تھی بلکہ کتابیں تو پڑھائیں جاتی تھی لیکن تربیت نہ تھی لیکن پھر بھی تربیت میں جبر کبھی بھی اچھا نہیں لگا ۔
اس طرح چلنا ہے اس طرح بیٹھنا ہے ،پینٹ شرٹ نہیں پہننی، بال اس طرح بنانے ہیں اسی طرح نہیں وغیرھا اور جو بات نہ مانے اس پر سزا۔۔۔ یہ ابتدائی مہینوں کی داستان ہیں جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔
جو 25 مئی 1990 سے شروع ہوئی تو 1991 کے وسط تک جاری رہی ۔ عجیب سی کشمکش میں تھا کہ جبر کو طبیعت برداشت نہیں کر رہی تھی اور چھوڑنے پر کندذہنی اور نالائقی کے طعنے سننے کا ڈر تھا۔
اور سب سے بڑھ کر سارا دن نمازیں ہی نمازیں پڑھتے رہو اور کوئی کام ہی نہیں ہے جیسے۔
لیکن اللہ تعالی نے میرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا تھا لہذا اسباب بنتے چلے گئے میں کراچی میں گھر ہونے کے باوجود گھر نہ جا سکا
ان ایام (مئی جون جولائی 1990)میں شدید ہنگاموں کی وجہ سے آدھے کراچی میں کرفیو لگا دیا گیا تھا جس میں اورنگی ٹاون بھی شامل تھا۔
سو شیخ عمر فاروق سعیدی صاحب کہنے لگے کہ
جب تک کرفیو ہے اس وقت تک کلاسز میں بیٹھ جاو ، اور جب کرفیو کےاوقات میں نرمی ہو چلے جانا
اچھا جہاں دو ہفتے گزر گئے وہاں دو ہفتے اور سہی ۔۔
بہت مشکلات تھی ، ہر بات گھر کے ماحول سے الگ تھلگ
قطار میں لگ کر پلیٹ ہاتھ میں پکڑ کر فقیر کی طرح سالن لو اور روٹی لو اور کسی بھی میز کرسی پر بیٹھ کر کھا لو۔
شروع کے دو دن اسی وجہ سے کھانا نہیں کھایا کہ جیب میں پیسے نہیں تھے بہرحال شیخ عمر فاروق سعیدی صاحب سے ظہر میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے پوچھا کہ کھانا کھا لیا ، کہا نہیں تو انہوں نے پہلا کھانا اپنے دفتر میں منگوا کر کھلایا اور کہنے لگے کہ اس طرح تو کام نہیں چلے گا۔ پھر انہی دنوں اللہ نے ایک فرشتہ میرے لیے بھیج دیا۔
شیخ عبدالرحمن چیمہ حفظہ اللہ کے بڑے صاحبزادے میاں عبداللہ چیمہ حفظہ اللہ جو مجھ سے کچھ عرصہ قبل ہی جامعہ کے اردو شعبہ میں پڑھنے کی غرض سے آئے تھے اور صرف چند مہینے پڑھ کر جامعہ چھوڑ دی تھی اسی لیے میں کہتا ہوں کہ شاید صرف میرے لیے ہی جامعہ ابی بکر تشریف لائے تھے لیکن مطعم سے کھانا کمرے میں لا کر کھلانا خود لائن میں لگ کر کھانا کھاتے میرے لیے کمرے میں لے آتے معلوم نہیں جامعہ کے نظام میں اس کی اجازت تھی یا نہیں لیکن اپنی محبت ، خلوص ، خدمت سے جامعہ کے ماحول کو میرے لیے کم از کم اتنا بنا گئے کہ اب جانےکی باتوں میں شدت نہیں تھی ۔
پھراللہ تعالی نے ایک اور فرشتہ بھیج دیا۔
میرے محبوب استادشیخ موسی موسوک حفظہ اللہ جو یوگنڈا سے تھے ، جانے کیا تھا ان کی شخصیت میں
انہیں اردو نہیں آتی تھی مجھے عربی نہیں آتی تھی۔
لیکن ہم دونوں جب موقع ملتا ،مسجد فاروق ماڈل کالونی مغرب کے نماز کے بعد بیٹھے باتیں کرتے رہتے، بس گونگے کی ماں ہی گونگے کی رمزوں کا جاننے والا حال تھا ہم دونوں کا ۔
میں ان سے اپنی اردو یا اوٹ پٹانگ عربی میں سوال در سوال کرتا رہتا اور وہ فصیح عربی میں جواب دیتے رہتے ، یقین کریں کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا بول رہے ہیں لیکن میں بس ان کے چہرے کی طرف ہی دیکھتا رہتا تھا اتنی مٹھاس اور چاشنی تھی ان کے لہجے میں کہ کیا بتاوں۔بس میری توجہ ان کے کلمات اور جملوں سے زیادہ ان کے لہجے کی مٹھاس پر ہوتی تھی ، دل کرتا تھا کہ وہ بولتے رہیں میں سنتا رہوں۔
«العربية للناشئین» پڑھایا کرتے تھے صرف ان کی پڑھائی ہوئی باتیں سمجھ میں آتی تھی باقی تمام اساتذہ کی باتیں سر پر سے گزرتی تھیں۔
بس نہ جانا ٹھہر گیا۔
لیکن تذبذب اور’’ لا من ھولاء ولا من ھولاء‘‘ والی کیفیت ابھی تک باقی تھی۔ نماز بھی بس زبردستی کی بات تھی کہ نہ پڑھوں گا تو طالب علم کیا کہیں گے اور اساتذہ کیا کہیں گے سب سے بڑھ کر شیخ موسی موسوک اوغندی حفظہ اللہ کیا کہیں گے۔
لیکن بظاہر دنیاوی اسباب کے نہ ہونے کے باوجود جامعہ ابی بکر الاسلامیہ آنا اور نمایاں کامیابی شاید مسبب الاسباب کی طرف سے ایک سبب ہی تو تھا جو مجھے آہستہ آہستہ خیر کی طرف لے جا رہا تھا۔
معہد العلمی الثانوی سے فراغت ضرور ہو گئی لیکن تذبذب کی کیفیت سے باہر نہیں نکل سکا تھا۔بات دل تک نہیں پہنچی تھی شکوک و شبہات اور سوالات کا کوہ ہمالیہ تھا جو سر ہی نہ ہو رہا تھا۔
ابی جی رحمہ اللہ نے اسی دوران ایک بات کہی تھی کہ پتر جی تمہاری تقدیر میں کیا ہے میں نہیں جانتا لیکن شاید تمہیں اساتذہ تو ضرور ملے لیکن کوئی مربی و مرشد نہیں ملا ۔ یا مربی و مرشد ضرور ہو گا تمہارے اندر رشد و ہدایت واخذ کی طلب میں وہ شدت نہ ہوگی اور یہی سچ تھا ۔
ابی جی رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ دعاوں میں یقین قبولیت کی علامت ہوا کرتا ہے۔اوریہاں تو طلب ہی نہ تھی یقین کہاں سے آتا۔
بس اسباب لے آئے تھے سو آگیا تھا ابھی تک یہ احساس نہ ہوا تھا کہ کتنا بڑا انعام ملنے والا ہےاور استحقاق انعام کے لیے کیاکیا کرنا چاہیے ابھی کچھ معلوم نہ تھا ۔
معہد العلمی الثانوی سے فراغت کے بعد ،
بس جتنا پڑھ لیا وہی کافی ہے نماز سیکھ لی قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ لیا عقیدہ کی سمجھ آگئی ۔
ابھی بھی خود غرضی سے جان نہیں چھوٹی تھی کہ ابھی بھی «میں ہی میں» تھی یا « میں اور میرے لیے» تھا۔
لیکن شاید ابھی بھی کھوٹ تھا اندر کیونکہ ابلاغ کی سوچ ہی نہ تھی جبکہ دین اسلام میں حصول علم نافع کے بعد عمل صالح کا مرحلہ آتا ہے اور پھر ابلاغ کامرحلہ اور میں نے پہلے مرحلے ہی کو کافی سمجھ لیا تھا ۔
میرے اندر کھوٹ تھی ، ملاوٹ تھی ۔
جس خوبصورت سفر کا آغاز 25 مئی 1990 کو ہوا تھا اس کا اختتام جون 1995 میں ہو گیا۔
اس دوران جس خوبصورت وجود سے سب سے زیادہ ڈر لگتا تھا اور دور رہنے کی کوشش کرتا تھا بعد میں سب سے زیادہ محبت ہی ان سے کرنے لگا۔ سنا تھا کہ اساتذہ بھی ان سے ڈرتے تھے لیکن میرا تو ا ن کے ساتھ ایک ہی سفر ہوا تھا گلشن اقبال سے اردو بازار تک۔ گاڑی میں پیچھے بیٹھے چپ خاموش کہ بات کرنے کی ہمت ہی نہ تھی اردو بازار سے پہلے ایک جگہ فٹ پاتھ پر ٹھیلے والے کے پاس گاڑی روکی اور کہنے لگے اس کی حلیم بہت کمال کی ہوتی ہے آؤکھاتے ہیں ہاتھ میں موبائل تھا،جب موبائل کا پتا ہی نہ تھا کہ کس کو کہتے ہیں اور فٹ پاتھ پر ہمارے ساتھ بیٹھے حلیم کھا رہے تھے۔
شیخ بشیر صلاد حفظہ اللہ نے ان سے میری شکایت کی تھی کہ «فیض الابرار شام میں کسی کالج میں بھی پڑھ رہا ہے»
میرا بلاوا آگیا اور میں ان کے دفتر کے باہر کھڑا ہمت کر رہا تھا کہ اندر کیسے جاؤں اور چلا گیا تو اکیلا ان سے کیا بات کروں گا اور یہاں تو پتا ہی نہ تھا کہ شکایت پر بلاوا ہے ورنہ وہی خون خشک ہو جاتا ۔
ان کے کمرے سے کوئی باہر نکلا تو اس نے مجھے باہر کھڑا دیکھا تو اند ربھیج دیا اب وہ خوبصورت وجود رحمہ اللہ مجھ سے پوچھ رہا ہے کہ جی بیٹا جی کیا مسئلہ ہے بتایا کہ فلاں نے کہا تھا کہ آپ مجھے بلا رہے ہیں ۔ پوچھا نام کیا ہے نام بتایا تو کہنے لگے اچھا اچھا شیخ بشیر صلاد صاحب نے تمہاری شکایت لگائی ہے کہ تم کالج میں بھی پڑھتے ہو ۔ جامعہ میں کیا پوزیشن ہے بتایا کہ جامعہ میں تو الحمدللہ ابتدائی چار طلباء میں نام ہے نمبرات کے اعتبار سے ۔ اور پھر کالج کی پڑھائی کا پوچھا میں نے بتایا تو کہنے لگے کالج کی پڑھائی کسی صورت نہیں چھوڑنی اسے مکمل کرنا ہے لیکن جامعہ کی پڑھائی متاثر نہ ہو باقی بشیر صاحب سے میں خود بات کرلوں گا ۔ یہ تھی پہلی ملاقات جس نے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا ۔ پھر آتے جاتے جب ملاقات ہوتی ایک جملہ ضرور کہتے کہ فیض الابرار مجھے جامعہ میں نمایاں کامیابی چاہیے ۔ اور کبھی کبھی اس طرح مخاطب کرتے کہ
واللہ آج بھی یاد کر رہا ہوں تو آنکھ میں آنسو ہیں پتا ہے کیسے مخاطب کرتے تھے کہتے تھے «شیخ صاحب نمایاں کامیابی چاہیے»
میں معہد العلمی الثانوی کا طالب علم اور وہ مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ مجھے شیخ کہتے تھے یہ تو بعد میں علم ہوا کہ وہ طالب علموں کو اسی طرح محبت سےپکارا کرتے تھے ۔ معہد العلمی الثانوی آخری سال کا نتیجہ نکلا تو تیسری پوزیشن تھی اور میں شیخ رحمہ اللہ سے چھپتا پھر رہا تھا کہ اتنی تاکید کے بعد بھی ۔۔۔۔۔ بہرحال دوسرے یا تیسرے دن راستے میں ملاقات ہوگئی اور اپنی گاڑی میں بٹھایا اور سیدھے ماڈل کالونی گھر ۔ مجھے جس کمرے میں بٹھایا سادہ سا کمرہ تھا صوفے لگے ہوئے تھے اندر چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد واپس آئے ہاتھ میں شاید صبح کا پراٹھا تھا اور اس پر اچار کی قاش تھی کہنے لگے تمہارا کھانا ابھی آ رہا ہے میرا تو اس سے کام چل جائے گا ۔ پھر میرے لیے اہتمام والی ٹرے ۔۔۔۔ ان کی کس کس بات کو یاد کروں
یہ تھے ہمارے محبوب پروفیسر محمد ظفر اللہ بانی و مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی۔
کہنے لگے کاغذات تیار کرو میں نے مدینہ جانا ہے تمہارے کاغذات لے کر جاؤں گا ، کاغذات تیار کیے دے دیے کاغذات کی تیاری بھی ایک کہانی ہی ہے جو اس وقت بہت مشکل ہوتی تھی اب تو سکین کریں ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دیں ۔
پھر بعد میں بھی بہت ملاقاتیں ہوتی رہی لیکن ان کی محبت بھری ملاقاتیں ۔۔۔ کس کس ملاقات کو یاد کروں بس وہ ایسے ہی تھے چاہے جانے والے کیونکہ ان کی محبت جامعہ کے طلبا ء کے دلوں میں آسمان سے اتاری گئی تھی ۔
محبت اور چاہت کےا س سفر کا آغاز ایسا ہوا تھا کہ
اللہ تعالی۔۔۔ سید الملائکہ ۔۔۔ فرشتے ۔۔۔ خلق خدا (مفہوم حدیث)
لیکن اس سفر کا آغاز تو اس سے بھی پہلے ہوا تھا جس کا تعلق میرے محبوب و ممدوح والد محمد ظفر اللہ (رحمہ اللہ ) کے اخلاص سے تھا یہ اخلاص ہو تو پھر اس سفر کے خوبصورت سلسلے ملتے جاتے ہیں ۔
جامعہ کے شفیق اساتذہ میں سے جو مجھے آج بھی یاد ہیں ۔
شیخ عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ جو مجھے جامعہ لانے کا سبب بنے تھے۔ اور میرے لا یعنی اور ملحدانہ سوالات کا سامنا کرتے تھے ۔ کیونکہ ہر سوال کیا، کیوں، کیسے، کب، کہاں ،چونکہ، چنانچہ، اس لیے، تو پھر، وہاں، یہاں، سے شروع ہوتا تھا ۔ (بہت بعد میں سمجھ آئی کہ عافیت تسلیم کرنے میں ہے)پہلے سال کی چھٹیاں ہوئی تو ابی جی رحمہ اللہ سے کہا کہ بھائی جان ابرار کو میں اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں میں بھی خوشی خوشی تیار ہو گیا۔ منکیرہ پہنچا تو فجر کی نماز کے بعد ، صبح دس بجے، ظہر کی نماز کے بعد، عصر کی نماز کے بعد ، مغرب کی نماز کے بعد مختلف ابتدائی کتب پڑھانا شروع کر دیں (علم الصیغہ، علم الصرف، علم النحو، صفۃ صلاۃ النبی، الاربعین النووی، معلم الانشاء اور کچھ تفسیر کا حصہ ۔ جزاھم اللہ خیرا )
شیخ موسی موسوک اوغندی حفظہ اللہ جو مجھے جامعہ میں روکنے کا سبب بنے۔جن سے میں اپنے دل کی باتیں کیا کرتا تھا انہیں اردو نہیں آتی تھی مجھے عربی نہیں آتی تھی لیکن پھر بھی ۔ الحمدللہ ، جزاھم اللہ خیرا
شیخ ایمن الدقاق حفظہ اللہ جانے کہاں ہیں میری پانچ سالہ زمانہ طالب علمی میں ان کی محبت ، شفقت ہمیشہ یاد رہے گی جب کبھی کسی استاذ پر غصہ آیا کلاس چھو ڑ کر باہر آیا پتا نہیں انہیں کیسے پتا چل جاتا تھا اپنے دفتر لے جاتے چائے پلاتے اور کہتے تھے « قل أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم» پڑھو اور میں ان کے ساتھ یہ پڑھنا شروع کر دیتا تھا پڑھتے پڑھتے پوچھتے فرق محسوس ہو رہا ہے نا ۔ بس ایسے ہی پھر میں کلاس میں جا بیٹھتا۔
ان تین اساتذہ کو میں زندگی میں کبھی نہیں بھول سکتا بلکہ عمومی طور پر کہتا ہوں کہ ان کی حسنات جب شمار کی جائیں گی تو کسی کونے میں میرا نام ضرور ہو گا ان شاء اللہ۔
اس کے بعد ساہیوال ہجرت کے بعد کتابوں کی ایک دکان بنا لی اور زندگی آہستہ آہستہ گزرنے لگی ،کبھی نماز پڑھ لی کبھی نہ پڑھی ،البتہ روزہ کبھی نہ چھوڑا تھا ۔اچانک ایک دن شیخ عمر فاروق سعیدی صاحب حفظہ اللہ کا ایک خط ملا ،خط کیا تھا بس میری پرسکون زندگی میں ایک ہلچل تھی ۔
بیٹے جی تمہارا جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ ہو گیا ہے ۔
عزیزم فیض الابرار سلمہ اللہ
بعد از خیریت طرفین ۔مبارک باد ہو کہ آپ کا داخلہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ہوگیا ہے۔
آپ کیا فیصلہ کرتے ہیں؟ اللہ بہتر جانے۔ دعاگو دل کہ اللہ کریم آپ کو ظاہری وباطنی فتنوں سے محفوظ رکھے۔
اسباب کی دنیا میں ۔۔۔۔ آپ کے لیے جامعہ ابو بکر میں داخلہ لینا اور نمایاں کامیابی حاصل کرنا۔۔۔۔۔ ایک عجیب اتفاق تھا۔ عام حالات میں شاید آپ ادھر کا رخ بھی نہ کرتے۔
اب پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے اپنی رحمتوں کے دروازے وا کیئے ہیں۔۔
جمع وتفریق اور چونکہ چنانچہ کی دلدل میں لتھڑنے کی بجائے در نبوت میں حاضر ہوکر استغفر لک وللمؤمنین کا منصب حاصل کرنے میں بخل سے کام نہ لو۔ اگر یقین ہوکہ ۔۔۔
تو اس آتش میں کود کر اپنے کو کندن بنالو۔ اور خیال رہے کہ آپ نے دوسروں کو اپنے پیچھے/ نبی کا وارث بن کر لگانا ہے۔ نہ کہ دنیائے دان کے طالبین کے پیچھے لگناہے ۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
اللہ ذوالجلال نے تمہارے لیے بظاہر تمام اسباب جمع کر دیئے ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھانا آپ کے ذمے باقی ہیں۔
میں محض ایک تمنا توکرسکتاہوں ’’فیض عالم‘‘ کا مقام حاصل کرلو۔۔ باقی اللہ کی حکمتیں تو وہ خود ہی خوب جانتاہے۔
میں اپنے درد دل کو فوری طور پر اس انداز میں نقش کرپایا ہوں۔فقط
والسلام
دعاگو
خیر اندیش
مخلص
میں نے وہ خط پکڑا کاونٹر کے سب سے نچلے دراز میں ڈال دیا کہ
مجھے مزید اس جبر کے ماحول میں نہ جانا تھا اور نہ ہی جامعہ اسلامیہ جانا تھا ۔ پہلے ہی بہت مشکل میں پڑ گیا تھا اب دوبارہ کسی مشکل میں گرفتار ہونے کا اارادہ نہ تھا سو دوپہر کو گھر آگیا اور بھائی کو کہا کہ دکان بند کر کے گھر آجانا کیونکہ دوپہر میں دکان بند کر نے کا رواج تھا۔چھوٹے بھائی نے حساب کتاب کے لیے دراز کھولی تو خط دیکھا وہ خط لے کر گھر آیا اور ابی جی رحمہ اللہ کو پکڑا دیا کہ پھوپھا جی کا خط ہے۔
لیکن ابی جی کے اصرار اور ماں جی کے کہنے اورحافظ عبید اللہ حفظہ اللہ کے ساہیوال پہنچنے پر تیار ہو ہی گیا ۔
پھر کراچی اور اسلام آباد اور کراچی اور اس کے بعد جدہ پھر مکہ اور پھر مدینہ منورہ ۔۔۔۔
زندگی کے خوبصورت ادوار میں سے ایک دور
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا چار سالہ زمانہ طالب علمی۔
ایک ضروری کاغذ تلاش کرتے کرتے مجھے اپنا اشعار القبول مل گیا اور پھر اکمال السفر کا ورقہ بھی سامنے آگیا۔
اور واپسی کے لیے ورقہ اجراءات بھی سامنے آگیا ۔
6 ستمبر 1996 تا 15 اگست 2000
یہ چار سال میری زندگی میں اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ میرا عملی قبول اسلام اسی دور میں ممکن ہوا کہ پہلے پکا والا مسلمان تھا روایتی مسلمان اپنے آپ کو دریافت کیا، شدید ذہنی خلجان و تذبذب کی کیفیت سے یکسوئی حاصل ہوئی جو سکول لائف سے شروع ہوئی تھی۔
فکری انتشار سے نجات حاصل کی۔
یہ سارا فکری انتشار سکول کالج کے «تحفے» تھے میرے لیے. اس اذیت سے بار بار گزرا ہوں اس لیے کہتا ہوں کہ جدید تعلیمی ادارے الحادی مراکز بنتے جارہے ہیں۔
نماز باقاعدہ شروع کی بلکہ زندگی کی پہلی نماز بیت اللہ میں پڑھی مغرب کی نماز تھی شاید اور شیخ سدیس حفظہ اللہ نے دونوں رکعات میں معوذتین پڑھیں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ کہاں کھڑا ہوں، ایک عجیب سی کیفیت تھی جو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، بیت اللہ کا جلال، مطاف میں امام کعبہ سے کچھ فاصلے پر تھا نگاہیں کبھی سجدہ گاہ پر اور کبھی بیت اللہ پر اور شیخ سدیس حفظہ اللہ کی تلاوت ۔۔۔
واپس مدینہ آگیا تھا لیکن اپنا آپ مکہ ہی میں چھوڑ آیا تھا۔
ابی جی رحمہ اللہ کو فون کیا تو کہنے لگے:بے وقوف نالائق محبوب کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد نہیں ہے کیا، روضہ الجنۃ جاؤ۔۔۔
وہاں پہنچا تو یوں لگا کہ سکون، ٹھہراؤ، اطمینان، کوئی پریشانی پریشانی نہیں۔۔۔ وہاں سے جب واپس ہوسٹل آتا پھر وہی فراق وہی جدائی۔۔
یہ فراق اور جدائی آج بھی اسی طرح ہے ۔عجیب بات ہے نا محبوب سے ملاقات بھی نہیں کرتا، لیکن کم از کم دس سے زائد مرتبہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ لے چکا ہوں اور فارغ ہو چکا ہوں۔ ہر بار فراغت کے بعد دنوں یہی سحر جان نہیں چھوڑتا۔
بلکہ اسی دوران ایک مرتبہ یار غار صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ایک مرتبہ داماد رسول علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان سے پوچھا کہ یہاں کیوں کھڑے ہیں کہنے لگے نبی کریم کا انتظار کر رہا ہوں انہوں نے آنا ہے، میں جھجھکتے ہوئے کیا میں بھی انتظار کرسکتا ہوں،،،،،، کہنے لگے وہ رحمۃ للعالمین ہیں سب کے ہیں ۔۔۔لیکن پھر کسی اذان سے آنکھ کھل گئی۔۔۔۔ وہ احساس محرومی لیے اٹھارہ سال ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد ہر روز اسی امید پر سوتا ہوں کہ آج سوؤں گا تو دیکھوں گا لیکن محرومی سی محرومی۔یہ سب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی برکات ہیں۔
میں اگر کچھ ہوں تو اپنے اساتذہ کرام کی حسنات میں سے ہوں۔ اور سب سے بڑھ کر میرے روحانی والد شیخ ظفر اللہ رحمہ اللہ جنہیں اللہ نے میرے لیے جامعہ اسلامیہ جانے کا سبب بنایا تھا۔
مدینہ پہنچنے کے بعد ہی پہلا حج تھا اور میں تھا اور یہ وہی حج تھا جس میں خیموں میں آگ لگی تھی۔ پتا نہیں کیا کیا ہوتا رہا بالآخر مزدلفہ پہنچا تو بہت کچھ مل چکا تھا الحمدللہ، ایک ہی دعا مانگی تھی کہ ’’اللہ ایک طرف کر دے نہیں نہیں اللہ اپنی طرف کر دے‘‘۔مدینہ رہ کر حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح پر عمل نہیں ہو رہا بس میرے اللہ نے میری سن لی اور مجھے دے دیا لیکن ایسا نہیں کہ سب کچھ ایک ساتھ ہی دے دیا ہو آزماتا رہا جیسے جیسے آزمائش سے گزرتا رہا وہ دیتا رہا آزمائش عطا آزمائش عطا یہ کہانی ہے 11 سالوں کی۔
ایک آزمائش ابھی بھی ہے امید ہے اس سے بھی کامیاب ہو جاؤں گا۔ لیکن میری زندگی میں جو بھی کامیابیاں ہیں ان کی بنیاد
25 مئی 1990 تا 16 جون 1995 جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی اور 6 ستمبر 1996 تا 15 اگست 2000 جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، ان دو اداروں کی ہے۔
اللہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کو تا قیامت آباد شاد رکھے۔ جامعہ اسلامیہ کے چار سالہ دور کی بہت ساری کہی اور ان کہی پھر کبھی سہی ۔
جامعہ اسلامیہ تجھے میرا سلام ۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ سے پھر فراق کا ایک دور آیا کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد مختلف تعلیمی، دعوتی و تدریسی مصروفیات میں مصروف ہو گیا ۔ اس دوران جامعہ ابی بکر میں تدریس کے لیے رابطہ کیا لیکن میرے اللہ تعالی نے اس وقت تک میرے لیے کچھ اور لکھا تھا کہ ابھی آزمائش کا اک طویل سلسلہ تھا جو آنے والا تھا لیکن الحمدللہ رب العالمین اس دور آزمائش نے مجھے جس مقام تک پہنچایا میں عام حالات میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا ۔
2001 تا 2010 تک مصروفیات کے بعد پھر ایک مرتبہ شیخ ضیاء الرحمن مدنی حفظہ اللہ کے توسط سےاپنی مادر علمی میں بغرض تدریس پہلا قدم رکھا (جس میں ڈاکٹر عبدالحئی المدنی حفظہ اللہ کی سفارش و مشاورت، ڈاکٹر افتخار احمد شاھد حفظہ اللہ اور ڈاکٹر مقبول احمد مکی حفظہ اللہ سے مشاورت بھی شامل تھی) اور پھر گویا کہ میری مضطرب اور ہنگامہ خیز زندگی میں سکون سا آگیا ، قرار سا محسوس ہوا۔ایک مقصدیت سے مل گئی اور سابقہ زندگی کی کوتاہیوں کی تلافی کرنے کا موقع مل گیا۔
سرگودھا یونی ورسٹی میں لیکچرار شپ کا انٹرویو تھا ابی جی رحمہ اللہ نے سختی سے منع کر دیا نہیں جانا۔
بہاولپور یونی ورسٹی میں لیکچرار شپ کا انٹرویو تھا ابی جی رحمہ اللہ نے سختی سے منع کر دیا نہیں جانے دیا۔
جامشورو یونی ورسٹی سندھ لیکچرار شپ کا انٹرویو تھا ابی جی رحمہ اللہ نے سختی سے منع کر دیا نہیں جانے دیا نہیں جانے دیا۔
کہ جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کسی صورت ترک نہیں کرنی اور اگر ترک کرنی ہو تو اس دن جس دن دنیا سے جانا ہو۔کہتے تھے کہ پتر جی اب تو میں نے تمہاری زندگی میں مقصدیت اور قرار ،ٹھہراؤدیکھا ہے اس لیے جو کچھ بھی کرنا ہے جامعہ ابی بکر کے ساتھ وابستگی کے ساتھ کرنا ہے ۔
تو میرے قابل قدر احباب میری اور جامعہ ابی بکر کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی تو اس کا آغاز ہوا ہے کیونکہ میں جامعہ ابی بکر کا مقروض ہوں اور اسی قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں جو کچھ کر رہا ہوں یا جو کچھ کرنے کی کوشش کر ررہا ہوں اللہ سے دعا ہے کہ وہ اسے قبول و منظور کر لے ۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…