ایک طویل سا سکتہ اور گہری سانس
یہ پہچان تھی ہمارے محبوب حضرت عائش محمد رحمہ اللہ کی۔
جب گفتگو کرتے تو بس یہ ان کا تکیہ کلام ہوا تھا پنجابی میں۔
ابھی بھی یہ آواز بس کانوں میں گونج رہی ہے ۔
گزرے ہوئے کسی منگل دوپہر پونے ایک بجے ایک میسج ملا کہ
حضرت صوفی عائش محمد اللہ اللہ کر گئے ہیں۔
ابھی کچھ ہی دن تو گزرے ڈاکٹر راشد رندھاوا رحمہ اللہ الوداع کہہ گئے تھے۔جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے در دیوار تو ابھی تک ہمارے والد شیخ محمد ظفر اللہ رحمہ اللہ کی جدائی کو نہیں بھول سکے اس پر ایک کے بعد ایک اور آج جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے ابتدائی رفقاء میں سے ایک اور خوبصورت وجود ہم سے جدا ہو گیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
حضرت عائش محمد رحمہ اللہ 81 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔ شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی تحریک جماعت مجاہدین کے امیر تھے۔ کینسر کے موذی مرض کا شکار تھے۔ سول ہسپتا ل فیصل آباد میں زیر علاج تھے۔ صوفی صاحب مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ ان کی وصیت تھی کہ میری قبر بالا کوٹ میں شاہ اسماعیل شہید کی قبر کے ساتھ بنائی جائی۔لیکن انکی میت کی حالت ایسی نہیں کہ انہیں وہاں لے جایا جاسکے ڈاکٹرز نے اجازت نہیں دی۔لہذا مامونکانجن ہی ان کا مدفن بنا اور یہی جگہ تو تھی جہاں ان کی ماہیت قلبی ہوئی تھی۔
پچھلے کچھ ایام سے مسلسل صاحب فراش تھے اور وفات سے کوئی ڈیڑھ ہفتہ یا دو ہفتے قبل (صحیح یاد نہیں یا اس سے زائد مدت) جب ان سے بات ہوئی تو دعاوں کی التماس کرتے ہوئے لہجے کی نقاہت ایک ان کہی سنا رہی تھی۔ دعاو ں کے ساتھ ان کا جو تعلق میں نے قریب سے دیکھا وہ اپنے استاد صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ کی مثل تھا۔ ڈاکٹر مقبول احمد مکی حفظہ اللہ مدیر مجلہ اسوہ حسنہ ابھی کچھ ہی دن پہلے تو سنا رہے تھے کہ حضرت عائش نے دعاؤں کی کتاب ’’الحزب المقبول‘‘ مجھ سے منگوائی ہے۔مومن کا تعلق دعا کے ایسا ہی ہونا چاہیے کہ دعا ہے تو جان ہے دعا نہیں تو بس محض ایک زندہ وجود ہے ۔ جس میں کوئی روحانیت نہیں ۔ شاید حضرت عائش محمد رحمہ اللہ نے اپنے استاد او ر اپنی زندگی کے طویل صبر آزما سفر سے یہی سیکھا تھا کہ اللہ رب العزت کے ساتھ تعلق قائم کرنے کا راستہ دعا ہی ہے۔
میں بہت حیران ہوا تھا جب مجھے شیخ ضیاء الرحمن حفظہ اللہ مدیر جامعہ ابی بکر الاسلامیہ نے ان کی ذاتی زندگی کی کچھ آزمائشیں بتائیں بالخصوص اولاد کے حوالے سے آزمائش ، میں نے ان 33 سالوں میں کچھ زیادہ نہیں لیکن کچھ وقت ضرور ان کے ساتھ گزارا لیکن کبھی ان کی زبان سے کوئی شکوہ نہیں سنا بلکہ شکر ہی شکر ۔ میرے ابی جی رحمہ اللہ کو جب معطل کیا گیا تھا تو وہ اورنگی ٹاون سے تبت سینٹر تقریبا دس کلو میٹر پیدل آیا جایا کرتا تھے میں نے ان سے بھی ایک مرتبہ بات کی تھی تو انہوں نے بھی ایک ایسا جملہ کہا تھا جو اس وقت میں نہیں سمجھ سکا تھا اج سمجھا ہوں ابی جی رحمہ اللہ نے کہا تھا « پتر جی اللہ کا شکر ہے اس نے بھوکا نیند سے اٹھایا ضرور ہے سلایا نہیں»
حضرت عائش محمد رحمہ اللہ کی زندگی بھی صبر و شکر سے تعبیر تھی ۔
میرا ان کا رسمی تعلق تو 1990 سے تھا اور میں جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں زمانہ طالب علمی میں انہیں بس ایک مجذوب ہی سمجھتا تھا ۔
ایک مرتبہ ایک کمبل اوڑھے جامعہ سے کہیں جاتے ہوئے دیکھا۔
انتہائی سادہ مزاج ، رہن سہن کھانا پینا ، کوئی تصنع بناوٹ نہیں، کبھی اس بات کی پروا نہیں کی کہ
«لوگ ان کے بارے میں کیا کہیں گے»
اگر پروا کی تو یہ کہ میرا اللہ میرے بارے میں کیا سوچے گا ۔
بس یہ «حیا» ان کی پہچان تھی۔
پھر میں نے انہیں 1996 کے حج میں دریافت کیا تھا ۔
سفر حج تھا ، اک عجیب سا سفر تھا ان کا ، کیفیت سفر ناقابل بیان ، عجیب سا سرور ، میرا پہلا حج تھا تو میں بھی بس بہت ساری ان کہی باتوں اور کیفیات کے ساتھ مکہ کی طرف رواں دواں تھا۔ میں سمجھا کہ ان کا بھی پہلا حج ہے، ایک جگہ رکے تو نماز کے لیے مجھے آگے بڑھا دیا۔
مکہ پہنچ کر پورا حج تو ان کے ساتھ نہ رہ سکا لیکن منی میں ان کے ساتھ رہا پھر وہ مجھ سے جدا ہو گئے اور سچ پوچھیں تو مجھے بعض اوقات ان کی کیفیت سے الجھن سی ہو رہی تھی ، شاید نہیں یقینا جہاں تقوی ہوتا ہے وہاں عبادات میں لطف آتا ہے میں تمام تر روحانی کیفیت اور تجسس کے باوجود اس تقوی سے محروم تھا جو حضرت عائش محمد رحمہ اللہ کے پاس تھا پھر مجھے وہ میدان عرفات میں ایک جگہ ملے میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا اور انہوں نے سلام کا جواب تو دیا لیکن کوئی شناسائی کوئی بات چیت، کچھ بھی تو نہیں، جیسے جانتے ہی نہ ہوں ۔ میں واپس اپنی جگہ پر آگیا ۔ اسی سفر حج کے بعد جب نماز مغرب میں حرم مدنی میں ملاقات ہوئی تو دعوت دی کہ میرے ساتھ چلیں ۔ وہ رات میرے ساتھ گزاری تھی میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ نے عرفات میں مجھے پہچانا ہی نہیں کسی اجنبی کی طرح ملاقات کی اور بس تو ان کا جملہ مجھے یاد ہے کہ وہاں میں اپنے رب سے ملاقات کے لیے تھا انسانو ں سے تو پورا سال ملتا رہتا ہوں۔
میں نے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے ساتھ 1990 میں اپنا ناطہ جوڑا تھا پھر جامعہ کے اکثر مشائخ کو اپنے اپنے تعلیمی ادارے بناتے اور دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے دیکھا جس میں شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ، شیخ خلیل الرحمن لکھوی حفظہ اللہ اور شیخ حافظ شریف حفظہ اللہ نمایاں نام ہیں لیکن حضرت عائش محمدرحمہ اللہ جس سے دن جامعہ ابی بکر کے ساتھ جڑے تا وفات یہ وفا نبھائی اور میں سب سے بڑی بات بتاوں میں نے جس طرح انہیں پہلے دن دیکھا تھا اسی طرح کے حلیہ میں انہیں آخری دن دیکھا تھا درمیان میں 32 سال تھے ۔
32سال کا سفر انہیں تبدیل نہیں کر سکاوابستگان جامعہ ابی بکر نے دینی و دنیاوی فوائد حاصل کیے لیکن حضرت عائش محمد رحمہ اللہ جامعہ ابی بکر سے کوئی دنیاوی فائدہ نہیں حاصل کی ۔ دنیا واقعی ان کے لیے ایک مسافر خانہ تھا۔
حضرت عائش محمد رحمہ اللہ 1941 میں بڈھیمال فیروز پور میں پیدا ہوئے۔ہجرت کے بعد وہ چک36 ستیانہ بنگلہ فیصل آباد میں سکونت پزیر ہوئے۔ابتدائی دینی تعلیم اور صحیح بخاری حافظ محمد عبداللہ بڈھیمالوی، مولانا احمد اللہ بڈھیمالوی، مولانا عبداللہ ویروالوی مرحوم سے پڑھی۔ برصغیر کے معروف روحانی بزرگ صوفی عبداللہ کے بیعت یافتہ تھے۔
حضرت عائش محمد رحمہ اللہ عمل کی دنیا کے آدمی تھے۔ نرم گفتاری‘ تصنع اور تکلف سے کوسوں دور ۔ تہجد گزار، عبادت میں انہماک، سادہ ترین لباس۔ اللہ سے محبت‘ اس کے بندوں سے الفت‘ قرآن کریم سے اٹوٹ وابستگی‘ احادیث ازبر اور ہمہ وقت ذکر و فکر۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ میں جب آنا ہوتا تو طلباء کو صبح کے درس میں سورہ یوسف کی آیات سناتے اور بتاتے کہ اگر سیادت عالم لینی ہے تو کردار یوسف علیہ السلام کو اپنا لو۔
قدرے بھاری جثہ، خوش چہرہ، لہجے کی حلاوت حیران کئے دیتی۔مال و دولتِ دنیا سے بے نیاز۔ ریاکاری کا شائبہ تک نہ تھا۔ اپنے بارے میں عمومی طور پر بات نہ کرتے تھے۔
مکہ میں ایک مرتبہ سڑک پار کرتے ہوئے ایک گاڑی ان سے ٹکرائی۔کہنے لگے :اللہ کا شکر ہے۔ہاتھ پاوں ہی ٹوٹے ہیں سر سلامت ہے۔ عمر اس وقت بھی 65برس کے لگ بھگ تھی ۔بتایا گیا کہ چالیس ہزار ریال انہیں مل سکتے ہیں۔ فرمایا: میں نے ٹکر لگتے ہی اسے معاف کردیا تھا۔معاف کرنا کوئی شک نہیں کہ کمال ہے لیکن اصل کمال یہ ہے کہ اتنی جلدی معاف کرنا ۔ اللہ ان کے ساتھ ایسا ہی خوبصورت معاملہ کرے گا ان شاء اللہ ۔
سفر حج کے دوران ہی میں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا آپ شروع سے ایسے تھے یا بعد میں تبدیل ہوئےتو بتانے لگے کہ ایک زمیندار خاندان سے تعلق تھا۔آسودہ حال۔ گورنمنٹ کالج فیصل آباد کے طالب علم۔کہنے لگے کہ ایک مرتبہ آدھی رات کو چھت پر امتحان کی تیاری میں مصروف تھا کہ سینما کا آخری شو ختم ہوا۔ ایک خیال آیا کیا میں اپنے رب کے لئے آدھی رات تک جاگ نہیں سکتا۔اس خیال سے قبل صوفی عبداللہ رحمہ اللہ ماموں کانجن سے ملاقات ہو چکی تھی ۔اب باقاعدہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بس پھر جس سفر پر روانہ ہوئے اس کا اختتام وفات پر ہوا تھا ۔
میں نے نے ان کے حوالے سے ایسے افسانوی قصے سنے ہیں جو کسی اور کے حوالے سے نہیں سنے ۔لیکن ایک بات کہہ سکتا ہوں دنیا ان کے لیے صرف ایک سرائے تھی اور بس ۔کچھ لمحات کے لیے آئے تھے ۔
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…