تذکرہ مشاہیر علمائے اہل حدیث پاکستان مولانا محمد سرور شفیق رحمہ اللہ

آئے عشاق گئے وعدہ فردا لے کر

اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

پاکستان میں جن علمائے حدیث نے دعوت وتبلیغ کے میدان میں ایک روشن اور درخشاں باب رقم کیا ہے،ان کی فہرست بہت طویل ہے۔سیدنا مولانا حافظ محمد اسماعیل ذبیح،سیدنا مولانا سید عبدالغنی شاہ، سیدنا مولانا حافظ عبدالحق صدیقی، سیدنا مولانا عبدالرزاق فاروقی،سیدنا پروفیسر حافظ محمد عبداللہ بہاول پوری، سیدنا مولانا حافظ محمد یحیی عزیز میر محمدی، سیدنا مولانا محمد یحیی شرق پوری،سیدنا مولانا حافظ عبداللہ شیخوپوری، سیدنا مولانا عبدالرزاق سلفی عنایت پوری، سیدنا مولانا قاری عبدالوکیل صدیقی خان پوری رحمھم اللہ تعالی اقلیم تبلیغ کے وہ سخن ور ہیں جنہوں نے دعوت وتبلیغ کے میدان میں ایک دنیا کو متاثر کیا ہے۔مبلغین کی اس صف میں ایک نام ہمارے ممدوح سیدنا مولانا محمد سرور شفیق رحمہ اللہ کا بھی ہے۔

آئیے ان کے حالات وخدمات پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

پیدائش وخاندانی پس منظر

مولانا مرحوم راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔والد کانام چوہدری محمد اسماعیل بن چوہدری محمد خاں تھا۔قیام پاکستان کے وقت ہندوستان کے ضلع گورداس پور کے ایک گاؤں چوڑا بہل پور سے ہجرت کر کے موجودہ دیپو کے ضلع نارووال میں آئے۔اس وقت یہ علاقہ ضلع سیالکوٹ میں شامل تھا۔

6اگست 1946ء الموافق 8رمضان المبارک 1365ھ بروز منگل کو پیدا ہوئے۔

تعلیم کی شاہراہ پر:

مولانا مرحوم ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے،جن میں تعلیم وتعلم کا رواج نہیں تھا۔

خود فرماتے تھے:

«میرے خاندان میں عالم تو درکنار کوئی بھی پڑھا لکھا نہ تھا۔دنیاوی تعلیم تو کجا اسلامی اور مذہبی کتب سے بھی نابلد تھے۔»

 مولانا مرحوم دینی تعلیم سے کیسے آشنا ہوئے،اس سلسلے میں ان کا اپنا فرمان یہ تھا:

«دینی تعلیم کی تحصیل کا سبب پسرور کا سالانہ جلسہ اور گاوں دیپو کا سالانہ جلسہ بنا۔کیوں کہ بڑے بڑے جید علمائے کرام:مولانا احمد الدین گکھڑوی، مولانا سید عبدالغنی شاہ، مولانا محمد اسماعیل ذبیح، مولانا محمد اسماعیل روپڑی،مولانا عبدالستار دہلوی، مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی، مولانامحمد یحیی حافظ آبادی، مولانا محمد ابراہیم کمیر پوری، مولانا محمد حسین شیخوپوری،مولانا محمد رفیق پسروری،مولانا علی محمد صمصام، مولانا محمد ابراہیم خادم (تاندلیانوالہ)،مولانا محمد صدیق فیصل آبادی و دیگر علمائے کرام رحمھم اللہ تعالی اجمعین کی تقاریر سنیں۔اور ان کے ترنم نما وعظ آج تک گوش سماع میں گونج رہے ہیں۔»

ان علمائے کرام کے وعظ ونصیحت سے ہمارے ممدوح گرامی کے دل میں تعلیم کا شوق پیدا ہوا۔

انہوں نے عصری تعلیم پرائمری سکول دیپو کے اور گورنمنٹ ہائی سکول نونار سے حاصل کی۔پھر دینی تعلیم کے حصول کی طرف راغب ہوگئے۔اس سلسلے میں انہوں نے اپنے دور کے بہترین مدرسین ومحققین سے قرآن وسنت کے علوم وفنون پڑھے اور معاشرے کی اصلاح کے لئے تاحیات اپنے فرائض منصبی ادا کیے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ گاوں میں ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد آپ مولانا محمد رفیق پسروی رحمہ اللہ اور مولانا محمد حسین شیخو پوری رحمہ اللہ کی ترغیب سے کراچی چلے گئے اور وہاں کے جامعہ اسلامیہ عربیہ دارالسلام محمدی مسجد میں دینی تعلیم کا آغاز کیا۔انہوں نے دوران تعلیم حدیث اور تفسیر کے موضوع پر خاصا عبور حاصل کیا۔

1957ء سے 1967ء کے دوران سرکاری یونیورسٹی سے ادیب، عالم اور فاضل عربی کے امتحانات دیئےاور جامعہ کراچی سے ایم اے اسلامیات اور ایم اے عربی کے امتحانات پاس کیے۔اسی طرح بند روڈ پر جامعہ قاہرہ کی ایک شاخ کلیة العربیہ میں داخلہ لے کر عربی علوم میں دسترس حاصل کی اور سند فراغت وصول کی۔

 آپ کے چند معروف اساتذہ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

1میاں احمد صاحب رحمہ اللہ*

یہ مولانا کے گاؤںدیپو کے میں استاذ تھے۔ یہ معروف عالم دین مولانا منیر احمد شاکر صاحب (سیالکوٹ)کے والد محترم ہیں۔مولاناسرور مرحوم نے ان سے ناظرہ قرآن مجید پڑھا۔

2 مولانا نذیراحمد رحمہ اللہ

یہ شیخ الاسلام مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔علاقہ ڈھولن سے تعلق تھا۔ان سے درس نظامی کی ابتدائی کتب صرف ونحو وغیرہ پڑھیں۔

3 مولانا ابو محمد عبدالستار محدث دہلوی رحمہ اللہ(م:29-اگست 1966ء)

اپنے عہد کے رفیع المرتبت عالم دین تھے۔آپ جماعت غرباء اہل حدیث کے دوسرے امیر تھے۔تفسیر وحدیث،اصول فقہ وغیرہ میں مہارت رکھتے تھے۔

ہمارے ممدوح نے سیدنا دہلوی رحمہ اللہ سے ان کی زندگی کے آخری ایام میں تفسیر قرآن کے موضوع پر استفادہ کیا۔

4 مولانا محمد یونس دہلوی رحمہ اللہ (وفات:نومبر1967ء)

مولانا دہلوی رحمہ اللہ یگانہ روز گار محدث، مفسر،مدرس اور واعظ وخطیب تھے۔تقسیم ملک سے قبل سیدنا میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے مسند نشین رہے۔تقسیم کے بعد کراچی تشریف لائے اور جامعہ رحمانیہ کا اہتمام سنبھالا اور تاحیات درس وتدریس اور خطابت کا فریضہ ادا کرتے رہے۔

5 مولانا ابوالخلیل عبدالجلیل خان رحمہ اللہ

مولانا مرحوم جلیل القدر عالم تھے۔ مولانا عبدالوہاب محدث دہلوی رحمہ اللہ سے شرف تلمذ رکھتے تھے۔حدیث اور علوم حدیث پر گہری نظر تھی۔صحیفہ اہل حدیث کے ابتدائی دور کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔

6 مولانا قاری عبدالحکم کرم الجلیلی رحمہ اللہ(وفات:7ستمبر1993ء)

 اپنے دور کے جید عالم دین تھے۔آپ کو وعظ وخطابت میں خاصی شہرت حاصل تھی۔انہوں نے صحیح بخاری کے سولہ پاروں کی شرح بھی تصنیف فرمائی تھی۔

7 مولانا قاری عبدالغفار سلفی دہلوی رحمہ اللہ

پروقار شخصیت کے مالک،جید عالم،دین اور اخلاق کی اعلی قدروں سے مزین۔آپ شیخ القرآن مولانا حافظ عبدالستار دہلوی رحمہ اللہ کے بیٹے تھے۔ ان کی وفات کے بعد جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کی امارت کا بارگراں انہیں تفویض ہوا۔

8 مولانا مفتی عبدالقہار دہلوی رحمہ اللہ(وفات:2006ء)

جماعت غرباءاہل حدیث پاکستان کے ممتاز عالم دین ومفتی تھے۔تفسیر قرآن میں امتیازی شان کے حامل تھے۔آپ کے فتاوی جماعت کے قدیمی جریدے پندرہ روزہ:صحیفہ اہل حدیث(کراچی) میں شائع ہوتے تھے۔راقم خاکسار پر بےحد شفقت فرماتے تھے۔اللہ تعالی غریق رحمت فرمائے۔آمین

9 مولانا حافظ عبدالرحمان سلفی حفظہ اللہ(کراچی)

آپ جماعت غرباءاہل حدیث پاکستان کے موجودہ امیر ہیں۔ان کی فکری،دینی اور روحانی قیادت دین اسلام کی نشاة ثانیہ کی امین ہے۔

مولانا سرور شفیق رحمہ اللہ کے اساتذہ میں ایک یہی شخصیت حیات ہیں۔باقی سب رحلت فرما چکے۔رہے نام اللہ کا۔

اللہ تعالی سیدنا امام صاحب کو کامل صحت عطا فرمائے۔آمین۔

اساتذہ سے عقیدت:

مولانا مرحوم اپنے اساتذہ کا بےحد احترام بجا لاتے تھے۔ان کی حیات میں وہ خط کے ذریعے ان کا احوال پوچھتے اور اگر قریب کہیں ان کی تشریف آوری ہوئی تو بنفس نفیس ان کی دست بوسی کے لئے تشریف لے جاتے۔اس وقت ہمارے سامنے ان کا ایک مکتوب ہے۔جو انہوں نے اپنے استاذ عالی قدر شیخ الحدیث مولانا مفتی عبدالقہار دہلوی رحمہ اللہ(وفات:2006) کی وفات پر سیدنا الامام مولانا عبدالرحمان سلفی حفظہ اللہ کی خدمت میں لکھا تھا۔۔۔اسے ایک تعزیت نامہ تصور کریں۔۔لیکن جو چیز آپ کی خدمت میں پیش کرنا مقصود ہے وہ ہے ان کی اپنے استاذ سے عقیدت ومحبت کا انداز۔

لکھتے ہیں:

مجھے بذریعہ ٹیلی فون قریبا شام چار بجے پیغام موصول ہوا کہ مفتی جماعت کا جنازہ پانچ بجے شام ہے۔میری طبیعت قبل ہی مضمحل تھی پھر اور زیادہ ہو گئی۔بلڈ پریشر اور بلند فشار خون کی وجہ سے دل کی دھڑکن بھی تیز ہو گئی کہ شرکت جنازہ ناممکن تھی۔

اساتذی المکرم ابتدائی کتب کے ساتھ ابن ماجہ،مشکوة ثانی اور ترجمہ کلام پاک اور دیگر اسلامی کتب کے مہربان استاذ امام ربانی اور امام ثانی کے برادر عزیز تھے اور ان کی ایک نشانی تھے۔جو چچا عبدالقہار کے روپ میں ہمارے سامنے موجود تھی مگر مختار کائنات کو جو منظور ہو وہی ہوتا ہے۔

گزشتہ سال سالانہ کانفرنس کے اختتام پر واپسی کے لئے وداعی ملاقات سے شرف یاب ہوا تو ہاتھ میں ہاتھ لے کر تقریبا دس پندرہ منٹ دعائیہ کلمات اور نصیحت و وصیت فرماتے رہے۔آنکھیں تر تھیں۔میری آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔قریب بیٹا حافظ ابو سفیان کھڑا تھا اس کی آنکھیں بھی پرنم ہو گئیں۔راستے میں عزیز حافظ ابوسفیان سوال کرتا رہا کہ چچا جی رو رہے تھے۔ابا جی آپ بھی رو رہے تھے۔کیا کہہ رہے تھے ۔۔۔میری آنکھیں پھر آبدیدہ ہو گئیں میں نے کہا:معلوم ہوتا ہے۔۔یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔۔نامعلوم میرے استاذ محترم کا سفر آخرت قریب آ گیا ہے۔ان کے دعائیہ کلمات اور ناصحانہ کلام خبردار کر رہا ہے کہ حیات مستعار ختم ہونے کو ہے۔۔

یہ اطلاع جو گزشتہ سال دی گئی وہ سال بعد تکمیل کو پہنچی ۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔

جماعتی اور دیگر تمام احباب کی آنکھیں اشکبار تھیں۔مولانا صالح صاحب،حافظ راناخلیق الرحمان،حافظ کفایت اللہ،مولوی یوسف سلفی، مولوی محمد جمیل رانا۔۔۔کس کس کا نام لوں۔گاوں «دیپو کے»کے تمام جماعت والے اور پسرور والے پریشان حال مغموم ہیں۔

مولا کریم اپنے جوار رحمت میں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔میرے استاذ محترم شیخ الحدیث وشیخ التفسیر پر کروڑوں رحمتیں نازل کرے اور جنت الفردوس عطا فرمائے۔

ہمیں اور لواحقین مفتی محمد ادریس وعبدالسلام اور بچوں سمیت تمام پسماندگان کو صبر جمیل سے نوازے۔آمین

مغموم شاگرد:محمد سرور شفیق،پسرور

[پندرہ روزہ:صحیفہ اہل حدیث،کراچی۔یکم اگست 2006ء]

ہم مکتب اہل علم

مولانا مرحوم جن ایام میں دینی تعلیم کے حصول کے لئے کوشاں تھے،آپ کے ساتھ مشرقی پاکستان،بلتستان اور چاروں صوبوں سے بے شمار طلاب علم نے مشاہیر اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ان میں سے کچھ اب بھی خدمت دین میں مصروف ہیں اور کچھ حیات جاوداں پا چکے۔ آپ کے مکتب وتعلیم کے چند احباب اور معاصرین کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔

مولانا محمد حنیف سلفی رحمہ اللہ(کھرڑیانوالہ،فیصل آباد)

مولانا جمال الدین سلفی رحمہ اللہ (حیدرآباد)

مولانا عبدالجلیل رحمہ اللہ ( بہاول نگر)

مولانا محمد اسحاق شاہد رحمہ اللہ(کراچی)

شیخ الحدیث مولانا محمود الحسن(جامعہ ستاریہ کراچی)

مولانا محمد منیر شاکر (سیالکوٹ)

مولانا محمد صالح (دیپوکے،نارووال)

مولانا عبدالعزیز خلیل (برمنگھم)

سیرت وکردار:

مولانا مرحوم ایک پرعزم علمی اور فکری شخصیت کا نام ہےآپ کی دینی خدمات کا مطالعہ کرنے کے بعد قاری اقبال کے الفاظ میں یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے:

«ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی-»

آپ کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔

وہ آیت من آیات اللہ تھے۔جن کی پوری زندگی قرآن وسنت کے فروغ اور اصلاح معاشرہ میں گزری۔ مولانا مرحوم جماعت اہل حدیث کا سرمایہ افتخار تھے۔وہ اپنے نام کی طرح نہایت شفیق اور مہربان شخصیت کے مالک تھے۔

جماعت وتنظیم کی ذمہ دار رہنماء ہونے کے باوجود ہمیشہ عاجز اور منکسر المزاج رہے۔

مسلکی غیرت کا ایک واقعہ:

مسلک اہل حدیث کی غیرت ان کے رگ وپے میں پیوست تھی۔وہ دین کے معاملے میں مداہنت کو پسند نہیں کرتے تھے۔ان کے سامنے اگر کبھی مسلک اہل حدیث کو نشانہ بنایا گیا تو انہوں نے اس کا ادھار نہیں کیا۔فورا ہی دندان شکن جواب دیا۔

ایسا ہی ایک واقعہ سنیں اور ان کی دینی غیرت کو داد دیں۔

ایک دفعہ رات بارہ بجے تبلیغی مشن سے چکوال سے واپسی ہوئی۔نوشہرہ روڈ گوجرانوالہ میں بریلوی مولوی سید مراتب علی شاہ کی زیر نگرانی ایک جلسہ جاری تھا، جس میں معروف بریلوی مناظر مولوی عمر اچھروی کا بیٹا مولوی عبدالتواب صدیقی اور دیگر بریلوی مکتب فکر کے حضرات موجود تھے۔

مولوی عبدالتواب نے جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ کے ایک نابینا استاد کو نشانہ بناتے ہوئےکہا کہ وہ نابینا ہونے کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا۔

اسی طرح اس جلسے میں بریلوی اکابر کی موجودگی میں دیوبندی مکتب فکر کے چوٹی کے عالم سیدنا مولانا حسین احمد مدنی مرحوم کے بارے کہا کہہ حج سے واپس آنے کے بعد ان کو خارش ہو گئی تھی،کیوں کہ یہ لوگ مدینے کا ادب نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔*

جب مولانا سرور شفیق رحمہ اللہ نےاس مولوی کی یہ درفطنیاں سنیں تو وہاں ان کے قرب میں واقع جامع مسجد اہل حدیث میں دو روز نماز فجر اور نماز عشاء کے بعد درس قرآن ارشاد فرماتے رہے۔

انہوں نے اپنے درس میں فرقہ بریلویہ کی گالیوں کے جواب میں پہلے تو انہیں دعوت توحید اور دعوت سنت دی۔

پھر اپنے مخصوص انداز میں ان کے مذعومہ افکار کا ٹھیک ٹھاک آپریشن کیا۔انہوں نے فریق مخالف کی ہر بات کا جواب قرآن وسنت کے دلائل کےساتھ دیا۔اور اتمام حجت کے طور پرانہیں بار بار چیلنج کیا۔

انہوں نے کہا: میں دو دن یہاں ٹھہرا ہوں۔آو! جس مسئلے پر بات کرنا چاہو ہم تیار ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ فریق مخالف صرف اسٹیج کا شیر تھا۔دلائل کی دنیا میں مولانا مرحوم کے ساتھ مقابلہ کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔

ان دو دنوں میں مولانا مرحوم کے سامنے کسی بریلوی عالم کو آنے کی جرات نہ ہوئی۔اس موقع پر مولانا رحمہ اللہ کی معاونت کے لئے شیخ الحدیث مولانا محمد الیاس اثری حفظہ اللہ(بانی: مرکز الاثریہ، گوجرانوالہ)اور مولانا محمد یوسف گکھڑوی رحمہ اللہ وغیرہ بھی ان کے ساتھ موجود رہے۔(دیکھئے راقم کی کتاب:ہم اور ہمارے اسلاف)

جذبہ جہاد اور سفر جہاد

مولانا صاحب مجاہدانہ طبیعت کے مالک تھے۔ان میں جذبہ جہاد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔تاحیات تڑپ جہاد ان میں موجود رہی۔وہ جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان کے زبردست حامی تھے۔یہ شوق جہاد انہیں افغانستان لے گیا۔ان کے ہمراہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز رحمہ اللہ(بانی:جامعہ رحمانیہ سیالکوٹ) اور کچھ حضرات علماء اور بھی تھے۔انہوں نے وادی کنڑ اسعدآباد اور جلال آباد وغیرہ کا دورہ کیا۔یہ وہ دور تھا جب روسی افواج دم دبا کر بھاگ چکی تھی۔

اسی طرح نوے کی دہائی میں شیخ جمیل الرحمان رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد تعزیت کے لئے علماء کے وفد کے ساتھ تشریف لے گئے۔مولانا سمیع اللہ اس وقت سلفی حکومت کے نگران تھے۔مولانا مرحوم نے ان سے خصوصی ملاقات کی۔ خطے کی جغرافیائی صورت حال اور اس میں دعوت اہل حدیث کو درپیش مسائل پر گفتگو فرمائی۔

دینی ودعوتی خدمات:

مولانا مرحوم نے دعوت حق کے فروغ کے لئے شب وروز دینی خدمات انجام دیں۔انہوں نے اپنی زندگی مسلک اہل حدیث کے فروغ، تبلیغ،مساجد کی تعمیر،سالانہ کانفرنسوں کے اجراء،خدمت خلق اور غرباء پروری میں گزاری۔انہوں نے توحید وسنت کی دعوت کو عام کرنے کے لئے بےدھڑک کام کیا۔

آپ کی دینی خدمات کی تفہیم ہم چار انداز سے کر سکتے ہیں۔

1 خطابت

2 درس وتدریس

3 جماعت وتنظیم

4 تصنیف وتالیف

آئیے اب ترتیب وار ان چاروں میدانوںمیں سیدنا مرحوم کی دینی خدمات کو مختصرا بیان کرتے ہیں۔

1۔خطابت:

مولانا مرحوم اسلام اور عقائد صحیحہ کے حقیقی پاسبان تھے۔

ان کے خطبات سے ان کا فکری علو اور نظری ارتقاء قابل رشک ہے۔انہوں نے اپنے خطبات میں باطل افکار کا قلع قمع کیا۔

آپ کی خطابت کا آغاز جامع مسجد اول اہل حدیث سیالکوٹ سے ہوتا ہے جہاں آپ نے چھ ماہ کے لگ بھگ خطابت کے فرائض انجام دیے۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب مولانا مرحوم گورنمنٹ ہائی سکول طور آباد برلب روڈ ڈسکہ میں استاذ مقرر کیے گئے تھے۔پھر وہ مولانا محمد رفیق خان پسروری رحمہ اللہ(وفات:23-فروری 1977ء) والی جامع مسجد(پہلے اس کا نام جامع مسجد ایک مینار تھا_آج کل یہ لال مسجد کے نام سے مشہور ہے) میں فریضہ خطابت انجام دینے لگے۔

یہ پسرور کی سب سے بڑی مسجدوں میں شمار ہوتی ہے۔اس مسجد میں خطبات جمعہ وعیدین کے موقع پر حاضری مثالی ہوتی ہے۔

مولانا مرحوم اپنی زندگی کی آخری صحت تک اس مسجد کی خدمت میں مصروف رہے۔

کم از کم تیس(30)سال اس کے منصب خطابت پر فائز رہے۔

وہ خطبہ جمعہ کےعلاوہ درس قرآن بھی ارشاد فرماتے رہے۔

2۔تدریس:

اللہ نے انہیں تدریس میں ملکہ عطا فرمایا تھا۔فراغت تعلیم کے بعد ابتدائی دو سال اپنی مادر علمی جامعہ عربیہ اسلامیہ دارالسلام کراچی میں تدریس کا فریضہ ادا کرتے رہے۔

آپ کی اسناد علمی تھیں،جس کی بنیاد پر انہیں بآسانی سرکاری نوکری مل گئی۔

آپ نے گورنمنٹ ہائی سکول قلعہ سوبھاسنگھ(نارووال) میں بحیثیت معلم اسلامیات وعربی خدمات کی توفیق پائی۔

سرکاری ملازمت کے ساتھ انہوں نے سلفی دینی مدارس میں بھی تدریس شروع کردی جس کی شرح کچھ یوں ہے۔

انہوں نے جامعہ القرآن والحدیث میں چار سال تک بخاری شریف کا درس دیا۔اورفارغ التحصیل طلباء کو سند فراغت بھی اپنے دست مبارک سے عطا کی۔مارچ 1988ء میں پسرور میں «جامعہ معاویة الاسلامیہ» کے نام سے اپنا مدرسہ قائم کیا۔اور بے شمار اہل علم نے ان سے کسب فیض کیا۔

 آپ کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ قومی اخبارات کے کالم نگار مولانا لیاقت علی باجوہ، مولانا مفتی کفایت اللہ شاکر اور حافظ محمد امین انجم صاحبان معروف نام ہیں،جنہوں نے آپ سے بخاری شریف پڑھی اور اس کا سماع کیا۔

3۔تنظیم وجماعت:

مولانا مرحوم جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کے تنظیمی نظم سے وابستہ تھے۔وہ جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان کے تعلیمی اداروں میں پڑھے بڑھے، خصوصا شیخ القرآن سیدنا الامام مولانا حافظ عبدالستار السلفی رحمہ اللہ سے بے حد متاثر تھے۔اس وجہ سے انہوں نے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔ان کی جماعت کے ساتھ والہانہ محبت اور وارفتگی دیکھ کر انہیں مولانا مقبول احمد مجاہد رحمہ اللہ(وفات: 17-ستمبر1995ء۔سکونت: گھڑتل کلاں،چک نمبر144.ر ب،ضلع فیصل آباد) کے بعد جماعت غرباء اہل حدیث پنجاب کا امیر مقرر کیا گیا۔مولانا مرحوم نے پنجاب میں جماعت کو منظم کر کے ان میں ایک تحرک اور تموج پیدا کیا۔

ان کا شمار جماعت کے مخلص اور وفادار اراکین میں ہوتا ہے۔وہ زندگی کی آخری سانسوں تک جماعت وتنظیم کی آبیاری کرتے رہے۔

4۔ تصنیف وتالیف:

آپ کو اوائل تعلیم ہی سے تصنیف وتالیف سے شغف تھا اور تاریخ وافکار اہل حدیث سے بے حد دلچسپی تھی۔

آپ نے چند کتب اور مقالے لکھے جن میں سے کچھ کتب طبع ہو گئیں اور کچھ زیور طباعت سے آراستہ نہ ہو سکیں۔

سیدنا مولانا رحمہ اللہ کی تصانیف میں ندرت خیال اور جدت فکر پائی جاتی ہے۔انہوں نے روایتی لکھاریوں سے ہٹ کر الگ لہجہ اور جداگانہ اسلوب اپنایا ہے۔ان کی تصانیف علم وعمل کی دعوت دیتے تبلیغ کا ایک جامع مرقع ہیں۔آپ کی کتب کے اسماء یہ ہیں:

1 تاریخ اہل حدیث آئینہ تاریخ میں

2 روزہ آئینہ تاریخ میں

یہ دونوں مقالے میں نے ہفت روزہ «الاسلام» لاہور میں قسط وار پڑھے ہیں۔جو 80ء کی دہائی میں شائع ہوئے تھے۔

3 مفتاح الجنة

4 ازواج مطہرات

5 خطبات شریعہ

6 اسرة قریش

7 تعلیم العربیة

یہ گرائمر کی کتاب ہے جو مڈل کلاس کے طلباء کے لئے لکھی گئی تھی۔

مولانا نے کچھ اور کتب بھی لکھی ہیں۔لیکن میں ان سے واقف نہیں ہو سکا۔

ملفوظات وارشادات:

مولانا سرور شفیق رحمہ اللہ جماعت کے ایک عظیم فکری اور انقلابی رہنما تھے۔وہ جماعت کا دماغ تھے۔ان کی باتیں فکری اور ارشادات سن کر مایوسی کافور ہو جاتی ہے۔وہ ہمہ وقت مظطرب رہتے تھے کہ ہمارے علم گاہوں کی فضا اس قدر مکدر کیوں ہو گئی ہے کہ وہ طلبہ کو فکری بلندی عطا نہیں کر رہے؟

انہوں نے اپنی قوم وملت کو باطل کے مقابلے میں حق کی علمبرداری کا درس دیا۔ مایوسی کے خاتمے، نظریاتی التباس اور فکری مرعوبیت سے نکال کر ان کے سامنے اسلام کی عظمت وسطوت اور اس کی شان وشوکت کا نمونہ پیش کیا۔

آئیے چند لمحے ان کی صحبت میں گزارتے ہیں۔ان کے ارشادات وافکار آپ کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں:

آج کے طلباء اور ماضی کے طلباء میں فرق:

فرماتے ہیں:

آج کل کے طلباءاور ماضی کے طلباء وعلماء میں بہت فرق ہے۔مولانا محمد یوسف صاحب رحمہ اللہ (راجووال) فرماتے تھے: کہ

میں نے چار دور دیکھ لیے ہیں:

ایک دور تھا کہ اساتذہ اور طلبہ تہجد کے پابند تھے۔

دوسرا دور وہ تھا کہ اساتذہ کرام تہجد ادا کرتے تھے۔

تیسرا دور یہ تھا کہ اساتذہ اور طلباء فرض نمازوں کے پابند تھے۔

چوتھا دور یہ کہ اساتذہ فرض نماز پڑھتے ہیں اور شاگرد ادا نہیں کرتے۔

واعظین یا عصری علماء شب وروز تقاریر کرتے ہیں،اکثر نماز چھوڑ دیتے ہیں۔الاماشاءاللہ۔

دل ونگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

فرماتے ہیں:

عالم اسلام پریشان اس لئے ہے کہ ہادی کائنات ﷺکے پیغام کو پس پشت ڈال دیا ہے اور خواہشات کی اتباع کر رہے ہیں۔حدیث کے مطابق عالم کفر پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے تعلیم نبوی اور افعال صحابہ کو خاطر میں لائے رکھنا ضروری ہے۔اس باعث کامیابی تمھارے قدم چومے گی۔ اگر آپ کا اور میرا یہ عمل نہیں تو اقبال کی زبان میں کہوں گا:

زباں سے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل؟

دل ونگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

پاکستان میں نظام اسلام کے لئے ناگزیر امر:

فرماتے ہیں:

پاکستان میں اسلامی حکومت کو استوار کرنے کے لئے میں دو چیزوں کو ضروری خیال کرتا ہوں:

1 کوئی قبر پختہ نہ بنائی جائے اور اس پر پابندی لگ جائے تو شرک رک جائے گا۔

2 مستورات کو بازار جانے سے روک دیا جائے۔آوارگی،فحاشی، مہنگائی کا سدباب ہو جائے گا۔

موجودہ دور میں لوگوں کی دین سے دوری کی وجہ:

فرماتے ہیں:

موجودہ دور میں لوگوں کی دین سے دوری خواہشات نفسانی ودنیاوی کی پیروی کے سبب ہے۔رنگین دنیا میں لوگ محو ہیں اور اس کی تلاش میں دور تک چلے گئے ہیں۔ترک شریعت شعار بن گیا ہے۔جھوٹ،بے حیائی، بے وفائی،بددیانتی،فریب،لوٹ کھسوٹ،بے صبری،بداعتقادی وغیرہ ایسی اخلاقی برائیاں ہمارے ایمان کو کمزور کر گئیں ہیں۔

اسلام میں سلامتی ہے:

فرماتے ہیں:

ملک پاکستان یا دنیا کے کسی بھی خطہ میں اسلام ہی سلامتی کی نشانی ہے۔ایمان ہی میں امن ہے۔اگر اسلام اور ایمان اپنا لیا جائے تو پاکستان کیا تمام دنیا میں امن وشانتی ہو جائے گی۔

اسلامی بنک وقت کی ضرورت:

فرماتے ہیں:

اسلامی ممالک کو اپنا ایک اسلامی بنک بنانا چاہیے۔جس میں تمام اسلامی ممالک کے اکاونٹ ہوں۔ غیروں کے بینکوں میں آج اپنے ہی پیسے سود پر دے کر سرمایہ دوسروں کے حوالے کر رہے ہیں۔یعنی وہ رقوم یا تو عرب ممالک کی ہیں یا امراءاسلام کی ہیں۔جن پر ہم غیر مسلموں کو سود دے رہے ہیں۔

ابلاغ دین کے لئے اہل ثروت سے اپیل:

فرماتے ہیں:

«قرآن وحدیث کے حوالے سے جتنے بھی ذرائع ہیں۔ان میں اہل ثروت سرمایہ لگائیں۔یعنی زکوة وخیرات خرچ کریں تاکہ قرآن وحدیث کی بلاغت واشاعت بآسانی ہو سکے۔»

اہل حدیث مدارس کے ارباب انتظام توجہ فرمائیں:

فرماتے ہیں:

مدارس اہل حدیث میں تعلیم وتعلم کے نظام کی طرف نظرثانی کی ضرورت ہے۔ایسا نہ ہو کہ تعلیم صرف ایک رسم بن کر رہ جائے۔اب وہ مشقت نظر نہیں آتی جو سلف نے برداشت کی۔جماعتی شیرازہ بکھر جانے سے طلباء میں یکسوئی نہیں رہی۔علماء کرام کی پگڑیاں اچھالنا معمول بن چکا۔کچھ لوگ تو ایسے بھی ملے،جو اپنے علاوہ دوسروں کو سلام کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔اس صورت میں محنتی طلباء کہاں ملیں گے۔اگر مل جائیں تو صاحب ثروت حضرات کو ان کی ہر طرح سے معاونت کرنی چاہیے تاکہ وہ صحیح معنوں میں عالم دین اور علامہ بن جائیں۔آج کل کے’’الامہ‘‘نہیں۔

علم کی دنیا میں مدارس اسلامیہ میں صنعت وحرفت بھی سکھائی جائے تاکہ فراغت کے بعدطلبہ کسی کے محتاج نہ ہوں اور نہ ہی ان کا ذریعہ معاش صرف تبلیغ ہو۔

طلبائے دین کو نصیحت:

فرماتے ہیں:

علم کی دنیا میں ماہر علوم اور باعمل ہونا ازحد ضروری ہے۔وگرنہ’’كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا،،کا منظر ہو گا۔

عصر حاضر میں میڈیا کی اہمیت:

فرماتے ہیں:

میرے خیال میں طلباء تنظیم اور نوجوان ساتھیوں کی سرپرستی کرنی چاہیے۔عصر حاضر میں میڈیا کا کام بہت اہم ہے۔اس کے بغیر نشر واشاعت ناممکن ہو کر رہ گئی ہے۔ اخبارات اور مجلات کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا کی اشد ضرورت ہے اور اس کی طرف توجہ دی جانی چاہیے۔

«تاریخ اہل حدیث» کی ترتیب وقت کا اہم تقاضا!

فرماتے ہیں:

علمائے کرام سالانہ کانفرنسوں اور جلسوں میں تاریخ اہل حدیث اور علمائے اہل حدیث سے متعلق خصوصی مضامین بیان کریں۔اسی طرح ان کے تذکار کو کتابی شکل دے کر لوگوں کو کم نفع پر تقسیم کیا جائے تاکہ لوگوں کو ہماری تاریخ سے آگاہی ہو۔

آل واولاد:

آپ کے ماشاءاللہ سات(7)بیٹے اور تین(3) بیٹیاں ہیں۔

1 مولانا محمد لقمان سرور

عالم دین ہیں۔ناظم تبلیغ جماعت غرباء اہل حدیث پنجاب کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

2 محمد فاروق

3 محمد عقیل

4 حافظ محمد سفیان

5 محمد لقمان

6 عبدالرحمان

سفر آخرت:

سیدنا مولانا مرحوم عرصہ دراز سے علیل تھے۔ان کی علالت کی خبریں جماعتی جرائد میں پڑھتے آ رہے تھے۔ان کی صحت یابی کی دعائیں بھی جاری تھیں کہ قدرت کا فیصلہ صادر ہو گیا وہ 14اگست 2021ء بروز ہفتہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

آہ!ایک چاند تھا جو افق آسمان سے طلوع ہوا اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے:

الموت باب وکل الناس داخله

فلیت شعري بعد الباب مالدار

موت ایک ایسا دروازہ ہے کہ ہر ایک نے اس میں داخل ہونا ہے لیکن دروازے کے بعد علم نہیں کہ گھر کیسا ہو گا۔

ایک باعمل عالم دین کا اٹھ جانا معاشرے کے لئے وقتی طور پر ایک خسارہ ہے۔

مولانا کی وفات سے جماعت ایک مناظر،مدرس،مبلغ،خطیب، مصنف ایسے اوصاف کے مالک عالم دین سے محروم ہو گئی ہے۔

نماز جنازہ میں مقامی اور سیالکوٹ کے علماء سمیت تمام مکاتب فکر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 جنازہ کے موقع پر جن علماء نے آپ کی جماعتی و دینی خدمات پر اظہار خیال کیا،ان کے نام یہ ہیں:

1 مولانا محمد زاہد ھاشمی الازہری صاحب( ناظم جماعت غرباء اہلحدیث پنجاب)

2 مولانا فاروق الرحمان یزدانی صاحب(مدرس جامعہ سلفیہ فیصل آباد)

3 مولانا عبد الغفار ریحان صاحب(رہنما مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع نارووال)

4 مولانا محمد صالح صاحب (مولانا مرحوم کے دیرینہ ساتھی اور امام وخطیب دیپو کے)

5 مولانارانا محمد خلیق خاں پسروری صاحب(ابن مولانا محمد رفیق خاں پسروری رحمہ اللہ)

6 آخر میں نائب امیر جماعت غرباء اہل حدیث پاکستان مولانا پروفیسر حافظ محمد سلفی صاحب نے اظہارِ خیال کیا.وہ سیدنا الامام مولانا حافظ عبدالرحمان سلفی حفظہ اللہ کی ہدایت پرخصوصی طور پر کراچی مرکز سے تشریف لائے تھے۔انہوں نے انتہائی رقت آمیز جنازہ پڑھایا۔ہر آنکھ اشکبار تھی۔جنازہ کے بعد ان کے جسد خاکی کو گاؤں «دیپو کے» کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ۔آمین

 دعا ہے کہ اللہ کریم ان کی دینی وتبلیغی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے ان کی بشری کوتاہیوں سے صرف نظر فرمائے،ان کی آل واولاد کو صبر جمیل بخشے اور جماعت کو کسی آزمائش سے بچاتے ہوئے ان کا جانشین مقرر فرما دے۔آمین

editor

Share
Published by
editor

Recent Posts

فیضانِ حدیث

قسط نمبر: 5 60. صرف خواہش کرنے پر کھانا مل جانا عن أبي أمامة رضي…

1 month ago

قرآن کریم کے متعلق شبہات اور ان کے مدلل جوابات

قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…

1 month ago

ملائکہ کب آپ کے لیے دعا کرتے ہیں؟

آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…

1 month ago

اَلْأُصُولُ السِّتَّةُ) اسلام کے چھ بنیادی اصول)

قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…

1 month ago

جنتی گھر کی پہچان محبت، برداشت اور پہل

سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…

1 month ago

نماز تراویح فضیلت اور مختصر احکام

1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…

1 month ago