اللہ تعالیٰ نے جن امثال کے ذریعے اپنی توحید، نبیﷺکی رسالت، قیامت کا ثبوت اور بعض مسائل سمجھائے ہیں۔ ان میں اٹھارہ مثالیں صرف توحید کے لئے بیان کی ہیں۔ آئیں ان کا بغور مطالعہ کرتے ہوئے توحید باری تعالیٰ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
زمین و آسمانوں میں سب سے بڑی سچائی اور حقائق کی اصلیت اور مرکزیت یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کا کوئی مد مقابل نہیں اسی طرح اس کے اسماء جلیلہ ،صفاتِ کاملہ، اختیارات اور عبادات میں اس کا کوئی تقابل اور مد مقابل نہیں ، کیونکہ مقابلے کے لئے تھوڑی بہت حقیقت اور حیثیت کا ہونا ضروری ہے۔ تقابل اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق شرک کی نہ بنیاد ہے اور نہ اس کے لئے کوئی ٹھوس دلیل ہے۔ اس کے باوجود ربِ کریم نے انسان کی فہم اور اس کی ہدایت کے لئے نہ صرف توحید کا شرک کے ساتھ تقابل اور موازنہ فرمایا ہے بلکہ امثال کے ذریعے سمجھایا ہے۔ اس لیے کہ مثال کے ساتھ سمجھی ہوئی بات آدمی کو مدت تک یاد رہتی ہے اور اس سے کم سے کم عقل رکھنے والا بھی بات جلد سمجھ جاتا ہے۔ اب ان امثال کو قرآن مجید کی ترتیب کے مطابق ذکر کیا جاتا ہے۔
آگ کی مثال
’’ان کی مثال اس شخص کی ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے اس کے ماحول کو روشن کر دیا تو ’’اللہ تعالیٰ‘‘ ان کے نور کو لے گیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا وہ دیکھ نہیں سکتے۔‘‘
یہاں نبی کائناتﷺ کی دعوت اور جدوجہد کی مثال آگ کی روشنی کے ساتھ دی گئی ہے۔جس سے کفراور اسلام ،گمراہی اور ہدایت،توحید اور شرک کے درمیان اس طرح امتیاز پیدا ہوا کہ جس طرح روشنی اور اندھیرے کے درمیان فرق ہوا کرتا ہے۔ جس طرح آگ میں روشنی اور فائدے ہیں۔ اس طرح دینِ اسلام میں فائدے ہیں اور کچھ مشکلات بھی ۔
ابرِ باراں اور دینِ اسلام
’’یا آسمان سے بارش کی طرح جس میں اندھیرے، گرج اور بجلی ہو۔ وہ موت اور کڑک کے ڈر سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں اور ’’اللہ‘‘ کافروں کو گھیرنے والا ہے۔ قریب ہے بجلی ان کی آنکھیں اُچک لے ۔ جب ان کے لیے روشنی ہوتی ہے تو وہ اس میں چلتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو وہ ٹھہر جاتے ہیں۔ اگر ’’اللہ‘‘ چاہے تو ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں کو لے جائے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ ‘‘
دین اسلام ابر باراں کی مانند ہے۔ جس طرح بارش اوپر سے نازل ہوتی ہے ۔دین بھی آسمانوں سے نازل ہوا ہے۔ جس طرح بارش سے بیک وقت ہر چیز تر و تازہ ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی دین اسلام سے دل شاد، کردار میں نکھار اور اس کے نفاذ سے دنیا میں برکات نازل ہوتی ہیں۔ بسا اوقات بارش میں اندھیرااور گرج چمک بھی ہو تی ہے۔ بالکل اسی طرح ہی دین اسلام اور عقیدۂ توحید اختیار کرنے سے امتحانات اورکچھ دنیوی نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ سچے اور پکے مسلمان ان مشکلات کو قبول کرتے ہوئے آگے ہی بڑھا کرتے ہیں لیکن منافق اس طرح نہیں کر تے۔
زرخیز اور بنجر زمین میں فرق
’’اورایک زرخیز زمین ہے وہ اپنے رب کے حکم سے پیداوار دیتی ہے اور دوسری خراب ہے اس سے ناقص چیز کے سواکچھ نہیں نکلتا ہم آیات کو اس طرح ان لوگوں کے لیے پھیرپھیر کر بیان کرتے ہیں جو شکر کرتے ہیں۔‘‘
بظاہر یہ زمین کی مثال ہے لیکن حقیقت میں اس کا تعلق عقیدہ کے ساتھ ہے جس طرح زرخیز زمین سے اچھی اور بہترین فصل پیدا ہوتی ہے اسی طرح اچھے عقیدے سے نیک جذبات اور اچھے اعمال جنم لیتے ہیں اور ناقص زمین کی طرح بُرے عقیدے سے غلط سوچ اور بُرے اعمال ہی جنم لیتے ہیں۔
’’حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ محترم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس علم اور ہدایت کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال زمین پر مسلسل برسنے والی بارش کی طرح ہے جو زمین کا قطعہ اچھاتھا اس نے اسے قبول کیا۔اس نے گھاس اورسبزے کو خوب اگایا ۔دوسری زمین سخت تھی پانی جذب ہونے کی بجائے اس پر کھڑارہا۔اللہ تعالیٰ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔ لوگوں نے خود پانی پیا اور جانوروں کو پلایا اورپھر اس سے کھیتی باڑی کی جبکہ تیسرا زمین کاٹکڑا چٹیل میدان تھا نہ اس نے پانی جذب کیا اورنہ ہی پانی اس کے اوپر ٹھہرا۔اللہ تعالیٰ نے جو دین دے کر مجھے مبعوث فرمایا اس دین کی فہم حاصل کرنے والے اور اس سے نفع اٹھانے والے کی مثال ایسے ہے کہ اس نے علم سے فائدہ اٹھایا خود سیکھااورلوگوں کو بھی تعلیم دی۔دوسری مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے بے پرواہی سے علم کی طرف توجہ نہ کی اور نہ ہی اس بات کوقبول کیاجس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا۔‘‘
ایک نجس جانور کی مثال
’’اورانہیں اس شخص کے بارے میں بتائیں جسے ہم نے اپنی آیات سے نوازا لیکن اس نے انہیں چھوڑ دیا، اسے شیطان نے اپنے پیچھے لگالیا اور وہ گمراہوں میں سے ہوگیا، اگر ہم چاہتے تو ان آیات کے ساتھ اسے بلند کر دیتے مگر وہ زمین کے ساتھ چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا۔ اس کی مثال کتے جیسی ہے کہ اگر اس پر حملہ کریںتو ہانپتا ہے، اسے چھوڑ دیں توبھی زبان نکالے ہانپتا ہے۔ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ آپ ان کو سمجھائیں تاکہ وہ غوروفکر کریں ۔‘‘
اس آیت سے پہلے وہ عہد یاد کروایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جو عالم ارواح میں آدمuاور اس کی پوری اولاد سے لیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ اس کے بعد ایک عالم کی مثال کتے کے ساتھ دی گئی ہے۔ اکثر مفسرین نے اس آیت میں صرف علم مراد لیا ہے، لیکن اس آیت کا سیاق بتلا رہا ہے یہاں علم سے پہلی مراد توحید ِباری تعالیٰ ہے کیونکہ شریعت کے علم کی ابتدا اور انتہا توحید ہے۔
نادان پیاسے کا کردار
اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کو شرک کی نحوست اوراس کے نقصان سے بچانے، اور اس کی حقیقت ، حیثیت سمجھانے کے لئے ایک نادان پیاسے کی مثال ذکر فرماتا ہے تاکہ معمولی فہم رکھنے والا شخص بھی اپنے آپ کو شرک اور اس کی نحوست سے بچا سکے۔
’’اللہ ‘‘ کو پکارنا ہی حق ہے اور جو لوگ اُس کے سِوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ انہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے، ان کو پکارنا ایسے ہے جیسے کوئی شخص اپنے ہاتھوں کو پانی کے آگے پھیلائے کہ پانی اس کے لبوں تک پہنچ جائے حالانکہ پانی اس کے منہ تک کبھی نہیں پہنچ سکتا اور کافروں کا پکارنا گمراہی کے سِوا کچھ نہیںہے۔‘‘
مشرک کا غیر اللہ کو پکارنا اس قدر بے فائدہ اور بے حیثیت ہے کہ جس طرح کوئی شخص نہریا کنویں کے کنارے کھڑا ہو کر پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر آواز پر آواز دے کہ اے پانی میری پیاس بجھادے لیکن وہ پانی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ایسا شخص پانی کے کنارے کھڑا تڑپ تڑپ کر مر تو سکتا ہے مگر پانی اس کے منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔یہی صورتِ حال مشرک کی ہے کہ اپنے معبودوں کے سامنے اس کی آہ وپکار گمراہی کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ مشرک بظاہر اللہ تعالیٰ کو مانتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا منکر ہوتا ہے اس لیے یہاں لفظ کافر استعمال کیا گیا ہے۔
یہاں ایک خاص انداز میںعقیدۂ توحید کی مثال پانی کے ساتھ دی گئی ہے جس میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ جس طرح پانی کے بغیر انسان کی زندگی محال ہے اسی طرح عقیدۂ توحید کے بغیر انسان روحانی طور پر مردہ ہو جاتا ہے۔ پانی کے بغیر کوئی چیز نشوونما نہیں پاسکتی، توحید کے بغیر بھی انسان کا کوئی عمل شرفِ قبولیت نہیں پاسکتا۔ جس طرح پانی کے کنارے کھڑا ہونے والا انسان کوشش کے بغیر پانی نہیں پی سکتا۔ اسی طرح عقیدہ تو حید سمجھنے کے لیے توجہ اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح پانی پینے سے پیاسے کی روح تازہ ہو جاتی ہے، اسی طرح توحید کے دلائل سننے سے مومن کی روح میں نشاط آتی ہے۔ اس مثال سے یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں ان کی پکار سوائے واویلا اور گمراہی کے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔کیونکہ نہ فوت شدگان سن سکتے ہیں ، نہ پتھر اور مٹی کے بت سنتے ہیں ۔
سونا ،پانی اور جھاگ
’’اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا جس سے ندی نالے اپنی اپنی کشادگی کے مطابق بہہ نکلے ،پھر اس ریلے نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا اور جن چیزوں کو زیور یا سامان بنانے کی غرض سے آگ پر تپایا جاتا ہے ان سے بھی اس طرح کا جھاگ نکلتا ہے ۔اسی طرح ’’اللہ‘‘ حق اور باطل کی مثال بیان کرتا ہے۔ جو جھا گ ہے وہ بے کا ر ثابت ہوتاہے اور جو چیز لوگوں کو فائدہ دیتی ہے وہ زمین میں رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے۔‘‘(الرعد: ۱۷)
دین کے مرکزی نقطہ توحید کی مثال آسمان سے بارش کی مانند ہے۔ جب موسلا دھار بارش برستی ہے تو اس سے ندی ،نالے اپنی اپنی وسعت وکشادگی کے مطابق بہہ پڑتے ہیں۔ یہاں تک کہ ندی نالوں میں چلنے والا سیلِ رواں اپنے اوپر جھاگ اٹھائے ڈھلوان کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔ جو دیکھنے میں پانی کی بجائے جھاگ ہی نظر آتی ہے ۔ لیکن کچھ وقت کے بعد جھاگ اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔ بعض اوقات حق وباطل کی کشمکش توحید اور کفر وشرک کی آویزش میں یہی منظر دکھائی دیتا ہے کہ جس سے عام لوگ سمجھتے ہیں کہ باطل حق پرغالب آجائے گا۔ لیکن جب حق والے اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پوری استقامت کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں تو اسے پانی کی جھاگ کی طرح اللہ تعالیٰ کفر کو مٹا دیتا ہے کیونکہ اس کا اعلان ہے :
﴿وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا۰۰۸۱﴾ (بنی اسرائیل ۸۱)
’’حق آچکا اور باطل بھاگ کھڑا ہو ا باطل کا کام بھاگنا ہی ہوا کرتا ہے۔‘‘
دوسری مثال میں توحید اور شرک کی کشمکش کو ایک کٹھالی کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح کٹھالی میں سونا یاکوئی دھات رکھ کر اسے آگ دی جائے تو اس سے اس کی ملاوٹ و کثافت الگ ہو جاتی ہے اور خالص سونا پوری چمک دمک کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے ۔اسی طرح حق وباطل کے معرکہ میں حق پر قائم رہنے اور اس کی خاطر قربانیا ں دینے والے کندن بن جاتے ہیں اور ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے تقویت کا باعث اور مشعل راہ ثابت ہوتا ہے۔ جس طرح سونے کی میل کچیل اور پانی کی جھاگ بے فائدہ اور فضول چیز ہے۔ اسی طرح کفر وشرک کے لیے کوشش کرنے والوں کی محنت فضول ثابت ہو گی۔ سونا زیب وزنیت کا باعث اور منافع بخش چیز ہے اور پانی سے گل وگلزار اور اناج پیدا ہوتا ہے جس پر لوگوں کی زندگی کا انحصار ہے۔ اس طرح توحیدِ باری تعالیٰ اور دین ِحق کو اپنانے اور اس کے نفاذ سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
پھل آور اور ناقص درخت میں فرق
’’و ہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اور ’’اللہ‘‘ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے،تا کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘
’’اور بُری بات کی مثال ایک ناقص درخت کی طرح ہے،جو زمین کے اوپر سے اکھاڑ لیا جائے ،اس کے لیےٹھہرائو نہیںہے۔‘‘
کلمہ طیبہ کے مقابلہ میں کلمہ خبیثہ ہے۔ جس طرح کلمہ طیبہ کے دنیاو آخرت میں فوائد وثمرات ہیں۔ اسی طرح کلمہ خبیثہ کے دنیا او ر آخرت میں مضمرات اور نقصانات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے اچھے اور بُرے عقیدہ کا اثرانسان کی سوچ پر پڑتا ہے۔ اسے نظریہ بھی کہا جاتا ہے۔ اگر نظریہ ٹھیک ہے تو سوچ بھی مثبت اور ٹھیک ہو گی، اگر نظریہ غلط ہے تو سوچ بھی منفی اور غلط ہوگی۔ جس طرح اچھے بیج سے اچھا درخت اور اس پر میٹھا پھل لگتا ہے ،اسی طرح ناقص بیج سے ناقص درخت پیدا ہوگا،اس کا پھل کڑوااور بے کار ہو گا۔ شرک ایسادرخت ہے جس کی نہ جڑیں مضبوط ہیںاور نہ ہی اس کا تنا۔ بے شک دیکھنے میں کسی کو اچھا لگتا ہو، اس کا نتیجہ دنیا میں بھی برا ہوگا اور آخرت میں تو ہر صورت اس کا انجام برا ہے۔گویا کہ عقیدہ اچھا تو نتیجہ اچھا ہے، عقیدہ بُرا تو نتیجہ بھی بُرا ہے۔
مجبور غلام اور بااختیار مالک میں فرق
’’ اللہ تعالیٰ ایک غلام کی مثال بیان کرتا ہے ،جو اپنے آقا کی ملکیت ہے، وہ کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتا اور دوسرا وہ ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے کھلا رزق دے رکھا ہے، وہ ا س سے خفیہ اور سرِعام خرچ کرتا ہے ، کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟سب تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اس مثال میں اپنے اختیارات کا ثبوت اور دوسروں کے بے اختیار ہونے کی دلیل دی ہے۔ ایک شخض خود غلام ہے نہ کسی چیز کا مالک ہے اور نہ اپنے مالک کی کسی چیز کو استعمال کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ شخص ہے جو مال و دولت اور جائیداد کا مالک ہے۔ وہ اپنے مال کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرتا ہے اور ہر وقت اس میں سے خفیہ، اعلانیہ خرچ کرتا رہتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ یعنی ایک طرف معبودانِ باطل ہیں جو مخلوق ، مملوک اور غلام ہیں۔ جن کے پاس کچھ ہے ہی نہیں بلکہ وہ اپنی ضروریات کے لئے محتاج ہیں۔ دوسری طرف اللہ رب العزت جو ’’عَلٰی کُلِّ شَیْءِ قَدِیْرِ‘‘ ہے۔ مختارِ کل اور زمین و آسمانوں کے خزانوں کا مالک ہے اور انہیں ہر وقت خرچ کرتا رہتا ہے، سوچو، سمجھو اور غور کرو۔ کیا ذاتِ کبریا اور معبودانِ باطل برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
کیا مالک اور غلام، بے اختیار اور بااختیار، کنگال اور مال دار برابر ہوتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے جن سے مانگا جاتا ہے۔ یہ اپنے خالق کے سامنے ایک غلام سے کہیں زیادہ بے بس ہیں۔ حق یہ ہے کہ تمام تعریفات اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں۔ جس کا کوئی شریک نہیں لیکن لوگوں کی اکثریت اس حقیقت کو جاننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
اس آیت سے یہ حقیقت بھی روزِ روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کے سب بندے ایک ہی حیثیت کے نہیں، بعض وہ ہیں جو زرخرید غلام کی طرح بے بس، بے اختیار، مفلس و نادار اور بے فیض ہیں۔ نہ اُن کے پاس کچھ ہے اور نہ وہ کسی کو کچھ دے سکتے ہیں لیکن بعض وہ مقبول و محبوب بندے بھی ہیں جو ’’وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا‘‘ کی عنایت سے بہرہ ور ہیں اور ’’فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا‘‘ کی شانِ رفیع کے حامل ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رحمت کے خزانوں سے انہیں مالا مال فرما دیا ہے۔ ظاہری اور باطنی نعمتوں سے ان کا دامن بھر دیا ہے۔ علمی اور روحانی فتوحات کی ان پر موسلادھار بارش کی ہے۔ ’مِنَّا‘ (اپنی جنابِ خاص سے) اور ’’رِزْقًا حَسَنًا ‘‘ کے الفاظ میں آپ جتنا غور کریں گے تو ان مواہب ِربانی اور عطیاتِ خداوندی کی نفاست و عمدگی اور کثرت و فراوانی کی حقیقت کھلتی جائے گی جن محبوبوں کو ان لامحدودعنایات سے سرفراز فرمایا گیا ہے، انہیں ان کو خرچ کرنے کی بھی اجازت مرحمت فرما دی ہے چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے خزانوں اور نعمتوں کو بڑی فیاضی اور دریا دلی سے محتاجوں ، فقیروں اور سائلوں میں بانٹ رہے ہیں۔ نہ وہ خزانے ختم ہوتے ہیں اور نہ کریموں کے ہاتھ تھکتے ہیں۔ ان کے دَر پر مانگنے والوں کی بھیڑ لگی ہے۔ ہر کوئی اپنی ہمت ، حوصلہ اور سمجھ کے مطابق مانگ رہا ہے اور اپنے ظرف کے مطابق لے رہا ہے۔ (تفسیر ضیاء القرآن)
غور فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مثال کے ذریعے شرک کی نفی فرمائی ہے لیکن صاحبِ تفسیر نے کس دلیری کے ساتھ اسے شرک کی حمایت کے لئے استعمال کیا ہے۔
کیا معذور اور باصلاحیت ایک جیسے ہوتے ہیں؟
’’ اللہ‘‘ دو آدمیوں کی مثال بیان کرتا ہے ان میں سے ایک گونگا ہے،کسی بات پر اختیار نہیں رکھتا، وہ اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے،مالک اسے جہاں بھی بھیجتا ہے خیر کے ساتھ نہیں پلٹتا ،کیا یہ اور وہ شخص برابر ہو سکتے ہیں جو عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے اوروہ سیدھے راستے پر گامزن ہے ۔‘‘
اللہ تعالیٰ توحید اور شرک کے درمیان فرق واضح کرنے کے لیے ایک اور مثال بیان فرماتا ہے۔ سنو! دو آدمی ہیں ان میں ایک گونگا، اوربہرا ہے۔ جو اپنا مؤقف بیان نہیں کر سکتا، نہ کسی قسم کا اختیار رکھتا ہے اور سراسر اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ اس کا آقا اُسے جدھر بھیجتا ہے وہ فائدے کی بجائے نقصان کے ساتھ پلٹتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بااختیار اور باصلاحیت شخص ہے جو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا اور ٹھیک راستے پر گامزن ہے۔اس کے ہر کام میں خیر وبرکت ہے ۔ بتائو دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟بالکل نہیں۔ یہی فرق موحد اور مشرک کے درمیان ہے۔ مشرک حقیقت سننے اور اس کا اعتراف کرنے سے قاصر ہےدین کے نام پر جو کام نیکی سمجھ کر کرتا ہے وہ ضائع ہو جاتا ہے۔ موحد ہمیشہ عقیدے کے عدل پر قائم ہے اور انصاف کی بات کرتا اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟
طالب اور مطلوب دونوں کمزور ہیں
’’اے لوگو تمہارے سامنے ایک مثال بیان کی جاتی ہے، اسے غور سے سنو! تم ’’اللہ‘‘ کو چھوڑ کر جن معبودوں کو پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی پیدا نہیں کرسکتے ،اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اس سے واپس نہیں لے سکتے۔ کمزور ہیںمدد مانگنے والے اورکمزور ہیں جن سے مدد مانگی جاتی ہے۔ ان لوگوں نے ’’اللہ‘‘ کی قدر ہی نہیں پہچانی جس طرح پہچاننے کا حق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’اللہ‘‘ بڑی قوت اوربڑی عظمت والا ہے۔ ‘‘
شرک کا عقیدہ اس قدر ناپائیدار اور کمزور ہے کہ اگر اس پر معمولی سا غور کر لیا جائے تو اسے چھوڑنا نہایت ہی آسان ہو جاتا ہے۔ کیونکہ مشرک شرک کے بارے میں انتہائی جذباتی ہوتا ہے۔ اس لیے مثال بیان کرنے سے پہلے ارشاد فرمایا لوگو! تمھارے سامنے ایک مثال بیان کی جاتی ہے۔ اس سے بدکنے کی بجائے اسے پوری توجہ کے ساتھ سنو اور اس پرٹھنڈے دل کے ساتھ غور کرو۔
قوی اور عزیز کے الفاظ میں یہ اشارہ ہے کہ مشرک کو شرک سے روکنا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہیں وہ ہر قسم کی قدرت اور غلبہ رکھتا ہے۔ لیکن اس نے اپنی حکمت کے تحت اُسے مہلت دے رکھی ہے۔ شرک کی بے ثباتی ثابت کرنے اور اس سے نفرت دلانے کے لیے یہاں ایسے جانور کی مثال دی ہے جس سے ہر آدمی نفرت کرتا ہے۔ یہاں عام مکھی کی مثال اس لیے دی ہے کہ یہ مکھی اس بات کا امتیاز نہیں کرتی کہ جس چیز پر بیٹھ رہی ہے وہ کس قدر غلیظ اور بدبو دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک وقت گندگی کے ڈھیر پر بھنبھنا رہی ہوتی ہے اور دوسرے لمحہ کھانے والی چیز پر جا بیٹھتی ہے۔اس کی یہ بھی خصلت ہے کہ بار، بار روکنے کے باوجود وہیں بھنبھناتی پھرتی ہے۔
کردار کے اعتبار سے یہی مشرک کی مثال ہے کہ وہ عقیدہ توحید کی عظمت ، غیرت اور برکت کو چھوڑ کر جگہ جگہ ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ یہاں تک کہ ایسے لوگوں کے چرنوں میں جا بیٹھتا ہے۔ جنہیں اپنی پاکی،پلیدی کا بھی خیال نہیں ہوتا۔ وہ ان لوگوں سے مانگتا ہے جو دربدر کی ٹھوکریں کھاتے اور مزارات پر آنے والوں کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں۔ یہ تو بعض کلمہ گو حضرات کا حال ہے۔ جہاں تک غیر مسلموں کا تعلق ہے وہ شرک کرنے کی وجہ سے انسانیت سے اس حد تک گر چکے ہیں کہ ان میں بے شمار لوگ جانوروں کی پوجا کرتے ہیں، یہ اس لیے ہے کہ سمجھانے کے باوجود یہ لوگ باز آنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی قدر نہیں کی اس لیے ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔
توحید اللہ تعالیٰ کا نور ہے
’’اللہ ‘‘آسمانوں اور زمینوں کانور ہے۔ اس کے نور کی مثال یوں ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھاہو اہو ،چراغ ایک فانوس میں ہو، فانوس موتی کی طرح چمکتا ہواتارا ہو اورچراغ زیتون کے ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا گیا ہو۔ جونہ شرقی ہونہ غربی جس کاتیل اپنے آپ ہی بھڑک اٹھتا ہو، چاہے اسے آگ نہ دی جائے ’’ اللہ ‘‘ جس کو چاہتا ہے اسے اپنے نور کی طرف رہنمائی فرماتا ہے وہ مثالوں کے ذریعے لوگوں کو سمجھاتا ہے اور ’’اللہ ‘‘ہرچیز سے خوب واقف ہے۔ ‘‘
اس آیت میں دی گئی مثال کو اہل علم نے جو سمجھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا نور ہے اور اس کے نور کی برکت سے ہر چیز روشن ہے۔ جسے سمجھانے کے لیے ایسے چراغ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو چراغ خاص جگہ میں رکھا ہوا ہے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر متمکن ہے اور اس کے نور سے ہر چیز فیض یاب ہو رہی ہے۔
’’امام بغوی hنے لکھا ہے کہ سیدنا ابن عباسt نے کعب بن احبارt سے استفسار کیا ۔آپ اس آیت کا کیا مفہوم لیتے ہیں ؟احبار مسلمان ہو چکے تھے اور تورات ،انجیل پر عبور رکھتے تھے فرماتے ہیں کہ ’’زُجَاجَةٍ‘‘سے مراد رسول اکرمﷺکا دل ہے۔ آپ کا سینہ طاق کی حیثیت رکھتا ہے اور مصباح سے مراد آپ کی نبوت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دین اسلام صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ پوری مخلوق کے لیے چشمہ فیض ہے۔‘‘(بحوالہ تفسیر طبری)
شرک کا عقیدہ مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے
’’جن لوگوں نے ’’اللہ‘‘ کو چھوڑ کر دوسروں کو کار ساز بنا لیا ہے ان کی مثال مکڑی جیسی ہے، جو اپنا گھر الگ بناتی ہے حالانکہ گھروں میں سب سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھر ہوتا ہے کاش یہ لوگ حقیقت جانتے۔ اللہ کو چھوڑ کر جن کو وہ پکارتے ہیں ’’اللہ‘‘ انہیں خوب جانتا ہے کیونکہ وہ زبردست اور حکمت والا ہے۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انہیں وہی لوگ سمجھتے ہیں جوحقیقی علم رکھنے والے ہیں۔‘‘
غیر اللہ کو پکارنے والوں کو اس مثال میںیہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ تمہارے سہاروں کی حقیقت مکڑی کے کمزور، اور ناپائیدار جالے کی مانند ہے۔ جو انگلی کے اشارے اور ہوا کے معمولی جھونکے سے تار تار ہو جاتا ہے، اور تمہارے معبود بھی اسی طرح بالکل کمزور اور بے اختیار ہیں۔ جس طرح تمہارے معبود کمزور ہیں اسی طرح ان کے حق میں دیئے جانے والے دلائل بھی کمزور اور بے بنیاد ہیں۔ جس طرح مکڑی مضبوط چھت کے نیچے جال بُن کر اسے مضبوط تصور کرتی ہے جو اس کی نہ حفاظت کرتا ہے اور نہ اسے چھپا سکتا ہے یہی کیفیت مشرک کی ہوتی ہے جن کو وہ لجپال، داتا اور گنج شکر سمجھتا ہے مصیبت آنے پر وہ اس کا کچھ فائدہ بھی نہیں کر سکتے۔ لہٰذا ان کمزور اور نا پائیدار سہاروں کو چھوڑ کر ’’اللہ‘‘ مالک الملک کا سہارا تلاش کرو اور اسے ہی اپنا معبود اور مسجود بنائو۔ آخر میں فرمایا کہ یہ مثالیں ہم لوگوں کو خوابِ غفلت سے بیدار اور شرک کی حقیقت سے آگاہ کرنے اور ہدایت کا راستہ دکھلانے کے لئے بیان کرتے ہیں۔ مگر اس سے فائدہ صرف حقیقی علم و عقل والے ہی حاصل کر تے ہیں۔
شراکت داری کی مثال
’’اللہ ‘‘ تمہیں تمہارے ہی حوالے سے ایک مثال دیتا ہے۔ کیا تمہارے غلام جو تمہاری ملکیت ہیں، جو ہم نے تمہیں مال دیا ہے، ان میں کوئی غلام ایسے ہیں کہ وہ اس میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہو جائیں؟ تم اس معاملہ میں ان سے اُس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے شریکوں سے ڈرتے ہو۔اس طرح ہم ان لوگوں کے لیے کھول کر آیات پیش کرتے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔‘‘
انسانی فطرت کے حوالے سے اس مثال میں شرک کی مذمت اس لطیف انداز میں کی گئی ہے کہ جس طرح کوئی شخص پسند نہیں کرتا کہ اس کا کوئی نوکر ، اس کے مال و دولت میں برابر کا شریک ہو جائے اور اسے مالک جیسے اختیارات حاصل ہو جائیں۔ فرمایا۔ اے شرک کرنے والو! جب تم انسان ہو کر اپنے جیسے انسان کو اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق میں اپنے ساتھ شریک کرنے کے لئے تیار نہیں ہو۔ تو معبودانِ باطل جو اس کی مخلوق ہیں ۔وہ کس طرح ربِ ذوالجلال کے اقتدار اور اختیار میں شریک اور حصہ دار ہو سکتے ہیں؟ عقل مندو! سمجھنے کی کوشش کرو، شاید تمہیں ہدایت نصیب ہو اور نورِ توحید سے تمہارے سینے روشن ہو جائیں۔
کیا اندھا ،بینا، اندھیرا ، روشنی، دھوپ اور سایہ برابر ہوتے ہیں؟
’’اندھا اوردیکھنے والا برابر نہیں ،اندھیرے اور روشنی برابر نہیں، چھاؤں اور دھوپ ایک جیسے نہیں ہوتے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس لیے بصیرت عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے اوراس کی فرمانبردار ی اختیار کرے۔ جو انسان اپنے رب کو فراموش کر دیتا ہے در حقیقت وہ اندھا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اورضمیر کی آواز کو فراموش کرکے دل کی روشنی کھو بیٹھتا ہے ۔
ضمیر کی روشنی کا سب سے زیادہ یہ فائدہ ہے اور ہونا چاہیے کہ انسان اپنے خالق، مالک اوررازق کوپہچانے اور اس کی فرمانبرداری میں زندگی بسر کرے۔ پہلی بات کا نام عقیدہ توحیدہے اور دوسری بات کا نام دین ہے۔ جو اس پر عمل کرتا ہے۔ وہ بینا ہے اور جو اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے۔ وہ اندھا ہے۔ کیونکہ و ہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ نور کی بجائے اپنے توہمات اورمعاشرے کی رسومات کی تاریکی میں رہتا ہے ۔ ایسے شخص کے بارے میں استفسار فرمایا کہ بتائو اندھا اور بینا ،اندھیرے اور روشنی، چھائوں اوردھوپ برابرہوتے ہیں ؟ظاہر ہے کہ یہ برابر نہیںہوسکتے جب یہ برابر نہیں ہو سکتے تو آدمی کواندھے پن کی بجائے بصیرت کیساتھ اندھیروں سے نکل کر روشنی میں چلنا اوراسے دھوپ کی بجائے سائے کوترجیح دینی چاہیے۔یہاں اندھے پن، اندھیرے اور دھوپ سے پہلی مراد شرک ہے اور’’توحید‘‘کو بصیرت، نوراورٹھنڈا سایہ قرار دیا گیا ہے جس سے انسان کودنیا میںسکون ،روشنی اوربصیرت حاصل ہوتی ہے اور موت کے بعد اسے اپنے رب کی دست گیری اوراس کی طرف سے نور میسّر ہوگا۔(پ۲۷، الحدید: ۱۳)
زندہ اور مُردے کی مثال
’’زندہ اور مُردے برابر نہیں ہوتے ’’اللہ‘‘ جسے چاہتا ہے سُنا دیتاہے، اے نبیﷺ آپ قبروں میں مدفون لوگوں کو نہیں سُنا سکتے،آپ صرف خبردار کرنے والے ہیں ۔‘‘(فاطر: ۲۲ تا ۲۴)
یہاں توحید اورشرک کے درمیان موازنہ فرما کریہ ثابت کیا ہے کہ توحید کا عقیدہ رکھنے والے بصیرت و بصارت کے لحاظ سے زندہ ہیں اورشرک میں مبتلا ہونے والے روحانی اور دماغی طور پر مردہ ہیں۔اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اُسے سننے کی توفیق دیتا ہے۔ اے نبیﷺ ! آپ قبروں میں دفن لوگوں کو نہیںسنا سکتے آپ تو لوگوں کوان کے انکار اور بُرے اعمال کے نتیجہ سے ڈرا نے والے ہیں ۔
مشترکہ غلام کی بے بسی
اللہ‘‘ مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک ایسا غلام ہے جس کے بہت سے مالک ہیں اِن میں ہر کوئی اُسے اپنی طرف کھینچتا ہے اور دوسرا مکمل طور پر ایک ہی آقا کا غلام ہے۔ کیا ان دونوں کا حال برابر ہو سکتا ہے۔؟ تمام تعریفات ’’ اللہ ‘‘ کے لیے ہیں مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘
قرآن مجید کی پہلی اور بنیادی دعوت ’’اللہ تعالیٰ ‘‘کی ذات کی معرفت اور اس کی صفات کا شعور حاصل کرنا اور اس کے حکم کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا ہے۔ اس لیے توحید کو مختلف انداز اورامثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے۔ مشرک اور موحد کے درمیان فرق سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو غلاموں کی مثال دی ہے۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو کئی آقائوں کا غلام ہے۔ جو مختلف مزاج رکھنے والے اورایک دوسرے سے بڑھ کر بد اخلاق اور سخت مزاج ہیں۔ ایک غلام دوسرے کو اپنی طرف بلاتا ہے اوردوسرا اپنے پاس آنے کا حکم دیتا ہے، ایک اپنی مرضی کا کام دیتا ہے اوردوسرا اس کے اُلٹ ڈیوٹی لگاتا ہے۔ ایسے غلام کی بے بسی اور مظلومیت کا کون اندازہ کرسکتا ہے کہ جو ایک قدم آگے بڑھاتاہے اور دوسرا قدم پیچھے کی طرف اٹھانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ جائے تو کہاں جائے، حکم مانے تو کس کا مانے۔ گویا کہ وہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کی کشمکش میں مبتلا ہے ۔اس کے مقابلے میں وہ غلام ہے جس کا صرف ایک ہی مالک ہے جو نہایت ہی خیر خواہ اور بہت مہربا ن ہے اور وہ اسے حکم دیتے ہوئے اس کی صحت اوراستعداد کا خیال رکھتاہے۔ کیا دونوں غلام برابر ہوسکتے ہیں ؟ظاہر ہے کہ کوئی ادنیٰ عقل رکھنے والا شخص بھی انہیں ایک جیسا نہیں کہہ سکتا۔ اسی لیے موحد کو حکم فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر ادا کرے جس نے اسے یہ عقیدہ دیا اور اُسے صرف اپنے سامنے جھکنے کاحکم دے کر دردر کی ٹھوکروں اور ذلت سے بچا لیا ہے اور توحیدکے ایسے دلائل دیئے ہیں کہ جو ہر دورکے مشرک کو لاجواب کرتے رہیں گے، جس سے مجبور ہو کر ہر کوئی اقرار کرتا ہے کہ دونوں غلام برابر نہیں ہو سکتے۔ لیکن مشرک اس قدر حقیقی علم سے بے خبر ہوتا ہے کہ وہ دو غلاموں کا فر ق سمجھنے اور اس سچائی کو جاننے کے باوجود صرف ’’اللہ‘‘ کی بندگی اور بہت سے خدائوںکی بندگی میں فرق کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
بے عمل عالم گدھے کی مانند ہے
مِيْنَ۰۰۵﴾ (الجمعة:۵)
’’جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا پھر انہوں نے اس کی ذمہ داری نہ اٹھائی،ان کی مثال اس گدھے جیسی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں، مثال کے اعتبار سے وہ لوگ اس سے بھی بُرے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور ’’اللہ‘‘ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺکو آخری نبی کے طور پر مبعوث فرمایا۔ آپ نے دوسرے لوگوں کے ساتھ اہل کتاب کو بھی توحید ِ خالص کی دعوت دی اور فرمایا: آئو ہم ’’اللہ‘‘ کی توحید پر اکٹھے ہو جائیں۔ (آل عمران: ۶۴)
چاہیے تو یہ تھا اہل کتاب آپﷺکی نبوت اور دعوت کو تسلیم کرتے لیکن انہوں نے حسد و بُغض کا مظاہر ہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ آپ کی مخالفت کی اورکرتے ہیں۔ بالخصوص یہودی نہ صرف آپﷺ کی مخالفت کرتے ہیں بلکہ ہر دور میں اسلام دشمنوں کے سرغنہ بنے رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس تورات موجود تھی اورہے۔ تورات میں تحریف ہونے کے باوجود اب بھی اس میں بے شمار دلائل موجود ہیں کہ جن سے توحیدِ خالص اور نبی آخرالزماںﷺ کی نبوت کے واضح ثبوت ملتے ہیں۔ یہودیوں کی مجرمانہ غفلت اور ان کے منفی کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو تورات کا حامل بنایا گیا، انہوں نے اس ذمہ اری کا احساس نہ کیا۔ ان کی مثال اس گدھے کی ہے جس نے بھاری کتابیں اٹھارکھی ہوں، اسے کیا معلوم کہ اس پر کیا چیز رکھی ہوئی ہے،ان کی مثال اس سے بھی بُری ہے کیونکہ گدھے کے پاس نہ علم ہے اورنہ عقل، یہ لوگ سب کچھ جاننے کے باوجود ظالم ہیں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
کفار کے اعمال ریت کی مانند ہیں
’’ان لوگوں کی مثال جو اپنے رب کے منکر ہوئے ،ان کے اعمال اس راکھ کی طرح ہیں جسے آندھی کے دن تیز ہوا نے اڑا دیا ہواور وہ اپنے کمائے ہوئے میں سے کسی چیز پر قدرت نہ پائیں گے ،یہ بہت دور کی گمراہی ہے ۔‘‘
قسط نمبر : 7 وقال: {وَلَا تَقُولُوا ثَلاثَةٌ انتَهُوا}[النساء: 171]وقال: {وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ…
آٹھ مواقع جب ملائکہ آپ کے لیے دعا کرتے ہیں، ان مواقع کو کثرت سے…
قَالَ رَحِمَهُ اللهُ: شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ…
سچ ہے کہ مرد کے اوپر باہر کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں، لیکن بیوی…
1۔ تراویح کی وجہ تسمیہ لفظ «تراویح» عربی زبان زبان کا لفظ ہے اس کی…